شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

27 کل کتب
دکھائیں

  • 1 تفسیر قرطبی (اتوار 20 مئی 2012ء)

    مشاہدات:23292

    ’تفسیر قرطبی‘ ایک ایسا نام ہے جو گزشتہ آٹھ صدیوں سے اہل علم کے ہر طبقہ میں یکساں مقبول ہے۔ اس کی جامعیت اور علمی وسعت کے پیش نظر اگر اسے مسلم سپین کی تہذیب و ثقافت کی درخشاں یادگار تالیف کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔ کہنے کو تو یہ بھی قرآن کریم کے قانونی مطالعہ کی کتاب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مطالعہ قرآن کا قانونی پہلو ہو یا عام تفسیری انداز، تفسیر قرطبی علوم اسلامیہ کے تمام پہلوؤں پر ایک جامع دستاویز ہے۔ فقہ و اصول فقہ میں تمام مروجہ مکتب ہائے فکر کا تقابلی مطالعہ اس کا امتیاز ہے۔ اس طرح قانون دان طبقہ کے لیے یہ کتاب حوالہ کا درجہ رکھتی ہے، علما و محققین کے لیے علوم دینیہ کا دائرہ معارف ہے، خطبا اور واعظین کے لیے لا تعداد موضوعات کا خزینہ ہے اورذاکرین کے لیے فضائل و معارف کا مجموعہ ہے۔ اردودان طبقہ کی سہولت کے لیے اس کو اردو قالب میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ترجمہ میں آسان اردو محاورہ استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ احادیث کی تخریج حتی الامکان مستند کتب سے کی گئی ہے اور حسب ضرورت توضیحی حواشی کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کےتعلیمی مراحل اور علمی مقام کا ایک مربوط خاکہ ان کی اپنی تالیفات کے شواہد کے ساتھ شروع میں پیش کردیا گیا ہے۔ (ع۔ م)
     

  • 2 بین الاقوامی تعلقات (اتوار 26 اگست 2012ء)

    مشاہدات:15424

    جدید دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کاتعین اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل تو کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی مگر اسلام نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ’یا ایہا الناس‘ کے خطاب سے آج سے پندریاں صدیاں قبل ہی اس کی طُرح ڈال دی تھی۔ اسلام کا نظام بین الاقوامی تعلقات زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس حقائق، صدیوں کے تجربات اور عملی کامیابی کے ساتھ نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ اس موضوع پر ایک وسیع اور ضخیم لٹریچر اس کا دستاویزی سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر وحبہ زحیلی نے اسی موضوع پر ایک ضخیم کتاب ’العلاقات الدولیۃ فی الاسلام‘ کے نام سے لکھی۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا حکیم اللہ نے زیر نظر کتاب کی صورت میں کیا۔ ڈاکٹر وحبہ زہیلی کی یہ کتاب اسلام کے بین الاقوامی تعلقات کے نظام پر ایک قابل قدر کاوش ہے جس میں اسلامی قواعد و ضوابط کا جدید بین الاقوامی قانون کے ساتھ موازنہ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ایک تمہید اور دو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں حالت جنگ میں بین الاقوامی تعلقات کا تذکرہ ہے۔ اس میں پانچ مباحث کے تحت جنگ کے حالات، اس کی ابتدا اور انتہا اور قواعد و ضوابط کا بیان ہے جبکہ دوسرا باب حالت امن میں بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط پر مشتمل ہے۔ اس میں متعدد مباحث کے تحت اسلام کے مزاج امن، دارالاسلام اور دارالحرب  کی تقسیم کی منطق اور بین الاقوامی تعلقات کے قیام کے اصول و ضوابط اور عالم اسلام کے علمی تجربات کی تفصیل موجود ہے۔ جدید بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اس کتاب میں قارئین کے لیے بہت کچھ ہے۔(ع۔م)
     

  • فقہا کی اختلافی آرا اور ان کے دلائل کاتنقیدی مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ تیسری اور چوتھی صدی کے فقہا نے اس موضوع کی طرف توجہ کی اور اختلاف فقہا پر مستقل کتابیں لکھیں۔ محمدبن نصر المروزی، محمد بن جریر طبری اور ابو جعفراحمد بن محمد الطحاوی نے اس موضوع پر بسیط کتب تحریر فرمائیں۔ برصغیر کے معروف فقیہ شاہ ولی اللہ نے اس موضوع پر دو رسالے تحریر فرمائے۔ ایک رسالہ تو اجتہاد و تقلید پر اصولی بحث ہے لیکن اس کتاب کا ایک باب اختلاف فقہا اور اس کے اسباب و علل پر ہے۔ شاہ صاحب کا دوسرا رسالہ ’رسالہ الانصاف فی بیان سبب الاختلاف‘ ہے۔ اس رسالہ میں ائمہ فقہا کے اسباب و علل پر بھی گفتگو کی ہے اور بعض اہم فقہی فقہی مسالک میں تطبیق کی سعی بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی پروفیسر مصطفیٰ سعید الخن نے اس موضوع پر اسلاف کے ذخیرہ علم کو پیش نظر رکھ کر قواعد اصولیہ کا علمی جائزہ لیا ہے اور قواعد اصولیہ میں اختلاف کی وجہ سے جو اثرات اختلاف الفقہا پر مرتب ہوئے ہیں ان کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی علمی حیثیت اور موجودہ دور میں اس کی افادیت کے پیش نظر شریعہ اکیڈمی نے اس کا اردو ترجمہ کرایا ہے۔ شریعہ اکیڈمی کے فاضل نوجوان مولانا حبیب الرحمٰن نے اس کتا ب کو اردو میں ترجمہ کرنے کا کام سرانجام دیا ہے۔ اصول فقہ اور قواعد اصولیہ کے فنی مباحث کو بڑی محنت سے انھوں نے رواں اردو میں منتقل کیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 4 رسول اللہ ﷺ بحیثیت شارع و مقنن (جمعہ 11 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3527

    نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ پور ی انسانیت کےلیے زندگی کے تما م مراحل عبادات ،معاملات، اخلاقیات ، عدل وقضا وغیرہ میں اسوۂ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اسلام میں رسول اللہﷺ کاشارع و مقنن ہونا ایک قطعی اور مسلمہ حقیت ہے ۔آپ ﷺکے حقِّ تشریع وتقنین کو قرآن کریم نے کئی جہتوں سے بیان کیا ہے ۔ لیکن بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیاجاتا ہے کہ قرآن وسنت کی راہنمائی صرف عبادات تک محدود ہے او رجہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے وہاں انسان اپنے امور خود طے کرسکتا ہے ، اسے وحی کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔زیر نظر کتاب کا بنیادی مقصد اسی غلط فہمی کا ازالہ ہے یہ دراصل ان نامور اسلامی سکالرزاور اہل علم کے مضامین کا مجموعہ ہے جن کی علمی وفکر ی حیثیت مسلمہ ہے ۔ شریعہ اکیڈمی اسلام آبا د نے درج ذیل منتخب مضامین ومقالات میں بعض مقامات پر ضروری حوالہ جات اور تخریج وحواشی کا اضافہ کر کے خوبصورت انداز میں طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔1۔عہد نبوی میں نظام تشریع وعدلیہ؍ڈاکٹر حمید اللہ 2۔رسول اللہﷺ بحیثیت قانون دان؍ جسٹس شیخ عبد الحمید3۔رسول اللہﷺ بحیثیت شارع ومقنن؍ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی۔5۔ رسول اللہﷺ اور قانون بین الممالک؍ڈاکٹر محمود غازی ۔امید ہے کہ شریعہ اکیڈمی کی یہ کاوش نہ صرف اہل علم او رقانون دان حضرات کےلیے مفید ہو گی بلکہ عام حضرت بھی اس سے مستفید ہوکر سنتِ رسولﷺ کی دستوری وتشریعی حیثیت کودلائل کی روشنی میں سمجھ سکیں گے ۔(م۔ا)

     

  • 5 راست روی بنیادی اصول اور عملی وسائل (اتوار 15 جون 2014ء)

    مشاہدات:1693

    اعتدال اور میانہ روی امتِ مسلمہ کی وہ خصوصیت ہے جو اسے دیگر اقوام اور ملل سے ممتاز کرتی ہے ۔ دور ِحاضر میں عدم براداشت رواداری،مذہبی انتہا پسندی اور مسلکی تعصبات مسلم معاشروں میں تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں ،نوجوان طبقہ بالخصوس بے راہ روی اور فکری پراگندگی کاشکار نظر آتا ہے ۔ اس صورت ِحال کے تباہ کن نتائج کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب '' راست روی بنیادی اصول اور عملی وسائل ''ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریویش﷾ کی تالیف ہے ۔ جس میں قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں راست روی کے بنیادی اصول اور اس کے عملی طریق کار پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے ۔امید ہے یہ کاوش اس فکری انتشار،تعصب،عدم برداشت اور عدم رواداری کے ماحول میں معاشرے میں توازن، عتدال ،برداشت اور راست روی کی اقدار کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریویش اسلامی فقہ کے پروفیسر، نامور مصنف اور اسلامی سکالر ہیں ۔ امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے سابق نائب صدر اور ستمبر 2012ء سے بین الاقوامی یونیورسٹی ،اسلام آباد کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ دورِ حاضر کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کئی موضوعات پر آپ کی چالیس سے زائد تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ (م۔ا)

     

  • 6 پاکستان میں حدود قوانین (بدھ 09 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2445

    اسلام نے اپنے اصول حکمرانی  میں عدل وانصاف کو بے  پناہ اہمیت دی ہے۔ یہ ایسا الٰہی نظام حیات ہے جس کامزاج انسانوں کے خود ساختہ رائج الوقت قوانین سے اس لحاظ سے بھی  مختلف ہے کہ یہ تمام انسانی  قوانین سے ممتازاور ہردو ر،ہر زمانے  کےتقاضے پورے کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اہل  پاکستان کی مسلسل یہ خواہش اورکوشش رہی  ہے کہ اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں آئے۔زیر نظر کتاب ’’پاکستان  میں حدود قوانین‘‘اسلام کے فوجداری قانون ،بنیادی تصورات اور عملی تطبیق کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے ۔جوکہ  شریعہ اکیڈمی  ،اسلام آباد کی طرف سے اس موضوع پر  جولائی2005ء میں  منعقد  کی جانے والی کانفرنس میں  علماء کرام  ،معروف اسکالرزاور قانون دان حضرت کی طرف سے  پیش کیے جانے محاضرات ومقالات پرمشتمل ہے جسے  شہزاد اقبال  شام (اسسٹنٹ پروفیسر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی  اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد ) نے مرتب کیا ہے اور شریعہ اکیڈمی  نے افادہ عام کےلیے اسے طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالی اس کوشش کو ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ  میں پیش رفت کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • 7 جامع الاصول ( الوجیز فی اصول الفقہ ) جدید ایڈیشن (جمعرات 16 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:4875

    وہ علم جس  میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے ، استدلال  کے  مراتب اور استدلال کی شرائط سےبحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے  معین قواعد کا استخراج کیا جائے  کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے  مجتہد  تفصیلی  دلائل سے احکام  معلوم کرے ، اس علم کا  نام اصول فقہ ہے ۔علامہ  ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے  سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور  فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص:452)جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے  اس زبان کے قواعد واصول  کو سمجھنا ضروری ہے  اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل  کرنےکے لیے  اصول  فقہ  میں دسترس  اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے  اس علم کی اہمیت  کے  پیش نظر  ائمہ فقہاء و محدثین نے  اس موضوع پر  کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً  امام شافعی نے الرسالہ کے  نام سے    کتاب تحریرکی  پھر اس کی روشنی میں  دیگر اہل  علم نے کتب  مرتب کیں۔ اصول  فقہ کی تاریخ میں  بیسویں صدی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ا  س دور میں علم اصول فقہ نےایک نئی اٹھان لی اوراس بر کئی جہتوں سے کام کاآغاز ہوا:مثلاً تراث کی تنقیح وتحقیق ،اصول کاتقابلی مطالعہ ،راجح مرجوح کاتعین اور مختلف کتب میں بکھری مباحث کو  یک جا پیش کرنےکے ساتھ  ساتھ  موجودہ قانونی اسلوب اور سہل زبان میں پیش کرناوغیرہ ۔اس میدان میں کام کرنےوالے اہ...

  • تاریخ اسلامی میں ساتویں صدی ہجری اپنے دامن میں امت مسلمہ کے لئے گہرا  درس عبرت رکھتی ہے۔جس میں مسلمانوں کو بغداد میں اقتدار واختیارات سے ہاتھ دھونا پڑے۔سیاسی شکست وریخت نے نہ صرف سر زمین عراق بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نفسیات پر انتہائی گہرا اثر ڈالا،اس تمام تر دباو کے باوجود بعض ایسے صاحب فکرونظر بھی پیدا ہوئے جنہوں نے امت مسلمہ کے جسد میں نئی روح پھونکی،علمی اور فکری میدان میں ان کی بھر پور راہنمائی کی ،ان کے قلب ونظر کو نئی جلا بخشی اور ان کے عزم واعتماد کو بحال کیا۔ایسی دانشور ہستیوں میں سے ایک امام ابو العباس احمد بن ادریس  قرافی مالکی ﷫کی شخصیت بھی ہے۔جنہوں نے علم وعمل کی دنیا میں گہرے نقوش چھوڑے اور امت کی علمی وفکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام وتصرفات القاضی والامام " امام قرافی ﷫کی وہ شاندار اور منفرد تصنیف ہے جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہونے والے ساتھ مختلف مسائل  سے متعلق چالیس سوالات کے جوابات اور تبادلہ خیال کو جمع کرتے ہوئے مرتب فرمائی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے حاکم عدالت کے فیصلے کی حقیقت ،حاکم اور مفتی کا دائرہ کار،مفتی ،قاضی اور سربراہ مملکت کے اختیارات،اجتہادی مسائل اور حاکم کا فیصلہ،اختلافی مسائل اور حاکم کا فیصلہ نبوت اور رسالت میں فرق،رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی مختلف حیثیتیں،حاکم کے فیصکے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار اور نبی کریم ﷺ کے تصرفات کی مختلف جہات جیسی اہم ترین مباحث کوبیان کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفر د اور عظیم الشان تصنیف ہے۔ا...

  • 9 اسلامی نظریہ ضرورت (جمعرات 28 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1948

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے آغاز سے ہی اس طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔چنانچہ فقہ اسلامی  کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کے علاوہ اساسی کتب کے تراجم اور جدید اسلوب میں شریعہ مونو گرافکس کی ترتیب واشاعت کاکام بھی جاری وسار ی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی نظریہ ضرورت " بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے،جس میں اسلامی نظریہ ضرورت پر جدید اسلوب میں بحث کی گئی ہے۔یہ کتاب محترم ڈاکٹر عبد المالک عرفانی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ضرورت،اکراہ،ضرر ،مشقت،حاجت ،عموم البلوی،خصوص البلوی،حرج ،خوف ،فساد اور تخفیف ورخصت کی مباحث پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرم...

  • 10 عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید (بدھ 17 جون 2015ء)

    مشاہدات:3592

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘رہی ہے۔ موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا  ہے ۔ امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید ‘‘امام الہند سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صاحب نے کیا ہے۔سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ان نامور مصلحین ومجددین میں سے ہیں جنہوں نے برصغیر میں قرآن وسنت کی حقیقی تعلیمات کو متعارف کروایا۔آپ نے برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار قرآن وسنت اور حدیث وسیرت کو اساس قرار دیا۔آپ کے خاندان نے قرآن وسنت کی جو بے مثال خدمت کی ہے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2034
  • اس ہفتے کے قارئین: 6155
  • اس ماہ کے قارئین: 45723
  • کل قارئین : 47262720

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں