دکھائیں کتب
  • 91 تحریک آزادیٔ ہند اور مسلمان حصہ اول (جمعرات 25 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:4721

    مسلمان اور غلامی دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ اکٹھی نہیں ہو سکتی ہیں۔مسلمان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی کی فضا میں اپنے دین کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔اسلام غلبہ اور حکمرانی کے لئے آیا ہے ،دوسروں کی چاکری اور باطل نظاموں کی غلامی کے لئے نہیں آیا ہے۔اسلام نے مسلمانوں کا یہ مزاج بنایا ہے کہ وہ طاغوت کی حکومت ،خواہ کسی بھی شکل میں ہو اس کی مخالفت کریں اور خدا کی حاکمیت کو سیاسی طور پر عملا قائم کرنے اور زندگی کے ہر شعبے میں اسے جاری وساری کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اس وقت بہت نمایاں ہو کر ابھرا،جب سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد برطانوی استعمار کے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔چنانچہ سید احمد شہید نے جہاد کا اعلان کیا اور تحریک مجاہدین نے آخری دم تک دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا۔1857ء کی جنگ آزادی مسلمانوں ہی کے خون سے سینچی گئی۔تمام تر خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود مسلمانوں نے غیر اللہ کی غلامی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں "سمجھوتہ بندی" کی روش کو خاصی تقویت ملی۔ مسلمانوں کی حیثیت ایک ہاری ہوئی فوج کی سی تھی،جو ذہنی طور مغرب سے مرعوب ہو چکے تھے۔ان حالات میں مولانا مودودی ﷫نے احیائے اسلام کی جد وجہد کا آغاز کیا ،اور اسلامی تعلیمات کو عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور ذہنوں سے شکوک وشبہات کے ان کانٹوں کو نکالا جو الحاد،بے دینی اور اشتراکیت کی یلغار نے مسلمانوں میں پیوست کر دئیے تھے۔مولانا مودودی ﷫کی یہ کتاب" تحریک آزادی ہند اور مسلمان"اسی موضوع پر...

  • 92 تحریک پاکستان کی تصویری داستان (ہفتہ 16 جون 2018ء)

    مشاہدات:1509

    تحریک پاکستان کئی پہلوؤں سے بیسویں صدی کی ایک منفرد اور ممتاز تحریک تھی۔ اس کا سب سے نمایاں پہلو تو یہ تھا کہ وہ خطۂ ارض پر ایک نئی اور آزاد  مملکت کے وجود میں لانے پر منتج ہوئ اور اس طرح اس نے نقشۂ عالم پر ایسا پائدار نقش قائم کیا جو اس کے مقابلے میں کم تحریکوں کو حاصل ہو سکا۔اس تحریک کا دوسرا امتیازی پہلو یہ ہے کہ یہ آغاز سے لے کر انجام تک خالصتاً جمہوری خطوط پر چلتی رہی۔ اس کے دور میں جمہوری خطوط پر کام کرنے والی کچھ دوسری تحریکیں بھی تھیں لیکن ان کے پیش نظر صدیوں بلکہ ہزار ہا سال پہلے سے قائم شدہ ایک ملک کے لیے آزادی حاصل کرنا تھی جب کہ تحریک پاکستان کا نصب العین ایک ملک نہیں ایک قوم کے لی آزادی حاصل کرنا اور اسے ایک علیحدہ اور نیا ملک لے کر دینا تھا۔قیام پاکستان سے پہلے ملک جنگیں لڑ کے اور عسکری فتوحات قائم کر کے حاصل کیے جاتے تھے لیکن تحریک پاکستان جس ملک کے قیام پر منتج ہوئی وہ خالصتاً اس علاقے اور برصغیر کے دوسرے مسلمانوں کا کھلا جمہوری مطالبہ تھا۔اس کی خاطر انہوں نے سر عام جدو جہد کی۔ کھلے بندوں ایک زبردست تحریک برپا کی۔ جھیلیں کاٹیں اور دوسرے مصائب برداشت کیے‘ شدید مخالفتوں کا سامنا کیا‘ انتخابات لڑے۔ پہلے ان میں قدرے نامکامی اور پھر زبردست کامیابی حاصل کی۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی  تحریک پاکستان  کے حوالے سے ہے جس میں تصاویر کے ساتھ تاریخ کو بیان کیا گیا ہےتقریبا دو صدیوں کے عرصے کو محیط تاریخ کی تصویریں جھلکیوں سے بیان کیا گیا ہے اور اس میں پانچ سو سے زیادہ تصاویر ہیں جنہیں سلطنت مغلیہ کے زوال سے لے کر 14 اگست 1947ء...

  • 93 تذکرہ مساجد اہلحدیث سیالکوٹ شہر (ہفتہ 24 جون 2017ء)

    مشاہدات:822

    مساجد روئے زمین پر زمین کا سب سےبہتر حصہ ہیں احتراماً انہیں بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے اسلا م اور مسلمانوں کامرکزی مقام یہی مسجدیں ہیں اور مسجد اللہ کا وہ گھر ہے جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع ہوتےہیں اوراسلام کا سب اہم فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ،مسجد وہ جگہ ہے جہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں،او رمسجد ہی زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے پاکیزہ متبرک اوربہترین جگہ ہے ۔نبی کریم ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو سب سے پہلے آپ ﷺ نے جوعملی قدم اٹھایا وہ مسجد کی تعمیرتھی ۔قرآن مجید میں اور احادیث نبویہ ﷺ میں بے شمار مقامات پر مسجد کی اہمیت اور قدر منزلت کوبے بیان کیا ہے۔او ر کئی اہل علم نے مسجد کی فضیلت اور احکام ومسائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تذکرہ مساجد اہل حدیث سیالکوٹ ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے صاجزادے مولانا عبدالحنان جانباز ﷾ کی مرتب شدہ ہے ۔فاضل مرتب نے اس کتاب کو دو ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں سیالکوٹ کی 94 مساجد کا تذکرہ کیا ہے ۔مساجد کے تعارف میں مسجد کا نام اور اس کے ساتھ اس کا محل وقوع ، سن تعمیر، سنگ بنیاد ، افتتاحی نماز پہلی اذان ، افتتاحی خطبہ اور اس کے بعد مسجد کا تاریخی پس منظر تفصیلاً بیان کیا ہے اور طرح مسجد کی تعمیرمیں جن حضرات نے مالی تعاون کیا ان کے اسمائے گرامی درج کیے ہیں ۔...

  • 94 تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں (اتوار 16 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1246

    14 اگست 1947ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کا ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا خواب حقیقت سے شناسا ہوا ور دنیا کے نقشے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی مملکت معرض وجود میں آئی۔انسانی تاریخ میں ہجرت مدینہ کے بعد ہجرت پاکستان غالبا سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں مسلمانوں نے ایک نظریہ اور مقصد کی خاطر بننے والی مملکت کے لئے اپنے آبائی گھر چھوڑے اور جان ومال اور عزتوں کی لازوال قربانیاں دیں۔پاکستان کی آئندہ تمام نسلیں اپنے ان اسلاف کی احسان مند اور مقروض رہیں گی جن کی مساعی اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا۔مسلمان ایک الگ  مسلم قومیت  کے حامل تھے۔اسی مسلم قومیت کے تصور نے ایک اسلامی مملکت پاکستان کی خواہش پیدا کی۔جب برصغیر کے مسلمان حصول پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ان کے اغراض ومقاصد واضح اور اہداف متعین تھے۔قائدین وبانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال،نواب بہادر یار جنگ، علامہ شبیر احمد عثمانی، نواب زادہ لیاقت علی خان اور چوہدری رحمت علی وغیرہ نے متعدد مواقع پر پاکستان کے اسلامی تشخص کا برملاء اظہار فرمایا۔ زیر تبصرہ کتاب" تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں"شریعہ اکیڈمی  انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد  کی شائع کردہ ہے۔جس میں بانیان پاکستان کی نظر میں پاکستان کے تصور کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو مقاصد پاکستان سے روشناس کروایا جا سکے۔(راسخ)

  • 95 تصویری تاریخ اسلام (جمعہ 10 اگست 2018ء)

    مشاہدات:769

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف  کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تصویری تاریخ اسلام‘‘  ڈاکٹر  عبد الرؤف کی   تاریخ اسلام کے متعلق منفرد کاوش ہے ۔تاریخ اسلام کے اہم موضوع پر اس دلچسپ کتاب کو دنیا بھر  میں پہلی تصویری  تصنیف ہونے کا اعزاز  حاصل ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب کی تدوین  اور تشکیل وتزئین میں بہت محنت اور احتیاط سے کام لیا ہے ۔مصنف  نے  کتاب کا آغاز کائنات کے پہلے انسان اور پہلے نبی حضرت آدم   سے شروع کیا ہے اور تمام اسلامی ملکوں کے علاوہ باقی  تمام دنیا پر اجمالی نگاہ ڈالی ہے ۔وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا روس، چین، افریقہ، یورپ،امریکہ، آسڑیلیا وغیرہ میں اسلام  اور مسلمانوں کے ماضی اور حال   کے بصیرت افروز خاکے بھی  مصنف نے پیش کردئیے ہیں ۔نیز فاضل مصنف نے  اس کتاب میں ماضی کے تاریخی واقعات کی تفاصیل کے ساتھ ساتھ موجودہ زمانے کی تمام مسلم اکثریتوں اور اقلیتوں کے حالات او ر مسائل کی واضح نشاندہی  جابجا کردی   ہے ۔(م۔ا)

  • 96 توبہ؟ (منگل 06 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1930

    اللہ تعالیٰ نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا  وہ توبہ کرسکتا ہے  اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے  لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین  ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی  اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول  نہیں۔انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گ...

  • 97 تیرتی قبر ؟ (پیر 05 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1526

    سیدنا یونس اللہ کے نبی تھے۔ آپ کے نام پر قرآن پاک میں پوری ایک سورت ہے۔ آپ کی قوم نہایت سرکش تھی۔ سالوں کی تبلیغ کے باوجود جب آپ کی قوم نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو آپ نے اُن کو اللہ کی طرف سے سخت عذاب کی نوید دی، جس پر اُس قوم کے سرکش لوگوں نے حضرت یونس کی باتوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ “اگر تمہارے خدا کی طرف سے عذاب آنے والا تو تم ہمیں اُس کا وقت بتاؤ، جس پر حضرت یونس نے اُنہیں چالیس دن کے بعد عذابِ الٰہی کی خبر دی جوکہ اللہ کو ناگوار گزری کیونکہ اللہ نے اُس قوم کو عذاب سے ڈرانے کے لئے ہدایت کی تھی نہ کہ عذاب نازل کرنے کا وقت بتانے کی۔ دوسرے نادانی اُس وقت ہوئی کہ جب حضرت یونس عذاب کی نوید دینے کے بعد اُس وطن کو ترک کرکے چلے گئے اس دوران آپ کو اندازہ ہوگیا کہ رب تعالٰی کسی بات پر آپ سے ناراض ہوگیا ہے۔ جب آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی کو طوفان نے گھیر لیا۔ اُس وقت کے رواج کے مطابق کشتی کے ملاح اور دوسرے مسافر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کشتی میں کوئی اللہ کا نافرمان بندہ سوار ہے، جس کی وجہ سے تمام کشتی والوں کو اس طوفان کا سامنا ہے۔ جس پر حضرت یونس نے اُن سے کہا کہ مجھے دریا میں پھینک دو، تم کو اس طوفان سے نجات مل جائے گی لیکن کشتی والوں نے کہا کہ آپ تو اللہ کے نبی اور نیک بندے ہیں، آپ کو کیسے دریا بُرد کیا جاسکتا ہے۔ آخر سب اس نتیجے پر پہنچے کہ قرعہ کرلیتے ہیں، جس کا نام نکل آئے گا، اُس کو دریا بُرد کردیا جائیگا۔ قرعہ کے نتیجے میں بھی حضرت یونس کا نام نکلا، دوبارہ قرعہ نکالا گیا، پھر حضرت یونس کا نام نکلا، بالآخر جب...

  • 98 تیسری جنگ عظیم اور دجال (جمعرات 24 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:6905

    مختلف احادیث رسول اللہﷺ میں دجال  اور علامات قیامت کا تذکرہ آیا ہے۔ہر دور کے علماء نے ان کی تفہیم ، تشریح اور تطبیق کا اپنا اپنا طریقہ اپنا یا ہے۔اسی طرح موجودہ دور میں  بھی درحقیقت  بہت زیادہ فتنے رونما ہورہے ہیں۔ان فتنوں نے ایک لحاظ سے پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔دوسری طرف نصوص شریعت بھی مختلف طرح کے فتنوں کی طرف نشاندہی کرتی ہیں۔ ہر  دور میں یہ ایک نازک مسلہ رہا ہے کہ نصوص شریعت کا حالات پر انطباق کیسے کیاجائے۔علمانے اپنے فرض منصبی سے عہدہ برآں ہوتے ہوئے اس نازک موضوع پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ ہر ایک کی مختلف رائے بھی ہو سکتی ہے۔رسول اللہﷺ کی طرف سے  علامات قیامت  کے حوالے سے دی گئی  پیشین گوئیوں کا انطباق  انتہائی کھٹن اور  حساس مسلہ ہے۔ چنانچہ موجودہ دور میں  اس  تناظر میں کئی ایک فکری رجحانات سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ  انتہا  پسندانہ بھی ہیں۔جبکہ زیر نظر کتا ب میں مصنف موصوف  نے اسی احتیاط کو سامنے رکھتے ہوئے  تطبیق کی کوشش تو کی ہے لیکن اپنی کسی بھی رائے کو حتمی نہیں کہا۔ البتہ جن واقعات کی طرف علمائے امت نشاندہی کر چکے تھے ان کی یقین کے ساتھ تشریح کی  ہے۔(ع۔ح)
     

  • 99 ثمود کی تباہی (ہفتہ 03 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1894

    قوم ثمود یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی۔ فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرتا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔یہ قوم بھی پہلی بھٹکی ہوئی قوموں کی طرح  بت پرست تھی اور جب ان کے فسق و فجور حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق قوم ثمود میں ہی سے حضرت صالح   کو نبوت کا شرف دے کر مبعوث کیا تاکہ وہ ان بدکردار لوگوں کو اگلی قوموں کے انجام کی داستانیں سنا کر ان کو بتائیں کہ ان کے خوفناک انجام کو دیکھو اور اپنی سرکشی سے باز آؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اللہ  کے عذاب میں گرفتار ہوکر ان قوموں کی طرح دنیا سے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوجاؤ۔جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح  کو نبی بنا کر قوم ثمود کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم کو جمع کرکے برے کاموں سے بچنے اور اللہ کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت کی آپ نے اپنی قوم کو بار بارسمجھایا، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور ان پر اللہ  کے فضل و کرم جتائے، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔اے صالح، ہماری قوت، شوکت، دولت  کی فراوانی، کھیتوں کی سرسبزی، عالی شان مکانات، غرض یہ کہ دنیا جہان کے عیش و آرام جو ہمیں حاصل ہیں تیرے ہی الہ  کی طرف سے ہیں تو پھر وہ لوگ کیوں غریب اور نادار ہیں جو تیرے الہ کو ایک مانتے ہیں۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وہ راست پر نہیں اور یہ ہمارے ہی معبودوں کی تو کرم فرمائیاں ہیں۔سیدنا صالح نے ان سے فرمایا کہ اس عقل و دولت اور شان و شوکت پر ہرگز گھمنڈ اورغرور نہ ک...

  • 100 جامع الشواہد فی دخول غیر المسلم فی المساجد (اتوار 19 جون 2016ء)

    مشاہدات:1610

    شرعی اعتبار سے کسی غیرمسلم کا  مسلمانوں کی مساجد میں (سوائے مسجد حرام کے)داخل ہونا جائز ہے ۔جیسا کہ  نبی کریم ﷺ نے ثمامہ بن اثال کو اسلام لانے سے پہلے مسجد نبوی میں رسی سے باندھ دیا تھا۔ اسی طرح ثقیف اور نجران کا وفد اسلام لانے سے پہلے مسجد میں داخل ہواتھا۔ اگر ساتھ میں انہیں مسجد کے آداب بتا دئیے جائیں توزیادہ  بہتر ہے تاکہ وہ مسجد کے تقدس کی پامالی نہ کرے مثلا ساتر لباس پہن کر مسجد آنا، مسجد میں گندگی نہ پھیلانا، یہاں گندی بات نہ کرنا وغیرہ ۔ اور رہی بات مسجد کے تقدس کی تو مسجد کا تقدس ہر حال میں قائم رکھنا چاہیے وہ مسلم کے لیے ہو یا غیر مسلم کے لیے ، اللہ کے گھروں میں پاکیزگی اور قرآن و شریعت کے دائرے کو مدعوکار رکھتے ہوئے داخل ہونا چاہیے۔شرعی طور پر مقبول ضروریات میں عمومی طور پر درج ذیل ضروریات ہیں ۔ اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لیے کسی کافر کو مسجد میں داخل کرنا ، اور رکھنا ،مسلمان امام ، یا قاضی سے اپنے فیصلے کروانے کے لیے کافر کا مسجد میں داخل ہونا،مسلمان امام ، یا قاضی ، یا حاکم سے ملاقات کے لیے کافر کا مسجد میں داخل ہونا،لیکن اس بات کی احتیاط کی جانی چاہیے کہ وہ کافر اپنے کفر کی نجاست کے ساتھ کسی ایسی حالت میں نہ ہوں جس حالت میں مسلمان کو بھی مسجد میں داخل ہونے کی، یا وہاں رکنے اور بیٹھنے کی اجازت نہیں، یعنی جنابت یا حیض کی حالت میں نہ ہوں، زیر تبصرہ کتاب" جامع الشواہد فی دخول غیر المسلم فی المساجد "مولانا ابو الکلام آزاد کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے  غیر مسلموں کے مسجد میں داخلے کے جواز پر بحث کی ہے۔اللہ تعال...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 684
  • اس ہفتے کے قارئین: 4186
  • اس ماہ کے قارئین: 31880
  • کل قارئین : 45910395

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں