دکھائیں کتب
  • 51 بہتے لہو کی کہانی (جمعرات 01 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1271

    افغانستان کی سرزمین اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے صدیوں سے تاریخی اہمیت کی حامل چلی آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی اکثر طاقتوں نے ہمیشہ اس ملک کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ہےاور ایشیا کے اس خطے کے ممالک پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لئے افغانستان کو اپنی منزل کی جانب پہلے زینے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ان ممالک میں سرفہرست روس ہے جس کو خلیج کے گرم پانیوں تک پہنچنے کی وصیت ورثے میں ملی ہے۔جس کے حصول کے لئے اس نے پہلے وسط ایشیا کی مسلمان ریاستوں کو ہوس ملک گیری کا نشانہ بنایا۔پھر اگلے مرحلے میں افغانستان کو اپنا ہدف ٹھہرایا۔افغانستان میں روس کی حکمت عملی نہایت کامیاب رہی۔ایک طرف اس نے افغانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا تو دوسری طرف اقتصادی معاہدوں کی آڑ میں اپنے سیاسی اور فوجی مشیر بھیجنے شروع کر دئیے جو اپنے ملک کے خفیہ مگر دور رس منصوبے نہایت اطمینان سے مکمل کرنے لگے۔چنانچہ ایک وقت کے بعد روس نے براہ راست افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا اور لاکھوں افغان اس سرخ عفریت کا شکار ہو گئے۔ زیر تبصرہ کتاب " بہتے لہو کی کہانی " ببرک لودھی کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے افغانستان کی اسی المناک اور خون ریز تاریخ کو بیان کیا ہے۔ببرک لودھی افغانستان کے ایک مایہ ناز صحافی ہیں،جنہوں نے افغانوں کی فلاح وبہبود کے لئے اپنے قلم کو استعمال کیا اور زیر نظر کاوش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔(راسخ)

  • 52 بیسویں صدی کے اہم واقعات (جمعہ 20 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1184

    بیسویں صدی جب  شروع ہوئی تو جنگ بوئر شروع ہوچکی تھی۔ابھی جنگ بوئر جاری تھی کہ روس جاپان جنگ کےلیے  راہ  ہموار ہونے لگی۔ اسی دوران جنگ بلقان شروع ہوگئی ۔ ادھر جنگ بلقان ختم ہوئی ادھر پہلی جنگ عظیم     کے بادل  دنیائے آسمان پر چھانے لگ جنگ عظیم لاکھوں انسانوں کےلہو سےہاتھ رنگنے کےبعد اپنے انجام   کو پہنچی تو ہٹلر نےاتحادیوں  کےہاتھوں جرمن قوم کی ذلت ورسوائی کا بدلہ لینے کے لیے دوسری جنگ عظیم کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں ہیرو شیما اور ناگا سا کی  پر ایٹم بم پھینکنے کے واقعات رونما ہوئے اور دنیا کو پہلی مرتبہ انسانی خون کی ارزانی کا احساس ہوا۔الغرض بیسویں صدی اپنے آغاز سےہی ہنگامہ خیز واقعات سے بھر پور اور کروڑوں انسانوں کےلہو سےرنگین نظرآتی ہے۔اس صدی نے جہاں انسان کو جنگوں کی ہولناکیوں کے سپرد کرنے کااہتمام کیا وہاں  انسان نے سیاسی تہذیبی ، تمدنی ، سائنسی ، معاشی ، طبی، اور لسانی میدان میں حیرت انگیز حدتک پیش رفت کی ۔ نئی ایجادات نے انسان کو تیز رفتار زندگی کی طرف مائل کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑی بڑی سلطنتیں سکڑ کر رہ گئیں اور نظریات  پھیلنا شروع ہوئے۔ برطانیہ کےاقتدار  کا سورج غروب ہوا اور دنیا کے نقشے پر نئی ریاستیں نمودار  ہوئیں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں  نےقائد اعظم  کی قیادت میں برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی ۔ بیسویں صدی کی ایجادات  نےانسان کو چاند پرپہنچا دیا کمپیوٹر کی ایجاد نےدنیا میں ایک انقلاب  برپا کردیا انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ کی بدولت دنیا  گلوبل ولج کی...

  • 53 بے موسم پھل (منگل 12 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1727

    سیدہ مریم علیہا السلام وہ خاتون ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰ ﷤ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو جنم دیا۔رسول پاکﷺ کا فرمان ہے کہ "شیطان سب بچوں کو پیدا ہوتے وقت چھیڑتا ہے مگر حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں چھیڑ سکا۔ان کی والدہ نے بھی اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ان کو ان کی اولاد کو شیطان سے بچائیو۔چناچہ ایسا ہی ہوا۔آپ علیہا السلام کے والد کا نام عمران ﷤اور والدہ کا نام حنہ علیہا السلام تھا۔ جب حضرت حنہ علیہا السلام والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو حمل ہوا تو انہوں نے اللہ سے منت مانی کہ اگر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو وہ اسے ہیکل کی خدمت کے لیے آزاد چھوڑ دیں گی۔ یعنی دنیا کے کام ان سے نہ لیں گی۔ان کے ہاں لڑکی یعنی حضرت مریم علیہا السلام پیدا ہوئی تو ان کو تاسف ہوا کہ ان کی منت پوری نہ ہوسکی کیونکہ لڑکی ہیکل کی خدمت پوری طرح نہ کر سکتی۔جب سیدہ مریم علیہا السلام سن شعور کو پہنچیں تو سوال اٹھا کہ مقدس ہیکل کی امانت کس کے سپرد کی جائے تو ہر ایک نے خواہش ظاہر کی کہ مقدس امانت اس کے سپرد کی جائے۔چناچہ قرعہ ڈالا گیا،تو قرعہ حضرت زکریا ﷤ کے نام کا نکلا۔آپ ﷤اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور حضرت مریم علیہا السلام کے خالو بھی تھے۔حضرت زکریا ﷤نے ہیکل کے قریب ہی ایک حجرہ حضرت مریم علیہا السلام کے لئے مخصوص فرما دیا تا کہ دن کے وقت وہ حضرت مریم علیہا السلام وہاں عبادت کر سکیں۔رات کے وقت وہ حضرت مریم علیہا السلام کو ان کی خالہ ایشاع یعنی اپنی زوجہ کے پاس لے جاتے اور حضرت مریم علیہا السلام رات وہاں بسر فرماتیں۔حضرت مریم علیہا السلام اپنے...

  • 54 تاریخ ابن خلدون جلد 1 (ہفتہ 08 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:18271

    کسی بھی معاشرے کی تعمیر کے لیے یہ عنصر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ معاشرہ اپنی تاریخی روایات سے سبق سیکھتا رہے۔ تاریخ ہی اس بات سے پردہ اٹھاتی ہے کہ کن اسباب کی بناء پر ایک قوم ترقی کرتی ہے کس قسم کے نقائص کی وجہ سے ایک قوم زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کی تیسری جلد کا پہلا حصہ آپ کے سامنے ہے جس میں اسلامی تاریخ کے نہایت درخشاں دور کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدون نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ زمانہ قبل ازاسلام کے واقعات کو مختصراً قلمبند کرنے کے بعد ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر وفات تک کے تمام قابل ذکر واقعات کو بیان کیا ہے۔  اس کے بعد خلفائے راشدین کے زریں عہد خلافت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس میں خلفائے راشدین کی زندگیوں، ان کے دور میں ہونے والی فتوحات اور مسلمانوں کے کارناموں کو پوری تفصیل و توضیح کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس حصے کے ترجمے کے لیے حکیم احمد حسین الہ آبادی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور ترتیب و تبویب کے فرائض شبیر حسین قریشی نے بخوبی نبھائے ہیں۔

     

     

  • 55 تاریخ ابن خلدون( قبل ازاسلام ،تاریخ الانبیاء) (جمعہ 07 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:12038

    تاریخ ایک انتہائی دلچسپ علم ہے خاص طور پر اسلامی تاریخ، جس میں صداقت کو خصوصاً ملحوظ رکھا گیا ہے دنیا کی تاریخ جھوٹے سچے واقعات سے پُر ہے، جس سےاس کی افادیت کا پہلو دھندلاگیا ہے ۔ تاریخ اسلامی پر مشتمل علامہ عبدالرحمن ابن خلدون کی زیر مطالعہ کتاب کی ورق گردانی سے آپ جان سکیں گے کہ اسلامی تاریخ میں تاریخی واقعات کو حقیقی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کے رطب و یابس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ آپ کےسامنے اس وقت ’تاریخ ابن خلدون‘ کا پہلا اور دوسرا حصہ ہے۔ پہلے حصے میں علامہ موصوف نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد چھٹی صدی عیسوی تک کے حالات و انساب تفصیل کےساتھ درج کیے ہیں۔ ان میں انبیائے بنی اسرائیل و عرب اور بابل و نینوا و موصل و فراغہ کے صحیح اور سچے واقعات شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریباً چھ سو سال کے مکمل حالات، عقائد و افکار میں تغیرات، مراسم اور توہمات کی پیداوار اور ان کے نتائج کی پوری تفصیل و استناد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

     

  • 56 تاریخ ابن کثیر ترجمہ البدایہ والنہایہ ۔ جلد1 (بدھ 26 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:27496

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

    تاریخ اسلام 

  • 57 تاریخ اسلام ( معین الدین ندوی ) جلد اول (اتوار 23 اگست 2015ء)

    مشاہدات:4769

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف  کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا  دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے  مار کھا رہے ہیں  کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ  قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام "شاہ معین الدین احمد ندوی صاحب کی کاوش ہے جو دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اس کی پہلی جلد عہد رسالت،...

  • 58 تاریخ اسلام (اول) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:15444

    تاریخ،تہذیب وتمدن کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسانیت کے خدوخال اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے  ساتھ بڑی وضاحت سے اجاگر ہوتے ہیں انسانی تہذیب نے خوب سے خوب تر کی تلاش میں جو ارتقائی سفر طے کیا اور جن وادیوں اور منزلوں سے یہ کاروان رنگ وبو گزرا ہے ان کی روداد جب الفاظ کا پیکر اختیار کرتی ہے تو ’’تاریخ‘‘ بن جاتی ہے لیکن تاریخ ماضی کےواقعات کو دہرا دینے کا ہی نام نہیں بلکہ ماضی کی بازیافت کا فن ہے ۔ظاہر ہے کہ کچھ مخصوص افراد کےنام گنواکر یا کچھ چیدہ شخصیتوں کے حالات لکھ کر عہد گزشتہ کو زندہ نہیں کیا جاسکتا ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ واقعات کے اسباب ونتائج کو گہری نظر سے دیکھا جائے اور احتجاجی زندگی کی ان قدروں کا جائزہ لیا جائے جو اقوام وملل کے عروج وزوال سے گہرا تعلق رکھتی ہیں ۔اور علم تاریخ ایک ایسا علم ہے کہ ہردور میں اس سے لوگوں کو دلچسپی رہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنے ماضی سے لگاؤ رہا ہے وہ اپنے پیچھے پھیلے ہوئے لامتناہی ارتقائی راستوں کی طرف مڑکر دیکھنا پسند کرتاہے کیونکہ ہر گزرا ہوا لمحہ اور اس سے وابستہ یادیں عزیز ہی نہیں ہوتیں بلکہ متاع حیات کا درجہ رکھتی ہیں۔ ماضی کا مطالعہ حال کو سجھنے اور مستقبل کے بہتر بنانے میں بڑی مدد دیتاہے گزرے ہوئے زمانےکو فراموش کرکے حال ومستقبل کو ساز گار بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔

    ’’تاریخ اسلام‘‘میں رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے لےکر زوال خلافت تک کا دور نہایت شاندار انداز میں بیان کیا گیاہے کتاب کا انداز ایسا دلچسپ اور پرسوز ہ...

  • 59 تاریخ اسلام کوڈ نمبر 974 یونٹ 1 تا 18 (ہفتہ 08 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1631

    تاریخ اسلام کا آغاز پہلے نبی اور رسول کی آمد سے ہی ہو جاتا ہے۔تاریخ اسلام، چودہ صدیوں کے واقعات،حادثات، نشیب وفراز اور احوال وحالات پر مشتمل ہے۔تاریخ کے ذریعے ہم اپنے اسلاف کے کارہائے نمایاں سے واقف ہوتے ہیں۔تاریخ کے مطالعہ سے حوصلہ بلند ہوتا ہے اور دانائی وبصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام برائے ایم اے علوم اسلامیہ، کوڈ نمبر974" محترم ڈاکٹرمحمد سجادصاحب  کی کاوش ہے ۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ وثقافت نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔اس کورس میں تاریخ اسلام کے تمام ادوار اور اس سے قبل کے حالات کی آگاہی پیش کی گئی ہے۔۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 60 تاریخ اسلام کوڈ نمبر 974 یونٹ 1 تا 9 (جمعہ 07 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1403

    تاریخ اسلام، چودہ صدیوں کے واقعات،حادثات، نشیب وفراز اور احوال وحالات پر مشتمل ہے۔تاریخ کے ذریعے ہم اپنے اسلاف کے کارہائے نمایاں سے واقف ہوتے ہیں۔تاریخ کے مطالعہ سے حوصلہ بلند ہوتا ہے اور دانائی وبصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام، کوڈ نمبر 974" محترم ڈاکٹر سید مطلوب حسین کی کاوش ہے، جس کی نظر ثانی محترم ڈاکٹر علی اصغر چشتی نے فرمائی ہے۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے کلیہ عربی وعلوم اسلامیہ نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔یہ کورس سیرت طیبہ اور خلافت راشدہ کے ادوار پر مشتمل ہے جو انسانیت کے لئے نمونہ عمل، معیار ہدایت اور مشعل راہ ہے۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1544
    • اس ہفتے کے قارئین: 7021
    • اس ماہ کے قارئین: 35270
    • کل قارئین : 46485591

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں