کل کتب 28

دکھائیں
کتب
  • 1 #3215

    مصنف : قاری محمد ادریس العاصم

    مشاہدات : 3859

    اہم مسائل قربانی

    (اتوار 31 مئی 2015ء) ناشر : فاروقی کتب خانہ، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو  اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے او رعبادات کی مختلف اقسام ہیں ۔مثلاً قولی،فعلی ، مالی اور مالی عبادت میں  ایک عبادت قربانی بھی ہے۔قربانی وہ جانور  ہے  جو  اللہ  کی راہ میں  قربان کیا جائے  اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ  تعالیٰ کاقرب حاصل کیا  جاتا ہے ۔تخلیق انسانیت کے آغازہی  سے  قربانی کا جذبہ کار فرما ہے ۔ قرآن   مجید میں  حضرت آدم  کے  دو بیٹوں کی قربانی  کا  واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم   کی عظیم ترین سنت ہے  ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ  کواتنا پسند آیا  کہ اس   عمل کوقیامت تک کےلیے  مسلمانوں کے لیے  عظیم سنت قرار  دیا گیا۔ قرآن  مجید نے بھی  حضر ت ابراہیم    کی قربانی کے واقعہ  کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر  اہلِ اسلام کواس  اہم عمل کی خاصی تاکید ہے  اور نبی کریم  ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور  قرآن احادیث میں  اس کے  واضح  احکام ومسائل اور تعلیمات  موجو  د ہیں ۔کتب احادیث وفقہ  میں  کتاب الاضاحی  کے نام    سے ائمہ محدثین  فقہاء نے  باقاعدہ ابواب بندی  قائم کی ہے ۔ اور بعض اہل علم نے  قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے  سلسلے میں  کتابیں تالیف کی ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ  ’’اہم مسائل قربانی ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ جوکہ  شیخ القراء   قاری محمد ادریس العاصم ﷾ کی  کاوش ہے ۔جس میں انہوں نے  قربانی کی تاریخ ،اہمیت وفضلیت ، ایام اوراحکام ومسائل کو مختصراً بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ قاری صاحب  کی اس سعی کو قبول فرمائے اوراسے  قارئین کےلیے  مفید وکارآمد بنائے(آمین)(م۔ا)

  • 2 #5564

    مصنف : ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 2556

    بھینس کی قربانی ایک علمی جائزہ

    (اتوار 18 جون 2017ء) ناشر : صوبائی جمعیت اہل حدیث، ممبئی

    قرآن کریم نے قربانی کے لیے ’’بهيمة الانعام‘‘  کا انتخاب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔’’ اور وہ معلوم ایام میں بهيمة الانعام پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر (کرکے انہیں ذبح) کریں،  پھر ان کا گوشت خود بھی کھائیں، اور تنگ دستوں اور محتاجوں کو بھی کھلائیں۔‘‘ خود قرآن کریم نے’’ الانعام ‘‘ کی توضیح کرتے ہوئے ضان، معز، ابل، اور بقر، چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ہے۔انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت مسلمہ کے نزدیک اجماعی واتفاقی طور پر مشروع ہے۔ ان جانوروں  کی خواہ کوئی بھی نسل ہو،  اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی  نام  دیتے ہوں سب کی قربانی جائز ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے ایک جانور ’’بقر (گائے) ‘‘ ہے۔ اس کی قربانی کے لیے کوئی نسل قرآن و سنت نے خاص نہیں فرمائی۔جبکہ بقر کی ہی نسل سے بھینس کی قربانی کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں تو بعض عدم جواز کے۔ زیرنظر کتاب "بھینس کی قربانی، ایک علمی جائزہ" محترم ابو عبد اللہ عنایت اللہ مدنی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بھینس کی قربانی کے مسئلہ پر مفید علمی بحث کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 3 #6232

    مصنف : ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 1706

    بھینس کی قربانی ایک علمی و تحقیقی جائزہ ( اضافہ شدہ ایڈیشن )

    (پیر 12 فروری 2018ء) ناشر : صوبائی جمعیت اہل حدیث، ممبئی

    قربانی عربی زبان کے لفظ "قرب"سے نکلا ہے ،جس کے معنی ہیں "کسی شئے کے نزدیک ہونا” جبکہ شرعی اصطلاح میں : ذبح حیوان مخصوص بینۃ القربۃ فی وقت مخصوصیعنی مخصوص وقت میں اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کےلئے مخصوص جانور ذبح کرنا "قربانی "کہلاتا ہے۔(درِمختار،جلد9،ص520)(کتاب الاضمیہ)۔پس عیدالاضحی وہ عید قربان ہے کہ بندے کو اللہ کے بہت قریب کر دیتی ہے اور بندے اور اللہ کے درمیان موجود سب دوریوں کو ختم کر دیتی ہے۔قرآن کریم نے قربانی کےلیے ’’ بهيمة الانعام‘‘  کا انتخاب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔’’ اور وہ معلوم ایام میں بهيمة الانعام پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر (کرکے انہیں ذبح) کریں،  پھر ان کا گوشت خود بھی کھائیں، اور تنگ دستوں اور محتاجوں کو بھی کھلائیں۔‘‘ خود قرآن کریم نے’’ الانعام ‘‘ کی توضیح کرتے ہوئے ضان، معز، ابل، اور بقر،  چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ہے۔انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت مسلمہ کے نزدیک اجماعی واتفاقی طور پر مشروع ہے۔ ان جانوروں  کی خواہ کوئی بھی نسل ہو،  اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی  نام  دیتے ہوں سب کی قربانی جائز ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے ایک جانور ’’بقر (گائے)  ‘‘ہے۔ اس کی قربانی کےلیے کوئی نسل قرآن وسنت نے خاص نہیں فرمائی۔جبکہ بقر کی ہی نسل سے بھینس کی قربانی کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں تو بعض عدم جواز کے۔  زیرنظر کتاب" بھینس کی قربانی، ایک علمی جائزہ" محترم ابو عبد اللہ عنایت اللہ مدنی صاحب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بھینس کی قربانی کے مسئلہ پر مفیدعلمی  بحث کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

  • 4 #1862

    مصنف : حافظ نعیم الحق ملتانی

    مشاہدات : 7609

    بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ

    (پیر 04 نومبر 2013ء) ناشر : اسلامک سنٹر ملتان

    قرآن کریم نے قربانی کےلیے ’’ بهيمة الانعام‘‘  کا انتخاب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔’’ اور وہ معلوم ایام میں بهيمة الانعام پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر (کرکے انہیں ذبح) کریں،  پھر ان کا گوشت خود بھی کھائیں، اور تنگ دستوں اور محتاجوں کو بھی کھلائیں۔‘‘(الحج)  خود قرآن کریم نے  ’’ الانعام ‘‘ کی توضیح کرتے ہوئے ضان، معز، ابل، اور بقر،  چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ہے۔انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت مسلمہ کے نزدیک اجماعی واتفاقی طور پر مشروع ہے۔ ان جانوروں  کی خواہ کوئی بھی نسل ہو،  اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی  نام  دیتے ہوں، سب کی قربانی جائز ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے ایک جانور ’’بقر (گائے)  ‘‘ہے۔ اس کی قربانی کےلیے کوئی نسل قرآن وسنت نے خاص نہیں فرمائی۔ جبکہ بقر کی ہی نسل سے بھینس کی قربانی کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں تو بعض عدم جواز کے۔  زیر نظر کتاب میں حافظ نعیم الحق  ملتانی صاحب نے  اس مسئلہ پر اپنے مخصوص انداز  میں مفید تحقیقی بحث کی ہے اور مالہ وماعلیہ کی پوری تفصیل اس رسالے میں سمو دی ہے۔ نفس مسئلہ کو واضح کرنے میں یہ کتاب  بڑی شاندار اور مفید ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حافظ صاحب  کے علم وعمل میں برکت فرمائے۔ آمین(ک۔ح)
     

  • 5 #1483

    مصنف : عبد الہادی عبد الخالق مدنی

    مشاہدات : 20653

    بے مثال فضیلت والے دس دن

    (جمعرات 25 اکتوبر 2012ء) ناشر : دار التذکیر

    اللہ تعالیٰ نے مہینوں میں ماہ رمضان کو فضیلت دی، سالوں کے دنوں میں عرفہ کے دن کو اور ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کےدن کو فضیلت عطا کی، راتوں میں شب قدر کو فضیلت سے نوازا، عشروں میں عشرہ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ اور رمضان کا آخری عشرہ فضیلت والا بنایا اور دونوں میں فرق یہ رکھا کہ اور دونوں میں فرق یہ رکھا کہ ذوالحجہ کے پہلے دنوں کا جواب نہیں اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں کی کوئی مثال نہیں۔ زیر نظر کتابچہ میں فاضل مصنف عبدالہادی عبد الخالق نے عشرہ ذوالحجہ کے فضائل و احکام کو اختصار کےساتھ بیان فرمایا ہے۔ 45 صفحات پر مشتمل اس کتابچہ میں مصنف نے پہلے عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت سےمتعلق صحیح احادیث بیان کرتےہوئے بعد میں ان احادیث کو بھی رقم کر دیا ہے جو ضعیف اور موضوع ہیں۔ اس کےعلاوہ عشرہ ذوالحجہ میں کرنے والے اعمال صالحہ کو بھی قلمبند کی گیا ہے۔(ع۔م)

  • 6 #2521

    مصنف : ہارون یحییٰ

    مشاہدات : 2703

    جانداروں کا جذبہ قربانی

    (بدھ 01 اکتوبر 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    کائنات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ انسان اس پر غور کر کے  اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے ۔اسی لیے  قرآن کریم  میں اللہ تعالیٰ نےجگہ جگہ انسانوں کو کائنات کی مختلف چیزوں اور مظاہر پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے کیونکہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی جانب خیال ضرورجاتاہے ۔اس کائنات میں بے جان چیزوں  کےعلاوہ جانداروں کی بلامبالغہ لاکھوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔ہم ہر وقت مختلف جانداروں کو دیکھتے ہیں ۔ان کی شکلوں ،ان کی  ساخت او ران کے حجم اور ان کےرہن سہن کے طریقوں کےفرق کومحسوس کرتے ہیں مگر اس  سے آگے کسی  چیز پر غور کرنے کے روادار نہیں ہوتے ۔زیر نظر کتاب’’جانداروں کا جذبۂ قربانی‘  عالمی شہرت یافتہ  مصنف کتب کثیر ہ  ہارون یحیٰ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے بلا تفریق مذہب تمام انسانوں کی توجہ جانداروں کے رویوں کی جانب مبذول کرانے کی  کوشش کی   ہے۔پرندوں کےگھونسلوں سے لے کر جانوروں کے ایک دوسرے سے تعاون اور ایک دوسرے کی خاطرجان نثاری کااس انداز سے تذکرہ کیا گیا ہے کہ ہر سطر  پر زبان سے بے ساختہ ’’سبحان اللہ‘‘ نکل جاتاہے۔اس کتاب میں چیونٹی جیسےحقیر جاندار کےبارے میں جومعلومات فراہم کی گئی  ہیں وہ یقینا  ً انسان کو اس کے خالق کے بارے میں سوچنے پر محبور کر دیتی  ہیں ۔ یہ کتاب جہاں ایک  جانب نظریہ ارتقاء کی سائنسی انداز سے بیخ کنی کرتی ہے  وہیں دوسری جانب اللہ پر  ایما ن رکھنے والوں کوبھی اس کی مخلوق کے بارے  میں بے شمار معلومات بہم پہچاتی ہے جس سے ان کےایمان میں مزید تقویت آئے گی۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو بے ایمانوں کےایمان اورایمانداروں کےایمان کی تقویت کاسبب بنائے (آمین)(م۔ا)
     

     

  • 7 #3707

    مصنف : ڈاکٹر فضل الٰہی

    مشاہدات : 2989

    حضرت ابراہیم کی قربانی، تفسیر و دروس

    (جمعرات 22 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار النور اسلام آباد

    قرآن کریم کاایک بہت بڑا حصہ انبیائے سابقین ﷩ او ردیگر لوگوں کے قصوں پر مشتمل ہے۔ بعض اہل علم کی رائے میں یہ حصہ قرآن کریم کے آٹھ پاروں کے برابر ہے۔ قرآنی قصوں کی اہمیت او رفائدہ کوواضح کرنے کےلیے یہ بذات خود ایک بہت بڑی شہادت ہے۔ علازہ ازیں اللہ تعالیٰ نےنبی کریم ﷺ کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کوتدبر وتفکر پرآمادہ کرنے کےلیے ان کے روبروقصے بیان کریں۔قرآنی قصوں میں کتنے فوائد ہیں ! ان سے انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے موجود سنن الٰہیہ سے آگاہی ہوتی ہے۔قرآنی قصے انسانیت کو اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ انسانوں کےاعمالِ خیر سے کیا بہاریں آئیں او راعمال ِ شر کن بربادیوں کاسبب بنے۔ قرآنی قصے تاریخی نوادرات ہیں، جوانسانیت کو تاریخ سے فیض یاب ہونے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ اوران قصوں میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد امت کےلیے دلوں کی تسکین اور مضبوطی کاسامان ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے۔‘‘ قرانی قصوں میں ایک اہم قصہ سیدنا ابراہیم ﷤ کابڑھاپے میں ملنے والے لخت جگر کودوڑ دھوپ کی عمر کوپہنچنے پر حکم الٰہی کی بجا آوری میں ذبح کرنے کا ارادہ کرنا ہے۔ سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ کا اسم گرامی آیا ہے۔ اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی۔ جب حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤کو کامیاب کیا۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابراہیم کی قربانی کاقصہ تفسیر ودروس‘‘ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر محترم مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہےیہ کتاب سیدنا ابراہیم ﷤کی واقعہ قربانی پر مشتمل تفصیلی کتاب ہے۔ڈاکٹر صاحب نےاس قصے کوسمجھنے سمجھانے اوراس میں موجود دروس اور عبرتوں سے فیض یاب ہونے اور دوسروں کوفیض کرنے کےلیے اس کتا ب کومرتب کیا ہے۔ انہوں نے اس قصے سےمتعلقہ آیات کی تفسیر اوران سے اخذ کردہ دروس اور عبرتوں کے تحریر کرنے میں معتمد تفسیروں سے استفادہ کیا ہے۔ اور ضعیف احادیث اوراسرائیلی روایات سے کلی طور پر اجنتاب کیا ہے کیوں کہ ثابت شدہ تھوڑی معلومات غیر ثابت شدہ زیادہ معلومات سے کہیں بہترہیں۔مصنف موصوف نے قصے سے متعلقہ آیات پندرہ حصوں میں تقسیم کی کیں ہیں او ر ہر حصے میں اس کی تفسیر اوراخذ کردہ دروس بیان کیے گئے ہیں۔ بیان کردہ دروس کی مجموعی تعداد بتیس ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب انتہائی جامع اور مستند ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

  • 8 #2257

    مصنف : ڈاکٹر شفیق الرحمن کیلانی

    مشاہدات : 3532

    ذبح کرنے کا طریقہ اسلام اور سائنس کی روشنی میں

    (جمعرات 31 جولائی 2014ء) ناشر : مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور

    دس ذوالحجہ کے دن  قربانی کرنا  اللہ تعالی کے ہاں  سب سے بہترین عمل ہے نبیﷺ کا فرمان ہے : یقینا یوم النحر اللہ تعالی کےہاں بہترین دن ہے ( سنن ابوداود حدیث: 1765 ) اللہ تعالی کےہاں  کوئی بھی عبادت کا عمل تب ہی  قابل  قبول ہوتا ہے کہ  جب  اسے نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے ۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ  تمام اہل اسلام کے لیے  اسوۂ حسنہ ہے ۔عبادات میں سے  اہم  عبادت  عید الاضحیٰ کے دن جانوروں کواللہ تعالی کی رضا کے لیے  ذبح کرنا ہے  اس سلسلے میں  ہمارے معاشرے میں بہت سی کتاہیاں پائی جاتی ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ  جانوروں کو صحیح اسلامی طریقہ سے ذبح نہیں کیا جاتا۔زیر نظر کتابچہ ’’ ذبح کرنے کا طریقہ اسلام اور سائنس کی روشنی میں !‘‘ ڈاکٹر شفیق الرحمن کیلانی  ﷾  کا مرتب شدہ ہے  جس میں  انہوں نے  قرآن وحدیث اور سائنس کی روشنی میں جانوروں کوذبح کرنے  کے  طریقہ کوبیان کرتے ہوئے  اختصار کے ساتھ  قربانی کے  متعلقہ احکام ومسائل اور  قربانی کے جانور کے اوصاف کوبھی بیان  کردیا ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  اللہ تعالی اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین)  (م۔ ا )

  • 9 #3771

    مصنف : محمد یوسف راجووالوی

    مشاہدات : 2326

    رسالہ مطمئنہ در تحقیق مسنہ

    (منگل 24 نومبر 2015ء) ناشر : جامعہ کمالیہ راجووال

    ماہِ ذوالحج سال بھرکے بعدجب آتاہے توجذبۂ تسلیم ورضاء اورجذبۂ ایثاروقربانی بھی ہمراہ لاتا ہے۔قمری سال کے اس آخری مہینے کامقدس چاند جونہی طلوع ہوتاہے،تسلیم ورضاکی لازوال داستان کی یادبھی ساتھ لاتا ہے۔ اس ماہ کی دس،گیارہ اوربارہ تاریخ کودنیابھرکے کروڑوں صاحب نصاب مسلمان اسوۂ ابراہیمی کی یادتازہ کرنے کیلئے قربانی کرتے ہیں۔عیدقربان!مسلمانوں کاعظیم مذہبی تہوارہے جوہرسال 12-11-10 ذوالحجہ کوانتہائی عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت،ذوق وشوق،جوش وخروش اورجذبۂ ایثارو قربانی کے منایاجاتاہے۔اس دن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپناتن،من ،دہن قربان کرنے کے عہدکی تجدیدہوتی ہے اوریہی مسلمانوں کی عید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے عظیم فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقدس ذکر قیامت تک فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتا رہے گا۔قرآن وحدیث کے صحیفوں میں محفوظ رہے گااور آسمان کی رفعتوں اور زمین کی وسعتوں میں ہرسال یونہی تازہ اورزندہ ہوتارہے گا۔قربانی کے جانور کی صفات شریعت نے تفصیل سےبیان کر دی ہیں،جن میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ جانور کم از کم "مسنہ"یعنی دودانت والا ہو، اور اگر ایسا جانور نہ مل سکے تو تنگی کی صورت میں ایک سال کا کھیرا مینڈھا کیا جس سکتا ہے۔لیکن افسوس کہ بعض  لوگ کھیرا چھترا ہی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک حوصلہ افزاء طرز عمل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " رسالہ مطمئنہ در تحقیق مسنہ"محترم مولانا محمد یوسف راجووالوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دلائل کے ساتھ مسنہ کی تحقیق کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #3222

    مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

    مشاہدات : 2477

    سوئے حرم حج وعمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل

    (منگل 09 جون 2015ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ

    حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں اسے ایک رکن  ہے ۔ بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔اور جس طرح نماز ،روزہ ، زکوٰۃ ،اسلام کے ارکان اور فرائض ہیں اسی طرح حج  دین کا بہت  بڑا رکن اور فیع الشان فریضہ ہے نماز  اور روزہ صرف بدنی عبادت ہے ۔ زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہے  ۔ لیکن حج اپنے  اندر بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادتیں سموئے  ہوئے ۔ یعنی حا جی گھر سے چل کر مکہ مکرمہ ،عرفات اورمدینہ منورہ سے  ہو کر لوٹتا اور ساتھ ہی مال بھی خرچ کرتا ہے تو گویا دونوں قسم کی بدنی اور مالی عبادتوں کا شرف حاصل کرتا ہے ۔حج کرنے  سے پہلے  حج  کے طریقۂکار  سےمکمل آگاہی  ضرور ی ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سوئے حرم   حج وعمر ہ اور قربانی کے احکام ومسائل‘‘ محترم جناب مولانا محمد منیر  قمر﷾ کے  تقریبا  ربع  صدی قبل  ریڈیو متحدہ عرب امارات ام القیوین سے  شمال اسٹوڈیوز کی اردو  سروس میں نشر ہونے والے  سلسلہ وار پروگرام ’’ سوئے حرم‘‘ کی  کتابی شکل ہے  جس میں  مناسب ترمیم اورمفید اضافے بھی کیے گئے ہیں۔ اس کتاب  میں حج وعمرہ اور قربانی کے جملہ  احکام ومسائل کا  کتاب وسنت کی روشنی میں  احاطہ کیا گیا ہے ۔  حافظ عبد الرؤف ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کی  کتاب  میں  وارد تمام احادیث وآثار کی علمی  وتفصیلی تخریج   نے  کتاب کی افادیت کودوبالا کردیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ کتاب کے مؤلف ،مخرِّج ومعلّق کی  اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور اسے   عوام الناس کے   مفید ونافع بنائے (آمین) (م۔ا)
     

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1650
  • اس ہفتے کے قارئین 3576
  • اس ماہ کے قارئین 41970
  • کل قارئین49282696

موضوعاتی فہرست