کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #5421

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 2637

    السیاسۃ الشرعیۃ۔ حکمران بیورو کریسی اور عوام

    (منگل 28 مارچ 2017ء) ناشر : دارئرہ نور القرآن، کراچی

    دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حکمران بیورو کریسی اور عوام‘‘ امام ابن تیمیہ﷫ کی معروف کتاب ’’السیاسیۃ الشرعیہ‘‘  کا اردو رترجمہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے خواہ وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق ومعاملات سے، اسلام نے جو نظام پیش کیا ہے وہ نہ صرف آخری و لازمی ہے بلکہ اس پر کاربند ہوئے بغیر نہ معاشرے میں خوبصورتی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی حکومتوں کے ایوانوں میں استحکام آ سکتا ہے۔ (م۔ا)

  • 2 #3632

    مصنف : قاضی عبد الکریم

    مشاہدات : 1675

    نفاذ شریعت اور پاکستان

    (جمعہ 09 اکتوبر 2015ء) ناشر : شعبہ نشر و اشاعت نجم المدارس ڈیرہ اسماعیل خان

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نظریہ پاکستان کے بارے میں واضح رہنا چاہئے کہ قرار داد مقاصد 1949ء اور 1973ء کے متفقہ آئین میں واضح طورپر یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کتاب وسنّت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دستور کو عوام پاکستان کے منتخب نمائندے منظور کرچکے ہیں، عدالتیں اس کی بناپر فیصلہ کرتی ہیں اور یہ جمہوری اساسات پر ایک مسلمہ بن چکا ہے کہ پاکستان میں اسلام نظام کو قائم کیا جائے گا۔ایک اسلامی ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا صدیوں پرانا خواب تھا۔جس کے شواہد مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد ہماری پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اسی نفسیات اورمسلمانوں کے دیرینہ خواب کو سمجھتے ہوئے قائداعظم نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روزمعرضِ وجود میں آگیا جس روز ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ پھر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں نے فقط یہ کیاکہ جو بات آپ کے دلوں اور ذہنوں میں تھی، اسے طشت ازبام کردیا یعنی ببانگِ دہل کہہ دیا۔اگرپاکستان کا تصور نظریاتی نہیں تھا تو پھر وہ اسی دن کیوں معرضِ وجود میں آگیا جس دن ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا؟ زیر تبصرہ کتاب" نفاذ شریعت اور پاکستان"قائد تحریک نفاذ شریعت مولانا قاضی عبد الکریم کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالے سے قانونی تجاویز دی ہیں، اور یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں نفاذ شریعت کا عمل موجودہ دور میں بھی نہائت آسان ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #3633

    مصنف : حافظ محمد سعد اللہ

    مشاہدات : 1963

    نفاذ شریعت میں تدریج

    (جمعہ 09 اکتوبر 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    کسی بھی نظام کو نافذ کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔انقلابی یا ارتقائی۔اگر کسی نظام کو انقلابی طریقوں سے نافذ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اثرات کا ظہور فورا قبول کر لیا جاتا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے نے اس نظام کو پوری طرح قبول کر لیا ہے۔حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ ہر وہ نظام جو معاشرے پر زبر دستی ٹھونسا جائے ، اس کے مخالفانہ جذبات وقتی طور پر دبے رہتے ہیں  اور جوں ہی کوئی موقع ملتا ہے وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نمودار ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ارتقائی طریقہ ذرا سست رفتار ہوتا ہے ، اس کے اثرات کا ظہور فوری طور پر نہیں ہوتا ہے۔لیکن اس طریقے میں نظام کی اقدار معاشرے کے باطن میں رس رس کر پیوست ہو جاتی ہیں، اور انسانی ضمیر کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں پھر انہیں نکالنا کسی طرح بھی ممکن نہیں رہتا ہے۔نظام اسلام کا طریقہ ابتدائے اسلام میں ارتقائی ہی رہا اور یہ بہت مفید اور موثر ثابت ہوا۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ شدید خواہش رکھتے تھے کہ تمام لوگ اسلام قبول کر لیں ، لیکن آپ ﷺ نے کسی پر جبر نہیں کیا اورقرآن مجید نے تو صریح الفاظ کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ"دین کو قبول کرنے کے سلسلے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ "زیر تبصرہ کتاب " نفاذ شریعت میں تدریج "محترم حافظ سعد اللہ صاحب  ریسرچ اسسٹنٹ  مرکز تحقیق دیال سنگھ لائبریری ٹرسٹ  کی کاوش ہے ، جس میں انہوں نےنفاذ  اسلام کے حوالے سے اسلام کےاسی تدریجی طرز عمل پر اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 #4804

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 1920

    نفاذ شریعت کیوں اور کیسے

    (پیر 17 اکتوبر 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    ارشاد ربانی  کےمطابق دین اسلام ایک ایسا دین  ہے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ  کوئی اور دین تلاش کرتا ہے  تو اس سے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ او روہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔اور نبی کریم ﷺ کا  فرمان ہے ’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ  میں میری جان ہے اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے  کہ وہ یہودی ہویا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلا م کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت اکو امن وسکون اور نجات سے ہمکنار کریں جیسے پیغمبر اسلام  سید نا حضرت محمد ﷺً اوران کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم وستم کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا، کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکر توحید وسنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کوسیرت وکردار کی بلندیوں سے آشنا کیا ۔ ٖآج انسانیت پھر سے ظلم وستم کا  شکار ہے وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی  ہوئی ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔جبکہ  قیام پاکستان  کاسب سےبڑا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک  طرف تو ہندی تہذیب اور ہندی صنم پرستی سے بچ کر اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیں گے اورایک اللہ کی عبادت کریں گے  وہاں دوسری طرف پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کو نافذ کر کے اور ہر شعبۂ زندگی میں اسلامی  تعلیمات کی ترویج کر کےپاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ اوراس کے حسن وجمال کی جلوہ گاہ بنائیں گے۔ تاکہ دنیا کے سامنے صحیح فکر وعمل ا ور امن وسکون سے آشنا زندگی  کا  ایک بہترین نمونہ آسکےجسے دنیائے انسانیت اپنانے ا ور اختیار کرنے کی لیے لپکے اور اس کی طرف پلٹے۔ تحریک پاکستان کےلیڈروں نے  بھی قوم سے یہی  وعدہ کیاتھا اور بابار اسی کااعادہ کیاتھا ،بانی پاکستان نےبھی یہ کہاتھا جسے وہ قیام پاکستان کے بعد  بھی دہراتے رہے۔ اللہ تعالیٰ اوراس کی مخلوق سے کئے ہوئے اس عہد کا تقاضا  ہےکہ پاکستان میں اسلام کی علم برداری  قائم ہو اور اسلامی شریعت کاسکہ یہاں چلےجس  طرح پاکستان  کاقیام اس وعدے کا مرہون منت ہے اس کااستحکام  وبقاء بھی اس عہد کی تکمیل اور اس وعدے کے ایفاء میں مضمر ہے لیکن وطن عزیز پاکستان   کو ’’لاالہ ...‘‘ کی  بنیاد پر قائم  ہوئے نصف صدی سےزائد عرصہ بیت چکا ہے  جس میں اسلام کو نافذ کرنے  کے وعدہ کوپوراکرنے کی سنجیدہ  کوشش ابھی تک نہیں کی گئی۔ زیرتبصرہ کتاب’’نفاذ شریعت کیوں اور کیسے‘‘ میں مفسر قرآن حافظ صلاح الدین ﷾  نے حکمرانوں کو ایسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے  اور یہ بتایا  ہے کہ  پاکستان میں  کانفاذ کیوں ضروری ہے اور دوسرے جز میں شریعت کو نافذ کرنےکے طریقہ کار کو  بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا حکمران عطا فرمائے  جو  قیام پاکستان کے  مقصد کو پورا کرے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 5 #4354

    مصنف : ملی مجلس شرعی اقبال ٹاؤن لاہور

    مشاہدات : 1565

    نفاذ شریعت کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام کے متفقہ پندرہ نکات

    (اتوار 27 مارچ 2016ء) ناشر : ملی مجلس شرعی اقبال ٹاؤن لاہور

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نظریہ پاکستان کے بارے میں واضح رہنا چاہئے کہ قرار داد مقاصد 1949ء اور 1973ء کے متفقہ آئین میں واضح طورپر یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کتاب وسنّت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دستور کو عوام پاکستان کے منتخب نمائندے منظور کرچکے ہیں، عدالتیں اس کی بناپر فیصلہ کرتی ہیں اور یہ جمہوری اساسات پر ایک مسلمہ بن چکا ہے کہ پاکستان میں اسلام نظام کو قائم کیا جائے گا۔ایک اسلامی ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا صدیوں پرانا خواب تھا۔جس کے شواہد مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد ہماری پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اسی نفسیات اورمسلمانوں کے دیرینہ خواب کو سمجھتے ہوئے قائداعظم نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روزمعرضِ وجود میں آگیا جس روز ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ پھر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں نے فقط یہ کیاکہ جو بات آپ کے دلوں اور ذہنوں میں تھی، اسے طشت ازبام کردیا یعنی ببانگِ دہل کہہ دیا۔اگرپاکستان کا تصور نظریاتی نہیں تھا تو پھر وہ اسی دن کیوں معرضِ وجود میں آگیا جس دن ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا؟ زیر تبصرہ کتاب"نفاذ شریعت کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے جید علماء  کرام کے متفقہ پندرہ نکات"ملی مجلس شرعی کی شائع کردہ ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کی طرف سے متفقہ پندرہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے، اور یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں نفاذ شریعت کا عمل موجودہ دور میں بھی نہائت آسان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اتحاد بین العلماء والمسالک کے بارے میں 33 علماء کرام کے متفقہ 18 نکات اور اسلامی ریاست اور آئین کے بارے میں 31 علماء کرام کے متفقہ 22 نکات کو جمع کر دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #4966

    مصنف : ابو ذوق قدرت اللہ فوق

    مشاہدات : 1909

    پاکستان میں نفاذ شریعت، اہمیت، ضرورت اور طریقہ کار

    (پیر 05 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ ناصریہ، فیصل آباد

    ارشاد ربانی کےمطابق دین اسلام ایک ایسا دین ہے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے تو اس سے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ او روہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔اور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے کہ وہ یہودی ہویا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلا م کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت کو امن وسکون اور نجات سے ہمکنار کریں جیسے پیغمبر اسلام سید نا حضرت محمدﷺً اوران کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا، کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکر توحید و سنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کوسیرت و کردار کی بلندیوں سے آشنا کیا۔ ٖآج انسانیت پھر سے ظلم وستم کا شکار ہے وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی ہوئی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔جبکہ قیام پاکستان کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک طرف تو ہندی تہذیب اور ہندی صنم پرستی سے بچ کر اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیں گے اور ایک اللہ کی عبادت کریں گے وہاں دوسری طرف پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کو نافذ کر کے اور ہر شعبۂ زندگی میں اسلامی تعلیمات کی ترویج کر کےپاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ اوراس کے حسن وجمال کی جلوہ گاہ بنائیں گے۔ تاکہ دنیا کے سامنے صحیح فکر وعمل ا ور امن و سکون سے آشنا زندگی کا ایک بہترین نمونہ آسکے جسے دنیائے انسانیت اپنانے ا ور اختیار کرنے کی لیے لپکے اور اس کی طرف پلٹے۔ تحریک پاکستان کےلیڈروں نے بھی قوم سے یہی وعدہ کیاتھا اور بابار اسی کا اعادہ کیاتھا ،بانی پاکستان نےبھی یہ کہاتھا جسے وہ قیام پاکستان کے بعد بھی دہراتے رہے۔ اللہ تعالیٰ اوراس کی مخلوق سے کئے ہوئے اس عہد کا تقاضا ہےکہ پاکستان میں اسلام کی علم برداری قائم ہو اور اسلامی شریعت کا سکہ یہاں چلےجس طرح پاکستان کا قیام اس وعدے کا مرہون منت ہے اس کااستحکام وبقاء بھی اس عہد کی تکمیل اور اس وعدے کے ایفاء میں مضمر ہے لیکن وطن عزیز پاکستان   کو ’’لاالہ ...‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوئے نصف صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے جس میں اسلام کو نافذ کرنے کے وعدہ کوپوراکرنے کی سنجیدہ کوشش ابھی تک نہیں کی گئی۔ زیر نظر کتاب ’’پاکستان میں نفاذ شریعت اہمیت، ضرورت اور طریق کار ‘‘ مولانا قدرت اللہ فوق ﷫ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اپنی قیمتی تدریسی اوقات میں مصروف ومشغول رہنے کے باوجود بڑی محنت سے پاکستان میں نفاذ شریعت، اہمیت وضرورت اور طریق کار کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اس وطن عزیز میں نفاذ اسلام کی راہ میں کونسی چیزیں حائل ہیں اورانہیں کیسے دور کیا جاسکتا ہے اور اس حقیقی ہدف ومقصد کو کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا حکمران عطا فرمائے جو قیام پاکستان کے مقصد کو پورا کرے۔ (آمین) (م۔ا)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1876
  • اس ہفتے کے قارئین 5753
  • اس ماہ کے قارئین 57786
  • کل قارئین49500286

موضوعاتی فہرست