کل کتب 288

دکھائیں
کتب
  • 21 #5407

    مصنف : سید عبد الحئی ندوی

    مشاہدات : 2570

    اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں

    (منگل 14 مارچ 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    حکیم سید عبد الحی ندوی عالم اسلام کے معروف اسلامی سکالر و ادیب،مصنف کتب کثیرہ مولانا سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے والد گرامی ہیں۔ موصوف اپنے وقت کے معروف عالم دین اور مؤرخ تھے مولانا عبد الحی صاحب کی آٹھ جلدوں میں مبسوط نزھۃ الخواطر کو آج بھی دینی وعلمی حلقوں میں حوالے کی کتاب کے طور پر بلند مقام حاصل ہے۔ اس میں انھوں نے ساڑھے چار ہزار سے زائد شخصیات کے حالات قلمبند کئے ہیں اس کے علاوہ گل رعنا اور معارف الموارف فی انواع العلوم و المعارف (عربی) جیسی ان کی تصانیف برصغیر پاک وہند کے علمی ذخیر ے میں امتیازی شان کی حامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں ‘‘مولانا حکیم سید عبد الحی کی ہندوستان کی تہذیب وثقافت کے متعلق تصنیف کردہ عربی کتاب ’’الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ مولاناابو العرفان ندوی نے کیا ہے یہ ترجمہ پہلے 1970ء میں شائع ہوا تھا   زیر تبصرہ ایڈیشن اسی کا جدید معیاری ایڈیشن ہے جسے دار المصنفین نے 2009ء میں شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہندوستانی علما ومصنفین کی تصانیف کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ یہ تنہاکتابوں کی فہرست نہیں ہے بلکہ اس کے ضمن میں ہندوستانی مسلمانوں کی پوری علمی تعلیمی اور ذہنی و فکری تاریخ بھی آگئی ہے۔ (م۔ا)

  • 22 #6843

    مصنف : ظفر الاسلام اصلاحی

    مشاہدات : 1567

    اسلامی علوم کا ارتقاء عہد سلطنت کے ہندوستان میں

    (پیر 07 جنوری 2019ء) ناشر : اسلامک بک فاؤنڈیشن نئی دہلی

    ہندوستان میں  عہدسلطنت اسلامی  بہت سے خصوصیات کا حامل ہے ۔اس دور میں  جہاں سیاسی  وانتظامی  اداروں کوترقی ملی مسلم حکومت کی توسیع کا سلسلہ جاری ر ہا وہاں اس  سلطنت  اسلامی کے  دور میں علوم وفنون میں بڑی ترقی کی۔اس عہد اسلامی میں اہل علم وفن کے لیے ایسا ساز گار ماحول فراہم  ہواکہ  وہ اپنے اپنے میدانوں میں علمی خدمات انجام دے کر  مختلف علوم وفنون کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں۔ عہد سلطنت  کے ابتدائی دور میں علوم وفنون کا فروغ دہلی  ودوسرے مقامات پر سکونت اختیار کرنے والے بیرونی علماء کی مرہون منت رہا۔ رفتہ رفتہ ہند نژاد تعلیم یافتہ مسلمان اس لائق ہوگئے کہ وہ تدریسی وتالیفی کاموں حصہ لے سکیں۔علماء وقت  نےتدریس کے مشغلہ کو ایک عظیم دینی خدمت سمجھا اور بڑے ذوق وشوق سے اس میں حصہ لیا تو معاصر حکمرانوں نے اس  خدمت انجام دینے والوں کی سرپرستی فرمائی اور مکاتب ومدارس کے قیام وانصرام میں کافی دلچسپی لی ۔ علماء کی کوششوں اور اہل علم کے سلسلہ میں سلاطین  کےحوصلہ افزا رویّہ کا نتیجہ یہ  ہوا کہ علم کی روشنی شہروں وقصبوں کے علاوہ قریات میں بھی پھیل گئی۔اس عہد میں بہت سے علماء نے علوم اسلامیہ کو تصنیف وتالیف کاموضوع بنایا اور اس کےلیے   عربی وفارسی دونوں زبانوں کو اختیار کیا۔تفسیر ، حدیث  وفقہ کی جو کتابیں اس زمانہ میں درس وتدریس کے لیے معروف ومقبول تھیں ان کی شروح وحواشی تیار کرنے کے علاوہ  معاصر علماء وفضلاء نے ان علوم سے متعلق طبع زاد تحریریں بھی پیش کیں اور اسلامی علوم کا ایک ایسا قیمتی لٹریچر تیا ر کیا جو نہ صرف اس زمانہ کے لیے مفید ثابت ہوا بلکہ بعد کے دور کے لوگوں کےلیے  باعث افادہ بنا اور آج بھی اس سے فیض یابی کا سلسلہ جاری ہے ۔محترم جناب ظفر الاسلام اصلاحی   نے  زیر نظر کتاب ’’ اسلامی علوم  کا ارتقاء  عہد سلطنت کے ہندوستان میں   ‘‘  میں  اسلامی علوم کے ارتقاء میں عہد سلطنت کے علماء کی خدمات کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا  ہے   اور اس میں سلاطین دہلی کا جو  حصہ رہا ہے اسے بھی منظر عام پر لانے کی کو شش کی گئی ہے۔یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اول  عہد سلطنت میں علم قراءات کے ارتقاء کے متعلق ہے ۔باقی تین ابواب  کا تعلق علم قرآن ،حدیث وفقہ سے ہے  جو اسلام کے بنیادی علوم ہیں۔فاضل مصنف نے  پہلے  درس وتدریس سے متعلق علماء کی خدمات کا جائزہ لیا ہے پھر ان کے تصنیفی وتالیفی کارناموں پر روشنی ڈالی ہے ۔(م۔ا)

  • 23 #6673

    مصنف : حیدر زمان صدیقی

    مشاہدات : 1108

    اسلامی نظریہ اجتماع

    (پیر 02 جولائی 2018ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    اسلام نے ا نسان کے یقین اور اس  کےاعمال کی بنیاد رکھی  ہے اس  ناقابل انکار حقیقت پر  کہ انسان خود بخو د  پیدا نہیں ہوا بلکہ کسی ذی شعور صاحب ادراک ہستی برتر نے اسے پیدا کیا ہے ۔ اور اس لیے انسانی  اعمال  وافکار کا محض اس کی رضا واطاعت کے لیے ہونا ضروری ہے ۔انسان کی زندگی انفرادی ، عائلی اوراجتماعی تمام تر اسی مقصد واصول کے تحت تو صحیح  ہے ورنہ غلط ہے۔انسان بولے تواس کے لیے  اور چپ رہے تو اس کے لیے ، شادی کرے بچوں سے محبت کر ے، پڑسیوں کی امداد  کرے یا ملی وقومی فرائض  کو ادا کر ے  الغرض تمام تر امور اسی  ذات واحد کی منشاء  کےلیے  ہوں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’اسلامی نظریہ اجتماع‘‘   جناب حیدر زماں صدیقی کی   مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب میں  اسلام کے ہمہ گیر نظریہ اجتماع کی حقیقت اوراجزاء ترکیبی  سےبحث کی گئی ہے۔طرزِ بیان شگفتہ اور مدلل ہے مصنف نے دلنشیں انداز میں مسئلہ زیربحث سے متعلق تقریباً سب کچھ کہہ دیا ہے   پہلی دفعہ یہ کتاب تقسیم ہند کےوقت اگست؍1947ء کو  حید رآباد دکن سے شائع ہوئی۔موجود ہ ایڈیشن ادارہ  ترجمان القرآن ،لاہور نے  1989ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا)

  • 24 #6088

    مصنف : خالد سراج

    مشاہدات : 5862

    اصحاب ؓ رسول ﷺ کے ایمان افروز واقعات

    (بدھ 13 دسمبر 2017ء) ناشر : علم دوست پبلیکیشنز، لاہور

    جب عالم دنیا میں ہر طرف شرک و کفر کی آوازیں ہر جگہ سے شروع ہوگئیں اور پوری دنیا میں بت پرستی جیسی بدترین لعنت نے دنیا والوں کو اپنے اندھیروں میں چھپالیا، انسان ذات نے اپنے کریم رب کی بندگی چھوڑدی اور درندوں جیسی زندگی گذارنے کا آغاز کردیا، جہالت اور گمراہی کی وجہ سے اپنے خدا کے رشتوں کو بھلادیا اس وقتآخری پیغمبر و ہادی بناکر دنیا میں انسان ذات کی رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا اور نبی  کو چند ساتھی دیے جنہوں نے کما حقہ نبیﷺ کی تعلیمات کو اپنایا اور عوام الناس تک دین کو پہنچانے کا سبب بنے اور اپنی عملی زندگی سے انہوں نے عوام کے لیے سبق آموز واقعات چھوڑے۔۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی   خاص انہی واقعات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں کبار صحابہ کرامؓ کے ایمان کو بڑھانے والے واقعات کا ذکر ہے‘ تاریخ وسیر کی کتب سے استفادہ کر کے اسے تصنیف کیا گیا ہے۔ حوالہ جات میں حوالہ دینے کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہے ‘ ایک واقعہ بیان کرنے کے بعد اگلے واقعے کو بیان کر دیا گیا ہے جب کہ حوالہ نہیں دیا گیا  اور کسی ایک آدھے کا حوالہ فٹ

  • 25 #1951

    مصنف : جمال الدین بن محمد قاسمی

    مشاہدات : 5689

    اصلاح المساجد

    (ہفتہ 21 دسمبر 2013ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    روئے زمین پر  سب سے بہترین اور مبارک جگہ مساجد ہیں۔  احتراما انہیں بیت اللہ   یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے۔  مساجداسلا م اور مسلمانوں کے لئےمرکزی مقام کی حیثیت رکھتی   ہیں،جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع  ہوتےہیں  اوراسلام کا  سب اہم  فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ۔مسجد وہ جگہ ہے  جہاں مختلف طبقات سے  تعلق رکھنے والے  لوگ ایک ہی صف  میں کھڑے ہو کر ایک ہی  قبلہ کی  طرف  رخ کر  کے   اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں۔ قرآن مجید  اور احادیث  نبویہ  ﷺ میں متعدد مقامات پر مسجد  کی اہمیت اور قدر منزلت کو بیان کیا ہے۔زیر تبصرہ  کتا ب شام کے  مشہور سلفی عالم  علامہ محمد جمال الدین  قاسمی کی  تصنیف  اصلا ح المساجد من البدع والعوائد کا  اردو  ترجمہ ہے  ۔مؤلف نے  اس  میں  تمام بدعات ورسومات اور متولیا ن وائمہ مساجد کی پیدا کردہ برائیوں پرخوب سیر حاصل بحث کی ہے  اور مساجد سےمتعلق چھوٹی بڑی تمام باتوں پربڑی تفصیل سے  روشنی ڈالی ہے۔  الغرض مساجد  کا او ر ان میں مسلمانوں کا کیا  طریقہ ہونا چاہیے اسے سمجھنے کےلیے یہ کتاب بہترین روشنی  فراہم کرتی ہے۔اس کتاب کااردو ترجمہ  جامعہ سلفیہ ،بنارس  کے  ڈائریکٹر ڈاکٹر  مقتدیٰ حسن ازہر ی نے کیاہےجو نہایت  سلیس اور عام  فہم ہے ۔ کتاب کی تصحیح اور احادیث  کی  تخریج کا کام تخریج وتحقیق  کے  امام محدث العصر علامہ محمدناصر الدین  البانی   نے سر انجام دیاہے،  جس سے کتاب کی  صحت اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔   اللہ اس کتاب کے مولف ومترجم اور ناشرین کو اس علمی صدقہ جاریہ پر  اجر عظیم عطا فرمائے(آمین)(م۔ا)
     

  • 26 #2491

    مصنف : ڈاکٹر قیام الدین احمد

    مشاہدات : 3617

    البیرونی کا ہندوستان

    (منگل 30 ستمبر 2014ء) ناشر : یو پبلشرز لاہور

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک فرد اپنے زندگی کے اہداف و مقاصد اپنی یاداشت کی روشنی میں طے کرتا ہے اسی طرح قوموں کے بحیثیت مجموعی اہداف و مقاصد کے تعین میں سب سے بڑا عمل دخل اس کی تاریخ کا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا اپنی تاریخ سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اور قوموں کی مجموعی نفسیات کے معاملے میں بھی تاریخ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ قوم یہود کی ہی مثال لیجیے جو حضرت سلیمان اور حضرت داوؑد علیھماالسلام کے دور میں دنیا کی سپر پاور تھے اب اس دور کو گزرے ہوئے ہزاروں سال بیت چکے ہیں لیکن ابھی تک اس دور کی یاد ان کے دلوں میں زندہ ہے اور آج بھی دنیا بھر کے یہودی اپنی اس کھوئی ہوئی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب "البیرونی کا ہندوستان ،قدیم ہندوستان کی تہذیب وثقافت کی مستند تاریخ"قیام الدین احمد کی تالیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ عبد الحی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف نے  معروف مسلمان سائنس دان البیرونی کے زمانے  کی ہندوستانی تہذیب ، ثقافت اور یہاں کے رہنے والے لوگوں کے عقائد ونظریات پر مفصل گفتگو کی ہے۔البیرونی کا زمانہ دسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے،جب یہاں سامانی سلاطین کی حکومت تھی۔البیرونی 973 عیسوی میں خوارزم کے مضافات میں پیدا ہوئے۔بیرون شہر پیدا ہونے کے سبب البیرونی معروف ہو گئے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک شاندار اور مفید کتاب ہے ،اور تاریخ کے طالب علم کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔(راسخ)

     

  • 27 #1684

    مصنف : مائل خیرآبادی

    مشاہدات : 4649

    اللہ کے دشمن

    (جمعہ 10 مئی 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    زیر نظر کتاب ’اللہ کے دشمن‘ بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ بچوں کے لیے عام طور پر معاشرے میں غیر اخلاقی کہانیاں اور لطیفے وغیرہ مروج ہیں جو بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے نثر اور نظم میں کہانیاں مرتب کیں۔ ادارہ دار الابلاغ نے ان سچی کہانیوں کو ’اللہ کے دشمن‘ کے عنوان سے یکجا کر کے شائع کیا ہے۔ ان کہانیوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سچے واقعات پر مشتمل ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسی کتب پڑھنے کے لیے دیں۔(ع۔م)
     

  • 28 #573

    مصنف : اکبر شاہ خاں نجیب آبادی

    مشاہدات : 73284

    امت محمدیہ زوال پذیر کیوں ؟

    (منگل 01 جنوری 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    امت مسلمہ میں شعور کی بیداری اور اسلام کے صحیح تصور کی عملی تصویر اجاگر کرنے کے لیے قرآن و سنت کی ترویج و اشاعت ایک لازمی امر ہے۔ اسی سلسلہ میں زیر تبصرہ کتاب وجود میں آئی ہے۔ جس میں نہایت واضح انداز میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب اور اس سے نکلنے کی راہیں متعین کی گئی ہیں۔ مؤلف نے اپنی علمی وسعت و ہمت کےمطابق اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور اصلاح کی سعی بلیغ کی ہے۔ پھر اس پر مستزاد یہ کہ فاضل نوجوان محترم طاہر نقاش صاحب نے اس کی مزید اصلاح کر کے کتاب کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ کتاب کی افادیت میں اس اعتبار سے اضافہ ہو جاتا ہے کہ اس پر نظر ثانی مولانا مبشر احمد ربانی نے کی ہے۔ اب تک یہ کتاب نایاب تھی اگرچہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے شائع ہوتی رہی۔ ’دار الابلاغ‘ کے اسٹیج سے اسے کتاب میں بیان کردہ موضوع کے حساب سے ’امت محمدیہ زوال پذیر کیوں ہوئی‘ کے نام سے شائع کیا جا رہا ہے۔ جس پر ’دار الابلاغ‘ مبارکباد کا مستحق ہے۔ کتاب کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ہم اسے قارئین کتاب و سنت ڈاٹ کام کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 29 #1886

    مصنف : امتیاز احمد

    مشاہدات : 7250

    امریکی نئے مسلمانوں کی سچی کہانیاں

    (جمعرات 28 نومبر 2013ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اسلام کو مکمل صورت میں اپنے اوپر نافذ کرنا ایک مشکل عمل ہے ،لیکن اپنے  آبائی  مذہب کو ترک کر کے  کسی دوسرے مذہب کی  آغوش میں آنا اس سے کہیں زیادہ مشکل کام  ہے۔ یہ بڑے عزم واستقلال کی بات  ہے،کہ ایک شخص اپنے ماحول ،خاندان اور والدین کے خلاف بغاوت کرتے ہوءے دشوار گزار گھاٹیوں پر چل کر حق کی جستجو میں نکل کھڑا ہوتا  ہے، اور اس راستے میں آنے والی  ہر مصیبت کا ڈٹ کرمقابلہ کرتا ہے۔یہ کام یقیناً انھی لوگوں کاہے، جن کے حوصلے  بلند اور ہمتیں غیر   متزلزل ہوتی ہیں۔ اہل عزیمت کایہ  قافلہ قابل صد مبارک باد  اور قابل تحسین ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’امریکی نئے مسلمانوں کی سچی کہانیاں‘‘ ایسے  ہی چند پر عزم امریکی نومسلم  مرد وخواتین کی  ایمان افروز داستان حیات پرمشتمل  ہے۔ اس کتاب کے مؤلف امتیاز احمد صاحب چھبیس سال تک امریکہ میں مقیم رہے،  اس دوران انہوں نے امریکہ میں دو مسجدیں بھی تعمیر کرواءیں۔ موصوف کی شریک حیات ڈاکٹر پروفیسر صوفیہ  بھی  نومسلمہ  ہیں۔دونوں میاں بیوی دعوت و تبلیغ کا فریضہ بھر پور طریقے سے ادا کر رہے ہیں،ان کے ہاتھ پر متعدد لوگوں نے اسلام قبول کیا۔اس میں  انھوں  نے  چند ایسے  امریکی  نو مسلموں کا ذکر کیا ہے، جن کا ان سے قریبی تعلق تھااور وہ مؤلف کی دعوت پر    دائرہ اسلام میں داخل ہوئے   تھے۔ان نومسلموں کی آپ  بیتیاں ، ایمان افروز داستانیں اور ان کے  اسلام لانےکےتلخ  واقعات  افسانے اور ناولوں سے بڑھ کر دلچسپ اور دلکش ہیں ، جو انسان کے ایمان  میں اضافہ اور یقین  کو تازہ کردیتے ہیں ۔ ان کی  یہ داستانیں اس قابل  ہیں کہ  انہیں زیادہ سے زیادہ  عام کیا جائے، تاکہ یہ بات عملی طور پر  ثابت ہوجاءے کہ ہر دور کی طرح اسلام آج بھی ایک زندہ  ووجاوید مذہب ہے۔ یہ انسان کی مادی وروحانی تمام ضرورتوں کو احسن طریقے  سے پورا کرتا ہے،  اور بنی آدم کو سکونِ قلب جیسی لازوال  نعمت سے مالا مال کر دیتا ہے۔(م۔ا)
     

  • 30 #1674

    مصنف : محمد طاہر نقاش

    مشاہدات : 6243

    اندلس کی شہزادی

    (منگل 30 اپریل 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    ادب کی ایک مایہ ناز قسم قصص اورکہانیاں  ہیں۔ان کےذریعے انسانی ذہن کو بڑی حسن وخوبی  اور احسن انداز کےساتھ تبدیل کیا جاسکتاہے۔یہ ادب کی ایک بہت پرانی قسم ہے۔بلکہ اگر کہاجائے تو بےجانہ ہوگا کہ آغاز انسانیت سے ہی اس پر توجہ دی گئی ہے۔ پھر اس سے بھی بھڑ کریہ ہےکہ اس صنف ادب کو بیان کرناہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ایک کہانی کو سمجھنااو ر اس کےتمام واقعات کی کڑیوں کو باہم مربوط کرکےبیان کرنااوروہ بھی ایک ادبی چاشنی کےساتھ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ان معروضا ت سے بھڑ کر مزیدیہ ہےکہ ایک سچے تاریخی واقعےکو کہانی کا رنگ دےکر اس میں  چاشنی بھی بھرنااور اس کی سچائی بھی متاثرنہ ہونےدینا یہ اس سے بھی مشکل فن ہے۔جناب طاہر نقاش صاحب کو اللہ تعالی نے اس میں بہت زیادہ مہارت عطافرمائی ہے۔انہوں نے اس کتاب میں  اندلس کی ایک ایسی شہزادی    کی داستان بیان کی ہےجو ایک گورنرکی بیٹی تھی اوربادشاہ وقت کی زیادتی کاشکارہوئی تھی ۔اس کے باپ نے یہ بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں کو اس سلطنت پرحملہ کرنےکی دعوت دی تھی جس کی وجہ سے اندلس کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔مزید برآں اس کا اصل مقصد یہ  ہےکہ مسلمان بچوں کو اپنی اسلامی تاریخ سے آگاہی ہو۔اور ان کےاندراسلامی تاریخ سے دلی وابستگی پیداہو۔اور وہ اس دورمیں غلط،جوٹھی اوربے بنیاد کہانیوں سے بھرےہوئے لٹریچرسےگریزاں رہیں۔(ع۔ح)
     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 28 29 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1159
  • اس ہفتے کے قارئین 9084
  • اس ماہ کے قارئین 47478
  • کل قارئین49353956

موضوعاتی فہرست