ہارون یحییٰ

23 کل کتب
دکھائیں

  • 1 اللہ کی نشانیاں (ہفتہ 26 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:12006

    الحاد، لادینیت اور انکار خدا اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اہل سائنس نے مغرب میں رکھ دی ہے۔ ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک نامور قلم کار ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں جدید مادہ پرستانہ افکار اور نظریات کا شدت سے رد کرتے ہیں۔ ہارون یحی کے خیال میں سائنس اور یہودیوں کی فری میسنز تحریکوں نے انکار خدا کے نکتہ نظر کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہارون یحی کے بقول مادہ پرستوں کے پاس اس کائنات کی تخلیق کی واحد بھونڈی دلیل ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جس کے حق میں وہ بغیر سوچے سمجھے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں اور اس نظریہ کے دفاع کے لیے کٹ مرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں دو نظریات کو بہت پذیرائی ملی ایک ڈارون کا نظریہ اور دوسرا بگ بینگ تھیوی۔ یہ دونوں نظریات اس دوسرے کے مخالف ہیں۔ ڈارون کی تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہا ہے یعنی مادہ نے ارتقاء کے مختلف مراحل طے کر کے اس کائنات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ا س تھیوری کے مطابق مادہ دائمی ہے، ازل سے ہے اور مستقل حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس سائنس دنیا میں ایک جدید تھیوری بگ بینگ کے نام سے پیش کی گئی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور ایک وقت میں یہ کائنات اور مخلوقات یک دم بغیر کسی ارتقاء سے گزرے ہوئے وجود میں آ ئے ہیں۔ بگ بینگ کی تھیوری کو ماننے کا لازمی نتیجہ ایک خالق کو ماننا نکلتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں ہارون یحی نے بگ بینگ کی تھیوی کی وکالت کی ہے اوراسے...

  • 2 یہ رنگ بھری دنیا (بدھ 06 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:12934

    ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک معروف مصنف ہیں جنہوں نے مادیت اور فری میسزی یہودی تحریکوں کی تردید میں متعددکتابیں لکھی ہیں۔ ہارون یحی اس وقت دنیا میں مادیت پرستی(Materialism) اور ڈاونزم(Darwanism) کا سب سے بڑا ناقد ہے۔ عموماًہارون یحی کی تحریروں میں اللہ کی قدرتوں، نشانیوں اورتخلیق کے نمونوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔مصنف کی یہ کتاب بھی اس کائنات میں بکھرے ہوئے عجائبات کے ذریعے اپنے خالق و رب کی معرفت حاصل کرنے کی ایک سعی وجہد ہے۔اللہ کی معرفت کے حصول کے دو طریقے ہیں ایک تو خبرجو انبیا ورسل اورکتب سماویہ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور دوسرا اللہ کی پیدا کی ہوئی اس کائنات پر غوروفکر جسے قرآن مجید تفکرکا نام دیتا ہے۔ قرآن مجید میں انسانوں کو بار بار اس کائنات، اپنے ماحول، زمین وآسمان اور اپنی ذات میں تفکر اور غور وفکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ انسان اس غوروفکر کے نتیجے میں اپنے خالق اور محسن حقیقی کی معرفت حاصل کر ے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    إن فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنھار لآیات لأولی الألباب۔الذین یذکرون اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبھم ویتفکرون فی خلق السموات والأرض ربنا ماخلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذاب النار۔(آل عمران : ۱۹۰۔۱۹۱)
    بلاشبہ زمین وآسمان کی پیدائش میں اور دن ورات کے آنے جانے میں اہل عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔جو لوگ کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہوئے اللہ کا ذکرکرتے ہیں اور زمین وآسمان کی پیدائش میں غورو فکر کرتے ہیں[یہ کہتے ہوئے] اے ہمارے رب! آپ نے اس کو باطل پیدا نہیں فرمایا۔ ہم آپ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
    &...

  • 3 نظریہ ارتقاء ۔ایک فریب (اتوار 10 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:16127

    مادہ پرستی(Materialism) آج کے دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق اس کائنات کا کوئی خالق موجودنہیں ہے یعنی فرعون ونمرود کی طرح اس فلفسہ کے قائلین نے بھی اس کائنات کے رب وخالق ومالک و رازق ومدبرکا انکار کیا ہے اور مادہ (Matter)ہی کو اصل یا کل حقیقت قرار دیا ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق مادہ قدیم اور ہمیشہ سے ہے اور ہر دور میں اپنی شکلیں بدلتا رہا ہے ۔ پس اس کائنات یا انسان کا وجود ایک حادثہ ہے جس کے پیچھے کوئی محرک، مسبب الاسباب یا علۃ العلل موجود نہیں ہے۔مادہ پرستوں یا منکرین  خدا کی ایک الجھن ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کر دیں تو اہل مذہب کے بالمقابل اس کائنات اور انسان کے بارے کیا توجیہ پیش کریں کہ یہ انسان کہاں سے آیا ہے؟ کیسے پیدا ہوا ہے؟ یہ کائنات کیسے وجود میں آ گئی ہے؟واقعہ یہ ہے کہ ان سوالات کا کوئی جواب مادہ پرستوں کے پاس نہیں تھا یہاں تک کہ ڈاروان نے اپنا نظریہ ارتقا پیش کیا تو مادہ پرستوں کی تو گویا عید اور چاندی ہو گئی اور انہیں اس کائنات اور انسان کے وجود کے بارے ایک عقلی ومنطقی توجیہ ہاتھ آ گئی۔ ڈارون نے ارتقا کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ اس کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا جبکہ آج کی سائنس اور سائنسی حقائق اس ڈارونی نظریہ ارتقا کی بنیادیں ہلا چکے ہیںاور اس نظریہ ارتقا کومستقل طور پر ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں لیکن مادہ پرستوں کے لیے ڈاروان کے نظریہ ارتقا کی سائنسی تردید ، موت سے کم نہیں ہے کیونکہ نظریہ ارتقا کے غلط ثابت ہو جانے سے ان کی فلسفہ مادہ پرستی کی واحد عقلی ومنطقی توجیہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو خلا میں محسوس کرتے...

  • 4 دنیا اور اس کی حقیقت (جمعرات 07 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:15503

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما یا اور آزمائش کے لیے اس دنیا میں بھیج دیا ہے۔ اور اس سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بن دیکھے اس پر ایمان لائے جسے اصطلاح میں ایمان بالغیب کہا جاتا ہے۔ انسانوں کے ایمان بالغیب اور معرفت الہٰی کی تکمیل کے لیے قرآن مجید میں باربار تذکیر اور یاد ہانی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’الفوز الکبیر‘ میں لکھا ہے کہ قرآن مجید میں یاددہانی کے دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں ایک تذکیر بآلاء اللہ اور دوسرا تذکیر بایام اللہ۔ تذکر بآلاء اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نعمتوں اور فضل کے ذریعے انسانوں کواپنا شکر ادا کرنے کی یاد دہانی کرواتے اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ تذکیر بایام اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سابقہ اقوام پر بھیجے ہوئے عذابوں کے قصص بیان کر کے انسانوں کو ایمان بالغیب کی دعوت دیتے ہیں اور نہ ماننے والوں کوپچھلی اقوام کے حشر سے سبق حاصل کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ معروف ترکی مصنف ہارون یحی کی اس کتاب کا موضوع بھی تذکیر بایام اللہ ہے اور انہوںنے دنیا پر آنے والے زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں کے ذریعے انسانی تہذیبوں کے مٹنے کی ایک داستان عبرت رقم کی ہے اور عصرحاضر کے مادہ پرست انسان کو اس دنیا کی حقیقت سے روشناس کروایا ہے اور وہ حقیقت اس کا زوال ہے، چاہے انسان کی ذات کا زوال ہو یا قوم و ملککا، تہذیب وتمدن کا ہو یا سلطنت وجاہ کا۔ یہی زوال اس دنیا کی حقیقت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وإنا لجاعلون ما علیھا صعیدا جرزا۔(الکھف :...

  • 5 توبہ کا دروازہ بند ہونے سے پہلے (ہفتہ 21 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:18655

    غلطی سرزد ہونے پر ایک مؤمن پورے اخلاص کےساتھ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا ہے یہ چیز جہاں اسے تکلیف و یاسیت سے بچاتی ہے وہیں اس کے مذہبی جوش و جذبے اور عبادت میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ دوسری طرف کفار کا تاسف انتہائی تکلیف دہ اور مستقل نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ وہ گناہ سرزد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ہارون یحییٰ اسی موضوع کو زیر بحث لائے ہیں۔محترم ہارون یحییٰ کا تعلق ترکی سے ہے۔ آپ متعدد موضوعات پر بیسیوں کتب کے مصنف ہیں۔ آپ کے مؤثر اور دلنشین انداز بیان نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ کتاب میں جہاں قیامت کے دن احساس پشیمانی اور دوزخ میں پشیمانی جیسے ابواب موجود ہیں وہیں ایک باب ڈارون کے نظریہ ارتقا کی شکست وہزیمت پر بھی مشتمل ہے۔ جس کی وجہ مصنف نے یہ بیان کی ہے کہ اس دنیا میں جتنے روحانیت کش فلسفوں نے جنم لیاہے اس کی بنیاد یہی نظریہ ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 6 تباہ شدہ اقوام (پیر 14 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:4295

    قرآنِ حکیم کابڑا حصہ اممِ سابقہ  کے  احوال وبیان پرمشتمل ہے  جو یقیناً غور وفکر کامتقاضی ہے ۔ان قوموں میں سےاکثر نے اللہ  کےبھیجے  ہوئے پیغمبروں کی دعوت کو مسترد کردیا اور ان کے ساتھ بغض وعناد اختیارکیا۔ ان کی اسی سرکشی کے باعث ان پر اللہ  کا غضب نازل ہوا اور وہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹادی گئیں۔آج کے دور میں بھی ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقات اوردرفیافتوں کے  نتیجے  میں  قرآنِ حکیم میں بیان کردہ سابقہ اقوام کی تباہی  کے حالات قابل ِمشاہدہ ہوچکے ہیں ۔زیر نظرکتاب  ’’تباہ شدہ اقوام‘‘ جوکہ  معروف رائٹر ہارون یحی کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے  احکامِ الٰہی  سے انحراف کے سبب ہلاک ہونے والے  چند معاشروں اور قوموں کا تذکرہ کیا ہے ۔یہ کتاب بتاتی ہے  کہ قرآن مجید میں ذکر کی جانے والی یہ اقوام کس طرح تباہ  ہوئیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک  بےمثال کتاب ہے ۔کتاب ہذا کے  فاضل مصنف ہارون یحی نے بہت سی سیاسی اور مذہبی کتب  لکھیں  جو زیور طباعت سے آراستہ ہو  کر قارئین تک  پہنچ چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم  اورناشرین  کی اس کوشش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

  • 7 اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لیے (منگل 30 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:4209

    اللہ تعالیٰ نے  قرآن  کریم  میں سورۂ بقرہ کی آیت 164 میں  فرمایا کہ  قرآن  کریم  کے نزول کا  ایک مقصد  یہ بھی ہے کہ لوگوں کوسوچنے اور سمجھنے کی دعوت دے۔اسی طرح کی سیکڑوں  آیات قرآن حکیم  میں جابجا بکھری ہوئی  ہیں اور  لوگوں کو مخلوقات پر غور  وفکر کی دعوت دیتی ہیں ۔زیر نظرکتاب’’  اللہ کی نشانیا ں عقل والوں کے لیے ‘‘ عالمی شہرت یافتہ   محترم ہارون یحییٰ  صاحب کی    کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کامقصد بھی یہی کہ لوگوں کو اللہ کی بے شمار نشانیوں میں سے  چند کی طرف  متوجہ  کیا سکے ۔ہارون یحییٰ ترکی کے ایک معروف مصنف ہیں جنہوں نے مادیت اور فری میسزی یہودی تحریکوں کی تردید میں متعددکتابیں لکھی ہیں۔ ہارون یحییٰ اس وقت دنیا میں مادیت پرستی(Materialism) اور ڈاونزم(Darwanism) کا سب سے بڑے  ناقد ہیں۔ عموماًہارون یحییٰ کی تحریروں میں اللہ کی قدرتوں، نشانیوں اورتخلیق کے نمونوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔مصنف کی یہ کتاب بھی اس کائنات میں بکھرے ہوئے عجائبات کے ذریعے اپنے خالق و رب کی معرفت حاصل کرنے کی ایک سعی وجہد ہے۔اللہ ان کی سربلندی کےلیے  تمام کاوشوں کو  قبول فرمائے(آمین) (م۔ا)

     

  • 8 اینڈ آف ٹائم قیامت کی نشانیاں اور ظہور امام مہدی (ہفتہ 18 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:5116

    وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی  عقائد میں سےہے اور ایک    مسلمان کے  ایمان کا   حصہ ہے ۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث میں  وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے   ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں     ابواب بندی بھی کی  ہے اور  بعض  اہل علم نے    اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’اینڈ آف ٹائم‘‘ بھی اس موضوع پر جدید اور سائنسی علوم کےماہر  ترکی کے  معروف   قلمکار   محترم   ہارون یحییٰ  کی  منفرد  کتاب ہے ۔  اینڈ آف ٹائم  سےمراد  آخری دور ہے اور اسلامی نقطۂ نظر  سے  یہ قرب  قیامت کا دور ہے ۔قرآن  وحدیث کی رو سےآخری زمانہ دو ادوار  پر مشتمل ہے ۔پہلے د...

  • 9 کائنات کی تخلیق (اتوار 19 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:4211

    یہ لا محدود کائنات ،جس میں ہم رہتے ہیں،کس طرح وجود میں آئی ؟یہ تمام توازن،ہم آہنگی اور نظم وضبط کس طرح سے پیدا ہوئے؟یہ کیونکر ممکن ہوا کہ یہ زمین ہمارے رہنے کے لئے موزوں ترین اور محفوظ قیام گاہ بن گئی؟ایسے سوالات نوع انسانی کے ظہور ہی سے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ان کے جوابات کی تلاش میں  سرگرداں سائنس دان اور فلسفی ،اپنی عقل ودانش اور عقل سلیم کی بدولت اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ  کائنات کی صورت گری اور اس میں موجود نظم وضبط کسی اعلی ترین خالق مطلق کی موجودگی کی شہادت دے رہے ہیں۔جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔یہ ایک غیر متنازعہ سچائی ہے ،جس تک ہم اپنی ذہانت استعمال کرتے ہوئے پہنچ سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کا اعلان اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں واشگاف الفاظ میں کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " کائنات کی تخلیق"ہارون یحیی کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ محترم علیم احمد نے کیا ہے ۔مصنف 1956ء میں انقرہ ترکی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے آرٹس کی تعلیم میمار سینان یونیورسٹی سے اور فلسفے کی تعلیم استنبول یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کی سیاست ،سائنس اور اسلامی عقائد پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کا شمار ان معروف مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ارتقاء پرستی اور ارتقاء پرستوں کے دعووں کو طشت ازبام کیا اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔آپ کی یہ کتب دنیا کی متعدد زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔آپ کی کتب مسلمانوں ،غیر مسلموں سب کو مخاطب کرتی ہیں خواہ ان کا تعلق کسی عمر،نسل اور قوم سے ہو،کیونکہ ان کتب کا مقصد صرف ایک ہے:خدا کے ابدی وجود کی نشانیوں کو قارئین کے سا...

  • 10 خوف خدا (پیر 20 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:4342

    اللہ تعالیٰ کاخوف ہی دراصل  اللہ پرکامل ایمان   ہونے کاٹھوس  ثبوت اورآخرت کی  زندگی  میں  ملنے  والے  اجر کی  اہم نشانی  ہے ۔  آخرت کی زندگی میں  خود کو نارِ جہنم سے  محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ خوف ِ الٰہی   او رپرہیز گار ی  کو اختیار کرنے میں ہے ۔روز ِحساب ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے  جس  سےبچنا ناممکن  اور جس کے بارے  میں خصوصی طور  پر غور  وفکر  کرنالازم ہے۔ تاہم  یہ خوف صرف ایمان والوں کونصیب ہوتاہے اور یہ ایک خاص قسم  کاخوف ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات  اور نبی کریم  ﷺ  نےاحادیث میں  روزِ  قیامت  پیش  آنے والے  مختلف واقعات  بیان کردیئے ہیں ۔دنیا کی مختصر سی  زندگی میں انسان  جوکام بھی کرتا ہے  اس کے اعمال نامے میں  لکھا جارہا ہے ۔ اورہر انسان  اس دن کی طرف تیزی  سے بڑھ رہا ہے  جب   انسان کواللہ کےحضور پیش ہوکر اپنے اعمال کے لیے  جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ اہل ایمان کو    یہ  امید کرنی چاہیےکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں میں  شامل کردے  جو اللہ تعالیٰ سے  ڈرتے ہوئےاس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی چیز ہے  ۔ جسے  یہ دولت  حاصل ہوگی  وہ بہت  بڑا خوش نصیب ہے  ۔ جس  کےدل  میں خوف الٰہی  ہوگا وہ گناہوں  سے دور رہے...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1715
  • اس ہفتے کے قارئین: 3807
  • اس ماہ کے قارئین: 33065
  • کل قارئین : 48504174

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں