کل کتب 291

دکھائیں
کتب
  • 226 #3631

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 1524

    مطیع اعظم

    (بدھ 30 ستمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور
    #3631 Book صفحات: 34

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "مطیع اعظم" محترم اشفاق احمد خاں صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی...

  • 227 #4413

    مصنف : احمد بزرگ سملکی

    مشاہدات : 1302

    معرکہ رنگون

    (ہفتہ 23 اپریل 2016ء) ناشر : ختم نبوت اکیڈمی لندن
    #4413 Book صفحات: 190

    اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺکو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپﷺخاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپﷺ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔آپﷺ نے فرمایا: میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپﷺ کی وفات کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  جھوٹا اور کذاب شخص مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔ زیر تبصرہ کتاب" معرکہ رنگون " محترم مولانا احمد بزرگ سملکی﷫ رئیس دار الافتاء سورتی سنی جامع مسجد رنگون کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ستمبر 1920ء میں برما کے دار الحکومت  رنگون میں امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنوی ﷫کے ہاتھوں  قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کے راہنما خواجہ کمال الدین  کی  ذلت آمیز فرار کی کہانی بیان کی ہے۔اللہ تعالی سے...

  • 228 #6551

    مصنف : عبد الرؤف ملک

    مشاہدات : 1019

    مغرب کے عظیم فلسفی

    (بدھ 26 ستمبر 2018ء) ناشر : پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی لاہور
    #6551 Book صفحات: 242

    لفظ فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے فلسفہ کا موضوع وجود ہے۔ پس کائنات کی ہر شیء اس علم میں داخل ہے۔ لیکن وجودِ عام سے بحث کرتا ہے۔ فلسفہ کسی بھی شیء کے متعلق اٹھنے والے بنیادی سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے۔ اب اگر وہ دین ہو تو فلسفہ دین، اگر تاریخ ہو توفلسفہ تاریخ، اگر اخلاق ہو تو فلسفہ اخلاق، اگر وجود ہوتو فلسفہ وجود کہا جاتا ہے وغیرہ۔نیزفلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اعراض اور مقصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیا کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مغرب کے عظی...

  • 229 #6310

    مصنف : سید ہاشمی فرید آبادی

    مشاہدات : 2444

    مغلوں کے زوال سے قیام پاکستان تک

    (جمعہ 13 اپریل 2018ء) ناشر : ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور
    #6310 Book صفحات: 601

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔ سلطنتِ مغلیہ کا بانی ظہیر الدین بابر تھا، جو تیمور خاندان کا ایک سردار تھا۔ ہندوستان سے پہلے وہ کابل کا حاکم تھا۔ 1526ء کو سلطنتِ دہلی کے حاکم ابراہیم لودھی کے خلاف مشہورِ زمانہ پانی پت جنگ میں بابر نے اپنی فوج سے دس گُنا طاقتور افواج سے جنگ لڑی اور انہیں مغلوب کر دیا کیونکہ بابر کے پاس بارود اور توپیں تھیں جبکہ ابراہیم لودھی کے پاس ہاتھی تھے جو توپ کی آواز سے بدک کر اپنی ہی فوجوں کو روند گئے۔ یوں ایک نئی سلطنت کا آغاز ہوا۔ اس وقت شمالی ہند میں مختلف آزاد حکومتیں رائج تھیں۔ علاوہ ازیں وہ آپس میں معرکہ آرا تھے۔ 1526ء میں دہلی اور آگرہ کی فتح کے بعد صرف چند ماہ میں بابر کے سب سے بڑے بیٹے ہمایوں نے...

  • 230 #6978

    مصنف : آرپی ترپاٹھی

    مشاہدات : 2193

    مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال

    (جمعہ 07 جون 2019ء) ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی
    #6978 Book صفحات: 586

    سلطنتِ مغلیہ کا بانی ظہیر الدین بابر تھا، جو تیمور خاندان کا ایک سردار تھا۔ ہندوستان سے پہلے وہ کابل کا حاکم تھا۔مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ بابر نے اپنی فوج سے دس گُنا طاقتور افواج سے جنگ لڑی اور انہیں مغلوب کر دیا کیونکہ بابر کے پاسبارود اور توپیں تھیں جبکہ ابراہیم لودھی کے پاس ہاتھی تھے جو توپ کی آواز سے بدک کر اپنی ہی فوجوں کو روند گئے۔ یوں ایک نئی سلطنت کا آغاز ہوا۔ اس وقت شمالی ہند میں مختلف آزاد حکومتیں رائج تھیں۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔سلطنت مغلیہ کے قیام اور اس کے عروج وزوال کے متعلق دسیوں کتب موجود ہیں ۔  مزید مطالعہ۔۔۔

  • 231 #5738

    مصنف : پروفیسر علی محسن صدیقی

    مشاہدات : 1213

    مقالات تاریخی

    (پیر 04 ستمبر 2017ء) ناشر : قرطاس کراچی
    #5738 Book صفحات: 337

    افراد اور اقوام کی زندگی میں جو انقلابات اور تغیرات واقع ہوتے ہیں، ان سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر وتشکیل اور اپنی قسمت کے بناؤ بگاڑ پر قادر نہیں ہے۔ہر فرد اور ہر قوم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت سے آگے کی جانب قدم نہ  بڑھا سکے تو کم از کم پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور نہ ہو۔اگر ترقی  اور اصلاح کی منازل طے نہ کر سکے تو اپنے آپ کو پستی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔لیکن اس قسم کی کوششیں بارہا ناکام ہو جاتی ہیں۔افراد پر خوشحالی  اور آسودگی کے بعد اکثر اوقات تنگی اور افلاس کا دور آ جاتا ہے۔قومیں عروج وترقی کے بعد محکومی اور ذلت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔لیکن جب کسی گروہ یا خاندان پر خوشحالی اور قوت واقتدار کا ایک طویل دور گزر جاتا ہے تو اس کے افراد اس دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی اور ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہوگی۔اور اگر کبھی شکست کا دور آ جائے تو اسے ایسے اسباب سے نتھی کر دیتے ہیں  جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالاتِ تاریخی‘‘  پروفی...

  • 232 #402

    مصنف : علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    مشاہدات : 20194

    مقدمہ ابن خلدون حصہ اول

    dsa (جمعرات 16 جنوری 2014ء) ناشر : نفیس اکیڈمی کراچی
    #402 Book صفحات: 339

    مؤرخین کی جانب سے تاریخ اسلام پر متعدد کتب سامنے آ چکی ہیں لیکن ایسی کتب معدودے چند ہی ہیں جن میں ایسے اصولوں کی وضاحت کی گئی ہو جن کی روشنی میں معلوم کیا جا سکے کہ بیان کردہ تاریخی واقعات کا تعلق واقعی حقیقت کے ساتھ ہے۔ علامہ ابن خلدون نے تاریخ اسلام پر ’کتاب العبر و دیوان المبتداء والجز فی ایام العرب والعجم والبریر‘ کے نام سے ایک شاندار کتاب لکھی اور اس کے ایک حصے میں وہ اصول اور آئین بتائے جن کے مطابق تاریخی حقائق کو پرکھا جا سکے۔ انہی اصول وقوانین کا اردو قالب ’مقدمہ ابن خلدون‘ کے نام سے آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے رواں دواں ترجمے کےلیے علامہ رحمانی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مقدمے کی تقسیم چھ ابواب اور دو جلدوں میں کی گئی ہے۔ دونوں جلدیں تین، تین ابواب پر محیط ہیں۔ پہلے باب میں زمین اور اس کے شہروں کی آبادی، تمول و افلاس کی وجہ سے آبادی کے حالات میں اختلاف اور ان کے آثار سے بحث کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں بدوی آبادی اوروحشی قبائل و اقوام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے باب میں دول عامہ، ملک، خلافت اور سلطانی مراتب کو قلمبند کرتے ہوئے کسی ب...

  • 233 #5603

    مصنف : اکبر شاہ خاں نجیب آبادی

    مشاہدات : 1300

    مقدمہ تاریخ ہند موسوم بہ نظام سلطنت جلد۔2

    (اتوار 13 اگست 2017ء) ناشر :
    #5603 Book صفحات: 324

    کسی بھی قوم اور ملک کی تاریخ ہی اُن کی عزت وعظمت اور ان کی پہچان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی تاریخ نا رکھتاہو تو اسے عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی تاریخ ہند کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اس میں مذہب‘ تمدن‘ اخل...

  • 234 #6347

    مصنف : ثروت صولت

    مشاہدات : 3322

    ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ جلد اول

    dsa (جمعہ 20 اپریل 2018ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
    #6347 Book صفحات: 339

    اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔ تاہمصدر اسلام میں جب خلفائے راشدین تاریخ اسلام کے ابواب صفحہ ہستی پر منقوش کر رہے تھے تو عجمی دسیسہ کار تاریخ اسلام کے ان زریں اور تابناک ابواب کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات تمام صنف اناث میں ہی نہیں بلکہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں سے شرف مجد میں بلند ترین مقامات پر فائز تھیں۔مگر عجمیت کے شاطر،عیار، اورخبیث افراد نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بڑی چابکدستی سے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور امہات المومنین پر طرح طرح کے بہتانات لگائے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ‘‘ ثروت صولت کی کاوش ہے۔ جس میں ملت اسلامیہ کی پوری تاریخ کو اسلامی نقطۂ نظر سے پرکھ کر پیش کیا ہے اور اس میں امت مسل...

  • 235 #3629

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1838

    موت کی ہوا

    (منگل 29 ستمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور
    #3629 Book صفحات: 26

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "ھولناک طوفان" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی ک...

  • 236 #2961

    مصنف : شیخ محمد اکرم

    مشاہدات : 4514

    موج کوثر

    (اتوار 22 فروری 2015ء) ناشر : ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور
    #2961 Book صفحات: 368

    شیخ محمد اکرام (1908۔1971ء)چک جھمرہ (ضلع لائل پور ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمٹ کالج لاہور اور آکسفورڈ میں تعلیم پائی ۔ 1933ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور سوات ، شولا پور، بڑوچ اور پونا میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پونا کے پہلے ہندوستانی کلکٹر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اطلاعات اور نشریات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پھر وزارت اطلاعات و نشریات کے جائنٹ سیکرٹری اور بعد میں کچھ مدت کے لیے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1955ء سے 1957ء تک مشرقی پاکستان میں متعین رہے ، پہلے کمشنر ڈھاکہ اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ۔1958ء تک محکمہ اوقاف کے ناظم اعلیٰ پاکستان مقرر ہوئے۔دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ہندی مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ لکھی جو تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ آب کوثر ، رود کوثر ، موج کوثر ، غالب اور شبلی کے سوانح بھی مرتب کیے۔ برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک مجموعہ ارمغان پاک مرتب کیا۔ جو1950 ء میں شائع ہوا۔  علمی خدمات کی بنا پر حکومت ایران نے آپ کو نشان سپاس اور حکومت پاکستان ن...

  • 237 #4211

    مصنف : احمد حسین کمال

    مشاہدات : 1830

    مولانا ابو الکلام آزاد نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا؟

    (منگل 09 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور
    #4211 Book صفحات: 140

    برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ جب فرنگی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت تقسیم برصغیر کا پروگرام بنایا اور ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان پسماندہ ہیں اس لیے ان کو چند ایک رعایتوں کے ساتھ اپنا آلہ کار بنا لیا جائے گا۔ مولانا آزادؒ نے جب برطانوی حکومت کی چالوں میں شدّت محسوس کی تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خطرناک چال سے بچانے کے لیے مولانا نے باقاعدہ کوششیں کیں۔ مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نو(9) کروڑ سے زیادہ ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی و معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مولانا کا یہ نظریہ تھا کہ اگر آج ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کر لیں گئے تو وہ فرن...

  • 238 #3628

    مصنف : نعیم احمد بلوچ

    مشاہدات : 1827

    مکار دشمن

    (منگل 29 ستمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور
    #3628 Book صفحات: 34

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "مکار دشمن" محترم نعیم احمد بلوچ صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی...

  • 239 #5976

    مصنف : امتیاز احمد

    مشاہدات : 1789

    مکہ مکرمہ کے چند تاریخی واقعات

    (منگل 07 نومبر 2017ء) ناشر : نا معلوم
    #5976 Book صفحات: 131

    مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کو سب شہروں سےزیادہ محبوب ہے ۔ مسلمانوں کا قبلہ اوران کی دلی محبت کا مرکز ہے حج کا مرکز اورباہمی ملاقات وتعلقات کی آماجگاہ ہے ۔ روزِ اول سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعظیم کے پیش نظر اسے حرم قرار دے دیا تھا۔ اس میں ’’کعبہ‘‘ ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا سب سےپہلا گھر ہے ۔ اس قدیم گھر کی وجہ سےاس علاقے کو حرم کا درجہ ملا ہے۔ اوراس کی ہر چیز کو امن وامان حاصل ہے ۔ حتیٰ کہ یہاں کے درختوں اور دوسری خورد ونباتات کوبھی کاٹا نہیں جاسکتا۔ یہاں کے پرندوں اور جانوروں کوڈرا کر بھگایا نہیں جاسکتا۔ اس جگہ کا ثواب دوسرےمقامات سے کئی گناہ افضل ہے۔ یہاں کی ایک نماز ایک لاکھ نماز کا درجہ رکھتی ہے۔ مکہ مکرمہ کو عظمت، حرمت او رامان سب کچھ کعبہ کی برکت سےملا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’مکہ مکرمہ کے چند تاریخی واقعات‘‘ امتیاز احمد کی ہے۔جس میں مکہ مکرمہ کے چند تاریخی واقعات کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، تا کہ حج و عمرہ کے دوران مسلمان یہ سمجھ سکیں کہ امت مسلمہ کی ب...

  • 240 #6940

    مصنف : بدھا پرکاش

    مشاہدات : 975

    مہاراجا پورس

    (بدھ 24 اپریل 2019ء) ناشر : جمہوری پبلیکیشنز لاہور
    #6940 Book صفحات: 138

    پورس پنجاب کا نامور حکمران۔ اس کی ریاست دریائے جہلم اور چناب کے درمیان واقع تھی۔ جہلم کے پار ٹیکسلا پر راجا امبھی حکمران تھا۔ پورس اور امبھی ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ سکندر اعظم نے ہندوستان پر 327 ق م میں حملہ کیا تو امبھی نے محض پورس سے مخاصمت کی بنا پر سکندر کی اطاعت قبول کی اور سات سو مسلح اور تین ہزار پیادہ فوج اس کی کمان میں دے دی۔ نیز بہت زرو جواہر بھی نذر کیا۔ پورس نے سکندر کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور فوج لے کر جہلم کے کنارے پہنچا۔ رات کی تاریکی میں سکندر کی فوج نے دریا عبور کرکے، اچانک حملہ کر دیا۔ پورس کے جنگی ہاتھی بوکھلا گئے اور انھوں نے اپنی ہی فوج کو روند ڈالا۔ پورس کو شکست ہوئی وہ گرفتار ہو کر سکندر کے سامنے پیش ہوا تو سکندر نے پوچھا ’’اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟‘‘ پورس نے بڑی بہادری سے جواب دیا ’’جو سلوک ایک بادشاہ کو دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ سکندر اس جوب سے خوش ہوا اور پورس کی ریاست اسے واپس کر دی ۔ زیر نظر کتاب ’’ مہاراجا پورس ‘‘ بدھا پرکاش کی انگریزی ...

  • 241 #3627

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1664

    میں سو رہا تھا

    (پیر 28 ستمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور
    #3627 Book صفحات: 18

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "میں سو رہا تھا" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی...

  • 242 #1665

    مصنف : محمد طاہر نقاش

    مشاہدات : 6137

    ناقابل یقین سچائیاں

    (اتوار 21 اپریل 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور
    #1665 Book صفحات: 98

    یہ کتاب جو آپ پڑھنے جا رہے ہیں بنیادی طور پر ایسے محیر العقول لیکن حقیقی واقعات پر مشتمل ہے جو اس دنیا میں پیش آئے لیکن سائنسدان اور مفکرین ان کی کوئی بھی سائنسی اور عقلی توجیہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ واقعات ’کرشمہ قدرت‘ ہیں یا پھر اکیسویں صدی کے انسان کے لیے کھلا چیلنج۔ممکن ہے آج سے کچھ عرصہ بعد سائنس اس قابل ہو جائے کہ اس کے لیے یہ سب کچھ معمہ نہ رہے بلکہ یہ عقدہ وا جائے لیکن فی الوقت دنیا بھر کے مفکرین اور سائنس دانوں کے لیے کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب موجود نہیں۔ بچوں اور بڑوں سب کے لیے یہ کتاب دلچسپی کا باعث ہے۔ کتاب کی تیاری میں ابو عبداللہ۔ محمد طاہر نقاش کا نام رقم ہے۔ اب یہ واضح نہیں ہو رہا کہ ابو عبداللہ، محمد طاہر نقاش کا سابقہ ہے یا وہ الگ مستقل نام ہے۔ اور نہ ہی یہ بات کہیں واضح کرنا مناسب سمجھا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 243 #1605

    مصنف : شاہد بخاری

    مشاہدات : 17153

    نجاشی کا دربار

    (ہفتہ 22 دسمبر 2012ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد
    #1605 Book صفحات: 16

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’نجاشی کا دربار‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا واقعہ مرقوم ہونے کے ساتھ ساتھ ’دنیا کی سخی خاتون‘ ’عدل و انصاف‘ اور ’ایثار‘ کے نام سے بھی بہت سبق آموز واقعات قل...

  • 244 #1666

    مصنف : محمد طاہر نقاش

    مشاہدات : 4551

    ننھی چڑیا کی بیقراری

    (پیر 22 اپریل 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور
    #1666 Book صفحات: 66

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’ننھی چڑیا کی کہانی‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ایک ایسی چڑیا کا تذکرہ کیا گیا ہے جو نبی کریمﷺ کے دور میں زندہ تھی۔ صحابہ نے اس کو دیکھا تھا اور ا س کے دو ننھے منے بچوں کو پکڑ بھی لیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اس ننھی چڑیا کے متعلق اپنے صحابہ سے ایک خاص ارشاد فرمایا۔ یوں اس ننھی و معصوم چڑیا کی داستان ہمیشہ کے لیے کتب احادیث میں محفوظ ہو گئی۔ اس کے علاوہ متعدد واقعات شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ یہ مفید تربیتی کہانیاں ننھے مجاہد اور بعض دوسرے رسائل و جرائد سے اخذ کی گ...

  • 245 #1656

    مصنف : مائل خیرآبادی

    مشاہدات : 4209

    نو ر ایمان سے محروم بدنصیب مجرم لوگ

    (جمعہ 12 اپریل 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور
    #1656 Book صفحات: 58

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے کہانیوں کے انداز میں تاریخ اسلامی کے سچے واقعات قلمبند کیے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں نور ایمان سے محروم رہ جانے والے بدنصیبوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان بدنصیبوں میں ابلیس، قابیل، کنعان، سامری، قارون، عبداللہ بن ابی، مسیلمہ کذاب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
     

  • 246 #1703

    مصنف : ڈاکٹر انعام الحق کوثر

    مشاہدات : 4166

    نیکی کی کلیاں

    (بدھ 29 مئی 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور
    #1703 Book صفحات: 85

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ ادارہ دار الابلاغ نے اس سلسلہ میں بہت اہم قدم اٹھایا ہے اور بچوں کےلیے بہت ساری کہانیاں مرتب کر کے شائع کی ہیں۔ اس حوالے سے محمد طاہر نقاش ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں جن کی شبانہ روز محنتوں سے یہ سلسلہ چلتا رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں اس کا تسلسل آگے بھی برقرار رہے گا۔ زیر نظر کتاب ’نیکی کی کلیاں‘ اسی سلسلہ میں ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی ایک تصنیف ہے موصوف بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ اس کتاب میں بھی بچوں کے لیے متعدد کہانیاں اور واقعات شامل کیے گئے ہیں یہ واقعات اور کہانیاں بچوں کو زندگی گزارنے کا سلیقہ و طریقہ بتاتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 247 #2083

    مصنف : ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی

    مشاہدات : 3755

    نیکی کے سفیر

    (پیر 12 مئی 2014ء) ناشر : دار السلام، لاہور
    #2083 Book صفحات: 176

    انسانی تاریخ سامانِ تفریح نہیں ،سامانِ عبرت ہے۔ہر عقل مند آدمی ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنے حال ومستقبل کی اصلاح کرتا ہے۔گزشتہ نسلوں کے تجربات سے آئندہ نسلوں کو راہِ راست متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔قرآن مجید نے بھی سابقہ اقوام کے تذکرے اسی لئے بیان کئے ہیں ،تاکہ ان سے سبق حاصل کیا جائے اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ زیر نظر کتاب ''نیکی کے سفیر'' سعودی عرب کے معروف عالم دین،واعظ اور مبلغ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن عریفی ﷾کی تصنیف ہے۔آپ ایک درد دل رکھنے والی شخصیت ہیں اور دعوت وتبلیغ کے میدان میں بہت بلند مقام پر فائز ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے تاریخ کے چند سبق آموز واقعات کو جمع فرما دیا ہے اور مسلمانوں کو ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی بڑی درد مندانہ اپیل کی ہے۔کتاب عربی میں ہے جسے اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت معروف مکتبہ دار السلام کے ریسرچ فیلو مولانا تنویر احمد﷾ کے حصے میں آئی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبولیت سے نوازے اور ان کے میزانِ حسنات میں اضافے کا باعث بنائے ۔آمین(راسخ)

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • 248 #2549

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 3486

    واقعہ افک

    (اتوار 26 اکتوبر 2014ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ
    #2549 Book صفحات: 54

    واقعہ افک سیرت نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ منافقین کی طرف سے خانوادہ نبوی کو نشانہ بنانے کی سب سے بڑی کوشش تھی جس میں سیدہ عائشہ پر بدکاری کی تہمت لگائی گئی۔اس الزام کی بنا پر سیدہ اور ان کے گھر والے خصوصاً ان کے والد حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ اور سب سے بڑھ کر ان کے شوہر رسول خدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ذہنی اذیت سے دوچارہوگئے ۔ اس دوران میں تمام مسلمان بھی گومگو اور باہمی اختلاف و انتشار کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ایک مہینے تک بہتان تراشی اور ایذا رسانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد کہیں جاکر سورہ نور کی ابتدائی آیات  میں حضرت عائشہ کی براء ت اللہ تعالیٰ نے خود نازل کی اور یہ طوفان تھما۔اس کے بعد تہمت لگانے والے مسلمانوں کو اسی اسی کوڑے مارے گئے ،جو تہمت لگانے کی شرعی سزا ہے۔یہ ایک صحیح اور ثابت شدہ واقعہ ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید اور متعدد احادیث صحیحہ کے اندر موجود ہے۔مگر بعض عقل پرستوں کو یہ واقعہ سمجھ نہیں آتا ،وہ اس کے راویوں پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے ان احادیث کو سرے سے ہی اڑا دیتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"واقعہ افک"جماعت اہل حدیث...

  • 249 #4160

    مصنف : قاضی محمد اقبال چغتائی

    مشاہدات : 2959

    وسط ایشیاء کے مغل حکمران

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : چغتائی ادبی ادارہ لاہور
    #4160 Book صفحات: 106

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی۔جس کی بنیادظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔مغلیہ سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا۔ تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔مغلوں میں جانشینی کا کوئی قانون نہیں تھا ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رش...

  • 250 #3645

    مصنف : ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    مشاہدات : 1736

    وعدہ

    (منگل 06 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور
    #3645 Book صفحات: 50

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "وعدہ" محترم ڈاکٹر محمد افتخار صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے...

< 1 2 ... 4 5 6 7 8 9 10 11 12 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1690
  • اس ہفتے کے قارئین 9700
  • اس ماہ کے قارئین 54510
  • کل قارئین50250210

موضوعاتی فہرست