کل کتب 35

دکھائیں
کتب
  • 1 #4564

    مصنف : پروفیسر رب نواز

    مشاہدات : 3563

    آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی جدو جہد

    (جمعرات 16 جون 2016ء) ناشر : ادارہ تعلیمی تحقیق مزنگ لاہور

    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔لیکن افسوس کہ اس وقت دینی مدارس اپنوں نے بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں کا نشانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" آنحضور ﷺ کی تعلیمی جدوجہد " محترم پروفیسر رب نواز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمی جدوجہد کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 #4068

    مصنف : خرم مراد

    مشاہدات : 2999

    احیائے اسلام اور معلم

    (جمعرات 21 جنوری 2016ء) ناشر : ادارۂ تعلیمی تحقیق، تنظیم اساتذہ، پاکستان

    آج ملت اسلامیہ کے سامنے سب سےبڑا چیلنج یہ ہےکہ وہ اپنی مکمل زندگی کی تشکیل نو اسلام کے مطابق کرے۔ اس جدوجہد کا اہم ترین محاذ نظام تعلیم کا میدان ہے۔ اور اس میدان میں کلیہ اور مرکز کی حیثیت معلم کو حاصل ہے۔ اگر ایک معلم اپنی صلاحیت اور طاقت کو محسو س کر لے اور تعلیم و تعلم کے ساتھ اخلاص پیدا کرتے ہوئے معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا شروع کردے تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس لیے تعلیم ہی وہ ذریعہ ہےجس کے ذریعے مغرب اور مغربی تہذیب کا تسلط مسلمانوں پر قائم ہے۔ سیاسی بیداری کا یہ تو نتیجہ ہو اکہ غلامی کے جو طوق گردن میں تھے وہ ایک حدتک اتر گئے لیکن تعلیم کے ذریعے مغرب کے جو نظریات وتصورات ہمارے رگ و پے میں اتر چکے ہیں ان کا نکالنا اتنا آسان ثابت نہ ہوا۔ اس کے لیے بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ زیر نظر کتاب "احیائے اسلام اورمعلم" خرم جاہ مراد کی تعلیم و تعلم سے وابستہ افراد کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ جس میں معلمین کا اپنے مقام کو پہچاننا، مقصد کی لگن، تعلیمی محاذ پر احیائے اسلام کو اجاگر کرنا اوراپنے تلامذہ کو اسلامی تعلیمات سے بہرور کرتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیلِ نو کا تصور دیا گیاہے۔ اللہ رب العزت ان کی محنت و لگن کو قبول فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 3 #8034

    مصنف : پروفیسر محمد یوسف خان

    مشاہدات : 701

    اساتذہ کی ذمہ داریاں سلسلہ مجالس یوسفیہ 1

    (پیر 02 دسمبر 2019ء) ناشر : مکتبہ بیت العلم کراچی

    تعلیم اچھی سیرت سازی اور تربیت کا ایک ذریعہ ہے ۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ  کے بارے میں فرمایا: ﴿يُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِمۚ…. ﴾ (سورة البقرة: ١٢٩)اور نبی ﷺ ان(لوگوں) کو کتاب وحکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ وتربیت کرتے ہیں‘‘۔اس بنا پر یہ نہایت اہم اور مقدس فریضہ ہے ،اسی اہمیت او ر تقدس کے پیش نظر اُستاد اور شاگرد دونوں کی اپنی اپنی جگہ جدا گانہ ذمہ داریاں ہیں۔ اُنہیں پورا کرنا ہر دو جانب کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کیا جائے تو پھر تعلیم بلاشبہ ضامنِ ترقی ہوتی اور فوزوفلاح کے برگ و بار لاتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اساتذہ کی ذمہ داریاں سلسلہ مجالس یوسفیہ1 ‘‘ صاحب کتاب مولانا محمد یوسف  خان صاحب(استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ ،لاہور ) کے مدرسہ بیت العلم اور البدر اسکول ،کراچی میں  اساتذۂ کرام کے مختلف طبقات سےمختلف نشتوں میں دل سوز بیانات   اور درس وتدریس کے درمیان پیداہونے والے مختلف اشکلات کے جوابات کی کتابی صورت ہے ۔ یہ کتاب مدارس اور اسکول کے اساتذہ کرام کے لیے ایک انمول اور بیش قیمت تحفہ ہے ۔اس کتاب میں  مولانا محمد یوسف خان صاحب کے وہ بیانات جمع کیے گئے ہیں جواساتذہ کرام سے متعلق ہیں تاکہ  اساتذہ کرام منصبِ تدریس کی حقیقت کو پہنچان کر صحیح معنوں میں رسول اللہﷺ کی نیابت کاحق ادا  کرسکیں اور معاشرے کےایک کامیاب اور مثالی استاد بن سکیں۔(م۔ا)

  • 4 #4437

    مصنف : عبد الوہاب حجازی

    مشاہدات : 1920

    اسلامی تربیت

    (ہفتہ 02 اپریل 2016ء) ناشر : ادارۃ البحوث الاسلامیہ، بنارس

    اسلام میں تربیتی احکام انسانی فطرت کے تمام امور کو شامل ہیں ،اسلام ان تمام چیزوں پر جو فطرت انسان سے جنم لیتی ہیں خاص توجہ رکھتاہے ان امور کا انسان اور اس کی زندگی کے حقائق پر مثبت اثر پڑتاہے جس کی نظیر کسی اور مذہب میں نہیں دیکھی جاسکتی۔ اسلامی تعلیم و تربیت کا ایک عدیم المثال نمونہ صدر اسلام کی مسلمان قوم ہے جو گمراہی وجھالت کی کھائیوں سے نکل کر کمال کی اعلی منازل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی اسلام سے پہلے اس کا کام آپس میں جنگ و قتال  کےعلاوہ کچھ بھی نہ تھا  اسی قوم نے اسلامی تربیت  کے زیر اثر ایسی عظیم تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھی جو بہت کم مدت میں ساری دنیا پر چھا گئي اوراخلاق و انسانی اقدار کے لحاظ سے ایسا نمونہ عمل بن گئی جو نہ اس سے پہلے دیکھا گيا تھا نہ اس کے بعد  اسلامی طریقہ تربیت انسانی خلقت و فطرت کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرنے سے عبارت ہے اسلام انسان کی کسی بھی ضرورت سے غفلت نہیں کرتاہے، اس کے جسم عقل نفسیات معنویات و مادیات یعنی حیات کے تمام شعبوں پر بھر پور توجہ رکھتاہے، اسلامی تربیت کے بارے میں رسول اسلام صلی اللہ وعلیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہی کافی ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں مجھے مکارم اخلاق کو کمال تک پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہے (مسند احمد) زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی تربیت‘‘محترم عبد الوہاب حجازی کی  تصنیف کردا ہے جس میں انہوں نے تربیت اولاد کے موضوع کو  تفصیلا  بیان کیا ہے، اور  اولاد کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریوں کو بھی بیان کیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین (شعیب خان)

  • 5 #5201

    مصنف : تفضیل احمد ضیغم ایم اے

    مشاہدات : 1968

    اولاد کو بگڑنے سے کیسے بچائیں

    (بدھ 08 مارچ 2017ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    دینِ اسلام میں بچوں کی تربیت پر بڑا زوردیا گیا ہے چنانچہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سےپہلے بچوں کی صحیح تربیت اور نشوونما کےلیے اپنے اخلاق وعادات کو درست کر کےا ن کےلیے ایک نمونہ بنیں، پھر اس کے بعد ان کےعقائد وافکار اورنظریات کوسنوارنے کےلیے بھر پور محنت کریں اور ان کی اخلاقی اور معاشرتی حالت سدھارنےکے لیے ان کے قول وکردار پر بھر پورنظر رکھیں تاکہ وہ معاشرے کےباصلاحیت اور صالح فرد بن سکیں۔کیونکہ اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اولاد کوبگڑنے سے کیسے بچائیں ‘‘ محترم جناب تفضیل احمد ضیغم کی کاوش ہے یہ مختصر کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے ۔فاضل مصنف نے اس کی تیاری میں خالص شرعی نصوص کو سامنے رکھا ہے اور بقدر ضرورت تربیت اولاد میں جابجا سابقہ علماء کےپُرحکمت اقوال بھی نقل کیے ہیں۔اس مختصر کتاب سے استفادہ کر کے قارئین اپنی اولاد کی اچھی تربیت کر کے انہیں اسلامی معاشرہ کا بہترین فرد بنا سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس عوام ا لناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 6 #5596

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 1735

    اہل حدیث کے چار مراکز

    (منگل 08 اگست 2017ء) ناشر : مکتبہ السنۃ الدار السلفیۃ لنشر التراث الاسلامی، کراچی

    مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔ جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔ مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ "اہل" ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔ قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔ ”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔ مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اھل حدیث کے چار مراکز"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور مورخ مولانا عبد الرشید عراقی صاحب﷾ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اہل حدیث کے چار معروف مراکز: سیاسی مرکز(پٹنہ)، علمی مرکز(بھوپال)، تدریسی مرکز(دہلی) اور روحانی مرکز (امرتسر) کا تعارف بیان فرمایا ہے اور ان مراکز کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 7 #4712

    مصنف : محمد ہود

    مشاہدات : 3955

    بچوں کی تربیت قرآن و سنت کی روشنی میں

    (ہفتہ 09 جولائی 2016ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بچوں کی تربیت قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب میں شیخ مولانا محمد ہود ﷾ نے اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ کےطریقے شریعت اسلامیہ سے دلائل کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ نیز تربیت اولاد میں آج ذرائغ ابلاغ کیا بھیانک کردار ادا کررہے ہیں اس پر بھی تفصیلاً بحث کی ہے۔ مولانا گلزار احمد کےاس کتاب پر مقدمہ اور شیخ عبد الولی کی تخریج سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

  • 8 #2170

    مصنف : قاری محمد ابراہیم میر محمدی

    مشاہدات : 3619

    بچوں کے لیے قاری قاعدہ

    (جمعہ 27 جون 2014ء) ناشر : کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیہ قصور

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے شیخ القراء استاد محترم جناب قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب﷾نے بچوں  کے لئے قاری قاعدہ اور تجویدی قاعدہ  دو قاعدے مرتب کئے ہیں۔ ان میں سے ایک قاعدہ  یہی "بچوں کے لئے قاری قاعدہ" ہے ،جو آڈیو اور ویڈیو سہولت کے ساتھ موجود ہے۔اگر کوئی استاد میسر نہ ہوتو کیسٹ کے ذریعے بھی اسے پڑھا جا سکتا ہے،اور اپنے تلفظ کی درستگی کی جا سکتی ہے۔اس میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،متشابہ الصوت حروف،حروف قلقلہ ،حروف مدہ اور حرکات وغیرہ  کی ادائیگی کی انتہائی آسان اور سہل انداز میں پہچان کروائی گئی ہے۔ اگرچہ یہ قاعدہ بچوں کے لئے لکھا گیا ہے ،مگر بچوں اور بڑوں سب کے انتہائی مفید اور شاندار ثابت ہوا ہے۔اللہ تعالی استادمحترم قاری صاحب کی ان خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 9 #6395

    مصنف : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

    مشاہدات : 2489

    بچپن لڑکپن اور بھولپن (ٹین ایچ گائیڈ )

    (اتوار 13 مئی 2018ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور

    صحت بڑی نعمت ہے۔ نو بالغ بچوں کے لیے اچھی صحت اور بھی ضروری ہے۔ ہمارے بچے اور بچیاں جب بچپن سے بلوغت میں قدم رکھتی ہیں تو جسم میں بے شمار انقلابی تبدیلیاں برپا ہوتی ہیں‘ جس کے لامحالہ اثرات ذہن پر ہوتے ہیں۔ 13 سے 19 سال کی عمر میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے عمر کا یہ حصہ بہت نازک ہوتا ہے۔ 13 سال کے لڑکے کو جب پہلی دفعہ گیلے خوابوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا 13 سال کی لڑکی کو پہلی دفعہ Menstruation Cycle سے گزرنا پڑتا ہے تو بے شمار جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اس وقت ذہن کی کیفیت بالکل بدلی ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لڑکے اور لڑکی کو اس دوران ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اس وقت ذہن کی کیفیت کے بارے میں ضروری معلومات حاصل ہوں تاکہ وہ ان کی وجہ سے ہونے والے مسائل سے اچھی طرح واقف اور عہدہ برآ ہو سکے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع کے حوالے سے ہے جس میں مصنف خود میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے نو بالغ لڑکے اور لڑکیوں کے نفسیاتی اور جسمانی مسائل کے حوالے سے تفصیل پیش کی ہے اور تعلیم وتربیت میں بہت اہم کتاب ہے اور مصنف نے یہ کتاب حدود وقیود میں رہ کر لکھی ہے اور یہ کتاب خاص کر جوانی کے مسائل کے احاطے پر مشتمل ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ بچپن‘ لڑکپن اوربھولپن ‘‘ ڈاکٹر آصف محمود جاہ  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 10 #4976

    مصنف : محمد طاہر نقاش

    مشاہدات : 1591

    بیٹا ہو تو ایسا

    (پیر 12 دسمبر 2016ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    محترم طاہر نقاش صاحب  (مدیر ) دار الابلاغ  ،لاہور کی شخصیت اہل علم کے   ہاں محتاج تعارف نہیں  آپ  جامعہ محمد یہ ،گوجرانوالہ سے فارغ تحصیل ہیں اور ایک عرصہ جماعۃ الدعوۃ کے پلیٹ فارم سے  گراں قدر صحافتی خدمات دیتے رہے ہیں  ۔موصوف کا شمار  وطن عزیز کے چند قلمکاروں  میں ہوتا ہے جن کےقلم  کو اللہ تعالیٰ نے تاثیر کی دولت سےنوازا  ہے ۔ان کےمضامین میں چھوٹے  چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی حکمت وعمل کی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔وہ اپنے قلم کی تبلیغ  سے تبلیغ کا اچھوتا انداز اپنائے ہوئے  ہیں ۔موصوف نے   دینی  صحافت  میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے ساتھ  ساتھ ’’ دار الابلاغ‘‘ کے نام  سے اشاعت کتب دینیہ  کا ادارہ قائم کیا  جو چند سالوں میں معاشرےکی ضرورت کے اہم موضوعات پر  بیسیوں  دینی کتابیں شائع کرچکا ہے ۔طاہر صاحب  خودبھی کئی کتب کے مصنف ومترجم مرتب ہیں ۔8 نومبر 2012ء کو طاہر نقاش صاحب کا ہونہار بیٹا  ابو بکر نقاش  نواز شریف ہسپتال  میں  ڈاکٹر وں کی غفلت  سے اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جس  سے بچے کے والدین ، بہن  بھائی ،  عزیز واقارب کو بہت صدمہ پہنچا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بیٹا ہو توایسا! ‘‘ میں   جناب  طاہر نقاش صاحب   نے اپنے  بیٹے کی    مظلومانہ موت اور اس پر انہیں پہنچنے والے گہرے صدمے ، اور اس  ان   کی والدہ ، استاتذہ ، بہن بھائیوں  اور عزیز واقارب ودست واحباب کے تاثرات کوپیش کرنے  ساتھ ساتھ انہوں نے  اس کتاب میں والدین کے لیے انمول سنہری راہنمائی کے  اصول پیش کیے کہ  انہوں نےاپنے بچوں کی تربیت کیسے کرنی ہے اور اولاد کے   لیے مشعل راہ  وضابطہ  عمل  پیش کیا  کہ انہوں نے کیسے مثالی بیٹے اور بیٹیاں بننا ہے ۔ اللہ تعالیٰ  ابو بکر نقاش  کی بچپن کی موت کو ان کے والدین کے  لیے ذریعہ نجات بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

< 1 2 3 4 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1458
  • اس ہفتے کے قارئین 5322
  • اس ماہ کے قارئین 43716
  • کل قارئین49303555

موضوعاتی فہرست