کل کتب 31

دکھائیں
کتب
  • 1 #5473

    مصنف : محمد منیر قمر

    مشاہدات : 3580

    احکام مساجد

    (ہفتہ 03 جون 2017ء) ناشر : مکتبہ کتاب و سنت، ڈسکہ سیالکوٹ

    مساجد روئے زمین پر زمین کا سب سےبہتر حصہ ہیں احتراما انہیں بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے اسلا م اور مسلمانوں کامرکزی مقام یہی مسجدیں ہیں اور مسجد اللہ کا وہ گھر ہے جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع ہوتےہیں اوراسلام کا سب اہم فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ،مسجد وہ جگہ ہے جہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں،او رمسجد ہی زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے پاکیزہ متبرک اوربہترین جگہ ہے ۔قرآن مجید میں اور احادیث نبویہ ﷺ میں بے شمار مقامات پر مسجد کی اہمیت اور قدر منزلت کوبے بیان کیا ہے۔او ر کئی اہل علم نے مسجد کی فضیلت اور احکام ومسائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’احکام مسجد ‘‘ فضیلۃ الشیخ مولانا محمدمنیر ﷾ مصنف کتب کثیرہ کی کاوش ہے ۔ اس کتاب انہوں نے قرآ ن وحدیث کی روشنی میں مسجد تعمیر کرنےکی فضیلت ،مسجد نبوی کی تجدید وتوسیع ، مساجد کی صفائی وستھرائی کا احکا م ،مساجد میں گمشدگی کا اعلان کرنا ، مساجدمیں خرید وفروخت ، مساجد میں شعر گوئی ، مساجد کےخطباء کی ذمہ داریاں ، مساجد میں دنیاوی بات وچیت ، بدبو دار چیز کھا کر مسجد میں جانا ،مساجد میں کھانا پکانا ،مساجد میں سونے یا لینے کے آداب ،مسجد میں بے وضو داخل ہونا، مساجد میں حدود وتعزیرات کا نفاذ،مساجد سےجلوس نکالنا ، مسجد میں ہاتھوں کی انگلیوں انگلیا ں ڈالنا ،مساجد کے نام رکھنا وغیرہ عنوانات قائم کر کے مسجد کے جملہ احکام ومسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 2 #5188

    مصنف : محمد ظفیر الدین

    مشاہدات : 2638

    اسلام کا نظام مساجد

    (جمعرات 02 مارچ 2017ء) ناشر : دار الاشاعت، کراچی

    مساجد کی تعمیر اور آبادکاری ایمان کی علامت ہے ۔مساجد دین اسلام میں ایک عظیم دینی شعار اور درخشاں علامت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ روئے زمین کا سب سے بہتر ٹکڑا ہیں۔اسلام اور مسلمانوں کا مرکزی مقام اور ہیڈ کوارٹر یہی مساجد ہیں ۔ مسجد سے قلبی لگاؤ اور پابندی کے ساتھ اس کی حاضری ایمان کی نشانی ہے۔ مساجد روزِ اوّل سے رشد وہدایت، اسلام کی تبلیغ واشاعت اور ملی جدوجہد کا مرکز رہی ہیں۔ یہیں سےپیغامِ اسلام ساری ساری دنیا میں نشر ہوتاہے ۔ ملت اسلامیہ کی علمی، ثقافتی اور روحانی قوتوں کا یہی سرچشمہ ہیں۔ یہیں سے امت محمدیہ نے ماضی میں بھی اسلام کا سبق لیا اور آئندہ بھی سب سے بڑا علمی اور ثقافتی مرکز مساجد ہی رہیں گی۔ (ان شاء اللہ ) مگر افسوس مسلمانوں کےملی انحطاط سے مساجد بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مسجد اپنے شرعی مقاصد اور روح سےخالی ہوتی جارہی ہیں۔ دین سے جاہل ،دنیوی جاہ جلال اور ٹھاٹھ باٹھ کےپجاری متولیان کی اجارہ داری کے سبب مساجد کا ماحول بے رو ،وحشت ناک اور خستہ ہوتا جارہا ہے۔ جس سے ملتِ اسلامیہ کی تربیت اور نشوو نما پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے ضرورت اس امر کی ہےکہ مساجد کا حقیقی مقام اور اصلی حیثیت بحال کی جائے ۔ زیرنظر کتاب ’’ اسلام کا نظام مساجد‘‘ مولانا ظفیرالدین ﷫ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں اسلام کے نظام مساجد کے تمام گوشوں پر مکمل اور دلپذیر بحث کی ہے جس میں مسلمانوں کے لیے مسجد سے متعلق ہر قسم کی معلومات نہایت عام فہم انداز میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جمع کردی ہیں ۔(م۔ا)

  • 3 #1951

    مصنف : جمال الدین بن محمد قاسمی

    مشاہدات : 5698

    اصلاح المساجد

    (ہفتہ 21 دسمبر 2013ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    روئے زمین پر  سب سے بہترین اور مبارک جگہ مساجد ہیں۔  احتراما انہیں بیت اللہ   یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے۔  مساجداسلا م اور مسلمانوں کے لئےمرکزی مقام کی حیثیت رکھتی   ہیں،جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع  ہوتےہیں  اوراسلام کا  سب اہم  فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ۔مسجد وہ جگہ ہے  جہاں مختلف طبقات سے  تعلق رکھنے والے  لوگ ایک ہی صف  میں کھڑے ہو کر ایک ہی  قبلہ کی  طرف  رخ کر  کے   اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں۔ قرآن مجید  اور احادیث  نبویہ  ﷺ میں متعدد مقامات پر مسجد  کی اہمیت اور قدر منزلت کو بیان کیا ہے۔زیر تبصرہ  کتا ب شام کے  مشہور سلفی عالم  علامہ محمد جمال الدین  قاسمی کی  تصنیف  اصلا ح المساجد من البدع والعوائد کا  اردو  ترجمہ ہے  ۔مؤلف نے  اس  میں  تمام بدعات ورسومات اور متولیا ن وائمہ مساجد کی پیدا کردہ برائیوں پرخوب سیر حاصل بحث کی ہے  اور مساجد سےمتعلق چھوٹی بڑی تمام باتوں پربڑی تفصیل سے  روشنی ڈالی ہے۔  الغرض مساجد  کا او ر ان میں مسلمانوں کا کیا  طریقہ ہونا چاہیے اسے سمجھنے کےلیے یہ کتاب بہترین روشنی  فراہم کرتی ہے۔اس کتاب کااردو ترجمہ  جامعہ سلفیہ ،بنارس  کے  ڈائریکٹر ڈاکٹر  مقتدیٰ حسن ازہر ی نے کیاہےجو نہایت  سلیس اور عام  فہم ہے ۔ کتاب کی تصحیح اور احادیث  کی  تخریج کا کام تخریج وتحقیق  کے  امام محدث العصر علامہ محمدناصر الدین  البانی   نے سر انجام دیاہے،  جس سے کتاب کی  صحت اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔   اللہ اس کتاب کے مولف ومترجم اور ناشرین کو اس علمی صدقہ جاریہ پر  اجر عظیم عطا فرمائے(آمین)(م۔ا)
     

  • 4 #3873

    مصنف : محمد عبد المعبود

    مشاہدات : 2479

    تاریخ المکۃ المکرمہ

    (جمعہ 25 دسمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    بلدحرام مکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کو سب شہروں سےزیادہ محبوب ہے ۔ مسلمانوں کا قبلہ اوران کی دلی محبت کا مرکز ہے حج کا مرکز اورباہمی ملاقات وتعلقات کی آماجگاہ ہے ۔ روزِ اول سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعظیم کے پیش نظر اسے حرم قرار دے دیا تھا۔ اس میں ’’کعبہ‘‘ ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا سب سےپہلا گھر ہے ۔ اس قدیم گھر کی وجہ سےاس علاقے کو حرم کا درجہ ملا ہے۔ اوراس کی ہر چیز کو امن وامان حاصل ہے ۔ حتیٰ کہ یہاں کے درختوں اور دوسری خورد ونباتات کوبھی کاٹا نہیں جاسکتا۔ یہاں کے پرندوں اور جانوروں کوڈرا کر بھگایا نہیں جاسکتا۔اس جگہ کا ثواب دوسرےمقامات سے کئی گناہ افضل ہے۔ یہاں کی ایک نماز ایک لاکھ نماز کا درجہ رکھتی ہے ۔ مکہ مکرمہ کو عظمت ، حرمت او رامان سب کچھ کعبہ کی برکت سےملا ہے۔مکہ مکرمہ تاریخی خطہ حجاز میں سعودی عرب کے صوبہ مکہ کا دارالحکومت اور مذہب اسلام کا مقدس ترین شہر ہے۔ مکہ جدہ سے 73 کلومیٹر دور وادی فاران میں سطح سمندر سے 277 میٹر بلندی پر واقع ہے ۔ یہ بحیرہ احمر سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔یہ شہر اسلام کا مقدس ترین شہر ہے کیونکہ روئے زمین پر مقدس ترین مقام بیت اللہ یہیں موجود ہے اور تمام باحیثیت مسلمانوں پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ یہاں کا حج کرنا فرض ہے ۔مسجد حرام کے اندر قائم خانۂ کعبہ سیدنا ابراہیم ﷤اور سیدنا اسماعیل ﷤ نے تعمیر کیا ۔کعبۃ الله کی تعمیری تاریخ عہد ابراہیم اور اسماعیل ﷩سے تعلق رکھتی ہے اور اسی شہر میں نبی آخر الزماں محمد ﷺپیدا ہوئے اور اسی شہر میں نبی ﷺپر وحی کی ابتدا ہوئی۔ یہی وہ شہر ہے جس سے اسلام کا نور پھیلا اور یہاں پرہی مسجد حرام واقع ہے جوکہ لوگوں کی عبادت کے لیے بنائی گئی جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے :”اللہ تعالٰی کا پہلا گھر جولوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہ وہی ہے جومکہ مکرمہ میں ہے جوتمام دنیا کے لئے برکت و ہدایت والا ہے“ ( آل عمران:96 )570ء یا 571ء میں یمن کا فرمانروا ابرہہ ساٹھ ہزار فوج اور تیرہ ہاتھی (بعض روایات کے مطابق نو ہاتھی) لے کر کعبہ کو ڈھانے کے لیے مکہ پر حملہ آور ہوا۔ اہل مکہ اس خیال سے کہ وہ اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہیں رکھتے ، اپنے سردار عبدالمطلب کی قیادت میں پہاڑوں پر چلے گئے ۔ اس پر اللہ تعالٰی کے حکم سے ہزاروں ابابیل چونچوں اور پنجوں میں سنگریزے لیے ہوئے نمودار ہوئے اور انہوں نے ابرہہ کے لشکر پر ان سنگریزوں کی بارش کر دی چنانچہ یہ سارا لشکر منیٰ کے قریب وادی محسر میں بالکل کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو کر رہ گیا۔ تو اس طرح یہ مکمل لشکر اللہ تعالیٰ کے حکم سے تباہ و برباد ہوگیا اللہ تعالیٰ نے اس حادثے کا ذکر قرآن مجید میں بھی کیا ہے۔یہ وہی سال تھا جب آنحضرت ﷺکی پیدائش ہوئی۔ نبی کریم ﷺنے زندگی کا بیشتر حصہ یہیں گزارا۔ آپ پر وحی بھی اسی شہر میں نازل ہوئی اور تبلیغ اسلام کے نتیجے میں کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر مسلمان یہاں سے مدینہ ہجرت کر گئے۔بالآخر 10 رمضان المبارک 8ھ بمطابق 630ء میں مسلمان حضور ﷺ کی قیادت میں اس شہر میں دوبارہ داخل ہوئے ۔ مدینہ ہجرت جانے کے بعد رسول اللّہ ﷺکی قیادت میں مسلمانوں کی دوبارہ اس شہر مکّہ میں آمد کو فتح مکہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر حضور ﷺنے تمام اہلیان شہر کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔خلافتِ اسلامیہ کے عروج پر پہنچنے کے بعد مکہ مکرمہ مسلم دنیا کے معروف علمائے کرام اور دانشوروں کا مسکن بن گیا جو کعبۃ الله سے زیادہ سے زیادہ قریب رہنا چاہتے تھے۔ اس زمانے میں سفر حج کی مشکلات اور اخراجات کے باعث حجاج کرام کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی آج کل ہے ۔ 18 ویں اور 19 ویں صدی کے نقشہ جات اور تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جس میں مسجد حرام کے گرد ایک شہر قائم تھا۔مکہ کبھی بھی ملت اسلامیہ کا دارالخلافہ نہیں رہا۔ اسلام کا پہلا دارالخلافہ مدینہ تھا جو مکہ سے 250 میل دوری پر واقع ہے۔ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں بھی مدینہ ہی دارالخلافہ رہا اور پھر سیدنا علی ﷜ کے زمانے میں پہلے کوفہ اور اس کے خاتمے کے بعد دمشق اور بعد ازاں بغداد منتقل ہوگیا۔مکہ مکرمہ صدیوں تک ہاشمی شرفاء کی گورنری میں رہا جو اس حکمران کے تابع ہوتے تھے جو خود کو خادم الحرمین الشریفین کہلاتا تھا۔1926ء میں سعودیوں نے شریف مکہ کی حکومت ختم کرکے مکہ کو سعودی عرب میں شامل کرلیا۔جدید زمانے میں حاجیوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شہر تیزی سے وسعت اختیار کرتا جارہا ہے اور شہر کی اکثر قدیم عمارات ختم ہوچکی ہیں جن کی جگہ بلند و بالا عمارات، شاپنگ مالز، شاہراہیں اور سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں۔مسلمانوں کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا اسلام کے پانچ بنیادی اراکین میں سے ایک ہے ۔ حالیہ سالوں میں 30 لاکھ سے زائدمسلمان ہر سال حج بیت اللہ کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لاتے ہیں۔ علاوہ ازیں لاکھوں مسلمان عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے بھی سال بھر مکہ آتے ہیں۔شہر مکہ میں بنیادی حیثیت بیت اللہ کو حاصل ہے جو مسجد حرام میں واقع ہے ۔ حج و عمرہ کرنے والے زائرین اس کے گرد طواف کرتے ہیں، حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں اور زمزم کے کنویں سے پانی پیتے ہیں۔ علاوہ ازیں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سعی اور منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل بھی کیا جاتا ہے ۔ حج کے دوران میدان عرفات میں بھی قیام کیا جاتا ہے ۔مسلمانوں کے لیے مکہ بے پناہ اہمیت کا حامل ہے اور دنیا بھر کے مسلمان دن میں 5 مرتبہ اسی کی جانب رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔غیر مسلموں کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں اور شہر کی جانب آنے والی شاہراہوں پر انتباہی بورڈ نصب ہیں۔ جن مقامات سے غیر مسلموں کو آگے جانے کی اجازت نہیں وہ حدود حرم کہلاتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تاریخ المکۃ المکرمہ‘‘ جناب محمد عبد المعبود کی تصنیف ہے اردو زبان میں اپنے موضوع پر سب زیادہ جامع اور مستند کتاب ہے۔کیونکہ یہ نامور متقدمین مؤرخین کی کتب سے مکمل استفادہ کرتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے ۔یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول میں مکہ معظمہ کی تہذیبی ،تمدنی،ارتقائی، اقتصادی ، معاشرتی اور سیاسی تاریخ سے متعلق تفصیلی بحث موجود ہے ۔ اور دوسرے حصہ میں حرم کعبہ اور اسکے ملحقات کی چار ہزار سالہ نادر تاریخی دستاویزات رقم کی گئی اور تیسرے حصہ میں مکہ مکرمہ رائج نظام تعلیم ،مدارس ، زراعت اور صعنت پر سیر حاصل ابحاث ہیں۔ ہر بحث مستند حوالہ جات سے مزین کی گئی ہے ۔ الغرض یہ کتاب مکہ مکرمہ اور بیت اللہ شریف کی چار ہزارسالہ مکمل مفصل اور مدلل تاریخ ہے ۔اپنی افادیت کے اعتبار سے ہر مسلمان کی مطمح نظر اورہر لائبریری کی شانہ ہے ۔اللہ تعالیٰ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 5 #3869

    مصنف : سیف الرحمن الفلاح

    مشاہدات : 2922

    تاریخ بیت اللہ شریف

    (منگل 22 دسمبر 2015ء) ناشر : مرکز الدعوۃ الاسلامیہ، اوکاڑا

    خانہ کعبہ، کعبہ یا بیت اللہ مسجد حرام کے وسط میں واقع ایک عمارت ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف رخ کرکے مسلمان عبادت کرتے ہیں۔ یہ دینِ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔ سیدنا ابراہیم ﷤ کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کےپتھر استعمال ہوئےتھےجبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو سیدنا ابراہیم ﷤ نےرکھےتھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604ء میں اپنےمالی مفادات کےتحفظ کےلئےاس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتےتھےوہ چوری ہوجاتی تھیں۔قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔اور اس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سےبھی محفوظ رہے، مغربی دروازہ بند کردیا گیا جبکہ مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا گہ کہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک ﷺ (جو اس تعمیر میں شامل تھےاور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنےکا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔سیدنا عبداللہ بن زبیر ﷜ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے اور سیدنا حسین ﷜ کی شہادت کےبطور احتجاج یزید بن معاویہ سےبغاوت کرتےہوئےمکہ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا تھا) نےنبی پاک ﷜ کی خواہش کا احترام کرتےہوئے685ءمیں بیت اللہ کو دوبارہ ابرہیمی طرز پر تعمیر کروایا تھا مگر حجاج بن یوسف نے693ءمیں انہیں شکست دی تو دوبارہ قریشی طرز پر تعمیر کرادیا جسےبعد ازاں تمام مسلمان حکمرانوں نےبرقرار رکھا۔خانہ کعبہ کےاندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ کعبہ کےاندر رکن عراقی کےپاس باب توبہ ہےجو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشے کا ایک حصہ ہےجو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ءمیں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئےسرےسےبھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سےتقریباً دو میٹر بلند ہےجبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سےزیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرےمیں جوجگہ ہےاسےحطیم کہتےہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کےعلاوہ وہ مقام بھی شامل ہےجو حضرت ابراہیم ﷤نےحضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل ﷤کےرہنےکےلئےبنایا تھا جسےباب اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اب بھی حرم مکی کی توسیع وتعمیر کا کام جاری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ بیت اللہ شریف‘‘ مولانا سیف الرحمٰن الفلاح کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں بیت اللہ کی مکمل تاریخ جمع کردی ہے۔ اس کے ہر حصے اور تمام متعلقات کے فضائل بھی تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں جو محققانہ اور دلچسپ ہیں ۔مصنف موصوف نے کعبۃ اللہ، چاہ زمزم، مقام ابراہیم حجراسود، او رعمارا ت کعبہ وغیرہ سب ہی کو تاریخ کو تحقیق کے ساتھ لکھا ہے اور کتاب کاہر ہر حرف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مصنف کتاب اپنا تاریخی مزاج بھی رکھتے ہیں۔ مصنف موصوف نے منکرین حدیث اورمغرب زدہ حلقوں کی طرف سے پیدا کردہ بعض شبہات کابھی منجھے ہوئے انداز میں ازالہ کیاہے کتاب گومختصر ہے لیکن بیت اللہ شریف کے اجمالی تعارف کے لیے کافی مفید ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1958ء میں شائع ہوئی ۔موجودہ ایڈیشن 1992 ء کا طبع شدہ ہے۔ اس میں فاضل مصنف کو بیت اللہ شریف اور اس کے دیگر ملحقہ مقامات کے تاریخی حالات کے سلسلہ میں جو نئی معلومات حاصل ہوئیں ان کا مناسب مقامات پر اضافہ کردیا گیا ہے۔ توسیعات سعودیہ کی مکمل رپورٹ جو انہیں سعودیہ کے آفس سیکرٹری نے بیان کی اسے بھی اس میں شامل کردیا ہے۔ اوراسی طرح حادثہ حرم مکی 1979ء کی اخباری رپورٹ اور ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی کا مضمون حو توسیعات کے متعلق تھا ان کا آخر میں بطور ضمیمہ ذکر کیاگیا ہے۔ کتاب گومختصر ہے لیکن بیت اللہ شریف کے اجمالی تعارف کے لیے کافی مفید ہے۔ (م۔ا)

  • 6 #3870

    مصنف : ممتاز لیاقت

    مشاہدات : 4542

    تاریخ بیت المقدس

    (بدھ 23 دسمبر 2015ء) ناشر : سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

    بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت  کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق  کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو  فتح کیا تو سیدنا عمر  نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ  کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ  کا ایک  مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ  نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے  تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے۔ گزشتہ  چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ  نےیہ مسئلہ پیدا کر کے  گویا اسلام  کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں  اسرائیل کے قیام کےبعد  یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے  فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے  دخل کر کے انہیں  کمیپوں  میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے  پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔  دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ  نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ  کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی  مسلمان شہید ، زخمی  یا بے گھر ہوچکے ہیں  اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر  قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ بیت المقدس‘‘ ممتاز لیاقت  صاحب کی  تصنیف ہےکتاب کا بیشتر حصہ اس کے نام کی مناسبت  سے بیت المقدس کی تاریخ  وروایات سے متعلق ہے لیکن ضمناً اسرائیل کا قیام اور منصوبوں کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔ یہ کتاب اس شہر کی تاریخ اور عظمت وفضیلت کی داستان ہے  اوراس ناموس کاقصہ ہے جس کےلیے  ہمارے اسلاف ایک پوری صدی تک اپنے خون کاخراج دیتے رہے ۔تقریباً  45 سال قبل بیت المقدس کی تاریخ پر اردو میں کوئی قابل ذکر کتاب موجود نہ تھی  مصنف  کتاب  ہذاممتازلیاقت صاحب نے اس  موضوع پر یہ کتاب لکھ کر اس کمی کوکسی حد تک پورا کیا۔اس کتاب کی اشاعتِ اول  پر مولانامودوی﷫ نے  اس کتاب کےمصنف  کے متعلق  لکھا :’’  آپ  کی محنت  قابل داد ہے کہ آپ نے بیت المقدس کے موضوع پر بہتسا مواد جمع کردیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کےقبلۂ اول  کو آزاد  اور دنیا بھر کےمظلوم مسلمانوں کی مددفرمائے (م۔ا)
     

  • 7 #4610

    مصنف : علی شبیر

    مشاہدات : 2503

    تاریخ حجر اسود

    (پیر 18 جولائی 2016ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    حجر اسود کے بارے میں سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ خانہ کعبہ میں لگا ہوا وہ مبارک پتھر ہے جسے چومنا یا ہاہاتھ لگانا ہر مسلمان اپنے لئے باعث سعادت سمجھتا ہے لیکن یہ حجر اسود ہے کیا ؟ اس کی تاریخ کیا ہے ؟اس بارے میں مستند معلومات کی کمی ہے ۔اسلامی عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیم  نے جب خانہ کعبہ تعمیر کیا تو حضرت جبرائیل ؑ جنت سے لائے تھے اور بعد میں تعمیر قریش کے دوران نبی کریم ﷺنے اپنے دست مبارک سے اس جگہ نسب کیا۔اس وقت یہ پتھر دودھ کی طرح سفید تھاجو بنی آدم کے گناہوں کے سبب سیاہ ہوگیا ۔حجاج بن یوسف کے کعبہ پر حملے میں یہ مقدس پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا جسے بعد میں چاندی میں مڑھ دیا گیا ۔ اس مقدس پتھر نے کئی ادوار دیکھے ۔ اس کتاب میں جناب علی شبیر صاحب حجر اسود کی مکمل اور مستند تاریخ تفصیل کے ساتھ بیان کر دی گئی ہے۔(م۔ا)

  • 8 #3871

    مصنف : عباس کرارہ مصری

    مشاہدات : 2291

    تاریخ حرمین شریفین

    (جمعرات 24 دسمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    حرم مکی سے مراد مسجد حرام ہے مسجد حرام دینِ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔سیدنا ابراہیم﷤ کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کے پتھر استعمال ہوئےتھےجبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو سیدنا ابراہیم﷤ نےرکھےتھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604ء میں اپنےمالی مفادات کےتحفظ کےلئےاس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتےتھےوہ چوری ہوجاتی تھیں۔قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔اور اس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سےبھی محفوظ رہے، مغربی دروازہ بند کردیا گیا جبکہ مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا گہ کہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک ﷺ (جو اس تعمیر میں شامل تھےاور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنےکا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔سیدنا عبداللہ بن زبیر﷜ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے اور سیدنا حسین﷜ کی شہادت کےبطور احتجاج یزید بن معاویہ سےبغاوت کرتےہوئےمکہ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا تھا) نےنبی پاک﷜ کی خواہش کا احترام کرتےہوئے685ءمیں بیت اللہ کو دوبارہ ابرہیمی طرز پر تعمیر کروایا تھا مگر حجاج بن یوسف نے693ء میں انہیں شکست دی تو دوبارہ قریشی طرز پر تعمیر کرادیا جسےبعد ازاں تمام مسلمان حکمرانوں نےبرقرار رکھا۔خانہ کعبہ کےاندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ کعبہ کےاندر رکن عراقی کےپاس باب توبہ ہےجو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشے کا ایک حصہ ہےجو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ء میں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئےسرےسےبھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سےتقریباً دو میٹر بلند ہےجبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سےزیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرےمیں جوجگہ ہےاسےحطیم کہتےہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کےعلاوہ وہ مقام بھی شامل ہےجو حضرت ابراہیم﷤ نے حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل﷤ کےرہنےکےلئےبنایا تھا جسےباب اسماعیل کہا جاتا ہے۔اب بھی حرم مکی کی توسیع وتعمیر کا کام جاری ہے ۔ حرم مدنی سے مردا مسجد نبوی ہے۔ یہ وہ مسجد ہے جس کی بنیاد اول سے ہی تقویٰ پر ہے ۔اسے خود سرور کائنات ﷺ اورآپ کے صحابہ کرام نے اپنے ہاتھوں سےتعمیر کی۔ جن لوگوں نے اس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ان کےلیے دعا خیرفرمائی۔یہ سب سے پہلا گھر (مدرسہ ) تھا جس سے ایسے آدمی تعلیم حاصل کر کے نکلے جنہیں کاروبار ، خرید وفروخت اللہ کے ذکر سےغافل نہ کرسکی۔ جنہوں نےنماز کی اقامت کی اور زکاۃ کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔ جنہوں نے اللہ کی حدود کو قائم رکھا اور شہروں، قصبات کو فتح کیا اور مشرق ومغرب ان کےماتحت ہوگئے اس مسجد میں حضور اکرم ﷺ کےزمانہ سے لے کر اس آخری بڑی عمارت کے تعمیر ہونے تک بڑے بڑے تغیرات آئے اور وقتا ً فوقتاً مسجد کی عمارت و سیع ہوتی گئی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تاریخ حرمین شریفین ‘‘علامہ الحاج عباس کرارہ مصری کی عربی تصیف کا ترجمہ ہے۔ یہ کتاب دوحصوں پر مشتمل ہے حصہ اول میں حرم مکی، خانہ کعبہ، مقام ابراہیم، چاہ زمزم، او رملحقہ مقامات کی مکمل اور جامع تاریخ ہے۔ اور حصہ ثانی میں مسجد نبوی ، روضۂ پاک، حجرہ شریف، اور محراب نبوی ﷺ وغیرہ کا مکمل اورجامع تذکرہ کے علاوہ تعمیر جدید کے حوالے بھی تفیلاً معلومات تحریر کی ہیں۔عربی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے کا فریضہ مولانا سیف الرحمن الفلاح نے انجام دیا ترجمہ کے ساتھ ساتھ کتاب پر مفید حواشی بھی تحریر کیے۔ (م۔ا)

  • 9 #318

    مصنف : محمد طاہر الکردی

    مشاہدات : 17563

    تاریخ خانہ کعبہ

    (پیر 19 اپریل 2010ء) ناشر : حبیب ایجوکیشنل سنٹر اردوبازار لاہور

    اپنے موضوع پر یہ اردو میں پہلی کتاب ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں خانہ کعبہ یا مسجد حرام کی مکمل تاریخ نہیں لکھی گئی۔ البتہ بہت سی باتیں بطور مناسبت ذکر کی گئی ہیں۔ خانۂ کعبہ اور مسجد حرام کے حدود اور ان اضافوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جو وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں۔ نیز فضائل کعبہ کی بحث بھی شامل ہے تاکہ مقام مقدّس کے زائرین کے لئے مزید توضیح کا سبب ہو۔ ضمناً کچھ بیان حجر اسماعیل اور غار کعبہ کے بارے میں بھی آ گیا ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے عمدہ کتاب ہے۔
     

  • 10 #533

    مصنف : شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام

    مشاہدات : 15641

    تاریخ مدینہ منورہ

    (منگل 17 مئی 2011ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔زیر نظر کتاب انتہائی معلوم افزاء اور اہم ہے۔ جس میں مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ ،مدینۃ الرسول کے فضائل  و مناقب ،حدود حرم مدینہ ،ہجرت کے واقعات ،مدینہ منورہ سے یہودیوں کی جلاو طنی ،مسجد نبوی کی جدید و قدیم توسیع کے مراحل ،مسجد نبوی کی فضیلت ،زیارت قبر نبوی کا مشروع طریقہ اور مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد کو انتہائی شائستگی و سلاست سے بیان کیا گیا ہے ۔نیز اس کتاب میں قارئین کی دلی آسودگی ،قلبی تسکین اور مدینہ منورہ سے وابستہ یادوں کا جمیع سامان میسر ہے ۔جس کے مطالعہ سے آپ مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ اور اس کے متعلقہ مسائل کے بارے  میں شرعی راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ۔

     

< 1 2 3 4 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1722
  • اس ہفتے کے قارئین 11407
  • اس ماہ کے قارئین 49801
  • کل قارئین49396552

موضوعاتی فہرست