دکھائیں کتب
  • 61 تاریخ اسلام کے فدائی دستے (جمعرات 19 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:18296

    ہر قوم اپنے وجود کے مٹنے کے خدشہ پر دشمن کے وجود کو مٹانے پرتل آتی ہے یا کم از کم اپنا دفاع کرتی ہے۔ اسلام نے نظریہ اسلام اور دین کی پاسداری کے لیے دشمن اسلام سے لڑنے کے اصول و ضوابط مقرر کردیے ہیں اور یہ اصول دین اسلام  کو تمام ادیان پر فائق کرتا ہے کہ جس کے جنگی اصولوں میں یہ بات ہو کہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور جو ہتھیار نہ اٹھائے ان کو قتل نہیں کرنا۔  دشمن کو جلانا نہیں، دشمن کا مثلہ کرنا حرام ہو، دشمن کو جلانا ممنوع ہو، قیدیوں سے اچھے سلوک کی ترغیب دلائی گئی ہو اور قیدی عورتوں کی عصمت دری سے روکا گیا ہو۔ یہ وہ تمام اوصاف ہیں کہ جنہیں اپناکرایک مسلمان اپنے دشمنوں کے دل بھی جیت لیتا ہے۔دوران جنگ ایسے مواقع پیش آتے ہیں کہ  مجاہد کے دل میں جذبہ شہادت کی لہر اس قدر موجزن ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں میں موت کی پرواہ کئے بغیر گھس جاتا ہے اور دشمن اسلام کا نقصان کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوجاتا ہے۔تاریخ اسلام میں ایسی بہت  سی مثالیں ہیں کہ جن میں غازیان اسلام نے ایسی کاروائیاں سرانجام دیں کہ اپنے وجود کو انتہائی خطرے میں ڈال کر دشمن کو نقصان پہنچایا۔ فدائی اور خود کش حملہ میں یہ فرق ہے کہ فدائی حملہ میں جان کے بچ جانے کا  کم از کم ایک فیصد امکان ہوتا ہے جبکہ خود کش حملے میں 100 فیصد جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔جہاد کشمیر کی جنگ کے تناظر میں جب مجاہدین نے فدائی کاروائیاں شروع کیں تو ان کاروائیوں پر خودکشی کے اعتراضات وارد ہوئے جن کے جواب میں جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا عبدالرحمٰن مکی نے فدائی حملوں  کے دفاع میں  ماہنام...

  • 62 تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقائق (بدھ 07 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1140

    اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔ تاہمصدر اسلام میں جب خلفائے راشدین تاریخ اسلام کے ابواب صفحہ ہستی پر منقوش کر رہے تھے تو عجمی دسیسہ کار تاریخ اسلام کے ان زریں اور تابناک ابواب کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات تمام صنف اناث میں ہی نہیں بلکہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں سے شرف مجد میں بلند ترین مقامات پر فائز تھیں۔مگر عجمیت کے شاطر،عیار، اورخبیث افراد نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بڑی چابکدستی سے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور امہات المومنین پر طرح طرح کے بہتانات لگائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقائق‘‘حافظ سید محمد علی حسینی کی تصنیف ہے۔ جس میں تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقیقتوں کو واضح کیا ہے۔ مزید اس کتاب میں خاندان بنی عبد الشمس اور بنی ہاشم، خلافت اور خلافت راشدین کے متعلق تاریخ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 63 تاریخ اقوام عالم (پیر 10 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1460

    علمی تحقیقات کے ذوق نے عصر حاضر کے انسان پر نئی نئی دریافتوں اور ایجادوں کے دروازے کھول دئیے ہیں ۔جدید انکشافات اور ایجادات نے نوع انسانی کو ایک کنبے اور سطح ارضی کو ایک محدود رقبے کی حیثیت دےدی ہے ہر انسان دنیا بھر کےدور دراز مقامات کی آوازیں اسی طرح سن سکتا ہے جس طرح اپنے ہمسائے کے گھر کی آوازیں سنتا ہے ۔ جدید ذارئع ابلاغ ہر شخص کو ہر صبح دنیا بھر کے حالات سے باخبر کردیتے ہیں۔ دنیا کےایک سرے میں واقعات وحالات کی تبدیلیاں فوری طور پر دوسرے سرے کی آبادیوں پ اثر ڈالتی ہیں ۔ انسان کے فکر وعمل کی تحریکیں عالم گیر حیثیتیں اختیار کررہی ہیں۔ان حالات میں محض کسی ایک قوم ایک گروہ یا ایک ملک کی تاریخ کا مطالعہ انسانی فکر ونظر میں وہ وسعت پیدا نہیں کرسکتا ہے جو موجودہ دور میں زندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہے ۔عصر حاضر کی عالم گیر تحریکات کو جو ساری دنیا کےانسانوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں اسے سمجھنے ، جانچنے اور پرکھنے کےلیے ہر فرد ، بشر کو نوع انسانی کی تاریخ سے آگاہ ہونا ضروری ہے ۔ تاکہ اس کے فکر کی قوتوں میں عصر حاضر کی تحریکات کی صحیح طور پر جائزہ لینے کی اہلیت پیدا ہو اور اس کا زاویہ نگاہ وسیع ہوجائے۔یورپی اقوام کے لٹریچر میں ہرقوم ، ہر ملک اور چھوٹے بڑے موجود یا گزشتہ گروہ کی بیسیوں مبسوط اورجامع تاریخوں کےعلاوہ نوع بشر کےتاریخی حالات یک جا بتا نےوالی متعدد کتابیں موجود ہیں ۔جبکہ تاریخ کی ایسی کتابوں سے اردو زبان کا دامن تہی نظر آتا ہے ۔
    زیر تبصرہ کتا ب’’ تاریخ اقوام عالم ‘‘ مرتضیٰ احمد خاں مے کش کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں...

  • 64 تاریخ المکۃ المکرمہ (جمعہ 25 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:2045

    بلدحرام مکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کو سب شہروں سےزیادہ محبوب ہے ۔ مسلمانوں کا قبلہ اوران کی دلی محبت کا مرکز ہے حج کا مرکز اورباہمی ملاقات وتعلقات کی آماجگاہ ہے ۔ روزِ اول سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعظیم کے پیش نظر اسے حرم قرار دے دیا تھا۔ اس میں ’’کعبہ‘‘ ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا سب سےپہلا گھر ہے ۔ اس قدیم گھر کی وجہ سےاس علاقے کو حرم کا درجہ ملا ہے۔ اوراس کی ہر چیز کو امن وامان حاصل ہے ۔ حتیٰ کہ یہاں کے درختوں اور دوسری خورد ونباتات کوبھی کاٹا نہیں جاسکتا۔ یہاں کے پرندوں اور جانوروں کوڈرا کر بھگایا نہیں جاسکتا۔اس جگہ کا ثواب دوسرےمقامات سے کئی گناہ افضل ہے۔ یہاں کی ایک نماز ایک لاکھ نماز کا درجہ رکھتی ہے ۔ مکہ مکرمہ کو عظمت ، حرمت او رامان سب کچھ کعبہ کی برکت سےملا ہے۔مکہ مکرمہ تاریخی خطہ حجاز میں سعودی عرب کے صوبہ مکہ کا دارالحکومت اور مذہب اسلام کا مقدس ترین شہر ہے۔ مکہ جدہ سے 73 کلومیٹر دور وادی فاران میں سطح سمندر سے 277 میٹر بلندی پر واقع ہے ۔ یہ بحیرہ احمر سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔یہ شہر اسلام کا مقدس ترین شہر ہے کیونکہ روئے زمین پر مقدس ترین مقام بیت اللہ یہیں موجود ہے اور تمام باحیثیت مسلمانوں پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ یہاں کا حج کرنا فرض ہے ۔مسجد حرام کے اندر قائم خانۂ کعبہ سیدنا ابراہیم ﷤اور سیدنا اسماعیل ﷤ نے تعمیر کیا ۔کعبۃ الله کی تعمیری تاریخ عہد ابراہیم اور اسماعیل ﷩سے تعلق رکھتی ہے اور اسی شہر میں نبی آخر الزماں محمد ﷺپیدا ہوئے اور اسی شہر میں نبی ﷺپر وحی کی...

  • 65 تاریخ اہل حدیث ( احمد دہلوی ) (اتوار 11 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1071

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اہل حدیث "  محترم مولانا احمد...

  • 66 تاریخ اہلحدیث گوجرانوالہ (جمعرات 10 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1253

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضرت شیخ الکل کے تلامذہ توحید وسنت کےپیغام کولے کر اطراف  عالم میں  پھیل گئے –پنجاب اوربنگال خاص طور پر شیخ  الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی﷫ کے  فیوض سے مستفید ہوا۔ میاں  صاحب کے شاگرد دہلی سے نکلے اور پنجاب سے گزرتے ہوئے پشاور کی خشک پہاڑیوں تک پھیل گئے۔ گوجرانوالہ ، وزیر، لاہور ، امرتسر،گجرات تمام شہر اس علمی فیض باری سے روشن ہوئے۔مولانا علاؤ الدین مرحوم کے زہد وتواضع نےگوجرانوالہ میں توحید کی شمع جلائی ۔ مولاناغلام قلعوی﷫ قلعہ میاں سنگھ،پیر میر حید ر صاحب اس علاقہ میں توحید وسنت کی اشاعت کے موجب بنے ۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصرین پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپن...

  • 67 تاریخ ایران جلد1 (اتوار 06 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:22869

    تاریخ ایران   اردو دان طبقہ کے لیے ایک قیمتی دستاویز ہے جو اپنے اندربیش بہا معلومات کا خزینہ لیے ہوئے ہے ۔اس میں ایران کی تاریخ کے حوالے سے  قریبا تمام پہلووں سے بحث کی گئی ہے ۔ مثلا ایران کے حدود اربعہ ، تہذیب و ثقافت ، انداز سیاست ،فنون لطیفہ ،زبان کا ارتقاء اور مذہب کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔کتاب کو مختلف آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔جن میں درج ذیل امور پر بحث کی گئی ہے ۔ ایران کے طبعی حالات، ہمسایہ اقوام، ایران کا دور قبل از تاریخ، قدیم ایران کے آریا او ر آل ماد، ہخامنشی دور، سیلوکی دور، اشکانی دوراور ساسانی دوروغیرہ۔

    مذکورہ تالیف دو ضخیم جلدوں میں ہے۔ اس کے مولف پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی ہیں  جو ایرانی تاریخ کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کے ادیب بھی ہیں ۔ موصوف متعدد کتب کے مصنف او رفارسی کے پروفیسر ہیں۔(ناصف)
     

  • 68 تاریخ بیت اللہ شریف (منگل 22 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:2357

    خانہ کعبہ، کعبہ یا بیت اللہ مسجد حرام کے وسط میں واقع ایک عمارت ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف رخ کرکے مسلمان عبادت کرتے ہیں۔ یہ دینِ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔ سیدنا ابراہیم ﷤ کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کےپتھر استعمال ہوئےتھےجبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو سیدنا ابراہیم ﷤ نےرکھےتھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604ء میں اپنےمالی مفادات کےتحفظ کےلئےاس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتےتھےوہ چوری ہوجاتی تھیں۔قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔اور اس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سےبھی محفوظ رہے، مغربی دروازہ بند کردیا گیا جبکہ مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا گہ کہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک ﷺ (جو اس تعمیر میں شامل تھےاور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنےکا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔سیدنا عبداللہ بن زبیر ﷜ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے اور سیدنا حسین ﷜ کی شہادت کےبطور احتجاج یزید بن معاویہ سےبغاوت کرتے...

  • 69 تاریخ بیت المقدس (بدھ 23 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:3551

    بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت  کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق  کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو  فتح کیا تو سیدنا عمر  نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد...

  • 70 تاریخ حجر اسود (پیر 18 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2002

    حجر اسود کے بارے میں سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ خانہ کعبہ میں لگا ہوا وہ مبارک پتھر ہے جسے چومنا یا ہاہاتھ لگانا ہر مسلمان اپنے لئے باعث سعادت سمجھتا ہے لیکن یہ حجر اسود ہے کیا ؟ اس کی تاریخ کیا ہے ؟اس بارے میں مستند معلومات کی کمی ہے ۔اسلامی عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیم  نے جب خانہ کعبہ تعمیر کیا تو حضرت جبرائیل ؑ جنت سے لائے تھے اور بعد میں تعمیر قریش کے دوران نبی کریم ﷺنے اپنے دست مبارک سے اس جگہ نسب کیا۔اس وقت یہ پتھر دودھ کی طرح سفید تھاجو بنی آدم کے گناہوں کے سبب سیاہ ہوگیا ۔حجاج بن یوسف کے کعبہ پر حملے میں یہ مقدس پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا جسے بعد میں چاندی میں مڑھ دیا گیا ۔ اس مقدس پتھر نے کئی ادوار دیکھے ۔ اس کتاب میں جناب علی شبیر صاحب حجر اسود کی مکمل اور مستند تاریخ تفصیل کے ساتھ بیان کر دی گئی ہے۔(م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 98
  • اس ہفتے کے قارئین: 9945
  • اس ماہ کے قارئین: 30638
  • کل مشاہدات: 45310139

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں