دکھائیں کتب
  • 1 آ سمانی جنت اوردرباری جہنم (بدھ 25 فروری 2009ء)

    مشاہدات:15697
    جنت اور جنہم دنیا میں کیے جانے والے اعمال کی جزا کا نام ہے-اپنے آپ کو اللہ کے حکموں کی پابندی کرنے والے اور اس کے احکامات کے مطابق اپنے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے جزا کے طور پر جنت اور اس کی نافرمانی کرنے والوں کے لیےجزا کے طور پر جنہم مقرر کی گئی ہے-اس كتاب کےپہلے حصے میں اللہ تعالی کے مہمان خانے یعنی جنت کی سیر کا تذکرہ ہے جبکہ دوسرے حصے میں زمین پربنی جعلی اور خودساختہ بہشت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا ہے-تیسرے اور چوتھے حصے میں مصنف نے  مزید دودرباروں پر ہونے والے مشاہداتی مناظر کا تفصیلی تذکرہ کیاہے-مثال کے طور پر ڈھول کی تھاپ پر اللہ کا ذکر،قبروں کا طواف،قبروں پر حج،بہشتی دروازے کی حقیقت اور لوگوں کا عقیدہ،درباروں اور مزاروں پر ہونے والے حیا سوز اور اخلاق سوز مناظر،ولیوں کی دھمالیں وغیرہ- اس کتاب کے مطالعے سے یہ بات بخوبی عیاں ہوجائے گی کہ موجودہ پرفتن اور آندھیوں کے دور میں اس درباری جہنم سے اللہ کی مخلوق کو نکال کر آسمانی جنت میں داخل کرنے کی کوشش کرنا کس قدر ضروری ہے-

  • 2 اتمام الخشوع باحکام مدرک الرکوع (اتوار 07 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1729

    نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔قیامت کےدن سب سے پہلے اس کے متعلق باز پرس ہوگی اس ذمہ داری سے عہدہ برآہ ہونے کےلئے کچھ لوازمات وارکان اور شرائط ہیں ان میں سے قیام اور قراءت سورۂفاتحہ سر فہرست ہیں ان کی ادائیگی کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔نماز میں بحالت رکوع شامل ہونے والا ان دونوں سے محروم رہتا ہے۔ لہذا اس حالت میں امام کے ساتھ شامل ہونے والے کو رکعت دوبارہ اداکرنا ہوگی چنانچہ حدیث میں ہے۔:'' کہ جس قدر نماز امام کے ساتھ پاؤوہ پڑھ لو اور جو (نماز کا حصہ) رہ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔(صحیح بخاری )اہل  علم کے  ہاں یہ  مسئلہ  مختلف   فیہ ہے  ۔زیر نظر کتابچہ ’’ اتمام الخصوع باحکام مدرک الرکوع ‘‘  شیخ  الحدیث مولانا  محمد یونس  قریشی  کی  کاوش ہے  جس میں انہوں احادیث اور کبار علماء اہل  حدیث کے  فتاویٰ جات  کو پیش  کرتے  ہوئے  ثابت کیا ہے کہ  نماز میں بحالت رکوع شامل ہونے والے شخص کی  رکعت نہیں  ہوتی ۔اللہ تعالی اس کتابچہ کوعوام الناس کے   لیے مفید بنائے  آمین) (م ۔ا )

     

  • 3 احساس کے آنسو (جمعرات 24 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2713

    سیدنا  یونس ﷤کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس ﷤کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینوی ٰمیں بستے تھے، ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے  حضرت یونس﷤کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے انکار کیا،اللہ  تعالیٰ نے یونس ﷤کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونس ﷤ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونس نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس ﷤کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس ﷤ رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا، اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کر لو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونس رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذابِ الٰہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر منڈلانے لگا اور فضاء آسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونس ﷤ کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس ﷤کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طر...

  • 4 استعماری تاریخ کے سیاہ اوراق (منگل 17 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:445

    استعماریت کے معنیٰ ایک ملک کے ذریعہ دوسرے ملک یا علاقہ کو بتدریج اور منظم طریقہ سے سیاسی اور اقتصادی طور پر محکوم بنانے یا ایسے محکوم علاقوں کو برقرار رکھنے کی پالیسی کے ہیں۔ اس معنیٰ میں نوآبادیوں یا محکوم علاقوں کا وجود قدیم زمانہ سے ملتا ہے۔ ایشیا میں عربوں، منگولوں اور چینیوں کی توسیع، استعماری نوعیت کی تھی۔ خصوصی طور پر استعمار سے مراد یورپی طاقتوں کی پندرہویں اور سولہویں صدی کی جغرافیائی دریافتوں کے بعد سے سمندر پار علاقوں میں جنگ، فتوحات اور خالی علاقوں میں نوآباد کاری کی کوششوں سے ہے۔ استعماری طاقتیں نئے علاقوں کی تلاش، نوآباد کاری اور جنگ کے حادثوں سے استعماری طاقتیں بن گئیں۔ یورپی استعمار انیسویں صدی کے خاتمہ تک اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا جس کے محرکات سیاسی اور اقتصادی دونوں تھے۔ ایشیا اور افریقہ میں یورپ کی استعماری توسیع کا محرک سامراجیت بھی تھی یعنی اندرون یورپ بڑی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں سمندر پار مقبوضات کا حصول قومی طاقت کی نشانی اور اس کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔استعماری تسلط اور استعماری حکومت کے جواز میں کئی طرح کے دلائل دئیے جاتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’استعماری تاریخ کےسیاہ اوراق‘‘ جناب شہباز حسین بارا کی کاوش ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں انسانی تاریخ کےانتہائی المناک پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔تاریخ کے یہ تلخ اور سیاہ ابواب کمزور قوموں کے خلاف استعمار یعنی طاقتور ظالم قوموں کے ظلم کی عبارت ہیں اور نئی نسل کے لیے معلومات او رہنمائی کا خزانہ لیے ہوئے ہیں۔مصنف موصوف نے بڑے جذبے اور ہمت کےساتھ تاریخ کےمخت...

  • 5 اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟ (پیر 09 نومبر 2009ء)

    مشاہدات:13369
    اسلام ایک ایسا آفاقی اورفطری مذہب ہے جس نے ہر دور میں اطراف واکناف میں پھیلے ہوئے جن وانس کو اپنی ابدی تعلیمات سے مسحور کر دیا- یہی وہ مذہب ہے جس کے سایہ عاطفت میں آکر ہر شخص اس قدر سکون واطمینان محسوس کرتا ہے جس سے وہ کبھی بھی آشنا نہ تھا- یہی وجہ ہے کہ مغرب کے مادی معاشرے میں سکون و اطمینان کی تلاش میں سرگرداں لوگ بھی اسی مذہب کی آغوش میں ہی حقیقی سکون محسوس کرتے ہیں- زیر مطالعہ کتاب در اصل حنیف شاہد کتاب Why Islam is our choice کا اردو ترجمہ ہے-جس میں مصنف نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے قبول اسلام کے حوالہ سے واقعاتِ زندگی،تجربات، سابقہ عقائد، اسلام کے بارے میں تاثرات اور قبول اسلام کی وجوہات پر مبنی بیانات کو جمع کیا ہے- کتاب میں انتہائی عرق ریزی کے ساتھ کرہ ارض کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی مختلف قومیتوں کے رؤسا، دانشور، معززین اور عام مرد و خواتین  کے اسلام اور قرآن کے بارے میں خیالات ومشاہدات پیش کیے گئے ہیں-
  • 6 اسلامی بنکاری نظریاتی بنیادیں اور عملی تجربات (جمعہ 01 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1570

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے، جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔اسلام کے انہی درخشندہ اصولوں کو فروغ دینے کے لئےفیڈرل شریعت کورٹ نے 14 نومبر 1991ء کو ایک تاریخی فیصلہ دیا کہ سود اپنی تمام شکلوں کے ساتھ حرام ہے اور ملک کی معیشت کو اس لعنت سے جلد از جلد پاک کیا جائے۔لیکن حکومت وقت نے عدالت عالیہ میں جا کر اس فیصلے کے خلاف حکم التواء حاصل کر لیا اور یہ فیصلہ آج تک عملی طور پر نافذ نہ ہو سکا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی بنکاری، نظریاتی بنیادیں اور عملی تجربات "پروفیسر ڈاکٹر اوصاف احمد صاحب ریسرچ سکالر اسلامی ترقیاتی بینک کے اسلامی بینکاری کے عملی تجربات پر مشتمل ہے، جو پہلے انگریزی میں بھی شائع ہو چکی ہے۔یہ ایک انتہائی قیمتی دستاویز ہے جس میں اردو دان طبقے کے سامنے پہلی بار اسلامی بینکاری کے 25 سالہ تجربات کا نچوڑ پیش کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 اسلامی دستور کے بنیادی اور رہنما اصول (ہفتہ 02 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1187

    عرصہ دراز سے جدیدتعلیم یافتہ لوگوں کی طرف سےیہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اسلام میں لچک پیدا کی جائے۔اور اب یہ مطالبہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلام کی تشکیل جدید کی جائے۔حیرت کی بات ہے کہ اگر تو یہ لوگ اسلام کو جانتے ہیں ، تو پھر یہ اسلام کو کیا بنانا چاہتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو پھر اسے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ہیں۔کسی بھی مذہب کی تشکیل جدید یا اس میں مقرر شدہ رعایتوں کے بعد لچک اگر تحریف یا تبدیلی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے، یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی دستور کے بنیادی اور رہنما اصول"محترم مفتی عزیز الرحمن صاحب ک...

  • 8 البلاغ المبین فی احکام رب العالمین (ہفتہ 02 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1927

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا  کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا  وغیرہ ایسے اعمال جو  شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"البلاغ المبین فی احکام رب العلمین واتباع خاتم النبین" حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی فارسی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا محمد علی مظفری صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں قبر پرستی کی حرمت اور شرک کی مذمت پر گفتگو کی ہے۔مولف کی اس کے علاوہ بھی متعدد کتب ہیں، جو تقلید کے خاتمے اور شرک کی مذمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ (ہفتہ 06 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1658

    عداوتوں میں سے بد ترین عداوت وہ ہوتی ہے جو دوستی کے پیرائے میں اختیار کی جائے اور انسان کو پتہ ہی نہ چل پائے کہ اس لباس خلعت میں ملبوس شخصیت اس کی دوست نہیں بلکہ اس کی دشمن ہے۔انسان اپنے کھلے دشمن سے نقصان اٹھا سکتا ہے ،مگر دھوکہ نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن دوستی کے لباس میں ملبوس دشمن سے انسان نقصان بھی اٹھاتا ہے اور دھوکہ بھی کھاتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا مصداق بننے والے  حافظ ابو خالد ابراہیم المدنی ہیں،جو اپنے خود ساختہ شہوت پرستانہ نظریات کے لئے بہت سی احادیث نبویہ کو تختہ ستم بنا بیٹھے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو معیار اول قرار دیتے دیتے اسے اپنا ہتھیار بے بدل بھی بنا بیٹھے ہیں کہ جب چاہا جیسے چاہا اسے توڑ مروڑ کر مغربی تہذیب کا لبادہ اڑھا دیا۔زیر تبصرہ کتاب " امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ " فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نام نہاد سکالر  ابو خالد المدنی کی انکار حدیث پر مبنی  کتاب " امراۃ القرآن "کا علمی وتحقیقی رد کیا ہے ۔ابو خالد مدنی نے اپنی کتاب میں پردے کو جاہلانہ رسم قرار دیتے ہوئے اسے ملاؤں کی رسم قرار دیا ہے اور پردے سے متعلق احادیث نبویہ کا انکار کر دیا ہے۔چنانچہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾نے اس کی اس بدنام زمانہ کتاب کا ایک علمی وتحقیقی جواب دیا ہے،اور مستند دلائل کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر﷾ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح امت کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

    محدث کتب لائبریری  تاریخ  تمام کتب 

  • 10 اوراق ہند (بدھ 18 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:150

    لفظ "ہند" عرب کے لوگ فارس اور عرب کے مشرقی علاقے میں آباد قوموں کے لیے استعمال کرتے تھے اور اسی سے ہندوستان کی اصطلاح برصغیر کے بیشتر علاقے کے لیے استعمال ہونا شروع ہو گئی۔ مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے تحت بادشاہتِ ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں۔ آخر برصغیر پاک و ہند کا سارا علاقہ برطانوی تسلط میں آ کر "برطانوی انڈیا" یا "ہندوستان" کہلانے لگا۔ یہ صورتِ حال 1947ء تک برقرار رہی۔ اس میں موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان شامل تھے۔ 1947ء کے بعد یہاں دو ملک بن گئے جنہیں بھارت اور پاکستان کہا گیا۔ بعد ازاں پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے علاحدہ ہو گئےہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب’’اوراق ہند ‘‘ ہندوستان کی تاریخ کے متعلق ایک مغربی مصنف والتیئر کا تحریر کردہ ایک تاریخی اور ادبی شاہکار ہے ۔ جس کی حمیرا اشفاق نے ترتیب وتدوین کی ہے ۔ مصنف نے اس چھوٹی سی کت...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 577
    • اس ہفتے کے قارئین: 1349
    • اس ماہ کے قارئین: 7566
    • کل مشاہدات: 41235346

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں