دکھائیں کتب
  • 1 الفوائد (اردو) جلد اول (جمعرات 01 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:25661

    موجودہ دور سراسر مادیت کا دور ہے ،جس میں ہر شخص دنیوی مال ودولت اور جاہ ومنصب کےحصول میں سرگرداں نظر آتا ہے ۔تزکیہ نفس،اصلاح قلب اور فکر آخرت سے مکمل تغافل برتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص بے چینی اور بے سکونی کا شکار ہے ۔ایسے میں اس کے طرح کے لڑیچر کی اشد ضرورت ہے جس میں اصلاح باطن اور اخلاص وللہیت کی اہمیت کا اجاگر کیا جائے اور ان کے حصول کا عملی طریقہ بھی واضح کیا جائے۔زیر نظر کتاب اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔مولانا ابو محمد امین اللہ پشاوری نے اس کتاب میں ایمان وتقویٰ،زہدوقناعت،محبت الہیٰ ،حسن خاتمہ کے اسباب،استقامت  فی الدین کا طریق کار اور دیگر بہت سے مفید موضوعات پر بحث کی ہے ۔اس میں جا بہ جا قرآن وحدیث اور اقوال سلف سے بہت زیادہ استدلال کیا گیا ہے  اور ضعیف اور موضوع روایات سے اجتناب کیا گیا ہے ۔گویا یہ ایک مستند کتاب ہے ،اصل کتاب عربی میں تھی جسے جناب محمد علی صدیقی نے اردو میں منتقل کیا ہے جس کی بدولت عوام بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔امید ہے اس کے مطالعہ سے اصلاح قلب ودین کا داعیہ بیدار ہو گا اور لوگ خداوند قدوس کی جانب متوجہ ہوں گے۔(ط۔ا)
     

  • 2 اہل فکرکے لیے یاد دہانی (جمعرات 17 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:11392

    اس وقت آپ کے سامنے"Reminders for people of understanding"  کا اردو ترجمہ’اہل فکر کے لیے یاد دہانی‘ کے نام سے ہے۔ جو محترم امتیاز احمد کی تصنیف ہے۔ فاضل موصوف کے اس سے قبل بھی دو کتابوں کے اردو تراجم اشاعت کے مراحل طے کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے انسانی زندگی کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے قرآن کو بنیاد بناتے ہوئے احادیث و اقوال سلف سے مدد لی ہے۔ انہوں نے متعدد عناوین کے تحت جہاں حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت خضر علیہم السلام سے متعلق متعدد واقعات پر روشنی ڈالی ہے وہیں اسلامی اخلاقیات کے باب میں بھی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ حافظ سلمان الفارس نے کیا ہے۔ ترجمے کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہےکہ انہوں قرآنی آیات ذکر کرتے ہوئے صرف اردو تراجم نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔ اگر ان کے ساتھ قرآنی عربی نصوص کا تذکرہ بھی ہوتا تو بہت بہتر ہوتا۔ اس کے علاوہ قرآنی آیات کے ذیل میں بیان کردہ احادیث اور اقوال سلف کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔ اس کا اہتمام بھی ہوتا تو کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ بہرحال دین کے چیدہ چیدہ اصولوں سے آگاہی کے لیے یہ کتاب قدرے اہم ہے۔

     

  • 3 بدکاروں کی زندگی کا عبرتناک انجام (بدھ 26 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:17409

    حقیقی کامیاب وہ شخص  ہے جو دنیا میں کامیاب ہو گیا، جو دنیا کی زندگی میں اللہ کی رضا کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے کامیاب نہ ہو سکا وہ آخرت میں بھی ناکام و نامراد رہے گا۔ جو لوگ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی ذات کے سامنے جوابدہی اور احتساب کے تصو کو بھلا دیتے ہیں وہ اپنی موت کو بھی بھلا بیٹھتے ہیں۔ اچانک ایک دن موت کے کوڑے کی ضربیں جب لگنے لگتی ہیں تو ان کو اس وقت یاد آتا ہے کہ ہم نے تو مرنا بھی ہے لیکن اب وقت بیت چکا ہوتا ہے۔ دنیا دیکھتی ہے کہ ان کا موت کے وقت اس قدر عبرتناک اور خوفناک انجام ہوتا ہے کہ لوگ توبہ توبہ کرتے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے استغفار کرتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی دنیا کے مختلف ممالک کے بدکاروں کی زندگی کا عبرتناک انجام دکھایا گیا ہے، مرتے وقت ان کے جان نکلنے کے عبرتناک مناظر دکھائے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ آپ اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔ جان نکلتے وقت اللہ  و سولﷺ کے باغیوں کا یہ رسوا کن ذلت ناک عبرتناک انجام کیوں ہوتا ہے؟ کیسے کیسے اعمال کرنے کے نتیجے میں ذلت ناک و اذیت ناک موت مرنے کے بعد جہنم کے فرشتوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جہنم کا ایندھن بننا پڑتا ہے؟ اگر آپ ایسے انجام سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرے گی۔ اس کتاب کو مجدّی فتحی السیّد نے تالیف کیا ہے اور اردو قالب میں منتقل کرنے کے فرائض ابوحمزہ پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی نے ادا کیے ہیں۔(ع۔م)
     

  • انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کت...

  • 5 ترک رذائل (ہفتہ 25 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3338

    اسلام میں حسن  اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔نبی کریم  نے مسلمانوں کو حسن اخلاق کو اپنانے اور رذائل اخلاق سے بچنے کی پر زور ترغیب دی ہے۔ رسول کریم نے فرمایا:” قیامت کے روز میرے سب سے نزدیک وہ ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہے۔“ حسن اخلاق انسان میں بلندی اور رفعت کے جذبات کا مظہر ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان میں پستی کے رجحانات بھی پائے جاتے ہیں جنہیں رذائل اخلاق کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل حیوانی جذبات ہیں۔ چنانچہ جس طرح حیوانوں میں کینہ ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر بھی کینہ ہوتا ہے۔ حیوانوں کی طرح انسانوں میں بھی انتقامی جذبہ اور غصہ ہوتا ہے۔ اسے اشتعال دیا جائے تو وہ مشتعل ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں اخلاقی بلندی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور بدخلقی کے ذیل میں آتی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ان پر کنٹرول کیا جائے۔ غصہ ، انتقام ، عداوت ، تکبر کے جذبات پر قابو پایا جائے اور تحمل و برداشت اور عاجزی و انکساری کو شعار بنایا جائے۔ اگر آدمی ایسا کرے گا تو اس کے نفس کی تہذیب ہوگی، اس کے اخلاق سنوریں گے۔ وہ اللہ کا بھی محبوب بن جائے گا اور خلق خدا بھی اس سے محبت کرنے لگے گی۔ اس کے برعکس جو شخص بداخلاقی یا رزائل اخلاق کا مظاہرہ کرے گا، وہ خدا کی نظرمیں بھی ناپسندہوگا اور مخلوق خدا بھی اسے بری نگاہ سے دیکھے گی۔ زیر تبصرہ کتاب "ترک رذائل" بھی اسی جذبہ کے پیش نظر لکھی  گئی ہے۔اس کے مولف  احمد جاوید اور مرتب محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ﷾ہیں ،جنہوں نے اس میں رذائل اخلاق کی ایک لمبی فہرست دے کر ان بچنے کی تلقین کی ہے۔اللہ تعالی سے...

  • 6 جھوٹ ایک معاشرتی ناسور (جمعہ 24 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:21877

    اسلامی تعلیمات کامقصدبنی نوع انسان کورب کریم کےقرب وحضورکااہل بناتاہے ۔اس ضمن میں خصوصیت کےساتھ اخلاقی برائیوں سےبچنے کی تلقین کی گئی ہے ،جن میں جھوٹ سرفہرست ہے۔کتاب وسنت کی روسے مومن جھوٹ کاارتکاب نہیں کرسکتا۔یہی وجہ ہے کہ جھوٹوں پرخداکی لعنت کی گئی ہےاوراسے منافق کی علامت قراردیاگیاہے ۔حقیقت یہ ہےکہ ایمان کی اصل صدق وسچائی ہےجبکہ کفرونفاق کذب وجھوٹ پراساس پذیرہے۔لیکن افسوس ہے کہ آج کل نام نہادمسلمانوں میں جھوٹ عام ہوتی ہے اوراس کی مختلف شکلیں معاشرے میں رواج پذیرنظرآتی ہے۔یہ قبیح جرم اس قدرپھیل چکاہے کہ بعض صورتوں کوتوجھوٹ سمجھاہی نہیں جاتامثلاً جھوٹامیڈیکل سرٹیفکیٹ ،جھوٹ کی وکالت کرنا،جھوٹے سابقے ولاحقے لگانا،جھوٹی خبریں اخباروں میں شائع کرناکروانا،جھوٹی ڈگریوں کی بنیادپرمعاشرے میں تعارف کرواناوغیرہ جیساکہ فی زمانہ اس کابخوبی مشاہدہ کیاجاسکتاہے ۔اس کےعلاوہ بھی بے شمارشکلوں میں جھوٹ موجودہے لیکن ہم اس پہلوسے غفلت کاشکارہیں ۔زیرنظرکتاب میں اسی مسئلہ کوموضوع بحث بنایاگیاہے اورقرآن وحدیث کی روشنی میں اس کے مختلف پہلوؤں پرمفصل کلام کیاگیاہے ،جس کےمطالعے سے یقیناً جھوٹ سے نفرت کاداعیہ بیدارہوگااوراصلاح نفس کاجذبہ پیداہوگا۔ان شاء اللہ

     

     

  • 7 جھوٹ کی سنگینی اور اس کی اقسام (جمعرات 19 مئی 2011ء)

    مشاہدات:11195

    گناہوں کی دو قسمیں ہیں :صغیرہ  اور کبیرہ ،پھر کبیرہ گناہوں  میں بعض انتہائی سنگین ہیں ،جن کی بنا پر لوگ شدید اذیت اور مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں ۔ایسے ہی گناہوں میں سے ایک بد ترین گناہ جھوٹ ہے ۔لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوت عام ہو چکا ہے ۔بہت سے لوگ دوسرے لوگوں کے جھوٹ پر رنجیدہ ہونے والے اپنے لیے دروغ گوئی کو عقل و دانش کی علامت سمجھتے ہیں ۔کذب بیانی سے بزعم خود دوسروں کو بے وقوف بنانے کا تذکرہ اپنے لیے باعث افتخار گردانتے ہیں ۔عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر فضل الہیٰ نے زیر نظر کتاب میں جھوٹ کی ہلاکت خیزی کو واضح کیا ہے اور جھوٹ کی سنگینی ،جھوٹ چھوڑنے کا عظیم الشان صلہ ،جھوٹ کی اقسام اور جھوٹ بولنے  کی اجازت کے مواقع جیسے اہم مسائل کو قرآن و حدیث اور علمائے سلف کے اقوال کی روشنی میں اجاگر کیا ہے ۔ہر مسلمان کو یہ کتاب لازماً پڑھنی چاہیے تاکہ معاشرے کو جھوٹ جیسے قبیح جرم سے پاک کیا جا سکے ۔
     

  • 8 جہنم میں لے جانے والی مجلسیں (ہفتہ 08 مارچ 2014ء)

    مشاہدات:3189

    انسان  شروع سےہی  اس  دنیا میں تمدنی  او رمجلسی زندگی  گزارتا آیا ہے پیدا ہونے سے لے کر  مرنے تک اسے  زندگی  میں  ہر دم مختلف مجلسوں سے واسطہ پڑتا  ہے  خاندان ،برادری  اور معاشرے کی یہ مجالس جہاں ا س کے  اقبال میں بلندی ،عزت وشہرت میں اضافے  او ر نیک نامی  کا باغث بنتی ہیں وہیں اس کی  بدنامی  ،ذلت اور بے عزتی  کاباعث بنتی ہیں  انسان کو  ان  مجلسوں میں شریک ہو کر کیسا رویہ اختیار کرناچاہیے کہ جو اسے  لوگوں کی نظروں میں ایسا وقار اور عزت وتکریم والا مقام بخش دے  کہ لوگ  اس کے مرنے کے  بعد بھی اسے یاد   رکھیں ۔ زیر نظر کتاب جوکہ ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے  اس میں ایسی  ہی باتوں او ر امور قبیحہ کی  نشاندہی  کی  گئی ہے کہ جو  روزمرہ  کی  یاروں ،دوستوں ، عزیزوں، رشتہ داروں ،کاروباری شراکت داروں  وغیرہ کے ساتھ  مل  بیٹھ کر  گفتگو کرنے کی مجلسوں میں سرانجام دئیے  جاتے ہیں  فاضل مصنف   نے بہت ہی خوبصورت انداز میں  آداب ِمجالس کو  شرعی  دلائل کے ساتھ  پیش کیا  ہے  اس کتاب میں  مذکور موضوعات  اتنے عمدہ او رمفید   ہیں کہ ہر مجلس ومحفل میں پیش  کئے جانےکے قابل ہیں  ہر مربی  ومعلم  ان کی روشنی میں  اپنےزیر تربیت حلقہ کے افراد کی  تربیت  کرسکتاہے  اللہ سےدعا ہے کہ  قرآن وسنت کی  رو...

  • 9 حاصل زندگی (بدھ 22 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:3800

    امام ابن حزم  کی  شخصیت علمی حلقوں میں  تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ یہ امام   ابن حزم کی  کردارسازی کے موضوع پر  لکھی کتاب الاخلاق والسیر کا اردو ترجمہ ہے۔اس میں انہوں نے  اخلاق اور معاشرتی روایات کا تجزیہ  کیاہے۔  انہوں نے اس  کتاب کی بنیاد کتاب و سنت کے راہنما اصولوں کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی تجربات ومشاہدات  اورافکار وخیالات پر رکھی ہے ۔ اور   زیادہ تر اپنے ذاتی تجرباتِ زندگی اور پند ونصائح  کو ذکر کرتے ہوئے عنوانات قائم کئے ہیں۔اس کتاب کے معروف عنوانات تزکیۂ نفس، عقل مندی ،راحت وسکون،علم وعرفان،اخلاق وکردار، دوستی وخیر خواہی ، محبت ، عادات وخصال ، بری عادتیں اوران کا  علاج،مدح پسندی کی خواہش،انسان کی عجیب وغریب عادتیں،اور  علمی محفلیں وغیرہ ہیں۔اصل کتاب عربی میں ہے ،اورعربی سے اردو ترجمے کا کام  مولانامحمد یوسف ﷾آف راجووال کے صاحبزادے ڈاکٹر  عبدالرحمن  یوسف نےسرانجام دیا ہے۔ اس کو شائع کرنےمیں حافظ عبد اللہ حسین روپڑی  آف کراچی اور عارف جاوید محمدی﷾ نےنمایاں کردار اداکیاہے۔اللہ ان سب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔(آمین)(م۔ا)
     

  • 10 خطاؤں کا آئینہ ( جدید ایڈیشن) (جمعہ 17 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1942

    ایک مسلمان کی ساری زندگی  عبادات کےگرد گھومتی ہے ،وہ اپنے رب کوراضی کرنے کےلیے  اپنے ہر فعل کو عبادت بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ جس پر وہ اجروثواب کاحقدار ٹھہرے ۔لیکن اگر اسے پتہ چل جائے کہ یہ جوعبادت اور نیکی میں ا س قدر محنت خلوص اور خشوع وخضوع سے کررہا ہوں اس میں  فلاں جگہ پر یہ خطاء اور غلطی سرزد ہورہی ہے جس کی وجہ سے عبادت یا نیک کام باعث اجراوثواب ہونےکی بجائے نہ صرف یہ کہ رب کریم کی بارگا ہ میں  قبول  نہیں ہور ہا بلکہ گناہوں کا باعث بن رہا ہے  تو  وہ یقیناً اس  خطاء وغلطی کی اصلاح پہلی فرصت میں کر ے گا ۔آج بہت سےمسلمان پر  اپنی عبادات بالخصوص  ارکان خمسہ  میں بہت ساری خطاؤں  کے مرتکب ہور ہے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’خطاؤں کا  آئینہ ‘‘صالح بن عبدالعزیز آل شیخ کی  تصنیف ہے جس میں انہوں نے  مسلمانوں کی عبادات میں پائی جانے والی  خطاؤں  کی نشاندہی کی ہے۔ یہ کتاب  اپنے موضوع پر ایک مکمل  اور بے مثا ل کتاب ہے  کہ جس کی روشنی میں ہر مسلمان اپنی عبادت کو خطاؤں سے پاک کر سکتاہے مؤلف نے ایک مسلمان کےلیے عبادات میں واقع ہونےوالی خطاؤں کےمجموعے  کو مرتب کرکے اس کتاب کو گویا ایک آئینہ بنادیا ہے  کہ جس میں انسان اپنی عبادات کے عکس کا جائزہ لےسکتاہے ۔تاکہ اس کی عبادات قرآن وسنت کےمطابق ہوکر اللہ رب العزت کے دربار میں پہنچیں اور قبولیت کادرجہ حاصل کرکےمؤمن کےدرجات میں بلندی کا  عث بنیں اور بندہ کو مزید اپنے رب کےنزدیک کردیں۔اللہ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1539
  • اس ہفتے کے قارئین: 3620
  • اس ماہ کے قارئین: 28148
  • کل قارئین : 47066174

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں