اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1995

    مصنف : عبد العزیز محمدی رحیم آبادی

    مشاہدات : 2599

    حسن البیان فیما سیرۃ النعمان

    (بدھ 30 اپریل 2014ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے اپنے اسلاف کے حالات او ران کے کارناموں سے واقفیت حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے،تا کہ ان کے نقوشِ قدم پر چل سکیں اور زندگی میں ان سے راہنمائی حاصل کی جاسکے اوراسلاف کے کارناموں کو زندہ رکھا جا سکے ۔ اس سلسلے میں برصغیر کے معروف سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی﷫ نے امام ابو حنیفہ﷫ کی حیات و خدمات کے حوالے سے سیرۃ النعمان کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس میں نے انہوں نے امام صاحب کے مناقب وخوبیاں بیان کر نے کے ساتھ ساتھ اصولِ حدیث او راکابر محدثین وعلماء اہل اصول پر نقد جر ح بھی کی ،تومولانا شبلی کے معاصر شیخ الکل فی الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلو ی ﷫کے تلمیذ خاص علامہ محمد عبد العزیز رحیم آبادی ﷫ نے سیرۃ النعمان کے جواب میں حسن البیان فیما سیرۃ النعمان کے نام سے کتاب تصنیف کی ، جس میں انہوں نے مولانا شبلی نعمانی کی طرف سے سیرۃ النعمان میں حدیث اور محدثین پر کی جانے والی نقدو جرح کا علمی وتحقیقی اور تنقیدی جائز لیا ہے او ر بعض ایسی علمی اور مضبوط گرفتیں کی ہیں کہ جن کا لوہا علامہ شبلی  کوبھی مانے بغیر چارہ نہ رہا ۔اور بعد والی طبع میں مولانا شبلی نے خو د ہی اس کی اصلاح کردی۔ حسن البیان پہلی دفعہ 1311ھ میں مطبع فاروقی دہلی سے طبع ہوئی ۔زیر نظر طبع مکتبہ ثنائیہ سرگودھا کی ہے، جس میں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ کی تصدیر اور شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی﷫ کاعلمی مقدمہ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کے سلسلے میں ان علماء کی کوششوں کوقبول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 2 #2260

    مصنف : محمد شاہجہانپوری

    مشاہدات : 2528

    الارشاد الی سبیل الرشاد

    (جمعرات 17 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت شریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں  امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔زیر نظر کتاب  الارشاد الی سبیل الرشاد فی امرالتقلید والاجتهاد از مولانا ابو یحیٰ  محمد شاہجہان پوری  تقلید  واجتہاد کے موضوع پر  ایک بے  نظیر کتاب ہے  تقلید کی  پوری تاریخ  اس میں  درج ہے  او ر اس میں  اہل تقلید او راہل حدیث  کے طرز ِ عمل  کا موازنہ نہایت شرح وبسط کے ساتھ مدلل طور پر کیا گیا ہے  او رمعترضین کے  جملہ  اعتراضات  کے شافی ومسکت  جوابات  دئیے  گئے دراصل یہ کتاب  مولانا رشید احمد گنگوہی  کے  رساله الشمس اللامعة في كراهة الجماعة الثانية کے جواب  لکھی  گئی ہے  الله  تعالی  مصنف کے درجات بلند  فرمائے  اور  اہل علم کے لیے  اسے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)
     

     

  • 3 #3615

    مصنف : محمد اسلم ربانی

    مشاہدات : 1718

    حقانیت رفع الیدین

    (منگل 22 ستمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    شریعتِ اسلامیہ میں  نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری)  رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ  ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ  رفع الیدین کی حدیث کو  صحابہ کرام    کی اس قدر   کثیر  تعداد  نے روایت  کیا ہے  کہ شاید  اور  کسی  حدیث  کواس  سے   زیادہ  صحابہ    نے  روایت  نہ کیا  ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے  جزء  رفع الیدین میں لکھا ہے  ہے کہ  رفع الیدین کی حدیث کوانیس  صحابہ   نے روایت کیا  ہے ۔  لیکن صد  افسوس  اس  مسئلہ  کو مختلف  فیہ  بنا کر  دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین  پر  امام  بخاری   کی جزء  رفع الیدین ،حافظ زبیر  علی  زئی   کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب  قابل  ذکر  ہیں۔اثبات رفع الیدین پر   کتا ب ہذا کے  علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی  موجود ہیں۔زیر تبصرہ کتابچہ’’حقانیت رفع الیدین‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ یہ کتابچہ محمد اسلم ربانی (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور) کی  کاوش ہے  انہوں نےاس مختصر رسالہ میں اثبات رفع الیدین کے متعلق اکثر حوالہ جات  حنفیوں کی کتابوں سے  پیش کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے  عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 4 #4011

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 2453

    اسلام اور برٹش لاء

    (جمعرات 14 جنوری 2016ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    دنیابھر میں اسلام اور دہشت گردی کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کرنے کے لیے بہت سے حلقے اور حکومتیں سرگرم ہیں۔مغربی میڈیا، نظام تعلیم، صحافت، داخلی و خارجی پالیسیاں اوردیگر ذرائع ابلاغ اس دوڑ میں سب سے نمایاں ہیں۔بارہویں صدی سے لگاتارمسیحی چرچ نے نبی کریم ﷺ کو طاقت اور ہوس کے جنون میں مبتلافردباور کرانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو خون کے پیاسے اور شہوت پرست مطلق العنّان عربوں کے روپ میں پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ اسلام کے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو انتشار و خلفشاراورمختلف قسم کے شکوک و شبہات کا ایک جال بچھایا جارہاہے۔ خیر القرون سے لے کر دورحاضر تک یہودی و نصرانی ہمیشہ سے صفِ اوّل کے اسلام مخالف ثابت ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ برٹش ایک سامراجی مملکت کا نام ہے۔ انسانی حقوق کےسب سے بڑےعلمبردار کہلوانے والے در حقیقت نسل انسانی کے سب سے بڑے غاصب اور قاتل ہیں۔ اگر حقائق پر نظر رکھی جائے تو پچھلے پچاس (50) برسوں میں برٹش کئی وسیع پیمانے پر ہونے والی جنگوں میں ملوث رہا ہے۔جبکہ اسلام اس کے برعکس امن و سلامتی، اخوت، اور مساوات کا دین ہے۔ اسلام ایک واحد مذہب ہے جو غیر مسلموں کو بھی تحفظ اور پناہ بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور برٹش لاء" مولانا ابو الوفا ثناء اللہ مرحوم امرتسریؒ کی تصنیف ہے۔ مولانا مرحومؒ نے ان حالات میں اپنی کتاب کو تصنیف کیا جب انگریز برصغیر پر اپنی پوری قوت کے ساتھ مسلط تھا۔ قانون سازی کے تمام اختیارات گورنر جنرل کے ہاتھ میں تھے۔ ان حالات میں حضرت مولانا مرحومؒ یہ کتاب لکھ کر جہاں رائج الوقت قوانین کی خامیوں اور کوتاہیوں پر انگشت نمائی کی ہے وہاں اس کے ساتھ ہی ساتھ اسلامی قوانین سے ان کاموازنہ کر کے شرعی قوانین کی برتری اور فضیلت ظاہر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا مرحومؒ کو اجر عظیم سے نوازے اور امت مسلمہ کو فرنگیوں کی منافقانہ چالوں کو سدّ باب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 5 #4887

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 2138

    تذکرۃ المحدثین

    (بدھ 02 نومبر 2016ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے۔ زیر تبصرہ کتاب’’تذکرۃ المحمدیین‘‘ وطن عزیز کےمعروف سوانح نگار مصنف کتب کثیرہ مولانا عبدالرشید عراقی﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے برصغیر کے ان اٹھائیس نامور علمائے اہلحدیث اور ان کی دینی وعلمی ، سیاسی وملی، تبلیغی وتدریسی تصنیفی خدمات کا تذکرہ کیا ہے جن کا نام سید الانبیاء حضرت محمدﷺ کے نام نامی پر ہے ۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کے علم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے ۔( آمین)

  • فضائل اہلحدیث ( جدید ایڈیشن )

    (جمعہ 09 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فضائل اھلحدیث "امام احمد بن علی المعروف علامہ خطیب البغدادی ﷫کی عربی تصنیف"شرف اصحاب الحدیث" کا اردو ترجمہ ہے ۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد اللہ سلیم صاحب نے کیا ہے۔جبکہ تحقیق وتخریج محترم مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب نے کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #5323

    مصنف : ابو سعد آصف عباس حماد

    مشاہدات : 2203

    سیرۃ ابراہیم علیہ السلام اور اسکے تقاضے

    (اتوار 07 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    سیدنا حضرت ابراہیم اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرت ابراہیم ﷩ اور اس کے تقاضے ‘‘ محترم جناب ابو سعد آصف عباس حماد﷾ کی جد الانبیاءسیدنا ابراہیم ﷩ کی سیرت پر ایک محققانہ کاوش ہے ۔کتاب میں مذکورہ تمام احادیث محدثین کےاصول وضوابط کے مطابق ’’ حسن ‘‘ یا ’’صحیح‘‘ کے درجہ کی ہیں ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو ایک اچھوتے او ر نرالا اسلوب میں مرتب کیا ہے ۔ یہ کتاب سیرت ابراہیم ﷩ کے ساتھ ساتھ توحید باری تعالیٰ کے حوالے سےایک جاندار کتاب ہے ۔فضیلۃ الشیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی تحقیق وتخریج سے اس کتاب کی افادیت مزید دوچند ہوگئی ہے ۔(م۔ا)

  • 8 #5684

    مصنف : حافظ محمد اسماعیل اسد

    مشاہدات : 1369

    قربانی کے احکام و مسائل

    (ہفتہ 05 اگست 2017ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے او رعبادات کی مختلف اقسام ہیں ۔مثلاً قولی،فعلی ، مالی اور مالی عبادت میں ایک عبادت قربانی بھی ہے۔قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جاتا ہے ۔تخلیق انسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے ۔ قرآن مجید میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس عمل کوقیامت تک کےلیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قربانی کے احکام ومسائل ‘‘ حافظ آباد کے معروف خطیب مولانا محمد اسماعیل حافظ آبادی کی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب انہوں نے عیدین کے احکام ومسائل بیان کرنے علاوہ جذعہ ، مسنہ ، اور قربانی کے چاردنوں کے متعلق تفصیل سے علمی وتحقیقی بحث پیش کی ہے ۔(م۔ا)

  • 9 #5813

    مصنف : احمد بن حجر آل بوطامی

    مشاہدات : 923

    سبیل الجنۃ

    (جمعہ 29 ستمبر 2017ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔ زير تبصره كتاب ’’سبيل الجنة‘‘ علامہ احمد بن حجر آل بوطامی کی تالیف کا اردو ترجمہ عبد السلام سلفی صاحب نے کیا ہے۔جس میں سنت نبوی کا معنی ، حیثیت، اسلامی شریعت کے سرچشمے، منکرین حدیث کے شبہات کا ازالہ اور دیگر اس کتاب میں صحیح احادیث کی روشنی میں سبیل الجنۃ کا حسین انتخاب پیش کیا ہے۔جن کا التزام ہر مسلمان کےلیے جنت میں داخلہ یقینی بنا سکتاہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ المسلمین کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • 10 #6971

    مصنف : محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    مشاہدات : 624

    تفسیر سورت کہف ( ابراہیم میر سیالکوٹی )

    (منگل 28 مئی 2019ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم  علمی  شخصیات کو جنم دیا ہے  جن  میں مولانا ابراہیم میر  سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال،  شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷭ سرفہرست ہیں  مولانا ابراہیم میر 1874ء  کو  سیالکوٹ میں  پیدا  ہوئے سیالکوٹ  مرے کالج میں شاعر مشرق  علامہ محمد اقبال کے  ہم جماعت  رہے   مولاناکا گھرانہ دینی تھا لہذا والدین کی خواہش  پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور   دینی تعلیم کے حصول کے لیے  کمر بستہ  ہوگے ۔ شیخ الکل سید نذیر حسین  محدث دہلوی ﷫ کے حضور  زانوے تلمذ طے کیا مولانا میر سیالکوٹی  سید صاحب کے  آخری دور کےشاگرد ہیں  اور انہیں  ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل  ہے ۔مولانا سیالکوٹی  نے  جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ  حافظ  عبد اللہ محدث روپڑی  ﷫نے  پڑہائی اللہ ان کی  مرقد پر اپنی  رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین )مولانا  مرحوم نے درس تدریس تصنیف وتالیف دعوت ومناظرہ وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں  مولانا نےنمایاں کردار اداکیا  مرزائیوں سے  بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے  اور مولانا  ثناء اللہ  امرتسری  ﷫کے دست وبازوبنے رہے  مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 ؍کتابیں تصنیف کیں ۔مولانا کی تصانیف میں تفسیر’’ تبصیر الرحمن‘‘  بھی شامل ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تفسیرسورۃ کہف ‘‘مولانا  ابراہیم میر سیالکوٹی  ﷫ کی تالیف ہے ۔مولانا نے  طریقِ تفسیر کے  مسالک خمسہ(مسلک محدثین،مسلک متکلمین،مسلک صوفیائے کرام ،مسلک فقہائے مجتہدین،مسلک اہل ادب  ومعانی ) کو  ملحوظ رکھتے  ہوئے یہ تفسیر مرتب کی ہے ۔ مولانا  نے اس تفسیر کا آغاز 1353 ھ میں کیا  اور1359ھ  میں اسے  مکمل کیا ۔ثنائی بریس ،امرتسر  نے 1939ء کےآخر میں  پہلی بار شائع  کیا ۔یہ نسخہ مکتبہ ثنائیہ،سرگودہا کا  شائع شدہ ہے   جواب نایاب ہے  ۔ استاد گرامی شیخ الحدیث مولانا  ابو عمارعمرفاروق سعید ی﷾ (مترجم ومصنف کتب کثیرہ ) سے  حاصل کر کے کتاب وسنت پر سائٹ پر پبلش کی گئی ہے  تاکہ  یہ    نایاب تفسیر  محفوظ ہوجائے اور دنیا بھر میں کتاب وسنت   سائٹ کے ہزاروں  قارئین   اس سے مستفید ہوسکیں اگر کسی  کے پاس  پارہ  اول ،پارہ ،سوم اورتفسیر سورۃ کہف کے علاوہ  مولانا میر سیالکوٹی ﷫ کی   تفسیر  کے اجزاءہوں   ہمیں   عنائت  کریں   سکین کرنے کے بعد  قابل واپسی ہونگے   ۔ ان شاء اللہ ۔(م۔ا) تفاسیر قرآن (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1997
  • اس ہفتے کے قارئین 12640
  • اس ماہ کے قارئین 36180
  • کل قارئین49226746

موضوعاتی فہرست