• #3808
    قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    1 معارف الاسماء شرح اسماء الحسنٰی

    اللہ تعالی ٰ کے  بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے  ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ  توحید کی  معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ  کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی  اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن  واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے  کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے  اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله  تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام  ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان  کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے  سلسلے میں اہل علم نے مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی  ہے زیر تبصرہ کتاب ’’معارف الاسماء شرح اسماء الحسنیٰ ‘‘  سیرت النبیﷺ پر مقبول عام کتاب رحمۃ للعالمین  کے  مصنف  جناب  قاضی محمد سلیمان منصورپوری﷫ کی تصنیف  ہےجو کہ اللہ  تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی  بنظیر شرح ہے ۔مصنف موصوف نے روایات کی روشنی میں  اسماء  الحسنی ٰ کو نقشہ جات  کی صورت میں پیش  کی ہے۔اللہ تعالیٰ   مصنف کتاب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے (آمین)(م۔ا)

  • #3717
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    2 مسائل الجاہلیہ

    مومن اور مشرک کے درمیان حدّ فاصل صرف کلمۂ توحید لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے ۔ شریعت ِ اسلامیہ اسی کلمۂ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے ۔اللہ تعالیٰ نے جہاں کچھ اعمال بجالانے کو فرض قرار دیا ہے وہاں کچھ ایسے افعال کا تذکرہ بھی فرمایاجن پر اعتقاد رکھنےاورعمل کرنے سےبڑے سے بڑا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ذرہ برابر وقعت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف اوقات میں جن امور سے اپنے بندوں کو بچنے کی ہدایت فرمائی ہے وہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر درج ہیں۔ اور کچھ امور ایسے ہیں جن کی حرمت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے بیان کرایا جن کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب﷫ کے ایک عربی رسالہ کا ترجمہ ہے اس میں انہوں نے 123 ایسے مسائل کو یکجا کردیا ہے۔ جو رسول اللہﷺ اور مشرکین عرب کے درمیان متنازعہ فیہ تھے اور نبی کریم ﷺ نےان کی مخالفت کی اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں کہ جن کاہر مسلمان کے علم آنا ضروری ہی نہیں بلکہ   کوئی مسلمان ان سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا کیونکہ ان میں اوراسلام میں بعد المشرقین ہے۔ان مسائل کی اہمیت کے پیش نظر محترم جناب عطاء اللہ ثاقب ﷫ نے تقریبا 35 سا ل قبل اسے اردو زبان میں منتقل کیا تاکہ اردو دانہ طبقہ بھی ان مسائل کو سمجھ اور اپنے عمل وکردار میں سمو کر اپنے اعمالِ صالحہ کی حفاظت کرسکے ۔ اللہ تعالی ٰ اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • #3595
    ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

    3 قرآنی اور مستند مسنون اذکار و دعائیں

    قرآن مجید میں انبیاء کرام ﷩ کے واقعات کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں او ران کے آداب کاتذکرہ ہوا ہے ۔ ان قرآنی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لاکر کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی آسمانی کتاب کے حصے میں بھی نہیں آیا ۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے فراہم کردیئے گئے ہیں ۔اور شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔ تمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود ہ شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔  زیر تبصرہ کتاب’’ قرآنی اور مستند مسنون اذکار ودعائیں ‘‘ محترم جناب ڈاکٹر حافظ شہباز حسن ﷾ کی کاوش ہے اس کتا ب کے پہلے حصہ میں قرآنی دعائیں اور اذکار قرآنی ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں ۔ جبکہ دوسرے حصے میں احادیث نبویہ سےثابت شدہ دعائیں اوراذکار نقل کیے گئے ہیں ۔ تالیف میں مسلمان کی عملی زندگی کی یومیہ ترتیب کو حتی الامکان ملحوظ ِ خاطر رکھا گیا ہے ۔ اس مجموعہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ادب واحترام کی غرض سے اللہ تعالیٰ کےلیے جمع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ،تاکہ دعاؤں کاور اذکار کے ترجمے کے ذریعے خالقِ کائنات کی عظمت کابھر پور اظہار کیا جاسکے ۔ دعاؤں کا یہ مجموعہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمداسرائیل فاروقی صاحب کی فرمائش پر تیار کیا گیا ہے اور انہوں صدقہ جاریہ کی غرض اسے فی سبیل اللہ تقسیم کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشر کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • #3544
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    4 اسلام میں حلال و حرام

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اورانبیاء ورسل ﷩ کےذریعے اپنےاحکامات ان تک پہنچائے۔اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کی پابندی کرنا عین عبادت ہے۔ منہیات سے بچنا اور حرام سے اجتناب کرنا ایک حدیث کی رو سے عبادت ہی ہے۔ حرام کےاختیار کرنے سے عبادات ضائع ہوجاتی ہیں اورایک شخص کو مومن ومتقی بننے کے لیے حرام کردہ چیزوں سےبچنا ضروری ہوتا ہےاور اسلام نےبہت سی اشیاء کوحرام قرار دیا ہے جن کی تفصیل قرآن وحدیث کے صفحات پربکھری پڑی ہے۔ بعض علما ء نےاس پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے علامہ یوسف قرضاوی کی زیرتبصرہ کتاب ’’اسلام میں حلال وحرام ‘‘ بڑی اہم ہے اس کتاب میں علامہ قرضاوی نےحلال وحرام پر مفصل بحث کی ہے۔ لیکن انہوں نے چند مقامات پر ٹھوکر کھائی ہےجس پر علامہ البانی اور دیگر علماء نے ان کاخوب محاکمہ کیاہے۔۔ البتہ مجموعی لحاظ سے کتاب بہت مفید ہے۔ محدث العصر علامہ محمد ناصر الدین البانی ﷾ نے اس کتاب کا بغور مطالعہ کیاا ور اس کی تمام احادیث کی فنی تخریج کی جس سے اس   کتا ب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اور اسی طرح فاضل مترجم جناب شمس پیر زادہ نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ بعض مفید حواشی اورتبصرے بھی کیے ہیں جس سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ اپنے موضوع پر یہ ایک نہایت جامع اور بے نظیر کتاب ہے اور مصنف کایہ دعویٰ بالکل صحیح ہے کہ حلال وحرام کے موضوع پر اسلامی لٹریچر میں یہ کتاب اولین اضافہ ہے۔کتاب ہذا کا زیر تبصرہ ایڈیشن کراچی سے شائع شد ہے ۔ اس کتاب کا جدید ایڈیشن دارالابلاغ کے مدیر جناب طاہر نقاش صاحب نے بڑی عمدگی کےساتھ شائع کیاہے ۔جس پر پاکستان کےنامور عالم دین مفتی مبشرربانی ﷾نے بعض مقامات پر تعلیق لگادی ہےاور محترم طاہر نقاش صاحب نے شیخ البانی اور شیخ صالح بن فوزان کی تعلیقات وتحقیقات کواردو قالب میں ڈھال کر اس کتاب(کا فٹ نوٹ میں) حصہ بنا دیاہے۔یہ ایڈیشن بھی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔۔اللہ تعالیٰ،مصنف ، مترجم اور ناشرکی تمام مساعی جمیلہ کو قبو ل فرمائے ۔اورمسلمانوں کوحلال کھانے اور حرام سے اجتناب کرنےکی توفیق بخشے۔ (آمین)( م۔ا)

  • #3530
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    5 حج مسنون

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔حج زندگی میں ایک دفعہ ہر اس شخص پر فرض ہے حوزادِ راہ رکھتا ہو۔ کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہو جو مانع سفر ہو اور راستہ میں ایسی رکاوٹ نہ ہو جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو ۔ایسی تمام رکاوٹیں موجود نہ ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص بغیر حج کے مرجائے تو اس کی موت یہودی اور عیسائی کی طرح ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اگر حج کے تمام احکام وفرائض سنت نبوی کےمطابق ادا نہ جائیں تو ان کی قبولیت نہ ہوگی۔اور نہ ان کے لیے کوئی اجر ہوگا بلکہ وہ ضائع اور برباد ہوجائیں گے ۔اس لیے ضروری ہےکہ حج جیسا اہم فریضہ سنت نبوی ﷺ کےمطابق ادا کیا جائے۔ اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حج مسنون‘‘ مجتہد العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اس بات کوپیش نظر رکھا ہےکہ حاجی حج کےلیے گھر سے روانہ ہو کر واپسی تک فریضۂ حج کی تکمیل کےتمام مراحل عین سنت کےمطابق ادا کرے۔ اس کتاب کے چار ایڈیشن محدث روپڑی  کی زندگی میں پاکستان بننے سے قبل اور بعد میں شائع ہوئے اور موجودہ ایڈیشن انکی وفات کے بعد شائع ہونےوالا پہلا ایڈیشن ہے۔جسے بلال گروپ آف انڈسٹریز نے   فی سبیل اللہ تقسیم کی خاطر شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ محدث روپڑی ﷫ کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اوران کےلیے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

  • #3498
    شاہ معین الدین احمد ندوی

    6 تاریخ اسلام ( معین الدین ندوی ) جلد دوم

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف  کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا  دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے  مار کھا رہے ہیں  کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ  قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام "شاہ معین الدین احمد ندوی صاحب کی کاوش ہے جو دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اس کی پہلی جلد عہد رسالت،خلافت راشدہ اور عہد بنو امیہ ،جبکہ دوسری جلد خلافت عباسیہ پر مشتمل ہے۔مولف نے اسلامی تاریخ کو جمع فرما کر مسلمانوں کو اپنے اسلاف سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3529
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    7 حج و عمرہ اور زیارت کے مسائل کی تحقیق و وضاحت

    اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے ۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ ا ور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے۔ اگر اللہ تعالی توفیق دے تو ہر پانچ سال بعد حج یا عمر ہ کی صورت میں اللہ تعالی ٰ کے گھر حاضر ی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں۔ مگر یہ اجر وثواب تبھی ہےجب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے ۔اور منہیات سےپرہیز کیا جائے ورنہ حج وعمرہ کےاجروثواب سےمحروم رہے گا۔حج کے احکام ومسائل کے بارے میں اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب بازار میں دستیاب ہیں اور ہر ایک کا اپنا ہی رنگ ڈھنگ ہے۔انہی کتب میں سے زیر تبصرہ کتاب سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ جناب عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ﷫ کی ہے۔ اصل کتاب عربی میں التحقيق والايضاح لكثير من مسائل الحج والعمرة والزيارة على ضوء الكتاب والسنة کے نام سے ہے جس کے اردو ترجمہ وتفہیم کی سعادت ہند کے نامور عالمِ دین جناب مولانا مختار ندوی نے حاصل کی۔ مسائل حج کی بابت یہ مختصر مجموعہ ہےجو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺکی روشنی میں حج ،عمرہ اور زیارت کےاکثر مسائل پر مشتمل ہے۔ یہ کتابچہ پہلی مرتبہ 1363ھ میں جلالۃ الملک عبد العزیز بن عبد الرحمن الفیصل  کے خرچ پر شائع ہوا۔ اس کے بعد سعودی عرب ، برصغیر پاک وہند میں اس کے متعدد ایڈیش شائع ہوچکے ہیں اور لاکھوں مسلمانوں نے اس سے استفادہ کیا اورحج وعمرہ کو مسنون طریقہ سے ادا کرنے کی سعادت حاصل کی ۔موجود ہ ایڈیشن وزارت اسلامی امور واوقاف سعودی عرب کی طرف سے شائع شدہ ہے۔اس کتاب کی طباعت میں جن حضرات نے حصہ لیا اللہ تعالی ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے اہل اسلام کے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • #3222
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    8 سوئے حرم حج وعمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل

    حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں اسے ایک رکن  ہے ۔ بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔اور جس طرح نماز ،روزہ ، زکوٰۃ ،اسلام کے ارکان اور فرائض ہیں اسی طرح حج  دین کا بہت  بڑا رکن اور فیع الشان فریضہ ہے نماز  اور روزہ صرف بدنی عبادت ہے ۔ زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہے  ۔ لیکن حج اپنے  اندر بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادتیں سموئے  ہوئے ۔ یعنی حا جی گھر سے چل کر مکہ مکرمہ ،عرفات اورمدینہ منورہ سے  ہو کر لوٹتا اور ساتھ ہی مال بھی خرچ کرتا ہے تو گویا دونوں قسم کی بدنی اور مالی عبادتوں کا شرف حاصل کرتا ہے ۔حج کرنے  سے پہلے  حج  کے طریقۂکار  سےمکمل آگاہی  ضرور ی ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سوئے حرم   حج وعمر ہ اور قربانی کے احکام ومسائل‘‘ محترم جناب مولانا محمد منیر  قمر﷾ کے  تقریبا  ربع  صدی قبل  ریڈیو متحدہ عرب امارات ام القیوین سے  شمال اسٹوڈیوز کی اردو  سروس میں نشر ہونے والے  سلسلہ وار پروگرام ’’ سوئے حرم‘‘ کی  کتابی شکل ہے  جس میں  مناسب ترمیم اورمفید اضافے بھی کیے گئے ہیں۔ اس کتاب  میں حج وعمرہ اور قربانی کے جملہ  احکام ومسائل کا  کتاب وسنت کی روشنی میں  احاطہ کیا گیا ہے ۔  حافظ عبد الرؤف ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کی  کتاب  میں  وارد تمام احادیث وآثار کی علمی  وتفصیلی تخریج   نے  کتاب کی افادیت کودوبالا کردیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ کتاب کے مؤلف ،مخرِّج ومعلّق کی  اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور اسے   عوام الناس کے   مفید ونافع بنائے (آمین) (م۔ا)

  • #2979
    مولانا محمد عیسی منصوری

    9 مغرب اور اسلام کی فکری و تہذیبی کشمکش

    مغربی تہذیب جسے مسیحی بنیاد پرستی کا نام دیا جانا ،زیادہ صحیح ہوگا،قرون وسطی کی صلیبی جنگوں بلکہ اس سے بھی قبل اسلام اور عالم اسلام کے خلاف محاذ آراء رہی ہے۔جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف روپ دھارے ہیں۔البتہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب ہو یا مسیحی بنیاد پرستی ،اسلام اور اسلامی اقدار ان کا بنیادی ہدف رہے ہیں۔بنیاد پرستی عصر حاضر کا ایک سلگتا ہوا موضوع ہے،جس کی سرحدوں کا تعین کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک طبقہ کے لئے ایک رویہ اگر بنیاد پرستی ہوتا ہے تو دوسرے طبقہ کے لئے وہی رویہ جائز اور عین درست ہوتا ہے۔جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جوبنیاد پرستی کو کسی روئیے کے طور پر تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " بنیاد مغرب اور عالم اسلام کی فکری وتہذیبی کشمکش اور مسلم اہل دانش کی ذمہ داری " دنیا میں پائے جانے والے انہی رویوں اور بنیاد پرستی کے موضوع پر لکھی گئی ہے ،جو محترم مولانا محمد عیسی منصوری  صاحب کی کاوش ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں مغربی افکار ونظریات اور ان کا تاریخی پس منظر،عہد وپیمان اور یورپی اقوام،نئے عالمی نظام کے خوش نما مقاصد،مغربی میڈیا اور عالم اسلام،روحانیت مغرب کا سب سے برا بحران،مغرب میں اسلام کا مستقبل،جدید نظریاتی چیلنج اور علماء کران اور اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مغربی دانشوروں کے دو گروہ جیسے اہم موضوعات زیر بحث لائے ہیں۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2940
    عبد المنان نورپوری

    10 مقالات نور پوری

    حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت  محتاج  تعارف  نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے  اقران معاصر میں ممتاز تھے   اللہ تعالیٰ نے  آپ کو  علم  وتقویٰ کی خوبیوں اور  اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں  ہوتاہے حافظ  صاحب بلند پایا  عالمِ  دین   اور  قابل ترین مدرس  تھے ۔ حافظ  صاحب   1941ءکو  ضلع گوجرانوالہ میں  پیدا ہوئے اور  پرائمری کرنے کے بعد دینی  تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی  ۔ حافظ صاحب   کوحافظ  عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ  محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی  ﷭ وغیرہ  جیسے عظیم   اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ  محمدیہ  سے  فراغت  کے بعد  آپ  مستقل طور پر جامعہ  محمدیہ گوجرانوالہ میں  مسند تدریس  پر فائز ہوئے   پھر اسی ادارہ  میں   درس  وتدریس  سے وابسطہ  رہے  اور طویل  عرصہ جامعہ  میں  بطور  شیخ الحدیث   خدمات  سرانجام  دیتے  رہے ۔ اوائل عمرہی  سے  مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت ،عبور اور دسترس  حاصل تھی  چنانچہ  علماء فضلاء  ،اصحا ب منبرومحراب  اہل تحقیق  واہل فتویٰ بھی  مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے   تھے  ۔  بے شمار  طالبانِ علومِ نبوت نے  آپ سے  استفادہ کیا حافظ  صاحب  علوم  وفنون کے  اچھے   کامیاب مدرس ہونےکے ساتھ ساتھ  اچھے  خطیب  ،واعظ ، محقق ،ناقد اور محدثانہ   بصیرت اور فقاہت رکھنے و الے مفتی  ومؤلف بھی تھے عربی اردو زبان  میں  آپ نے علمی و تحقیقی مسائل پر کئی کتب  تصنیف کیں۔آپ  انتہائی مختصر اور جامع ومانع الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرنے کےماہر،اندازِ بیان ایسا پر اثر کہ ہزاروں سوالوں کاجواب انکے ایک مختصر سےجملہ میں پنہاں ہوتا ،رعب وجلال ایسا کہ بڑے  بڑے  علماء ،مناظر او رقادر الکلام افراد  کی زبانیں بھی گویا قوت گویائی  کھو  بیٹھتیں۔حافظ صاحب نے   واقعی محدث العصر حافظ محمدگوندلوی﷫ کی علمی مسند کے صحیح وارث اورحقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔  اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے(آمین) زیر  تبصرہ کتاب  ’’مقالات نورپوری ‘‘ مولانا حافظ عبد المنان نورپوری ﷫  کے ان خطبات ومقالات کا مجموعہ ہے  جو وہ   جامعہ محمد یہ  چوک اہل حدیث میں جمعہ کے روز نماز عصر کے بعد ماہوار درس  دیا کرتے تھے ۔ حافظ  صاحب  مرحوم   کے نامور شاگرد رشید  جناب  مولانا محمد طیب محمدی﷾ (مدیر ادارہ  تحقیقات سلفیہ،گوجرانوالہ)نے  حافظ صاحب کے ان  خطبات کو  احاطۂ تحریر لاکر  موضوعات  کے لحاظ  مرتب کر کے حافظ صاحب سے نظر ثانی کروا کر   حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے ۔۔ان خطبات ومقالات میں  خطباء وعلماء کےلیے علمی مواد موجود ہے ۔ مرتب  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷫ کے خطبات وغیرہ کو مرتب  کر کےشائع کرنےکے علاوہ حافظ صاحب کی حیات وخدمات پر  ایک  ضخیم  کتاب  مرتب کر کے بھی شائع کی ہے ۔اللہ تعالیٰ محترم محمد  طیب محمدی ﷾ کو  جزائے خیرسے  نوازے کہ انہوں نے  رقم کی توجہ پر اپنی مطبوعات کا  ایک  سیٹ  ادارہ محدث کی لائبریری کے لیے  ہدیۃً عنایت فرمایا۔(آمین) (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825317

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں