شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

  • 1 تفسیر قرطبی (اتوار 20 مئی 2012ء)

    مشاہدات:22360

    ’تفسیر قرطبی‘ ایک ایسا نام ہے جو گزشتہ آٹھ صدیوں سے اہل علم کے ہر طبقہ میں یکساں مقبول ہے۔ اس کی جامعیت اور علمی وسعت کے پیش نظر اگر اسے مسلم سپین کی تہذیب و ثقافت کی درخشاں یادگار تالیف کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔ کہنے کو تو یہ بھی قرآن کریم کے قانونی مطالعہ کی کتاب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مطالعہ قرآن کا قانونی پہلو ہو یا عام تفسیری انداز، تفسیر قرطبی علوم اسلامیہ کے تمام پہلوؤں پر ایک جامع دستاویز ہے۔ فقہ و اصول فقہ میں تمام مروجہ مکتب ہائے فکر کا تقابلی مطالعہ اس کا امتیاز ہے۔ اس طرح قانون دان طبقہ کے لیے یہ کتاب حوالہ کا درجہ رکھتی ہے، علما و محققین کے لیے علوم دینیہ کا دائرہ معارف ہے، خطبا اور واعظین کے لیے لا تعداد موضوعات کا خزینہ ہے اورذاکرین کے لیے فضائل و معارف کا مجموعہ ہے۔ اردودان طبقہ کی سہولت کے لیے اس کو اردو قالب میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ترجمہ میں آسان اردو محاورہ استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ احادیث کی تخریج حتی الامکان مستند کتب سے کی گئی ہے اور حسب ضرورت توضیحی حواشی کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کےتعلیمی مراحل اور علمی مقام کا ایک مربوط خاکہ ان کی اپنی تالیفات کے شواہد کے ساتھ شروع میں پیش کردیا گیا ہے۔ (ع۔ م)
     

  • 2 بین الاقوامی تعلقات (منگل 18 فروری 2014ء)

    مشاہدات:14652

    جدید دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کاتعین اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل تو کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی مگر اسلام نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ’یا ایہا الناس‘ کے خطاب سے آج سے پندریاں صدیاں قبل ہی اس کی طُرح ڈال دی تھی۔ اسلام کا نظام بین الاقوامی تعلقات زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس حقائق، صدیوں کے تجربات اور عملی کامیابی کے ساتھ نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ اس موضوع پر ایک وسیع اور ضخیم لٹریچر اس کا دستاویزی سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر وحبہ زحیلی نے اسی موضوع پر ایک ضخیم کتاب ’العلاقات الدولیۃ فی الاسلام‘ کے نام سے لکھی۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا حکیم اللہ نے زیر نظر کتاب کی صورت میں کیا۔ ڈاکٹر وحبہ زہیلی کی یہ کتاب اسلام کے بین الاقوامی تعلقات کے نظام پر ایک قابل قدر کاوش ہے جس میں اسلامی قواعد و ضوابط کا جدید بین الاقوامی قانون کے ساتھ موازنہ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ایک تمہید اور دو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں حالت جنگ میں بین الاقوامی تعلقات کا تذکرہ ہے۔ اس میں پانچ مباحث کے تحت جنگ کے حالات، اس کی ابتدا اور انتہا اور قواعد و ضوابط کا بیان ہے جبکہ دوسرا باب حالت امن میں بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط پر مشتمل ہے۔ اس میں متعدد مباحث کے تحت اسلام کے مزاج امن، دارالاسلام اور دارالحرب  کی تقسیم کی منطق اور بین الاقوامی تعلقات کے قیام کے اصول و ضوابط اور عالم اسلام کے علمی تجربات کی تفصیل موجود ہے۔ جدید بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اس کتاب میں قارئین کے لیے بہت کچھ ہے۔(ع۔م)
     

  • فقہا کی اختلافی آرا اور ان کے دلائل کاتنقیدی مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ تیسری اور چوتھی صدی کے فقہا نے اس موضوع کی طرف توجہ کی اور اختلاف فقہا پر مستقل کتابیں لکھیں۔ محمدبن نصر المروزی، محمد بن جریر طبری اور ابو جعفراحمد بن محمد الطحاوی نے اس موضوع پر بسیط کتب تحریر فرمائیں۔ برصغیر کے معروف فقیہ شاہ ولی اللہ نے اس موضوع پر دو رسالے تحریر فرمائے۔ ایک رسالہ تو اجتہاد و تقلید پر اصولی بحث ہے لیکن اس کتاب کا ایک باب اختلاف فقہا اور اس کے اسباب و علل پر ہے۔ شاہ صاحب کا دوسرا رسالہ ’رسالہ الانصاف فی بیان سبب الاختلاف‘ ہے۔ اس رسالہ میں ائمہ فقہا کے اسباب و علل پر بھی گفتگو کی ہے اور بعض اہم فقہی فقہی مسالک میں تطبیق کی سعی بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی پروفیسر مصطفیٰ سعید الخن نے اس موضوع پر اسلاف کے ذخیرہ علم کو پیش نظر رکھ کر قواعد اصولیہ کا علمی جائزہ لیا ہے اور قواعد اصولیہ میں اختلاف کی وجہ سے جو اثرات اختلاف الفقہا پر مرتب ہوئے ہیں ان کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی علمی حیثیت اور موجودہ دور میں اس کی افادیت کے پیش نظر شریعہ اکیڈمی نے اس کا اردو ترجمہ کرایا ہے۔ شریعہ اکیڈمی کے فاضل نوجوان مولانا حبیب الرحمٰن نے اس کتا ب کو اردو میں ترجمہ کرنے کا کام سرانجام دیا ہے۔ اصول فقہ اور قواعد اصولیہ کے فنی مباحث کو بڑی محنت سے انھوں نے رواں اردو میں منتقل کیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 4 رسول اللہ ﷺ بحیثیت شارع و مقنن (جمعہ 11 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2534

    نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ پور ی انسانیت کےلیے زندگی کے تما م مراحل عبادات ،معاملات، اخلاقیات ، عدل وقضا وغیرہ میں اسوۂ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اسلام میں رسول اللہﷺ کاشارع و مقنن ہونا ایک قطعی اور مسلمہ حقیت ہے ۔آپ ﷺکے حقِّ تشریع وتقنین کو قرآن کریم نے کئی جہتوں سے بیان کیا ہے ۔ لیکن بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیاجاتا ہے کہ قرآن وسنت کی راہنمائی صرف عبادات تک محدود ہے او رجہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے وہاں انسان اپنے امور خود طے کرسکتا ہے ، اسے وحی کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔زیر نظر کتاب کا بنیادی مقصد اسی غلط فہمی کا ازالہ ہے یہ دراصل ان نامور اسلامی سکالرزاور اہل علم کے مضامین کا مجموعہ ہے جن کی علمی وفکر ی حیثیت مسلمہ ہے ۔ شریعہ اکیڈمی اسلام آبا د نے درج ذیل منتخب مضامین ومقالات میں بعض مقامات پر ضروری حوالہ جات اور تخریج وحواشی کا اضافہ کر کے خوبصورت انداز میں طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔1۔عہد نبوی میں نظام تشریع وعدلیہ؍ڈاکٹر حمید اللہ 2۔رسول اللہﷺ بحیثیت قانون دان؍ جسٹس شیخ عبد الحمید3۔رسول اللہﷺ بحیثیت شارع ومقنن؍ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی۔5۔ رسول اللہﷺ اور قانون بین الممالک؍ڈاکٹر محمود غازی ۔امید ہے کہ شریعہ اکیڈمی کی یہ کاوش نہ صرف اہل علم او رقانون دان حضرات کےلیے مفید ہو گی بلکہ عام حضرت بھی اس سے مستفید ہوکر سنتِ رسولﷺ کی دستوری وتشریعی حیثیت کودلائل کی روشنی میں سمجھ سکیں گے ۔(م۔ا)

     

  • 5 راست روی بنیادی اصول اور عملی وسائل (اتوار 15 جون 2014ء)

    مشاہدات:1279

    اعتدال اور میانہ روی امتِ مسلمہ کی وہ خصوصیت ہے جو اسے دیگر اقوام اور ملل سے ممتاز کرتی ہے ۔ دور ِحاضر میں عدم براداشت رواداری،مذہبی انتہا پسندی اور مسلکی تعصبات مسلم معاشروں میں تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں ،نوجوان طبقہ بالخصوس بے راہ روی اور فکری پراگندگی کاشکار نظر آتا ہے ۔ اس صورت ِحال کے تباہ کن نتائج کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب '' راست روی بنیادی اصول اور عملی وسائل ''ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریویش﷾ کی تالیف ہے ۔ جس میں قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں راست روی کے بنیادی اصول اور اس کے عملی طریق کار پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے ۔امید ہے یہ کاوش اس فکری انتشار،تعصب،عدم برداشت اور عدم رواداری کے ماحول میں معاشرے میں توازن، عتدال ،برداشت اور راست روی کی اقدار کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریویش اسلامی فقہ کے پروفیسر، نامور مصنف اور اسلامی سکالر ہیں ۔ امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے سابق نائب صدر اور ستمبر 2012ء سے بین الاقوامی یونیورسٹی ،اسلام آباد کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ دورِ حاضر کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کئی موضوعات پر آپ کی چالیس سے زائد تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ (م۔ا)

     

  • 6 پاکستان میں حدود قوانین (بدھ 09 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:1881

    اسلام نے اپنے اصول حکمرانی  میں عدل وانصاف کو بے  پناہ اہمیت دی ہے۔ یہ ایسا الٰہی نظام حیات ہے جس کامزاج انسانوں کے خود ساختہ رائج الوقت قوانین سے اس لحاظ سے بھی  مختلف ہے کہ یہ تمام انسانی  قوانین سے ممتازاور ہردو ر،ہر زمانے  کےتقاضے پورے کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اہل  پاکستان کی مسلسل یہ خواہش اورکوشش رہی  ہے کہ اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں آئے۔زیر نظر کتاب ’’پاکستان  میں حدود قوانین‘‘اسلام کے فوجداری قانون ،بنیادی تصورات اور عملی تطبیق کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے ۔جوکہ  شریعہ اکیڈمی  ،اسلام آباد کی طرف سے اس موضوع پر  جولائی2005ء میں  منعقد  کی جانے والی کانفرنس میں  علماء کرام  ،معروف اسکالرزاور قانون دان حضرت کی طرف سے  پیش کیے جانے محاضرات ومقالات پرمشتمل ہے جسے  شہزاد اقبال  شام (اسسٹنٹ پروفیسر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی  اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد ) نے مرتب کیا ہے اور شریعہ اکیڈمی  نے افادہ عام کےلیے اسے طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالی اس کوشش کو ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ  میں پیش رفت کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • 8 جامع الاصول ( الوجیز فی اصول الفقہ ) جدید ایڈیشن (جمعرات 16 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:3472

    وہ علم جس  میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے ، استدلال  کے  مراتب اور استدلال کی شرائط سےبحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے  معین قواعد کا استخراج کیا جائے  کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے  مجتہد  تفصیلی  دلائل سے احکام  معلوم کرے ، اس علم کا  نام اصول فقہ ہے ۔علامہ  ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے  سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور  فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص:452)جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے  اس زبان کے قواعد واصول  کو سمجھنا ضروری ہے  اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل  کرنےکے لیے  اصول  فقہ  میں دسترس  اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے  اس علم کی اہمیت  کے  پیش نظر  ائمہ فقہاء و محدثین نے  اس موضوع پر  کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً  امام شافعی نے الرسالہ کے  نام سے    کتاب تحریرکی  پھر اس کی روشنی میں  دیگر اہل  علم نے کتب  مرتب کیں۔ اصول  فقہ کی تاریخ میں  بیسویں صدی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ا  س دور میں علم اصول فقہ نےایک نئی اٹھان لی اوراس بر کئی جہتوں سے کام کاآغاز ہوا:مثلاً تراث کی تنقیح وتحقیق ،اصول کاتقابلی مطالعہ ،راجح مرجوح کاتعین اور مختلف کتب میں بکھری مباحث کو  یک جا پیش کرنےکے ساتھ  ساتھ  موجودہ قانونی اسلوب اور سہل زبان میں پیش کرناوغیرہ ۔اس میدان میں کام کرنےوالے اہ...

  • تاریخ اسلامی میں ساتویں صدی ہجری اپنے دامن میں امت مسلمہ کے لئے گہرا  درس عبرت رکھتی ہے۔جس میں مسلمانوں کو بغداد میں اقتدار واختیارات سے ہاتھ دھونا پڑے۔سیاسی شکست وریخت نے نہ صرف سر زمین عراق بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نفسیات پر انتہائی گہرا اثر ڈالا،اس تمام تر دباو کے باوجود بعض ایسے صاحب فکرونظر بھی پیدا ہوئے جنہوں نے امت مسلمہ کے جسد میں نئی روح پھونکی،علمی اور فکری میدان میں ان کی بھر پور راہنمائی کی ،ان کے قلب ونظر کو نئی جلا بخشی اور ان کے عزم واعتماد کو بحال کیا۔ایسی دانشور ہستیوں میں سے ایک امام ابو العباس احمد بن ادریس  قرافی مالکی ﷫کی شخصیت بھی ہے۔جنہوں نے علم وعمل کی دنیا میں گہرے نقوش چھوڑے اور امت کی علمی وفکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام وتصرفات القاضی والامام " امام قرافی ﷫کی وہ شاندار اور منفرد تصنیف ہے جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہونے والے ساتھ مختلف مسائل  سے متعلق چالیس سوالات کے جوابات اور تبادلہ خیال کو جمع کرتے ہوئے مرتب فرمائی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے حاکم عدالت کے فیصلے کی حقیقت ،حاکم اور مفتی کا دائرہ کار،مفتی ،قاضی اور سربراہ مملکت کے اختیارات،اجتہادی مسائل اور حاکم کا فیصلہ،اختلافی مسائل اور حاکم کا فیصلہ نبوت اور رسالت میں فرق،رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی مختلف حیثیتیں،حاکم کے فیصکے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار اور نبی کریم ﷺ کے تصرفات کی مختلف جہات جیسی اہم ترین مباحث کوبیان کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفر د اور عظیم الشان تصنیف ہے۔ا...

  • 10 اسلامی نظریہ ضرورت (جمعرات 28 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1548

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے آغاز سے ہی اس طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔چنانچہ فقہ اسلامی  کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کے علاوہ اساسی کتب کے تراجم اور جدید اسلوب میں شریعہ مونو گرافکس کی ترتیب واشاعت کاکام بھی جاری وسار ی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی نظریہ ضرورت " بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے،جس میں اسلامی نظریہ ضرورت پر جدید اسلوب میں بحث کی گئی ہے۔یہ کتاب محترم ڈاکٹر عبد المالک عرفانی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ضرورت،اکراہ،ضرر ،مشقت،حاجت ،عموم البلوی،خصوص البلوی،حرج ،خوف ،فساد اور تخفیف ورخصت کی مباحث پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرم...

  • 11 عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید (بدھ 17 جون 2015ء)

    مشاہدات:2693

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘رہی ہے۔ موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا  ہے ۔ امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید ‘‘امام الہند سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صاحب نے کیا ہے۔سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ان نامور مصلحین ومجددین میں سے ہیں جنہوں نے برصغیر میں قرآن وسنت کی حقیقی تعلیمات کو متعارف کروایا۔آپ نے برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار قرآن وسنت اور حدیث وسیرت کو اساس قرار دیا۔آپ کے خاندان نے قرآن وسنت کی جو بے مثال خدمت کی ہے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 12 احکام القرآن ( جصاص ) جلد اول (پیر 16 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:5081

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 13 احکام القرآن ( جصاص ) جلد دوم (منگل 17 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2750

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 14 احکام القرآن ( جصاص ) جلد سوم (بدھ 18 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2271

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 15 احکام القرآن ( جصاص ) جلد چہارم (جمعرات 19 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2154

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 16 احکام القرآن ( جصاص ) جلد پنجم (جمعہ 20 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2163

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 17 احکام القرآن ( جصاص ) جلد ششم (ہفتہ 21 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2331

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 18 فقہی اختلافات حقیقت ، اسباب اور آداب و ضوابط (بدھ 14 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1439

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" فقہی اختلافات حقیقت، اسباب اور آداب وضوابط" محترم حافظ خبیب الرحمن صاحب کی تصنیف ہے، جسے  انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے فقہی اختلافات کی حقیقت، اسباب اور اس کے آداب وضوابط پر  سیر حاصل گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 19 تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں (اتوار 16 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:937

    14 اگست 1947ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کا ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا خواب حقیقت سے شناسا ہوا ور دنیا کے نقشے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی مملکت معرض وجود میں آئی۔انسانی تاریخ میں ہجرت مدینہ کے بعد ہجرت پاکستان غالبا سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں مسلمانوں نے ایک نظریہ اور مقصد کی خاطر بننے والی مملکت کے لئے اپنے آبائی گھر چھوڑے اور جان ومال اور عزتوں کی لازوال قربانیاں دیں۔پاکستان کی آئندہ تمام نسلیں اپنے ان اسلاف کی احسان مند اور مقروض رہیں گی جن کی مساعی اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا۔مسلمان ایک الگ  مسلم قومیت  کے حامل تھے۔اسی مسلم قومیت کے تصور نے ایک اسلامی مملکت پاکستان کی خواہش پیدا کی۔جب برصغیر کے مسلمان حصول پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ان کے اغراض ومقاصد واضح اور اہداف متعین تھے۔قائدین وبانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال،نواب بہادر یار جنگ، علامہ شبیر احمد عثمانی، نواب زادہ لیاقت علی خان اور چوہدری رحمت علی وغیرہ نے متعدد مواقع پر پاکستان کے اسلامی تشخص کا برملاء اظہار فرمایا۔ زیر تبصرہ کتاب" تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں"شریعہ اکیڈمی  انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد  کی شائع کردہ ہے۔جس میں بانیان پاکستان کی نظر میں پاکستان کے تصور کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو مقاصد پاکستان سے روشناس کروایا جا سکے۔(راسخ)

  • 20 سبل السلام اردو ترجمہ جلد اول (ہفتہ 15 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1510

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 24 حقوق کا بے جا استعمال شرعی نقطہ نظر (جمعرات 28 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:640

    اسلامی شریعت جس بنیادی فکری اساس پر قائم ہے وہ عقیدۂ توحید ہے۔ اس عقیدے پر اسلام کے تصور کائنات کی رو سے انسان اپنے ہر عمل کے لیے نہ صرف اپنے وحدہ لا شریک خالق ورازق کے سامنے جواب دہ ہے بلکہ وہ خود اپنی ذات‘ دیگر بنی نوع انسان‘ حیوانات‘ ماحول اور جملہ کائنات کے حوالے سے بھی ذمہ داری رکھتا ہے دنیا میں اللہ کا خلیفہ اور نائب ہونے کی حیثیت سے انسان اللہ کے تفویض کردہ حقوق اور اختیارات کے استعمال میں ان حدود وقیود کا پابند ہے جو کائنات کے خالق حقیقی نے متعین کی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  انہی حدود وقیود کا بیان ہے جو شارع کی طرف سے مقرر ہیں۔اس کتاب کو قانونی نظریے کے ساتھ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف پہلوؤں کا جدید عالمی قوانین کے ساتھ موازنہ بھی کیا ہے۔حق کے غلط استعمال  کرنے کو شارع نے جائز قرار دیا ہے؟اور قرآن وسنت کی نصوص اور فقہ صحابہ میں حق کے بے جا استعمال کے حوالے سے کیا تعلیمات ہیں؟ فقہ اسلامی میں یہ تصور کن مباحث کے تحت اور اس کی بابت فقہی آراء کونسی ہیں؟ ان سب موضوعات کو کتاب میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’ حقوق کا بے جا استعمال شرعی نقظۂ نظر ‘‘ ڈاکٹر محی الدین ہاشمی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 25 اجتہاد مناہج و اسالیب (پیر 18 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1143

    اسلام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا آخری پیغام ہے جو ہر اعتبار سے محفوظ ہے۔ اس کے احکام وفرامین کا مستقل سر چشمہ قرآن مجید اور سنت مطہرہ ہے۔ فقہ الاحکام کا ذخیرہ عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں حجاز کی حدود سے نکل کر افریقا اور ایشیاء کے متعدد اقالیم میں نو مسلم افراد اور اقوام کی ہمہ نوع رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا دکھائی دیتا ہے۔بسا اوقات تمدن کے ارتقاء‘ مقامی عرف کے تقاضے اور حالات کے اقتضا سے ایسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں کہ جن میں کوئی متعین نص موجود نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں فقیہ کتاب وسنت سے مستنیر حکمت‘ تدبر اور غور وفکر سے کام لیتے ہوئے ایسی قیاسی رائے ظاہر کرتا ہے جو نصوص کے مزاج سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔اور اس موضوع پر بہت سی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب کو بہت سلیقے اور عمدگی سے ترتیب دیا گیا ہے جس میں اجتہاد کے تصور‘ آغاز اور ارتقاء کے حوالے سے بہت مفید اور مستند معلومات ہیں۔ اس میں اجتماعی اجتہاد پر خاطر خواہ کلام کیا ہے اور قیاس‘ استحسان‘ مصالح مرسلہ‘ استقراء‘ اسصحاب حال اور عرف جیسے فقہی عنوانات کی فنی اور علمی اہمیت کو بیان کیا ہے اور استقراء‘ ذرائع وغیرہ جیسے عنوانات کو بھی اختصار کے ساتھ کتاب کی زینت بنایا ہے۔ یہ کتاب’’ اجتہاد مناہج واسالیب ‘‘ محمد یوسف فاروقی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومس...

  • 26 اسلامی قانون ایک تعارف جلد اول (جمعرات 21 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1630

    علوم اسلامیہ میں سے فقہ اور اصلو فقہ کو بالعموم بیانیہ اسالیب والے علوم کے برعکس قدرے مشکل گردانا جاتا ہے۔ یہ وہ علوم ہیں جوانسان کی عملی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن وسنت سے مسائل کے استخراج اور استنتاج کے ضمن میں ان کی حیثیت بنیاد کی سی ہے جس کے بغیر عمارت تعمیر کرنا کارِ دشوار ہے۔ وطن عزیز میں آزادی کے بعد عملی زندگی کو اسلامی حوالوں سے مزین کرنے کی ضرورت‘ اہمیت اور افادیت کا دائرہ ہر آنے والے وقت اور دن کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس موضوع پر بے بہا اور گراں قدر کتب کتب خانہ کی زینت بن چکی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے۔ اس میں  جامعیت کے ساتھ ساتھ سلاست کے وصف بھی ہیں۔ اس کتاب کا پہلا باب قانون کے ماخذ اول پر بحث کرتا ہے‘ دوسرا باب دوسرے بنیادی مآخذ پر‘ اور  اس کے بعد اجماع‘ قیاس اور اجتہاد وغیرہ کے موضوعات اور ابحاث کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اسلامی قانون ایک تعارف ‘‘ ڈاکٹر شہزاد اقبال شام کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 28 اسلام کا نظام حسبہ (بدھ 20 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:899

    اسلام اللہ کا وہ بہترین اور پسندیدہ مذہب ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے لیے رشدوہدایت کا سبب ہے‘ وہی ذریعہ نجات ہے‘ رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ اس عظیم کا مذہب کا مرجع ومصدر اور اس کی بنیادوہ وحی الٰہی ہے ۔ اوریہی ضابطۂ حیات ہے‘ قرآن وحدیث سے ہمیں اعمال پر محاسبہ کرنے کا واضح اشارہ ملتا ہے اور احادیث مین ایمان کے ساتھ احتساب کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسلامی نظام زندگی میں عدل وانصاف کویقینی بنانے اور معاشرے کو منظم ومستحکم کرنے کے لیے بہت سے ادارے متعارف کروائے گئے جن میں سے ایک ادارہ احتساب ہے۔محاسبہ انفرادی ہو یا اجتماعی‘ اصلاح معاشرہ اور قیام عدل کے لیے نہایت ضروری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  اسی موضوع( حسبہ/محاسبہ)  کو زیر بحث لایا گیا ہے۔امام ابن تیمیہ نے سب سبے پہلے الحسبہ فی الاسلام کے عنوان سے کتاب مرتب کی اور اس میں تمام ضروری ابحاث  کو جمع کر دیا۔یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں تالیف کی گئی جس کا شریعہ اکیڈمی نے اردو ترجمہ کیا اور ترجمہ نہایت سلیس اور عام فہم ہے۔ اس میں منقول احادیث وآثار کے واضح حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں اور حسبہ کے فکری وتاریخی پس منظر اور مؤلف کے مختصر تعارف کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام کا نظام حسبہ ‘‘ شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن تیمیہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میز...

  • 29 قواعد کلیہ اور ان کا آغاز و ارتقا ( مع اضافات ) (منگل 03 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1436

    اسلامی علوم میں فقہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی فقہ اسلام کا نظام قانون ہے‘ جو اپنی جامعیت ووسعت اور دائر کار کے لحاظ سے تمام معاصر اور قدیم نظم ہائے قانون سے فائق وبرتر ہے جس کا کئی مغربی ماہرینِ قانون نے بھی برملاء اعتراف کیا ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ اس نظام قانون کی ترتیب وتدوین اور انطباق وتطبیق کا عمل انسانی کاوش ہے‘ جس کی تیاری میں انسانی تاریخ کی بہترین ذہانتیں اور دماغ کارفرما رہے ہیں۔ ہر انسانی عمل کی طرح اس کی تفصیلات‘ جزئیات کے استنباط اور انطباق وتشریح میں بھی بہتری پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے اور مختلف ادوار میں اس کے نئے گوشوں اور کم نمایاں پہلوؤں کو نمایاں کرنے‘ بدلتے زمانے کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق اضافے کرنے اور تبدیلی لانے کا عمل جاری رہا ہے۔اور آج یہ احساس شدت سے بیدار ہے کہ مسلم معاشرے میں اسلامی احکام وقوانین کا نفاذ ہو اور اس حوالے سے علماء نے بہت سے کتب بھی لکھ دی ہیں جن میں سے ایک زیر تبصرہ کتاب بھی ہے جس میں اسلامی فقہ کے ایک اہم موضوع قواعد کلیہ اور ان کے آغاز وارتقاء اور اس پر لکھی گئی کتب کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے اور مختلف فقہی مذاہب کے قواعد کلیہ کی‘ مثالوں کے ساتھ مختصر تشریح کی گئی ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ قواعد کلیہ اور اُن کا آغاز وارتقاء ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں&nbs...

  • 30 اسلام کا قانون قسامت (بدھ 04 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:785

    قَسامَت کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ ہو اور اولیائے مقتول اہل محلہ پر قتل عمد یاقتل خطا کا دعویٰ کریں اور اہل محلہ انکار کریں تو اس محلے کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں۔اسلامی شریعت میں انسانی جان کی حرمت اور تحفظ کے لیے جو احکام وضع کیے گئے ہیں قانون قسامت ان میں سے ایک ہے جو کہ دراصل جرمِ قتل کے ثبوت سے متعلق ہے جب قاتل نامعلوم ہو اور اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہ ہوں۔حافظ حبیب الرحمٰن صاحب  کی   زیر نظر کتاب ’’اسلام  کا قانون قسامت‘‘اسی موضوع سے متعلق فقہی آرا کے جائزے پر مشتمل ہے۔اسلام کا  نظام عقوبات  ہر لحاظ سے جامع ،ہمہ گیر  اور شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ  تمام جدیدترین آراء اور جملہ ترقی یافتہ اصول  ونظریات   کو اپنے دامن میں رکھنے کے باوجود جدید قوانین کا مقام ومرتبہ اسلامی قانون کےمقابلہ میں انتہائی پست اورکمزور ہے ۔لیکن بدقسمتی سےاسلام کے قانون فوجداری سے  ناواقفیت کی وجہ سے یہ غلط تصور عام ہے کہ یہ قانون نہ دور ِجدید کے مطابق ہے اور نہ ہی آج کے  ترقی یافتہ دور میں ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ  یہ تصور حقائق کے خلاف ہے کیونکہ عموماً قانون سے  وابستہ افراد کو اس کےبارے میں سرسری معلومات بھی نہیں ہیں ۔قانون دان طبقہ کی اس ضرورت کےپیش نظر شریعہ اکیڈمی ، اسلام  آباد نے اسلام کے قانون فوجداری کے تمام پہلوؤں کو اپنی حقیقی شکل وصورت میں پیش کرنے کا منصوبہ بنای...

  • 31 اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور (جمعرات 05 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:734

    لفظ ٹارٹ  لاطینی زبان کےلفظ TORTUM    سے ماخوذ ہے جس کے معنی ٹیڑھے کے ہیں ۔ٹارٹ سے مراد کسی ایسے  فرض کی خلاف ورزی ہے جو کسی معاہد ےکی بنا پر عائد نہ ہو  او رجس کےنتیجے  میں کسی ایسے قطعی فرض کی خلاف ورزی ہو جس کا کوئی دوسرا شخص حق دار ہو یا کسی شخص کے  کسی محدود ذاتی، شخصی ، خانگی حق کی خلاف ورزی کی وجہ سےخاص نقصان پہنچے یا اس خلاف ورزی کی وجہ سے  عام  افراد کو نقصان پہنچے۔فقہ اسلامی  میں  ٹارٹ کا متبادل لفظ جنایہ ہے اور جنایہ  سےمرادایسا گناہ اور جرم  ہےجس کے کرنے سے انسان پر اس دنیا میں سزا یا قصاص واجب  ہوجاتاہے اور آخرت میں بھی  مستحق عذاب ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور‘‘ جناب ڈاکٹر علی خان نیازی کی کاوش ہے۔ جس   میں انہوں نے   قانون ٹاٹ کے تصور کو فقہ اسلامی  اور  جدید قوانین کی روشنی میں  تفصیلاً بیان کیا ہے۔(م۔ا)

  • اس میں کو ئی شک نہیں کہ قرآن وسنت میں متعدد ایسے کام اور اصول موجود ہیں جو اسلامی ریاست کے دستور کے لیے منبع واساس کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان سے انحراف کسی طرح روا نہیں۔دستور میں بیان متعدد امور کا تعلق انتظامی معاملات سے ہوتاہے ۔نظری امور ، پالیسی معاملات، بنیادی انسانی حقوق اور ہئیت حاکمہ کے فرائض کا قرآن وسنت میں بیان اصول واحکام کی روشنی میں انہیں کسی اسلامی ریاست کےدستور میں سمونا ضروری ہے جدید ریاستی تنظیم میں دستور کو سیاسی زندگی میں یوں بھی کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ دستور عوام اور اصحاب الرائے کی خواہشات کا ترجمان ہوتا ہے کہ اس سے کسی قوم کے ماضی کا بیان اور مآل کی طرف سے تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ مقیاس ہے جس سے عوام کی امنگوں ،آرزؤں اور خواہشات کی پیمائش کی جاتی ہے ۔ یہی وہ قندیل ہے جسے لے کرملک کی ترقی کے لیے کوشش کی جاتی ہے اسی کی مدد سے ادارے وجود میں آتے ہیں۔دستور ہی وہ آئینہ ہےجس میں کسی ملک تاریخ کا عکس دیکھا جاسکتا ہے اور حال کا پرتو بھی اسی دستورمیں ملتا ہے ۔دستورمستقبل کاجامِ جم ہوتا ہے ۔یہ دستور ہی ہےجو ریاست میں اداروں کےوجود کا باعث بنتا ہے لوگوں کے طرزِ زندگی پر اثرات ڈالتا ہے،قانونی نظام اسی کے ذریعے اپنا رخ متعین کرتا ہے۔ ذرائع ابلاغ دستور کے اندر رہتے ہوئے ہی لوگوں کےقلوب واذہان مسخر کرتے ہیں نظام تعلیم دستور ہی کی روشنی میں مرتب ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ دساتیر پاکستان کی اسلامی دفعات ایک تجزیاتی مطالعہ ‘‘ جناب ڈاکٹر شہزاد اقبال شام کے تحقیقی مقالہ ایم فل کی کتابی صورت ہے۔یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے ان ابواب میں دستورِ پا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1184
  • اس ہفتے کے قارئین: 4708
  • اس ماہ کے قارئین: 29612
  • کل مشاہدات: 42891636

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں