دکھائیں کتب
  • 1 استقامت (بدھ 17 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1449

    حب رسول ﷺسے سر شار کتاب ، رحمتہ للعالمین کے مصنف قاضی محمد سلیمان منصور پوری ﷫ ١٨٦٧ء کو منصور پور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔سترہ سال کی عمر میں مہندرا کالج پٹیالہ سے منشی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ اس کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ میں محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔اپنی قابلیت و صلاحیت اوربفضل تعالیٰ وہ ترقی کرتے ہوئے ١٩٢٤ء میں سیشن جج مقرر ہوگئے۔  قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قابلیت ،صلاحیت اور علم کو اسلام کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول ﷺسے انتہائی محبت اور عقیدت کا اظہار اُن کی جملہ تصانیف سے بخوبی ہوتا ہے۔انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں ۔ رحمۃ للعالمین ،مہرنبوت، اصحاب بدر، سید البشر، اسو ۂ حسنہ  سیرت  النبیﷺ کے موضوع پر  بڑی  مقبول عام کتب ہیں ۔موصوف کی تصنیفات میں  سے زیر تبصرہ  کتاب ’’استقامت ‘‘ بھی ہے۔یہ کتاب دراصل  موصوف کا  ایک رد عیسائیت کےسلسلے میں ایک  متذبذب مسلمان کے خط  کےجواب میں  لکھا گیا ایک تبلیغی خط ہےجسےبعد میں استقامت کے نام سے  کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔  قاضی  صاحب نے اس رسالہ  کو تالیف کرنے کی رودادمیں لکھا کہ ’’ میں  دفتر جارہا تھا کہ راستہ میں پوسٹ مین نےمجھے  ایک خط دیا جس  میں صاحب مکتوب نے  لکھا تھا کہ اگر مجھے تسلی بخش جواب نہ ملا  تو عیسائی ہوجاؤں گا ۔۔ یہ جملہ پڑھ...

  • 2 خطوط ابو الکلام آزاد (بدھ 23 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:1402

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد  خلفائے راشدین﷢ نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے  شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب  مولانا ابوالکلام  آزا کےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہےجس  میں  مکاتیب کو تاریخ وار جمع کر نے  کی کوشش کی گئی ہے  مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے  قدم قدم پر ان کی وسعت مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی  آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے  مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے  خاص کر ان  میں  ان کی عادات اور خصائل  جاننے کے...

  • 3 خطوط ماجدی (پیر 26 ستمبر 2016ء)

    مشاہدات:1336

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا سیدنا  سلیمان   کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’خطوط ماجدی‘ بھی اسی سلسلہ کی  کڑی ہے ۔جوکہ معروف  ادیب  ومفسر  مولانا  عبد الماجد دریاآبادی کے  علمی وادبی  خطوط کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں کچھ خطوط مکتوبات ماجدی سے اور بیشتر خطوط اخبارات ورسائل سے محترم جناب ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نےنےجمع کر کے مرتب کیے ہیں۔مولانا   دریاآبادی کے خطوط  کےمجموعہ ہذا کے علاوہ  مکتوبات ماجدی  اور رقعات ماجدی کے نام سےبھی دو مجموعے ش...

  • 4 غبارخاطر (ہفتہ 01 فروری 2014ء)

    مشاہدات:24670

    مولانا ابو الکلام آزاد کا نام سنتے ہی ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جو تحریر و تقریر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ لفظ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’غبار خاطر‘ مولانا کی سب سے آخری کتاب ہے جو  ان کی زندگی میں شائع ہوئی۔ 1942 میں جب مولانا آزاد کو حراست میں لے کر مختلف مقامات پر نظر بند کر دیا گیا  تو تقریباً تین سال تک آپ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ اسی زمانے کا ثمرہ یہ کتاب آپ کے سامنے ہے۔ کہنے کو تو یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے لیکن ان میں مکتوب کی صفت کم ہی پائی جاتی ہے۔ مولانا نے اپنے خیالات کو قرطاس کی زینت بنانے کے لیے عالم خیال میں مولانا حبیب الرحمن خان شروانی کو مخاطب تصور کر لیا ہے اور پھر جو کچھ بھی ان کے خیال میں آتا گیا اسے بے تکلف حوالہ قلم کرتے چلے گئے۔  کتاب میں عربی و فارسی کی مشکل ترکیبیں بہت کم استعمال کی گئی ہیں نثر ایسی شگفتہ اور دلنشیں ہے کہ تقریباً ہر کسی کے لیے قریب الفہم ہے۔
     

  • 5 مکاتیب ابو الکلام آزاد جلد اول (جمعرات 26 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1668

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب ’’مکاتیب  ابو الکلام آزاد‘‘ مولانا ابوالکلام  آزا دکےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہے۔جسے  ڈاکٹر ابو سلمان  شاہ جہانپوری نے مرتب کیا ہے ۔ یہ مجموعہ  مولانا ابو الکلام کے  کےنادر اور نایاب ،منتشر ، غیر مطبوعہ   خطوط پر مشتمل ہے۔ مکتوبات کے اس  پہلے مجموعے کا دورانیہ 1900ء تا 1902ء پر محیط ہے  ۔ اوریہ  زمانہ  حضرت مولانا کے علمی اور سیاسی کارناموں کا دورِ اول  بھی ہے جس...

  • 6 مکاتیب سلمان (ہفتہ 15 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1462

    خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد   خلفائے راشدین﷢ نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ خطوط شائع ہوچکے ہیں اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط چھپے اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ ’’مکاتیب سلمان ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔جوکہ معروف سیرت نگار کتاب ’’رحمۃ للعالمین کے مصنف علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری﷫ کے علمی اور تبلیغی 33 خطوط کا مجموعہ ہے جسے   المکتبۃ الاثریۃ ،سانگلہ ہل نے افادۂ عام کےلیے شائع کیا۔(م۔ا)

  • 7 مکتوبات بدیع الزمان سعید نورسی (ہفتہ 09 مارچ 2019ء)

    مشاہدات:487

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان﷤ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان﷤ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط دعوتی  خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین﷢ نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر﷫ اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے۔ زیر  نظر کتاب ’’ مکتوبات بدیع الزمان سعید نورسی‘‘ ترکی کی مشہور شخصیت علامہ بدیع الزمان سعید نورسی   کے33 علمی  مکاتیب کامجموعہ ہے  یہ  خطوط علامہ سعید نورسی کے کلیا ت ورسائل نور  سے  اخذ کے مرتب کیے گئے ہیں ان   خطوط میں متفرق موضوعات  زیر بحث آئے ہیں ۔ان میں اکثر  ...

  • 8 کھلا خط (بدھ 08 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:21356

    یہ  خط جناب ریاض احمد صاحب نےلکھا ہے ریاص صاحب پہلے ایک پیر جناب محمدشریف خلیق کے مرید تھے عرصہ پندرہ سال ان کے حلقہ بیعت میں رہے بعدازاں وہ سعودی عرب گئے جہاں ای موحدعالم جناب مولانا اقبال کیلانی سے گفت وشنید کے مواقع میسر آئے مولانا اقبال کیلانی نے انہیں قرآن وسنت کے مطالعہ کی لف راغب کیا جس کے نتیجے میں میں وہ اپنے عقائد ونظریات سے دستبردار ہوگئے جو انہوں نے کتاب وسنت سے لاعلمی کے نتیجہ میں اپنارکھے تھے فکرونظر کی تبدیلی کے بعد جناب ریاض احمد صاحب نے نصیحت او رخیر خواہی کے پیش نظر اپنےساتھ پیر کو خط لکھا حس میں بڑے احسن پیرایے میں ان کے افکار ونظریات کےبارے میں چندسوالات کیے لیکن ہنوز ان کی طرف جواب نہیں آیا اور انشاء اللہ آ بھی نہیں سکتااس لیے باطل عقائد وافکار کے حق میں کتاب وسنت  کے دلائل کیونکر پیش کیے جاسکتے ہیں ہر مسلمان کو اس کھلے خط کامطالعہ کرنا چاہیے اس سے جہاں نام نہادپیروں  کے ذاتی کردار سے واقفیت ہوتی ہے وہیں ان کے گمراہ کن خیالات سے بھی آگاہی ہوگی جس سے صحیح عقیدہ کو پہنچاننے  میں آسانی ہوگی -


     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 278
  • اس ہفتے کے قارئین: 2160
  • اس ماہ کے قارئین: 34560
  • کل مشاہدات: 43578866

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں