• محمد نعمان فاروقی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں۔ زیر  تبصرہ کتاب ’’200 احادیث مبارکہ ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جوکہ  مسلم پبلی کیشنز  کے مدیر جناب  مولانا محمد نعمان فاروقی ﷾ کی  کاوش ہےجس میں انہوں نے غیر معروف  مگر صحیح یا حسن  200 احادیث مبارکہ جمع کی  ہیں۔موصوف نے احادیث کی تصحیح وتحسین میں زیاد ہ تر انحصار علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی تحقیق  اور مسند احمد کی تحقیقی کمیٹی پر بھی کیا ہے جس کا اشراف   الشیخ عبد القادر ارناوؤط نے کیاہے ۔مرتب نے کتاب کو دلچسپ بنانے کے لیے   اپیل کرنے  والی ہیڈنگز سےمزین کیا  ہے اور اسلوب کوآسان  سےآسان تر بنانے کی کوشش کی    ہے ۔ اللہ  تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوران احادیث کو عوام الناس کےلیے  فائدہ مند بنائے (آمین) ( م۔ا)

  • محمد ابو القاسم بنارسی

    محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے ۔لیکن بعض نام نہاد اہل علم ہمیشہ سے صحیح بخاری  پر اعتراضات کرتے چلے آئے  ہیں اور اس کے رواۃ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔اور علماء حق نے ان کے کمزور اعتراضات اور بیہودہ تنقید کا مسکت اور مدلل جواب دے کر انہیں چپ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " الامر المبرم لابطال الکلام المحکم "محترم مولانا محمد ابو القاسم بنارسی﷫  کی تصنیف ہے،اور اس پر تقدیم وتعلیق شیخ الحدیث مولانا محمد عبدہ فیروز پوری ﷫ کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں مولوی عمر کریم حنفی پٹنوی  کے ان اختراعات کا مفصل جواب دیا ہے جو اس نے صحیح بخاری کے ایک سو پچھتر رواۃ پر وارد کئے تھے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو حدیث نبویﷺ پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔آمین(راسخ)

  • محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • شمس الدین الذہبی

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے ۔اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے ، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بار ے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’مختصر کتاب الکبائر‘‘ امام شمس الدین ذہبی کی کتاب الکبائر کا اختصار ہے ۔اس کتاب میں ان کبیرہ گناہوں کو واضح کرنے کی کو شش کی گئی ہے کہ جن کو امام ذہبی نے اپنی کتاب الکبائر میں ذکر کیا ہے ۔ علاوہ ازیں بعض دوسرے کبائر کا بھی اس میں ذکر کیا ہے جن کو علماء نے مختلف جگہوں پر اپنی اپنی کتابوںمیں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور اس کتاب کو کبیرہ گناہوں سےمحفوظ رہنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین( م۔ا)

  • فرید وجدی آفندی

    دین اسلام نے  عورت کواتنا اونچا مقام و مرتبہ دیا ہے جواسے پہلے کسی قوم وملت نے نہیں دیاتھا۔ اسلام نے انسان کوجو‏عزت واحترام دیا ہے اس میں مرد و عوت دونوں برابر کےشریک ہیں ۔ اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔لیکن افسوس کہ مغرب حقوق نسواں اور آزادی  کے نام پر عورت کو بے پردہ کرنا چاہتا ہے اور مسلمان خواتین کی عفت وعصمت کو تاتار کرنا چاہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مسلمان عورت"دراصل علامہ فرید وجدی آفندی کی عربی کتاب "المراۃ المسلمۃ"کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ کرنے کی سعادت ہندوستان کی شخصیت ابو الکلام آزاد کے حصے میں آئی ہے۔یہ کتاب انہوں نے قاسم امین کی عورت کی آزادی پر مشتمل  دو کتابوں "تحریر المراۃ"اور "المراۃ الجدیدۃ" کے جواب میں لکھی ہے۔قاسم امین  کی ان دو کتابوں کے منظر عام پر آتے ہی مصری معاشرے میں ایک ہلچل سی مچ گئی  اور متعدد اہل علم نے ان کا رد لکھا ،لیکن ان میں ایک تو جامعیت نہ تھی اور دوسرے نمبر پر وہ دفاعی نوعیت کی تھیں۔یہ صورتحال دیکھ علامہ فرید وجدی تڑپ اٹھے  اور فلسفہ وحکمت کے دلائل کا انبار لگا دیا۔اور پرزور طریقے سے ثابت کیا کہ قصر اسلامی کی بنیادیں زندگی کی ٹھوس حقیقتوں پر قائم ہیں،ان میں کسی قسم کی ترمیم واصلاح کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔انہوں نہایت احسن انداز میں یہ ثابت کیا کہ عورت کا دائرہ عمل اور اصلی میدان گھر ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمان عورتوں کو پردہ کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اور اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ زکوٰۃ کے مسائل وفوائد ‘‘سابق ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث ،کنونئیر تحریک دعوت توحید ،پاکستان ،مدیر وبانی ابو ھریرہ اکیڈمی ،لاہور محترم میاں محمد جمیل ایم اے ﷾ کی   کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے زکوٰۃ کی اہمیت وفضیلت ،تاریخ ، فوائد وثمرات اور زکوٰۃ کے جملہ احکام ومسائل کو   قرآن وحدیث کے دلائل کی روشنی میں بڑے آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا ایک درجن کتب کے مصنف ہیں۔ اوردینی وعصری علوم کےمعیاری ادارے ابوھریرہ اکیڈمی چلانے کے علاوہ پاکستان میں دعوتِ توحید کوعام کرنے کے لیے ’’تحریک دعوت توحید‘‘ کی قیادت کرتے ہوئے شرک وبدعات کے خاتمے کےلیے بڑے فعال ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تصنیفی،تبلیغی واصلاحی خدمات کوشرفِ قبولیت سے نوازے اور کتاب ہذا کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

  • ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نےدنیاکی  ہر نعمت ہر انسان کوعطا نہیں کی بلکہ اس نے فرق رکھا ہے  اور یہ فرق بھی اس کی تخلیق کا کمال ہے کسی کو اس نے صحت  قابلِ رشک عطا کی  کسی کو علم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا،کسی کودولت کم دی کسی کوزیادہ دی ،کسی کو  بولنے کی صلاحیت غیرمعمولی عطا کی ، کسی کو کسی ہنر میں طاق بنایا، کسی کودین  کی رغبت وشوق دوسروں کی نسبت زیادہ  دیا کسی کو بیٹے دئیے، کسی کو بیٹیاں ، کسی کو بیٹے بیٹیاں، کسی کو اولاد  زیادہ دی ، کسی کوکم اور کسی کو دی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اولاد کی محبت اور خواہش رکھ دی  ہے ۔ زندگی کی گہما گہمی اور رونق اولاد ہی کےذریعے قائم ہے ۔ یہ اولاد ہی ہےجس کےلیے  انسان  نکاح کرتا ہے ،گھر بساتا ہے اور سامانِ زندگی حاصل کرتا ہے لیکن اولاد کے  حصول میں انسان بے بس اور بے اختیار ہے  ۔ اللہ تعالیٰ نےاس نعمت کی عطا  کا مکمل اختیار اپنےہاتھ میں رکھا۔اس اولاد سےمحروم والدین کوجان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ  نے جس کےلیے  جومناسب جانا وہی اسے  دیا۔ لہذا  اولاد کی محرومی کی صورت میں انہیں شکوہ شکایت یا ناشکری کرنے کی بجائے قناعت اور شکر سے کا م لینا چاہیے ۔اگر علاج معالجہ کا مسئلہ ہو تو اس کے لیے   کوشش وکاوش  جاری رکھی جاسکتی ہے ۔لیکن غیرشرعی طریقوں سے حصول اولاد کی کوشش کرنا  جائز  نہیں۔دنیا کے  قدیم جاہلی معاشروں  سے لے کر دور ِ حاضر  کے ہر معاشرے میں بے اولاد والدین نے اپنی محرومی کا ازالہ کرنے کےلیے  مختلف صورتیں ایجاد کیں جن میں  بعض   درج  ذیل ہیں۔کسی مفلس والدین کے ہاں بچہ پیدا ہوتے ہی یا پیدا ہونے سے پہلے ہی  خرید لیا  اور ہمیشہ  کے لیے اس کی ولدیت اور نام ونسب  کا حق محفوظ کرلیا۔بعض لوگ کسی  رشتہ دار  یا غیر آدمی کا بچہ لے کر اس کی ولدیت اپنے نام سے جوڑ لیتے ہیں اوراس بناوٹی بیٹے یا بیٹی کووہ تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں جو سگی اولاد کو  حاصل  ہوتے  ہیں۔بعض مرد اپنے سگے بھائی یا  اپنے چچا زاد بھائی  کا بیٹا یا بیٹی گود لے کر  اس کی ولدیت اپنے نام کے ساتھ نتھی کرلیتے  ہیں ۔ ہندوؤں میں بھی اس کی  مختلف صورتیں موجود ہیں۔اور اہل عرب کےہاں جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ کسی دوسرے کابچہ بڑی عمر کاہوتا یا چھوٹی عمر کا اس کے اصل والدین سے معاہدہ کر کے اس  کاحق ولدیت اپنے نام کرالیتے اور معاہدے کا اعلان کعبہ میں یا معتبر افراد کی موجودگی میں کیاجاتا ۔ لیکن اسلام نے ان  تمام   طریقوں کو ختم کردیا اور اللہ  تعالیٰ نے حکم دیا:کہ لے پالک بچوں کی نسبت ان کے حقیقی باپوں ہی کی طرف کی جائے ، جن کی پشت سے وہ پیدا ہوئے ہیں ۔ اور اگر ان کےحقیقی باپوں کاعلم نہ ہو تو وہ پھر وہ دینی بھائی اور متبنی بنانے والے اور دیگر مسلمانوں کے دوست ہیں ۔ اللہ تعالینے اس بات کو حرام قرار دے دیاکہ بچے کی لے پالک بنانےوالے کی طرف حقیقی نسبت کی جائےبلکہ بچے کے لیے بھی اس بات کو حرام قرار دے دیا کہ وہ اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے ، البتہ اگر زبان کی کسی غلطی کی وجہ سے ایسا ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اللہ سبحانہ و تعالی نے واضح فرمایا ہے کہ یہ حکم عین عدل و انصاف پر مبنی ہے ، یہی سچی بات ہے ، اس میں انساب اور عزتوں کی حفاظت بھی ہے اور ان لوگوں کےمالی حقوق کی حفاظت بھی ، جو ان کے زیادہ حق دار ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :﴿وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذ‌ٰلِكُم قَولُكُم بِأَفو‌ٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ ﴿٤﴾ ادعوهُم لِءابائِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَم تَعلَموا ءاباءَهُم فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ وَمَو‌ٰليكُم ۚ وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورً‌ا رَ‌حيمًا ﴿٥﴾... سورةالاحزاب"اورنہ تمہارے لے پالکوں کوتمہارے بیٹے بنایا ، یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تعالی توسچی بات فرماتا ہے اور وہ سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ مومنو! لے پالکوں کو ان کے( اصلی ) باپوں کےنام سے پکارا کرو کہ اللہ کےنزدیک یہ بات درست ہے۔ اگر تم کو ان سےباپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سےغلطی سےہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دل سے کرو ( اس پر مؤاخذہ ہے )اوراللہ بڑا بخشنے ولا نہایت  مہربان ہے ۔‘‘نبی ﷺ نے فرمایاہے :مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ، (سنن ابی داؤد: 5115)’’جو شخص اپنےباپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعو ی کرے یا (کوئی غلام ) اپنے آقاؤں کی بجائےدوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالی کی مسلسل لعنت ہو ۔‘‘اللہ سبحانہ وتعالی نے منہ لولے بیٹے کے دعوے کو ،جس کو کوئی حقیقت نہیں ہوتی ، مسترد کردیا ، اس لیے اس سے متعلق وہ تمام احکام بھی ختم ہوگئے ، جن پر زمانہ جاہلیت میں عمل ہوتا تھا اور پھر اسلام کے ابتدائی دور تک ہوتا رہا ۔ زیر نظرکتابچہ ’’  محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  کی  کاوش ہے جس میں انہوں نے کسی  دوسرےکا بچہ گود لینے کی شرعی حیثیت اور اسے کے احکام ومسائل اور  اس سلسلے میں پیش  آنے مفاسد کا  آسان فہم  میں  ذکر کیا ہے  اوراولاد سے  محروم والدین کےلیے اس کی متبادل صورتیں بھی پیش کی ہیں۔اللہ تعالیٰ  مصنفہ کی اس  کاوش کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • ام عبد منیب

    دور  ِحاضر میں  مغرب میں ظاہری طور پر مرد اور عورت کا فرق  مٹ چکا ہے  مساوات کے جنون  میں عورتیں  مردوں کی طرح اور مرد عورتوں کی طرح نظر آنے اورکام کرنے کےجنون میں  مبتلا  ہوچکے ہیں۔لوگ  آپریشن کروا کر اور زنانہ  یا مردانہ ہارمونز کے انجکشن لگوا کر اپنی  جنس تبدیل کروا رہے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تخلیق کردہ  قوانین  فطرت میں بے  جار ردوبدل کرنےکی  گستاخانہ ،مشرکانہ اور سفاکانہ  حرکات جاری ہیں۔صنف نازک کی مشابہت کا  مطلب یہ ہے کہ مردکاعورت کی اورعورت کا مرد کی نقالی کرنا مرد کازنانہ چیزیں اور عادتیں جب کہ عورت کامردانہ چیزیں اور عادتیں اختیار  کرنا ہے۔مشابہت ایک شرعی اصطلاح  ہے جسے  تشبہ بھی  کہا جاتاہے  ۔اگر کوئی شخص اپنا لباس ،حلیہ  ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار   اپنی  صنف یا ہم پیشہ لوگوں کے علاوہ  کسی اورکا لباس ،حلیہ ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار  اپنا لے  تو اسے  تشبہ یا مشابہت کہا جاتا ہے  اسلام نے مشابہت یا  تشبہ اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔ارشاد  نبوی ہے  من  تشبه  بقوم فهو منهم(سنن ابو داؤد) ’’جس  نے کسی کی مشابہت اختیار کی  وہ انہی  میں سے   ہے ‘‘ایک اور حدیث میں  نبی کریم ﷺ نے مخنث مردوں پر اور اسی طرح مرد بننے والی عورتوں پر  بھی لعنت کی ہے۔اس لیے  صنف مخالف کی مشابہت حرام اورممنوع کام  ہے ۔اس کی روک تھام کےلیے  اسلامی حکومت او رمسلمان شہروں کےسربراہوں،امیروں،عاملوں اور کوتوالوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت علاقوں اورلوگوں میں دین  کی تعلیمات عام کریں ،انہیں ممنوعات اور منکرات سے روکیں اور معروف کاموں کی تلقین کریں۔ مسلمان امراء کو چاہیے  کہ مصنوعات تیارکرنے والی کمپنیوں پر یہ پابندی عائدکریں  کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں  کے لیے الگ  الگ شرعی    احکام کے مطابق اشیاء تیار کریں۔اگر پھربھی باز نہ آئیں تو پھر انہیں سزادیں  جو رسول اللہ ﷺ نے  صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کودی ۔سیدنا ابو ھریرہ ﷜  سے روایت ہے کہ  نبیﷺکے پاس ایک مخنث کو لایاگیا جس نے ہاتھ پاؤں پر میں مہندی لگائی ہوئی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے   دیکھ کر فرمایا : یہ ایسا کیو ں کرتا ہے   ۔صحابہ کرام ﷢ نے عرض کیا: یہ عورتوں کی مشابہت کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے  اسے  نقیع(چراہ گاہ) کی طرف بگا دینے کا حکم دیا  ۔ اور اسی طرح صحابہ کرام کے  دورِ خلافت میں میں بھی عورتوں کی نقالی کرنے والے مردوں کو یہی سزا دی جاتی  رہی ۔زیر نظر کتابچہ  ’’ صنف مخالف کی مشابہت  ایک  مہلک  بیماری ‘‘محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں  انہوں نے  صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے کی  شرعی حیثیت   اور اس کے مہلک  نتائج واثرات  کو پیش کرنے  کے ساتھ ساتھ   ان امور کو بھی ذکر کیا ہے  جن کی مشابہت سے  ایک  مسلمان کو گریز کرنا چاہیے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات  ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین) (م۔ا)

     

  • بکر بن عبد اللہ ابو زید

    فی زمانہ کسی بھی بین الاقوامی اجتماع میں جب تمام مذاہب کے ماننے والوں کو جمع کیا جاتا ہے تو مشترکہ طور پر اس اجتماع کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ ’’ تمام مذاہب یکساں اور بر حق ‘‘ ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی پیروی سے کا ٰئنات کے خالق اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے۔لہذا کسی ایک مذہب والے (خصوصاٌ اھل اسلام) کا اس بات پر اصرار کے اب تا قیا مت نجات کی سبیل صرف ہمارا دین و مذہب ہے یہ ایک بے جا سختی اور تشدد یا انتہا پسندی ہے، جس کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔پھر اس’’ نظریہ وحدت ادیان‘‘ کی تفصیل کچھ یوں بیا ن کی جاتی ہے کہ ’’ جب منزل ایک ہو تو راستوں کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘ یعنی ہر مذہب والا ایک بزرگ و بر تر ذات کی بات کرتا ہے جسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ، کبھی اللہ تو کبھی بھگوان اور کبھی God جبکہ حقیقتاٌ تمام مذاہب اللہ کی بندگی اور خوشنودی حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ، اس لئے ہر مذہب میں حق و انصاف ، انسان دوستی اور انسانی بھائی چارے کی تعلیم دی گئی ہے لھذا تمام انسانوں کو تمام مذاہب کا برابر کا احترام کرنا چاہیے، کسی ایک مذہب یا دین کی پیروی پر اصرار تشدد اور بے جا سختی ہے ، وغیرہ وغیرہ۔صاحب علم و صاحب مطالعہ حضرات یقیناًاس بات سے اتفاق کرینگے کہ یہ ’’نظریہ وحدت ادیان ‘‘ ایک جدید اصطلاح ہے جسے اسلام دشمن عناصر نے یا احباب نما اغیار نے ایجاد کیا ہے۔اور یہ ایک انتہائی اور اسلام مخالف اصطلاح ہے ،جس کا اسلام نے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ متعدد اہل علم میدان میں آئے اور انہوں نے اس باطل نظرئیے کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔جن میں سے مولانا سلطان احمد اصلا حی کی کتاب ’’وحدت ادیان کا نظریہ اور اسلام ‘‘ بہت مفید دکھائی دیتی ہیں۔شیخ امین اللہ پشاوری نے بھی اپنے فتاویٰ ’’الدین الخالص‘‘ مجلہ نمبر ۹ میں گرفت فرمائی ہے۔شیخ ابن بازؒ نے بھی علمی انداز سے نکیر فرمائی ہے جسے ’’مجموع فتاویٰ و مقالات متنوعہ ‘‘ کی جلد نمبر ۲ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔انہی کوششوں میں سے ایک یہ کاوش ڈاکٹر بکر ابو زید کی کتاب ’’الابطال لنظریۃ الخلط بین الادیان‘‘ ہے، جس کا اردو ترجمہ " اسلام کےساتھ یہودیت اور عیسائیت کی وحدت کے باطل نظریات کا رد "پاکستان کے معروف عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری نے کیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں اس باطل نظریئے کی ابتداء ،اس کے علم بردار اور اسے فروغ دینے والوں کو منکشف کرتے ہوئے قرآن وحدیث سے اس کا رد کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان مبارک کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • سید فضل الرحمن

    دنیا کی  دوسر ی اسلامی زبانوں کی طرح اردو  میں  شروع ہی  سے رسول کریم ﷺکی  سیرت طیبہ پر بے  شمار  کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات  کا موضوع  گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے  شاعرِ اسلام  سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی  تاریخ  میں  آپ ﷺ کی سیرت  طیبہ کے جملہ گوشوں پر  مسلسل کہااور  لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا  جاتا  رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے  کہ اس  پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے  گا۔ دنیا کی کئی  زبانوں میں  بالخصوص عربی اردو میں  بے شمار سیرت نگار وں نے  سیرت النبی ﷺ  پر کتب تالیف کی ہیں۔  اردو زبان میں  سرت النبی از شبلی نعمانی ،  رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور  مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول  آنے والی کتاب  الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری  کو  بہت قبول عام حاصل ہوا۔زیر نظر کتاب  ’’ فرہنگ سیرت ‘‘ششماہی  مجلہ ’’السیرۃ عالمی‘‘  کے مدیر  سید فضل الرحمن ﷾ کی  سیرت نبویﷺ کے  موضوع پر ایک منفرد  او رنئی کاوش ہے  ۔ جوکہ سیرت طیبہ  میں ذکر  ہونے والے  تقریبا تین ہزار الفاظ ،مقامات، شہر، شخصیات ،پہاڑوں ،چشموں ،قبائل وغیرہ پر مشتمل  جامع ترین لغت ہے۔اس میں سیرت طیبہ  سے متعلق 30  نقشے بھی شامل ہیں۔اللہ تعالی  فاضل مصنف کی اس منفرد کاوش  کو  شرف قبولیت سے  نوازے  (آمین)  (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39760448

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں