دکھائیں کتب
  • 31 انسائکلو پیڈیا تاریخ عالم جلد 1 (پیر 10 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:23049

    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)
     

  • زیر مطالعہ کتاب ابوالحسن علی ندوی کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس میں انھوں نے انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کی خونچکاں داستان رقم کی ہے۔ مصنف نے ان نقصانات کی نشاندہی کی ہے جو مسلمانوں کے تنزل و زوال اور دنیا کی قیادت و رہنمائی سے کنارہ کش ہو جانے سے انسانیت کو پہنچے۔ اس کے لیے انھوں نے عام انسانی تاریخ، نیز اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا اور دکھایا کہ محمد ﷺ کی بعثت کس جاہلی ماحول میں ہوئی پھر آپ کی دعوت و تربیت کے باوصف کس طرح ایک امت تیار ہوئی جس نے دنیا کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی اور اس کے اقتدار و امامت کا دنیا کی تہذیب اور لوگوں کے رجحانات و کردار پر کیا اثر پڑا۔ کس طرح دنیا کا رخ ہمہ گیر خدافراموشی سے ہمہ گیر خدا پرستی کی طرف تبدیل ہوا۔ پھر کس طرح اس امت میں زوال و انحطاط کا آغاز ہوا اور اس کو دنیا کی قیادت و امامت سے ہاتھ دھونا پڑےاور کس طرح یہ قیادت مادہ پرست یورپ کی طرف منتقل ہوئی۔ اس وقت مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے اور وہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکتےہیں۔ ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات اس کتاب کا موضوع ہیں۔ کتاب کی افادیت کا اس سے اندازہ کیجئے کہ اس کے عربی، اردو، انگریزی، ترکی، فارسی اور فرنچ زبان میں تراجم ہوئے اور متعدد ایڈیشن نکلے۔ اردو میں اس کتاب کا یہ گیارہواں ایڈیشن ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 33 انسانی دنیا پر مسلمانوں کےعروج وزوال کا اثر (ہفتہ 01 فروری 2014ء)

    مشاہدات:13955

    جب نبی مکرمﷺ کا دنیا میں بعثت ہوئی اس وقت انسانیت پستی کی آخری حدوں سے بھی آخرتک پہنچ چکی تھی۔ شرک و بدعات، مظالم و عدم مساوات ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے عقائد و اخلاق اس طور سے سنوارے کہ کل کے راہزن آج کے راہبر بن چکےتھے۔ نبی کریمﷺ کی تشکیل کردہ اسلامی تہذیب نے دنیا کے تمام معاشروں پر نہایت گہرے اثرات ثبت کئے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جہاد، تقویٰ و للہیت ایک اجنبی تصور بن گئے تو امت کا انحطاط وزوال شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب میں ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ نے امت کے اسی عروج و زوال کو حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام سے پہلے کی معاشرت کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس کا  محمدی معاشرے سے تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں اس عروج کی خوش کن داستان کے بعد دنیا کی امامت و قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے جاتی رہی، زمام اقتدار کس طرح مادہ پرست یورپ کے ہاتھ میں آئی۔ اور ایسے میں مسلمانوں کا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام خیالات کو مولانا احسن انداز میں الفاظ کا زیور پہنایا ہے۔
     

  • 34 انوکھے مہمان (قصہ سیدنا اسحٰق علیہ السلام) (بدھ 06 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1975

    سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ کا اسم گرامی آیا ہے۔ اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی۔ جب حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے۔‘‘ سیدنا ابراہیم ﷤ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ فرشتوں کا ان کے پاس انسانی صورت میں مہمان بن کرآنا اور انہیں بڑھاپے میں بیٹے کی خوشخبری دینا اور قوم...

  • 35 اور اندھیرے چھٹ گئے (جمعہ 08 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1602

    ابو لبشر سیدنا آدم﷤اللہ کے اولین پیغمبر ہیں ۔قرآن مجید میں ہے کہ آدم﷤ کی تخلیق مٹی سے ہوئی۔تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم﷤ کو خلفیۃ اللہ فی الارض قرار دیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کرو۔ ابلیس کے سوا تمام فرشتے سربسجود ہوگئے۔ ابلیس نافرمانی کے سبب راندۂ دربار ٹھہرا۔ حضرت آدم﷤ اور ان کی بیوی ہوا جنت میں رہتے تھے۔ ان دونوں کو حکم ہوا کہ جنت کی جو نعمت چاہو، استعمال کرو مگر اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان کے بہکانے پر انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا۔اس پاداش میں حضرت آدم ؑ اور حضرت حواؑ کو جنت سے زمین کی طرف بھیج دیا گیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’ اور اندھیرے چھٹ گئے‘‘ جناب نعیم احمد بلوچ صاحب کی کاوش ہے اور دار السلام کی بچوں کے لیے سیریز سلسلہ واقعات انبیاء ،بچوں کے لیے سچی کہانیاں میں سے ہے۔ یہ کتابچہ سیدنا آدم ﷤ کے قصہ کا تیسرا حصہ ہے ۔مرتب نے بڑے دلچسپ انداز میں سیدنا آدم﷤ کے مکمل قصہ کو ایک کہانی کی صورت اس انداز سے پیش کیا کہ ہرکوئی بڑے شوق سے اسے پڑھ سکتا ہے۔ بالخصوص بچوں کےلیے یہ کہانیاں اپنے اندر بڑی دلچسپی کا ساماں رکھتی ہیں۔ دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے   انبیاء کے قصص واقعات کو پڑھنے کی ترغیب دیں ۔(م۔ا)

  • 36 اوراق ہند (بدھ 18 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:651

    لفظ "ہند" عرب کے لوگ فارس اور عرب کے مشرقی علاقے میں آباد قوموں کے لیے استعمال کرتے تھے اور اسی سے ہندوستان کی اصطلاح برصغیر کے بیشتر علاقے کے لیے استعمال ہونا شروع ہو گئی۔ مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے تحت بادشاہتِ ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں۔ آخر برصغیر پاک و ہند کا سارا علاقہ برطانوی تسلط میں آ کر "برطانوی انڈیا" یا "ہندوستان" کہلانے لگا۔ یہ صورتِ حال 1947ء تک برقرار رہی۔ اس میں موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان شامل تھے۔ 1947ء کے بعد یہاں دو ملک بن گئے جنہیں بھارت اور پاکستان کہا گیا۔ بعد ازاں پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے علاحدہ ہو گئےہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب’’اوراق ہند ‘‘ ہندوستان کی تاریخ کے متعلق ایک مغربی مصنف والتیئر کا تحریر کردہ ایک تاریخی اور ادبی شاہکار ہے ۔ جس کی حمیرا اشفاق نے ترتیب وتدوین کی ہے ۔ مصنف نے اس چھوٹی سی کت...

  • 37 اپنا گھر (اتوار 20 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2007

    اخلاقی خرابیاں، معاشرے کودیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔ لگائی بجھائی ،سنی سنائی باتوں پر یقین اور غیبت کی آنچ رشتوں کو جھلسا کےرکھ دیتی ہے ۔عورت ،معاشرے کی اساس ہے کسی بھی خاندان میں اس کا کردار انتہائی کلیدی  ہوتا ہے ۔اس کی خوبیاں گھروں میں اجالا بھر دیتی ہیں ، کہیں وہ نیکی کی تصویر نظر آتی ہے تو کہیں عفت کی تدبیر کہیں مہر وفا کا پیکر توکہیں صبر وایثار کا مظہر۔ لیکن یہی عورت جب کج فہمی  کامظاہرہ کرتی ہے ۔ دوسروں کے کہے  پر بغیر سوچے سمجھے ایمان لے آتی ہے اپنی اوردوسروں کی زندگی  کوشک کے زہر سے آلودہ کر دیتی  ہے  تو پھراپنے گھر کے کیف آمیز ہنستے بستے ماحول کو اجاڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ایسے میں صرف تحمل ،بردباری اور سمجھداری جیسی صفات سے حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اپنی غلطی کا احساس او ران کااعتراف کرلینا ، بگاڑ کے اثرات کو زائل کرنے میں بہت مدددیتا ہے  ۔ اور یہی سب سے  قیمتی اور بنیادی حقیقت ہے ۔ ندامت کے آنسوؤں کی بارش گناہوں کودھو ڈالتی ہے دلوں کے میل بہا لےجاتی ہے ۔رشتوں کا تقدس بحال ہوجاتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اپناگھر‘‘  محترمہ مسرت کلانچوی کی  کاوش ہے  یہ ایک اصلاحی نوعیت کی  کتاب  ہے   مصنفہ نے  اسے  ایک ڈراما کی صورت میں تحریر کیا ہے ۔یہ کتاب رشتوں کی نزاکت آمیز پیچیدگیوں پر مبنی ایک اصلاحی اور منفرد کتاب ہے ۔کہ اس کا مطالعہ  کرنے والا اس کے گہرے اور مثبت اثرات سے انکار نہیں کر سکے گا۔ڈراماکی طرز پر تحریر شدہ یہ کتاب خواتین کے لیے مشعل راہ کی...

  • 38 ایوبی کی یلغاریں (ہفتہ 25 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:19411

    اسلامی تاریخ میں جو شخصیات مسلمانوں کےلیے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں ایک نمایاں نام سلطان یوسف المعروف صلاح الدین ایوبی کا ہے جنہوں نے اپنی بے مثال شجاعت اور جرأت واستقلال سے قبلۂ اول فلسطین کو صلیبیوں کے پنجۂ استبداء سے آزادکروایا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کی پوری زندگی ان کے دلیرانہ اور بہادرانہ کارناموں سے بھری پڑی ہے موصوف نے ہمیشہ ملت کے دفاع کااور اسلام کی سربلندی کےلیے اپنی شمشیر کو بے نیام کرتے ہوئے میدان قتال مین دادشجاعت دی ہے زیر نظر کتاب میں ان کی زندگی کے آخری چھ سالوں کے مختلف واقعات کو جمع کیا گیا ہے جو سلطان کی حیات کے سب سے قیمتی اور یادگار ایام ہیں کہ جن میں انہوں نے مسلسل صلیبیوں سے گھیر گھیر کر ان کا شکار کرتے ہوئے بیت المقدس کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے کےلیے اللہ کے گھر کی عزت وناموس کی رکھوالی کے لیے  دن رات اپنی جان ہتھیلی پرلیے شمشیروں کی چھاوں میں ،تیروں کی بارش میں ،نیزوں کی انیوں میں،گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر اس کو شمن کی صفوں  میں سرمیٹ دوڑاتے ہوئے تلوار بلند کرتے ہوئے اللہ کے باغیوں ،کافروں ،ظالموں کی گردنیں اڑاتے ہوئے بسرکیا زیر نظر صفحات میں آپ کو یہی نظارے نظر آئیں گے۔


     

  • 39 ایک داستان عبرت (اتوار 23 جون 2013ء)

    مشاہدات:3678

    قصوں اور داستانوں سے انسان کی دلچسپی نیز اس کی اثر انگیزی اور سبق آموز کسی رد وقدح  اور اختلاف کے بغیر ایک تسلیم شدہ امر ہے۔ اللہ کا کلام قرآن مجید قصوں کی اہمیت پر شاہد عدل ہے۔ یہ کتابچہ  ’’ ایک داستان عبرت ‘‘  (ابو طالب کی وفات کا قصہ ) درحقیقت سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  بلکہ تاریخ اسلام کا ایک عبرتناک واقعہ کی تحقیق پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا مطالعہ کرنے والے تمام افراد کےلیے باعث ہدایت ونجات اور دنیا وآخرت میں نافع وکار آمد بنائے۔ آمین





     

  • 40 بادشاہ نامہ (جمعرات 19 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:966

    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ بادشاہ نامہ ‘‘ ٹی ۔ایس ۔ مارٹن کی ہندوستانی حکمرانوں کے متعلق  انگریزی  تصنیف کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ انگریزی اردو ترجمہ  محمد مجیب نےکیا  ہے ۔مصنف نےاس  کتاب میں ہندوستان کے عظیم حکمرانوں کی زندگی ، عہد اور کارناموں کو پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1952
  • اس ہفتے کے قارئین: 16680
  • اس ماہ کے قارئین: 35973
  • کل قارئین : 47826787

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں