مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

21 کل کتب
دکھائیں

  • 1 الموافقات فی اصول الشریعہ جلد1 (جمعرات 03 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:80632

    ’’اصول الفقہ‘‘ علوم دینیہ میں وہ مہتمم بالشان اور حقائق کشا علم ہے‘ جس کو پڑھنے اور سمجھے بغیر دائمی وآفاقی شریعت اسلامیہ کے بنیادی مآخذ یا ادلہ شرعیہ(قرآن‘سنت ‘ اجماع اور قیاس) کی وسعت وگہرائی کو کما حقہ سمجھا جا سکتا ہے نہ ادلہ شرعیہ سے قیامت تک پیش آنے  والے جدید مسائل کے شرعی حکم کے استنباط واستخراج کے فنی واصولی طریق کار سے آگاہی ہو سکتی ہے۔چنانچہ اصول الفقہ کی ترکیب ہی اس معنی کی طرف مشیر ہے۔ اصلو فقہ کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر بہت سی کتب تصنیف کی گئی۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی اصول فقہ پر لکھی گئی کتب میں سے ایک ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر قواعد سازی کی ہے اور قواعد شرعیہ کو شریعت کے استقرائی دلائل کے ساتھ مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب اصلا عربی میں ہے تو  اس کے افادۂ عام کے لیے اس کا اردو ترجمہ سلیس اور عام فہم کیا گیا ہے اور ہر باب اور فصل میں اصل مؤلف کے مفہوم ومراد کو واضح کرنے کی پوری کاوش ہے۔ اس میں آیات کو دوسری آیات سے اور حدیث کو دوسری احادیث سے اور آثار کو دیگر آثار سے یوں ملایا جاتا ہے کہ شک وشبہ کی کوئی صورت ہی نہیں باقی رہتی۔ یہ کتاب’’ الموقفات فی اصول الشریعۃ ‘‘ امام ابو اسحاق‘ابراہیم بن موسی الشاطبی کی مرتب کردہ ہے اور اس کے مترجم کا نام  مولانا عبد الرحمان کیلانی ہے۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف اور مترجم وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے...

  • 2 رشوت ایک لعنت (اتوار 05 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2199

    اسلام نے ہر اس ذریعہ اکتساب کو منع اور حرام قرار دیا ہے جس میں کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ کمایاجائے۔انہی حرام ذرائع میں سے ایک نہایت قبیح ذریعہ اکتساب رشوت ہے، جو شریعت کی نظر میں انتہائی جرم ہے اور یہ جرم آج ہمارے معاشرے میں ناسور کی مانند پھیل چکا ہے، جس کا سد باب مسلمان معاشرے کے لئے ضروری ہے۔رشوت انسانی سوسائٹی کا وہ بد ترین مہلک مرض ہے جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکلا اور تباہ کر دیتا ہے ۔ رشوت ظالم کو پناہ دیتی ہے ۔ اور مظلوم کو جبراً ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ رشوت کے ہی ذریعے گواہ ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں ۔ رشوت قومی امانت میں سب سے بڑی خیانت ہے ۔اسلامی شریعت دنیا میں عدل و انصاف اور حق و رحمت کی داعی ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے ہی انسانی سماج کی اس مہلک بیماری کی جڑوں اور  اس کے اندرونی اسباب پرسخت پابندی عائد کی ۔ اور اس کے انسداد کے لیے انتہائی مفید تدابیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ۔ جن کی وجہ سے دنیا  ان مہلک امراض سے نجات پا جائے ۔ زیرتبصرہ  کتابچہ ’’رشوت ایک لعنت‘‘ حافظ محمدسعد اللہ ﷾ (سابق ریسرچ سکالر مرکز تحقیق  دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری)  کی کاوش ہے  جس میں انہوں نے بڑی محنت اور کاوش سے   رشوت اور اس سے پیدا ہونے والی برائیوں کا مختصرا  تذکرہ کرنے  کےعلاوہ  ان تدابیر کوبھی بیان کیا ہے  جن پر عمل پیرا ہونے سے بڑی حدتک اس برائی کا انسداد ہوسکتاہے ۔ا...

  • اسلامی حکومت میں اسلامی حدود کا نفاذ نہ تو کسی حکمران کی صوابدید پر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران انہیں سیاسی انتقام کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔یہ حدود تو اس رب ذوالجلال والاکرام نے عائد کی ہیں جو اپنے بندوں پر ساری کائنات میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ان حدود کے نفاذ کا بڑا مقصد اسلامی حکومت میں بسنے والے ہر فرد کی عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ اور انسانیت کی تکریم ہے نہ کہ توہین۔پھر یہ کہ یہ حدود اندھا دھند نافذ نہیں کر دی جاتیں بلکہ ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ  میں کئی شرائط،لوازم،حد درجہ احتیاط اور کڑا معیار شہادت مقرر ہے۔اسلامی حدود کے نفاذ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک بھر میں سب کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے اور بدکاری کے معمولی شبے پر لوگوں کو سنگسار کر دیا جائے گا۔یہ محض مغرب زدہ لوگوں کا پروپیگنڈا اور اسلام دشمنی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ  مع اسلام کا نظام احتساب " دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے ریسرچ ایڈ وائزر مولانا  سید محمد متین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے قوانین مغرب سے متاثر اور مرعوب حضرات کی اسی قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اسلامی حدود کا فلسفہ ،مصالح،اجرائے حد میں احتیاط اور معاشرے میں ان کیبرکات کو بیان کرتے ہوئے حدود شرعیہ کا مختصر اور جامع تعارف کروایا ہے۔ساتھ ہی اسلام کے نظام احتساب کی اہمیت اور اس کے شرائط وآداب پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 اسلام کا قانون شہادت (جمعہ 03 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:4440

    قرآن مجید میں قانون شہادت پر  ابدی اور عالمگیر کلیات واصول بیان ہوئے ہیں اور سنت رسول اللہ ﷺ کا جو مبارک اور قیمتی ذخیرہ کتب احادیث کی صورت میں موجود ہے اس میں اس قانون کی مزید تشریح ،تفسیر اور عملی صورت اور حالات وواقعات کے مزید مسائل کے حل کرنے کا کافی وشافی اور مستند مواد موجود ہے۔اس کے بعد اقوال واعمال صحابہ کرام ،تابعین عظام آئمہ مجتہدین اور فقہائے ممالک اسلامیہ واسلامی عدالتوں کے فیصلے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ان کی روشنی میں اجتہاد کی مزید راہیں کھلتی رہتی ہیں۔اسی طرح علماء کرام نے  بے شمار تصانیف وتالیفات  کے ذریعے بے شمار فتاوی اور احکام کی کتب تدوین کی ہیں جن میں قانون شہادت کو سائنٹیفک ،اور جدید خطوط میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔شہادت کے موضوع پر جو سرمایہ اسلام کے دامن میں موجود ہے ۔اس کے مقابلے میں دنیا کے تمام دیگر ممالک کا کل سرمایہ بلا مبالغہ عشر عشیر کی حیثیت نہیں رکھتا۔بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اسلام کا بیشتر سرمایہ عربی،فارسی اور ترکی زبان میں ہے،جو معروف اسلامی کتب خانوں میں موجود ہے۔اسی کمی کو دور کرنے کے لئے یہ کتاب" اسلام کا قانون شہادت " لکھی گی ہے۔جو دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے ریسرچ ایڈ وائزر مولانا  سید محمد متین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے اور  ان کی علم دوستی اور خدمت اسلام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے اس کتاب میں اسلام کا قانون شہادت کے حصہ فوجداری کو ٹچ کیا ہے۔اور اس سلسلہ میں معروف اسلامی مصادر سے استفادہ کیا ہے۔آپ جہاں مناسب محسوس کرتے ہیں وہاں اپنے رائے کا بھی اظہار فرماتے ہیں۔یہ کتا...

  • 5 اسلامی ریاست میں عدل نافذ کرنے والے ادارے (ہفتہ 15 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2166

    ایک زندہ انسانی وجود کو جتنی ضرورت آکسیجن کی ہوتی ہے تقریبا اتنی ہی ضرورت نفاذ اسلام میں قیام عدل کی ہے۔کیونکہ قیام عدل کے بغیر اسلامی نظام کا کوئی بھی جز اپنی صحیح صورت میں نشو و نما نہیں پا سکتا ہے۔اسی لئے قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ میں عدل کو قائم کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔پاکستان میں عدل قائم کرنے کے راستے میں بے شمار دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں۔ان رکاوٹوں میں سے  سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک وہ ادارے صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو سکے ہیں جن کے توسط سے اسلام کا حقیقی نظام عدل قائم کیا جا سکے۔یہ کام قدرے صبر آزما اور دیر طلب بھی ہے ،اگر کوئی چاہتا ہے کہ چند مہینوں میں یہ کام ہو جائے تو اس کی یہ خواہش درست نہیں ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کا  م کو کٹھن سمجھ کر ہمت ہی ہار دی جائےاور کسی قسم کی پیش رفت ہی نہ کی جائے۔کام کرنا ہوگا اور محنت کرنا ہوگی ان شاء اللہ جلد یا بدیر کامیابی حاسل ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی ریاست میں عدل نافذ کرنے والے ادارے" محترم جناب سید عبد الرحمن بخاری صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ان خطوط کی نشاندہی کی ہے جن کی بنیاد پر نفاذ عدل کے اداروں کی تشکیل یا اصلاح کی جا سکتی ہے۔فاضل مقالہ نگار کا یہ مقالہ پہلےدیال سنگھ لائبریری سے شائع ہونے والے  سہ ماہی مجلے منہاج  کے اسلامی نظام  عدل نمبر شمارہ جنوری 1974ء میں شائع ہوا اور اہل علم نے اسے بہت پسند فرمایا۔لہذا مقالے کی افادیت کے پیش نظر اسے کتابچے کی شکل میں شائع کر دیا گیا جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ اللہ تع...

  • 6 القصاص فی الفقہ الاسلامی (جمعرات 10 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2277

    اسلام شریعت میں قصاص سے مراد برابر بدلہ ہے۔ یعنی جان کے بدلے جان، مال کے بدلے مال، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت۔ یعنی جیسا کوئی کسی پر جرم کرے اسے ویسی ہی سزا دی جائے۔اور اسلام نے انسانی جان کو جو احترام دیا ہے وہ سورۃ مائدۃ کی اس آیت کریمہ سے ہی واضح ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا(المائدۃ:32) اسلام کا عطا کردہ نظام ِقصاص ودیت دیگر قوانینِ عالم کے مقابلے میں نہایت سیدھا سادہ ہے۔مثلاً قصاص لینا امام یا حاکم کا فرض ہے بشرطیکہ اولیائے مقتول قصاص کے طالب ہوں۔قاتل کو بھی بلاعذر تسلیم نفس کردینا چاہیے کیونکہ یہ حق العبد ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ مقدمے کافیصلہ کرتے وقت ازروئے قرآن حاکم پر یہ واجب ہے کہ وہ فریقین کےمابین کامل تسویہ برتے ۔اسلام سے قبل قصاص کے معاملے میں بہت زیادتی کی جاتی تھی یعنی بعض معاملات میں قصاص میں قتل کر کے او ربعض میں دیت لےکر چھوڑ دیا جاتا تھا اوراس کا کوئی ضابطہ نہ تھا۔ کبھی ایک آدمی کےعوض قبیلے کے سینکڑوں معصوم افراد کوموت کےگھاٹ اتاردیتے ایسا بھی ہوتا کہ اگر کسی بڑے نے کسی قبیلے کے ایک فرد کو قتل کردیا تو اس قاتل سےکہا جاتا کہ ہم تجھے اس وقت چھوڑسکتے ہیں جب تو اجازت دے کہ ہم تیرے سوغلاموں کو قتل کردیں۔ اگر وہ اجازت دے دیتا تو اس کے سو غلاموں کے بے دریغ تہہ تیغ کردیا جاتا ۔تو نبیﷺ نے انسانی جان کی قدروقیمت کے تحفظ کی خاطر قصاص ودیت کے رہنما اصول بیان کیے۔ علامہ ڈاکٹر احمد ف...

  • 7 اسلام کا قانون وقف مع تاریخ مسلم اوقاف (منگل 29 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:3279

    وقف اسلامی قانون کا ایک اہم جز اور مسلمانوں کی ملی زندگی کا ایک روشن رخ ہے۔مسلمانوں نے ہر دور میں اس کارِخیراورفلاحی پروگرام کورواج دیا ہے۔ وقف کی تعریف یہ ہے کہ ملکیت باقی رکھتے ہوئے جائداد کا نفع سب کے لیے یا کسی خاص طبقے کیلئے خاص کردیاجائے۔نہ اس کو بیچا جاسکتاہے اور نہ منتقل کیاجاسکتا ہے۔اسلام میں سب سے پہلا وقف پیغمبرحضرت محمدﷺنے کیا ۔آپ ﷺنے سات باغوں کووقف کیا جو اسلام میں پہلاوقف خیری تھا۔ دوسرا وقف اسلام میں خلیفہ دوم سید نا عمر فاروق﷜ نے کیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے زمانہ ہی میں صحابہ کرام ﷢نے کئی وقف کیے۔جب پیغمبراسلام کے سامنے کوئی شوسل مسئلہ آتاتوآپﷺ صحابہ کرام کو ترغیب دیتے،صحابہ کرام فوراََ وہ چیز دے دیتے ۔اسلام کے مالیاتی نظام میں وقف کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اسلامی تاریخ کے ہردور میں غریبوں اورمسکینوں کی ضروریات کو پوراکرنے ،انہیں معاشی طورپر خود کفیل بنانے ،مسلمانوں کو علوم و فنون سے آراستہ کرنے ،مریضوں پریشان حالوں کی حاجت روائی کرنے اور اصحاب علم و فضل کی معاشی کفالت میں اسلامی وقف کا بہت اہم رول رہا ہے۔ کتب ِ فقہ میں اسکے تفصیلی احکامات موجود ہیں ۔ فقہ کی اکثر کتب چونکہ عربی زبان میں ہیں ۔اردو دان طبقہ جس سے مستفید نہیں ہوسکتا تھا ۔ جناب ڈاکٹر محمود الحسن عارف صاحب نے   فقہ کی امہات الکتب سے استفادہ کر کے اردو دان حضرات کے لیے زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا قانون وقف مع تاریخ مسلم اوقاف ‘‘ تیار کی ۔اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے قانون وقف کاتعارف کروانے کی کوشش کی ہے ۔اس میں ’’وقف‘...

  • 8 اسلامی حکومت میں اقلیتیں (ہفتہ 05 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1981

    اسلام انسانی مساوات، اخوت اور ہمدردی کا مذہب ہے۔ اسلام دنیا میں اﷲ تعالیٰ کے آخری اور مکمل پیغام کی صورت میں دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ اسلام کے اصولوں نے ہر مسلمان کو یہ سکھایا ہے کہ وہ بلا لحاظ رنگ و نسل اپنے پڑوسیوں اور اقلیتوں کی حفاظت کرے اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو غیر مذاہب کے لوگوں کے لیے رواداری کا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے بلکہ انھیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان کی حفاظت میں غیر مسلموں کی جو عبادت گاہیں ہیں ان کا تحفظ ان کا فرض ہے۔اسلام کی خصوصیت اور وصف یہ ہے کہ وہ دین رحمت ہے، دین حیات ہے، دین انسانیت ہے، دین الٰہی ہے، دین معرفت ہے، اس بنا پر اگر اسلام ان موضوعات کا نام ہے تو یہ حقیقت بھی بالکل واضح ہے کہ معاشرے میں ہر مذاہب اور فرقے کے انسان رہتے ہیں اور اکثر اوقات انسان کا ایک دوسرے سے واسطہ رہتا ہے، انسان معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔غیر مسلموں کے لیے ہمارے دین اسلام میں کتنی رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم ہے، اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پر ایک نظر ڈالیں، ساری شکایتیں دور ہو جائیں گی۔ آپؐ نے غیر مسلموں کے ساتھ جو احسان و ہمدردی اور خوش اخلاقی کے معاملات کیے، ان کی دنیا جہان میں نظیر ملنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی حکومت میں اقلیتیں "محترم حافظ غلام حسین صاحب  ریسرچ آفیسر مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے اسلامی حکومت میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق پر تفصیلی گفتگو کی ہے،اور دشمنان اسلام کے منہ بند کر دئیے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرم...

  • 9 اسلام کا قانون اراضی (منگل 08 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2473

    زراعت اور انسان کا رشتہ آفرینش انسانی سے شروع ہو جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو لا تقربا من ھذہ الشجرۃ کا اشارہ اس طرف ہے کہ زراعت کی طرف رغبت انسانی فطرت میں شدت کے ساتھ موجود ہے اور مطلوب یہ ہے کہ زراعت کی یہ شدید رغبت دائرہ رضا الہی کے اندر محدود رہے۔یہ آیت انسانی تاریخ میں زراعت اور شجر کاری کا تعین بھی کرتی ہے۔یعنی انسان کے وجود میں آنے سے پہلے درخت موجود تھا۔گویا انسان نے جو سب سے پہلا مشاہدہ کیا وہ زمین کے روئیدگی کے عمل کا مشاہدہ تھا۔انسان کی جسمانی بقاء کا دارومدار بھی کلی طور پر زراعت پر ہے۔کیونکہ جسمانی بقاء کے لئے نباتات از بس ضروری ہیں۔انسان آج کے دور کا ہو یا قبل از تاریخ کا کسی نہ کسی طرح زراعت سے وابستہ ضرور رہتا ہے۔انبیاء کرام علیھم السلام کی تعلیمات میں زراعت کے بارے میں واضح تعلیمات موجود ہیں۔پاکستان بننے کے بعد زراعت میں بھی کچھ نئے مسائل پیدا ہوئے ،مثلا متحدہ ہندوستان میں مسلم ملکیت کی زمینوں کے بارے میں الجھن تھی کہ یہ خراجی ہیں یا عشری؟ زیر تبصرہ کتاب " اسلام کا قانون اراضی "محترم نصرت علی اثیر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے عشر کے انہی مسائل کااسلامی  حل بیان کیا ہے۔یہ کتاب مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کے زیر اہتمام تیار کی گئی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 نفاذ شریعت میں تدریج (جمعہ 09 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1839

    کسی بھی نظام کو نافذ کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔انقلابی یا ارتقائی۔اگر کسی نظام کو انقلابی طریقوں سے نافذ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اثرات کا ظہور فورا قبول کر لیا جاتا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے نے اس نظام کو پوری طرح قبول کر لیا ہے۔حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ ہر وہ نظام جو معاشرے پر زبر دستی ٹھونسا جائے ، اس کے مخالفانہ جذبات وقتی طور پر دبے رہتے ہیں  اور جوں ہی کوئی موقع ملتا ہے وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نمودار ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ارتقائی طریقہ ذرا سست رفتار ہوتا ہے ، اس کے اثرات کا ظہور فوری طور پر نہیں ہوتا ہے۔لیکن اس طریقے میں نظام کی اقدار معاشرے کے باطن میں رس رس کر پیوست ہو جاتی ہیں، اور انسانی ضمیر کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں پھر انہیں نکالنا کسی طرح بھی ممکن نہیں رہتا ہے۔نظام اسلام کا طریقہ ابتدائے اسلام میں ارتقائی ہی رہا اور یہ بہت مفید اور موثر ثابت ہوا۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ شدید خواہش رکھتے تھے کہ تمام لوگ اسلام قبول کر لیں ، لیکن آپ ﷺ نے کسی پر جبر نہیں کیا اورقرآن مجید نے تو صریح الفاظ کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ"دین کو قبول کرنے کے سلسلے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ "زیر تبصرہ کتاب " نفاذ شریعت میں تدریج "محترم حافظ سعد اللہ صاحب  ریسرچ اسسٹنٹ  مرکز تحقیق دیال سنگھ لائبریری ٹرسٹ  کی کاوش ہے ، جس میں انہوں نےنفاذ  اسلام کے حوالے سے اسلام کےاسی تدریجی طرز عمل پر اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہم...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1901
  • اس ہفتے کے قارئین: 11931
  • اس ماہ کے قارئین: 11931
  • کل قارئین : 48276523

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں