اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

عبد الحنان جانباز

  • نام : عبد الحنان جانباز

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #3235

    مصنف : عبد الحنان جانباز

    مشاہدات : 1530

    محمد علی جانباز احوال، افکار و آثار

    (محمد علی جانباز احوال، افکار و آثار) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    مولانا محمد علی جانباز ﷫ ۱۹۳۴ء میں مشرقی پاکستان کے ضلع فیروز پور (بھارت) کے قصبہ بُدھو چک میں پیدا ہوئے۔ آپ نے تعلیم کا آغاز اپنے قصبہ ہی کی مسجد سے کیا۔ یہاں آپ کے استاد مولانا محمد﷫ تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی ابتدائی کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اور بعد ازاں اپنے استاد محترم محمد﷫ کی ترغیب پر1951ء میں آپ مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ یہاں پر آپ نے مولانا محمد صادق خلیلاور شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب قریشی  سے مختلف فنون کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۹۵۳ء میں آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نے شیخ العرب والعجم استاد العلماء حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلویاور استاد العلماء مولانا ابو البرکات احمد مدراسیسے کسبِ فیض کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد ۱۹۵۸ء میں جب جامعہ سلفیہ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آپ حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی  کے ہمراہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد تشریف لے گئے۔ جامعہ سلفیہ میں آپ نے حافظ محمد گوندلوی سے صحیح بخاری، مؤطا امام مالک، حجۃ اللہ البالغہ، سراجی اور کئی ایک کتابوں کا درس لیا۔ حافظ محمد گوندلوی کے علاوہ آپ نے جامعہ سلفیہ میں ہی مولانا شریف اللہ خان سواتی اور حضرت مولانا پروفیسر غلام احمد حریری رحمہما اللہ سے بھی استفادہ کیا۔ اور اِسی اثناء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کئے۔۱۹۵۸ء میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی تحریک پر آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہی اپنے تدریسی دور کا آغاز کیا۔ ۱۹۶۲ء میں مولانا جانباز سیالکوٹ تشریف لے گئے ۔ وہاں پر آپ نے پہلے پہل مدرسہ دار الحدیث جامع مسجد اہلحدیث ڈپٹی باغ میں درس و تدریس شروع کی دو سال بعد یہ مدرسہ ڈپٹی باغ والی مسجد سے مسجد اہل حدیث ابراہیمی میانہ پورہ منتقل ہو گیا۔ اور مدرسہ کا نام دار الحدیث سے تبدیل کر کے جامعہ ابراہیمیہ رکھا گیا اور مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری و ساری رہا اور آپ کی شب و روز کی محنت کی وجہ سے جامعہ ابراہیمیہ ترقی کے منازل طے کرتا رہا۔ ۱۹۷۰ء میں مولانا محمد علی جانباز  نے جامعہ ابراہیمیہ کو جامع مسجد اہل حدیث محلہ لاہوری شاہ ناصر روڈ پر منتقل کیا۔ ۱۹۷۹ء تک آپ اسی مسجد میں درس و تدریس کا کام سر انجام دیتے رہے اور ۱۹۸۰ء میں جامعہ ابراہیمیہ کو مستقل طور پر الگ عمارت میں منتقل کیا او بعد میں اس کا نام ابراہیمیہ سے تبدیل کر کے جامعہ رحمانیہ رکھا گیا۔ جو اب بھی کتاب و سنت کی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ مولانا جماعت اہلحدیث کے ممتاز عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ محقق، مؤرخ، مجتہد، فقیہ، ادیب اور دانشور تھے۔ آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، اسماء الرجال، تاریخ و سیر، منطق و فلسفہ، لغت و ادب اور صرف و نحو پر آپ کو کامل عبور تھا۔ حدیث اور اسماء الرجال پر آپ کی نگاہ وسیع تھی ۔علومِ اِسلامیہ میں جامع الکمالات ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا صاحب عادات و خصائل کے اعتبار سے نہایت پاکیزہ انسان اور زُہد و ورع، تقویٰ و طہارت اور شمائل و اخلاق میں سلف صالحین اور علماءِ ربانیین کے اوصاف کے حامل تھے۔موصوف نے تدریس وتقریراور مختلف مضامین کے علاوہ متعدد عنوانات پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے شُہرہ آفاق کتاب اِنجاز الحاجہ شرح اِبن ماجہ (۱۲ جلدیں)، اہمیت نماز، صلوۃُ المصطفیٰ ﷺ، معراجِ مصطفیٰ، آلِ مصطفیٰ ﷺ، توہین رسالت کی شرعی سزا، احکامِ نکاح، احکامِ طلاق، حرمتِ متعہ بجوابِ جواز متعہ اور تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار قابل ذکر ہیں۔مولانا 2008ء میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام تر محنتوں اور کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور آپ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔ آمین۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز احوال، افکار وآثار ‘‘ مولانا جانباز کی حیات وخدمات پر مشتمل تفصیلی کتاب ہے۔ جسے مولانا مرحوم کے صاحبزادے عبد الحنان جانباز اور عبد العزیز سوہدری نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں معروف سوانح نگار اور اہل علم حضرات کے مولانا جانباز کےمتعلق مضامین شامل ہیں۔ کتاب میں مولانا کے حصول تعلیم کے لیے سفر، اساتذہ وتلامذہ، تعلیمی و تدریسی، تقریری وتحریری اور تصنیفی خدمات کا تفصیلی تذکرہ موجو د ہے۔

  • 2 #5515

    مصنف : عبد الحنان جانباز

    مشاہدات : 1054

    تذکرہ مساجد اہلحدیث سیالکوٹ شہر

    (تذکرہ مساجد اہلحدیث سیالکوٹ شہر) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ

    مساجد روئے زمین پر زمین کا سب سےبہتر حصہ ہیں احتراماً انہیں بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے اسلا م اور مسلمانوں کامرکزی مقام یہی مسجدیں ہیں اور مسجد اللہ کا وہ گھر ہے جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع ہوتےہیں اوراسلام کا سب اہم فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ،مسجد وہ جگہ ہے جہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں،او رمسجد ہی زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے پاکیزہ متبرک اوربہترین جگہ ہے ۔نبی کریم ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو سب سے پہلے آپ ﷺ نے جوعملی قدم اٹھایا وہ مسجد کی تعمیرتھی ۔قرآن مجید میں اور احادیث نبویہ ﷺ میں بے شمار مقامات پر مسجد کی اہمیت اور قدر منزلت کوبے بیان کیا ہے۔او ر کئی اہل علم نے مسجد کی فضیلت اور احکام ومسائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تذکرہ مساجد اہل حدیث سیالکوٹ ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے صاجزادے مولانا عبدالحنان جانباز ﷾ کی مرتب شدہ ہے ۔فاضل مرتب نے اس کتاب کو دو ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں سیالکوٹ کی 94 مساجد کا تذکرہ کیا ہے ۔مساجد کے تعارف میں مسجد کا نام اور اس کے ساتھ اس کا محل وقوع ، سن تعمیر، سنگ بنیاد ، افتتاحی نماز پہلی اذان ، افتتاحی خطبہ اور اس کے بعد مسجد کا تاریخی پس منظر تفصیلاً بیان کیا ہے اور طرح مسجد کی تعمیرمیں جن حضرات نے مالی تعاون کیا ان کے اسمائے گرامی درج کیے ہیں ۔ کتاب کے آغاز میں علامہ ابو عمر عبدالعزیز سوہدروی نے اپنے تحقیقی مضمون ’’سیالکوٹ تاریخ کے آئینے میں ‘‘سیالکوٹ کی علمی وتاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی ہے ۔ اور با ب دوم میں 68 علمائے کرام کے مختصر خود نوشت حالات بیان کیے ہیں۔ان مختصر حالات میں ان علماء نے اپنی تعلیمی وتدریسی زندگی کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا دیا ہے کہ کہاں کہاں تدریسی خدمات سرانجام دی ہیں اور اس مسجد میں کتنے عرصہ سے وہ اپنا فرض منصبی انجام دے رہے ہیں ۔(م۔ا)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1708
  • اس ہفتے کے قارئین 3634
  • اس ماہ کے قارئین 42028
  • کل قارئین49284547

موضوعاتی فہرست