کل کتب 8

دکھائیں
کتب
  • 1 #4124

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 2147

    استقامت

    (بدھ 17 فروری 2016ء) ناشر : محمدی اکیڈمی منڈی بہاؤالدین

    حب رسول ﷺسے سر شار کتاب ، رحمتہ للعالمین کے مصنف قاضی محمد سلیمان منصور پوری ﷫ ١٨٦٧ء کو منصور پور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔سترہ سال کی عمر میں مہندرا کالج پٹیالہ سے منشی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ اس کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ میں محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔اپنی قابلیت و صلاحیت اوربفضل تعالیٰ وہ ترقی کرتے ہوئے ١٩٢٤ء میں سیشن جج مقرر ہوگئے۔  قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قابلیت ،صلاحیت اور علم کو اسلام کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول ﷺسے انتہائی محبت اور عقیدت کا اظہار اُن کی جملہ تصانیف سے بخوبی ہوتا ہے۔انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں ۔ رحمۃ للعالمین ،مہرنبوت، اصحاب بدر، سید البشر، اسو ۂ حسنہ  سیرت  النبیﷺ کے موضوع پر  بڑی  مقبول عام کتب ہیں ۔موصوف کی تصنیفات میں  سے زیر تبصرہ  کتاب ’’استقامت ‘‘ بھی ہے۔یہ کتاب دراصل  موصوف کا  ایک رد عیسائیت کےسلسلے میں ایک  متذبذب مسلمان کے خط  کےجواب میں  لکھا گیا ایک تبلیغی خط ہےجسےبعد میں استقامت کے نام سے  کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔  قاضی  صاحب نے اس رسالہ  کو تالیف کرنے کی رودادمیں لکھا کہ ’’ میں  دفتر جارہا تھا کہ راستہ میں پوسٹ مین نےمجھے  ایک خط دیا جس  میں صاحب مکتوب نے  لکھا تھا کہ اگر مجھے تسلی بخش جواب نہ ملا  تو عیسائی ہوجاؤں گا ۔۔ یہ جملہ پڑھ کرمعاً گھر کی طرف لوٹاکہ مبادا دیر ہوجائے او روہ اسلام چھوڑ دے ۔ چنانچہ آدھ گھنٹہ میں یہ  خط لکھا ، ڈاک  میں ڈالا اور پھر دفتر روانہ  ہوا۔جب یہ  خط ان کےپاس پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو  اطمینان قلب اور سکون عطاکیا اور پوری استقامت کےسےاسلام کے مناد او رواعظ بن گئے  اور اسی مبارک خدمت میں رحمت حق سے واصل ہوئے ۔(م۔ا)

  • 2 #2272

    مصنف : مالک رام

    مشاہدات : 1944

    خطوط ابو الکلام آزاد

    (بدھ 23 جولائی 2014ء) ناشر : ساہتیہ اکادیمی نئی دلی

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد  خلفائے راشدین﷢ نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے  شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب  مولانا ابوالکلام  آزا کےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہےجس  میں  مکاتیب کو تاریخ وار جمع کر نے  کی کوشش کی گئی ہے  مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے  قدم قدم پر ان کی وسعت مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی  آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے  مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے  خاص کر ان  میں  ان کی عادات اور خصائل  جاننے کے  لیے بہت مواد ہے  او رانھو ں جو خطوط شمس العلماء مولوی محمد یوسف  جعفری کے نام لکھے  وہ بہت  اہم  اور قیمتی ہیں ۔(م۔ا)
     

     

  • 3 #4758

    مصنف : عبد الماجد دریا بادی

    مشاہدات : 2263

    خطوط ماجدی

    (پیر 26 ستمبر 2016ء) ناشر : ادارہ تصنیف و تحقیق، کراچی

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا سیدنا  سلیمان   کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’خطوط ماجدی‘ بھی اسی سلسلہ کی  کڑی ہے ۔جوکہ معروف  ادیب  ومفسر  مولانا  عبد الماجد دریاآبادی کے  علمی وادبی  خطوط کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں کچھ خطوط مکتوبات ماجدی سے اور بیشتر خطوط اخبارات ورسائل سے محترم جناب ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نےنےجمع کر کے مرتب کیے ہیں۔مولانا   دریاآبادی کے خطوط  کےمجموعہ ہذا کے علاوہ  مکتوبات ماجدی  اور رقعات ماجدی کے نام سےبھی دو مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ (م۔ا)

  • 4 #747

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 26723

    غبارخاطر

    (جمعہ 03 دسمبر 2010ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور

    مولانا ابو الکلام آزاد کا نام سنتے ہی ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جو تحریر و تقریر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ لفظ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’غبار خاطر‘ مولانا کی سب سے آخری کتاب ہے جو  ان کی زندگی میں شائع ہوئی۔ 1942 میں جب مولانا آزاد کو حراست میں لے کر مختلف مقامات پر نظر بند کر دیا گیا  تو تقریباً تین سال تک آپ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ اسی زمانے کا ثمرہ یہ کتاب آپ کے سامنے ہے۔ کہنے کو تو یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے لیکن ان میں مکتوب کی صفت کم ہی پائی جاتی ہے۔ مولانا نے اپنے خیالات کو قرطاس کی زینت بنانے کے لیے عالم خیال میں مولانا حبیب الرحمن خان شروانی کو مخاطب تصور کر لیا ہے اور پھر جو کچھ بھی ان کے خیال میں آتا گیا اسے بے تکلف حوالہ قلم کرتے چلے گئے۔  کتاب میں عربی و فارسی کی مشکل ترکیبیں بہت کم استعمال کی گئی ہیں نثر ایسی شگفتہ اور دلنشیں ہے کہ تقریباً ہر کسی کے لیے قریب الفہم ہے۔
     

  • 5 #3027

    مصنف : ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

    مشاہدات : 2443

    مکاتیب ابو الکلام آزاد جلد اول

    dsa (بدھ 25 مارچ 2015ء) ناشر : ابو الکلام آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کراچی

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب ’’مکاتیب  ابو الکلام آزاد‘‘ مولانا ابوالکلام  آزا دکےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہے۔جسے  ڈاکٹر ابو سلمان  شاہ جہانپوری نے مرتب کیا ہے ۔ یہ مجموعہ  مولانا ابو الکلام کے  کےنادر اور نایاب ،منتشر ، غیر مطبوعہ   خطوط پر مشتمل ہے۔ مکتوبات کے اس  پہلے مجموعے کا دورانیہ 1900ء تا 1902ء پر محیط ہے  ۔ اوریہ  زمانہ  حضرت مولانا کے علمی اور سیاسی کارناموں کا دورِ اول  بھی ہے جس میں  ان کی بلند فکری اپنی  پوری آب وتاب سےنمایا ں ہوچکی تھی۔   مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے  قدم قدم پر ان کی وسعتِ مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی   آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے  مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے  خاص کر ان   میں  ان کی عادات اور خصائل  جاننے کے  لیے بہت مواد ہے  (م۔ا)
     

  • 6 #2582

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 2006

    مکاتیب سلمان

    (ہفتہ 15 نومبر 2014ء) ناشر : المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل

    خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد   خلفائے راشدین﷢ نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ خطوط شائع ہوچکے ہیں اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط چھپے اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ ’’مکاتیب سلمان ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔جوکہ معروف سیرت نگار کتاب ’’رحمۃ للعالمین کے مصنف علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری﷫ کے علمی اور تبلیغی 33 خطوط کا مجموعہ ہے جسے   المکتبۃ الاثریۃ ،سانگلہ ہل نے افادۂ عام کےلیے شائع کیا۔(م۔ا)

  • 7 #6900

    مصنف : بدیع الزماں سید نورسی ترکی

    مشاہدات : 1196

    مکتوبات بدیع الزمان سعید نورسی

    (ہفتہ 09 مارچ 2019ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان﷤ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان﷤ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط دعوتی  خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین﷢ نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر﷫ اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے۔ زیر  نظر کتاب ’’ مکتوبات بدیع الزمان سعید نورسی‘‘ ترکی کی مشہور شخصیت علامہ بدیع الزمان سعید نورسی   کے33 علمی  مکاتیب کامجموعہ ہے  یہ  خطوط علامہ سعید نورسی کے کلیا ت ورسائل نور  سے  اخذ کے مرتب کیے گئے ہیں ان   خطوط میں متفرق موضوعات  زیر بحث آئے ہیں ۔ان میں اکثر   ایسے مکاتیب ہیں جو علامہ سعید نورسی نے   مختلف سوالات کے جواب میں لکھے ۔علامہ نورسی صوفیانہ افکار کے حامل تھے اس لیے ان خطوط میں بھی  صوفیت  موجود  ہے ۔(م۔ا )

  • 8 #304

    مصنف : ریاض احمد

    مشاہدات : 21782

    کھلا خط

    (بدھ 16 جون 2010ء) ناشر : حدیث پبلیکیشنز،لاہور

    یہ  خط جناب ریاض احمد صاحب نےلکھا ہے ریاص صاحب پہلے ایک پیر جناب محمدشریف خلیق کے مرید تھے عرصہ پندرہ سال ان کے حلقہ بیعت میں رہے بعدازاں وہ سعودی عرب گئے جہاں ای موحدعالم جناب مولانا اقبال کیلانی سے گفت وشنید کے مواقع میسر آئے مولانا اقبال کیلانی نے انہیں قرآن وسنت کے مطالعہ کی لف راغب کیا جس کے نتیجے میں میں وہ اپنے عقائد ونظریات سے دستبردار ہوگئے جو انہوں نے کتاب وسنت سے لاعلمی کے نتیجہ میں اپنارکھے تھے فکرونظر کی تبدیلی کے بعد جناب ریاض احمد صاحب نے نصیحت او رخیر خواہی کے پیش نظر اپنےساتھ پیر کو خط لکھا حس میں بڑے احسن پیرایے میں ان کے افکار ونظریات کےبارے میں چندسوالات کیے لیکن ہنوز ان کی طرف جواب نہیں آیا اور انشاء اللہ آ بھی نہیں سکتااس لیے باطل عقائد وافکار کے حق میں کتاب وسنت  کے دلائل کیونکر پیش کیے جاسکتے ہیں ہر مسلمان کو اس کھلے خط کامطالعہ کرنا چاہیے اس سے جہاں نام نہادپیروں  کے ذاتی کردار سے واقفیت ہوتی ہے وہیں ان کے گمراہ کن خیالات سے بھی آگاہی ہوگی جس سے صحیح عقیدہ کو پہنچاننے  میں آسانی ہوگی -


     

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1788
  • اس ہفتے کے قارئین 7628
  • اس ماہ کے قارئین 59661
  • کل قارئین49525340

موضوعاتی فہرست