کل کتب 8

دکھائیں
کتب
  • 1 #4933

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 3367

    برصغیر پاک و ہند میں علم حدیث

    (جمعرات 01 دسمبر 2016ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    برصغیر پاک وہند میں علم حدیث کا آغاز پہلی صدی ہجری سے ہوا اور دوسری صدی ہجری میں حضرت ربیع بن صبیح بصری(م160ھ) برصغیر میں وارد ہوئے اور اس کے بعد ہرصدی میں کوئی نہ کوئی محدث برصغیر میں تشریف لاتے رہے ۔برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیاعلمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
    زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث ‘‘ وطن عزیز کے معروف قلمکاروسوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے برصغیر پاک وہند کے علمائے اہل حدیث کی حدیثی خدمات کاتذکرہ کیا ہے ۔نیز علماء اہل حدیث نے خدمت حدیث کے سلسلے میں جو کتابیں تصنیف کیں کی ان کا اس کتاب میں ذکر کیا ہے بقول مصنف اس کتاب میں 436 کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اور اس کے علاوہ چند مشہور علمائے کرام کے مختصر حالات بھی قلم بند کیے ہیں۔ علاوہ ازیں عراقی صاحب نےان کتابوں کا بھی ذکر کیا ہے جو حدیث کی حمایت وتائید اورنصرت ومدافعت میں لکھی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کی تمام تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • تاریخ تحفظ سنت اور خدمات محدثین

    (منگل 04 اگست 2015ء) ناشر : مکتبہ اشاعۃ السنہ یوپی انڈیا

    قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے ۔سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری فرماکر دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان کی فرضیت کے بارے میں ابہام پیدا کرکے کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے سنت کی شرعی حیثیت کو مجروح کر کے دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ ہر دو ر میں محدثین اور علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی اور قرون ِ اولیٰ سے عصر حاضر تک صحابہ کرام ائمہ دین اور محدثین عظام نے تحفظ سنت کے لیے بے مثال خدمات پیش کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ تحفظ سنتِ اور خدمات محدثین‘‘ انڈیا کے اسلامی اسکالر ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری ﷾کی تصنیف ہےاس کتاب میں انہوں نے تحفظ سنت کے سلسلے میں صحابہ کرام ائمہ دین اور محدثین عظام کی بے مثال خدمات کی ایک جھلک پیش کرنے کی کو شش کی ہے ۔ فاضل مصنف نے کتاب کو مقدمہ کے علاوہ حسب ذیل چار ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔تحفظِ سنت کی عملی خدمات،تحفظ سنت کی علمی خدمات ، تحفط سنت کی دفاعی خدمات،تحفظ سنت کی تشریحی خدمات ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرماکر اسے امت مسلمہ کے لیے مفید بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 3 #6154

    مصنف : ڈاکٹر غلام جیلانی برق

    مشاہدات : 1535

    تاریخ حدیث ( طبع سوم )

    (منگل 09 جنوری 2018ء) ناشر : ادارہ مطبوعات سلیمانی لاہور

    حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس ہستی کا عطا کردہ خزانہ ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ ہے اسی لیے اس منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ دوسرے مناصب کی شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کا رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے حسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ حدیث ‘‘ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی ہے ۔فاضل مصنف نے ا س کتاب میں حدیث پر قیمتی مباحث،مقام حدیث، حدیث بحیثیت تفسیر قرآن ، تاریخ تدوین حدیث ، منکرین سنت کےشبہات کا ازالہ اور محدثین کرام کی خدمات کا جلیلہ کا جامع انداز میں تذکرہ کیاہے۔فاضل مصنف نے حدیث نبوی ﷺ کی تائید وحمایت کاحق ادا کردیا ہے۔ آپ نے تاریخی ادوار کےاعتبار سے تدوین حدیث کی جو مفصل تاریخ بیان کی ہے اس سے مستشرقین کے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتاہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین)( رفیق الرحمن)

  • 4 #382

    مصنف : ڈاکٹر غلام جیلانی برق

    مشاہدات : 15342

    تاریخ حدیث ( طبع چہارم )

    (جمعہ 17 دسمبر 2010ء) ناشر : دار النشر والتالیف،نئی دہلی

    منکرین حدیث کی جانب سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعوں پر عموماً جو نقطہ اعتراض بلند کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ تدوین حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت سے سو سال بعد ہوئی ہے اور لوگوں نے بہت سے ربط و یابس کو ملا کر احادیث کا نام دے دیا ہے۔ ’تاریخ حدیث‘ کے مطالعے سےآپ متعدد شہادتوں کی روشنی میں یہ جان پائیں گے کہ احادیث کا  معتد بہ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ہی کے عہد میں مدون کیا جا چکا تھا۔ کتاب کے لائق مصنف غلام جیلانی برق نے کتاب کی تقسیم دو ابواب میں کی ہے پہلے میں تاریخ حدیث کے ضمن میں ہجرت رسول سے پہلے اور بعد کی دستاویزات کی وضاحت کرتے ہوئے صحابہ کے مجموعوں اور پھر پہلی اور دوسری صدی کے نوشتوں کا تعارف کروایا ہے۔ دوسرے باب میں امام عبدالرؤف المناوی کے مجموعہ احادیث سے استفادہ کرتے ہوئے بیاسی عنوانات کے تحت سات سو احادیث کا خوبصورت مجموعہ آپ کا منتظر ہے۔
     

  • 5 #5147

    مصنف : محمد ابو زہرہ مصری

    مشاہدات : 3958

    تاریخ حدیث و محدثین ( جدید ایڈیشن )

    (جمعہ 10 فروری 2017ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس ہستی کا عطا کردہ خزانہ ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ ہے اسی لیے اس منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ دوسرے مناصب کی شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کا رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے حسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ حدیث نبویﷺ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول حدیث میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ محدثین اور اصول حدیث کی مہارت رکھنےوالوں نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ حدیث ومحدثین‘‘ مصرکے عالم دین استاذ محمد ابو زھو کی عربی کتاب ’’ الحدیث والمحدثون‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔فاضل مصنف نے ا س کتاب میں حدیث پر قیمتی مباحث ،مقام حدیث، حدیث بحیثیت تفسیر قرآن ، تاریخ تدوین حدیث ، منکرین سنت کےشبہات کا ازالہ اور محدثین کرام کی خدمات کا جلیلہ کا جامع انداز میں تذکرہ کیاہے۔فاضل مصنف نے حدیث نبوی ﷺ کی تائید وحمایت کاحق ادا کردیا ہے۔ آپ نے تاریخی ادوار کےاعتبار سے تدوین حدیث کی جو مفصل تاریخ بیان کی ہے اس سے مستشرقین کے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتاہے۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر محترم جناب پروفیسر غلام احمد حریری ﷫ (مترجم کتب کثیرہ )نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ زیر تبصرہ ایڈیشن اس کتاب کا جدید ایڈیشن ہے اس لیے اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین)( م۔ا)

  • 6 #3921

    مصنف : اطہر بن جعفر اطہر الحق

    مشاہدات : 5633

    تدوین حدیث

    (جمعہ 08 جنوری 2016ء) ناشر : زاویہ تحقیق و تنقیہ علمی ٹرسٹ کراچی

    دورِجدید میں بعض تعلیم  یافتہ حضرات کے ذہنوں میں  یہ غلط خیال پایا جاتا ہے  کہ  رسول اللہﷺ کی  احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں  ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں  کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے  کے کام کا آغاز  ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے  اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔کیونکہنبی ﷺ کے عہد بابرکت میں حدیث و سنت کی تدوین کا سلسلہ ایک خاص انداز میں شروع ہو گیا تھا اور صحابہ کرام نے اس کی حفاظت و صیانت کو اپنا مقصد حیات قرار دے لیا تھا۔  نبی  کریم ﷺ نے  اپنے  صحابہ  کرام کو  حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے    احادیث نبویہ کو  زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات  فرمائیں ۔ اسی لیے  مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظ احادیث اور کتابت حدیث کےذریعے   حفاظت  ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ کے رسول ﷺکو شروع میں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ حدیث اور قرآن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر لکھ لیں جس سے کچھ لوگوں کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجائے، اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی حدیث ہے:لا تكتبوا عني، ومن كتب عني شيئا سوى القرآن فليمحه (مسند أحمد)’’مجھ سے کچھ مت لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ بات لکھی ہو اسے چاہیے کہ مٹا دے۔‘‘رسول اللہ ﷺکا یہ حکم سن 7 ہجری تک برقرار رہا، لیکن جب قرآن کی حفاظت کے تئیں اللہ کے رسول ﷺ کو اطمینان حاصل ہو گیا تو اپنے ساتھیوں کو احادیث بھی قلمبند کرنے کی عام اجازت دے دی، صحابہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو آپ کی باتیں سننے کے بعد انہیں باضابطہ لکھ لیا کرتے تھے۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص   کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنتا اسے یاد کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا، لوگوں نے مجھے روکا اور کہا: اللہ کے رسول ﷺایک انسان ہیں، کبھی خوشی کی حالت میں باتیں کرتے ہیں تو کبھی غصہ کی حالت میں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے نبیﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اكتب فوالذي نفسي بيده لا يخرج منه إلا حق (رواه أبو داود والحاكم)“لکھ لیا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘اسی طرح سیدنا  ابوهریرہ  بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے (فتح مکہ کے موقع پر) ایک خطبہ دیا. ابو شاہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میرے لئے لکھوا دیجئے، آپ نے کہا: أكتبوا لأبي شاة اسے ابوشاہ کے لیے لکھ دو. (بخاری، مسلم)رسول  اللہ ﷺکے انتقال کے بعد قرآن جھليوں، ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، صحابہ نے اسے جمع کردیا، لیکن حدیث کو جمع کرنے کی طرف صحابہ کا دھیان نہیں گیا لیکن وہ زبانی طور پر ایک دوسرے تک اسے پہنچاتے رہے، اس کے باوجود کچھ صحابہ نے جو حدیثیں لکھی تھیں ان میں سے کچھ صحيفے مشہور ہو گئے تھے. جیسے ’’ صحیفہ صادقہ‘‘ جو ایک ہزار احادیث پر مشتمل عبداللہ بن عمرو بن عاص  عنہ کا صحیفہ تھا، اس کا زیادہ تر حصہ مسند احمد میں پایا جاتا ہے، ’’صحیفہ سمرہ بن جندب  ‘‘، ’’صحیفہ سعد بن عبادہ‘‘ ،’’ صحیفہ جابر بن عبداللہ انصاری  ‘‘۔ جب مختلف ممالک میں اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا اور صحابہ کرام مختلف ملکوں میں پھیل گئے، پھر ان میں سے زیادہ تر لوگ وفات پاگئے اور لوگوں کی یادداشت میں بھی کمی آنے لگی تواب حدیث کو جمع کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا، لہذا سن 99 ہجری میں جب عمر بن عبدالعزیز ﷫ مسلمانوں کے خلیفہ بنے اور مسلمانوں کے احوال پر نظر ڈالی  جس سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ احادیث کی تدوین کا بندوبست کیا جائے، چنانچہ آپ نے اپنے حکام اور نمائندوں کو اس کا حکم دیتے ہوئے لکھا اور تاکید کی کہ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے کا کام شروع کر دیا جائے، جیساکہ آپ نے مدینہ کے قاضی ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ: ’’تم دیکھو، اللہ کے رسول ﷺکی جو حدیثیں تمہیں ملیں انہیں لکھ لو کیوں کہ مجھے علم کے ختم ہونے اور علماء کے چلے جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اسی طرح آپ نے دوسرے شہروں میں بھی ائمہ اور محدثین کو خطاب کیا کہ رسول اکرم ﷺکی حدیثیں جمع کرنے کی طرف توجہ دیں۔جب تیسری صدی آئی تو اس میں احادیث جمع کرنے کا ایک الگ طریقہ مشہورہوا کہ محض اللہ کے رسول ﷺ کی حدیثیں جمع کی گئیں، اور ان میں صحابہ کے قول اورو فعل کو شامل نہیں کیا گیا. اسی طرح مسانيد بھی لکھی گئیں ۔امیر المومنین  فی  الحدیث  امام محمد بن اسماعیل البخاری ﷫نے فقہی ترتيب کے مطابق محض صحیح احادیث کا مجموعہ تیار کیا جسے دنیا آج صحیح بخاری کے نام سے جانتی ہے جو حدیث کی صحیح اور مستند کتابوں میں پہلے نمبر پر آتی ہے، پھر ان کے بعد ان کے ہی شاگرد امام مسلم بن حجاج  ﷫نے صحیح حدیث کا ایک مجموعہ تیار کیا جو آج صحیح مسلم کے نام سے مقبول ہے. اور صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے.امام بخاری اور امام مسلم کے طریقے پر ان کے دور میں اور ان کے بعد بھی محدثین نے کتابیں لکھیں، آج حدیث کی بڑی کتابوں میں جو حدیثیں محفوظ ملتی ہیں انہیں جمع کرنے والے محدثین نے راویوں کے حوالے سے روایتیں بیان کی ہیں، صحابہ نے اللہ کے رسول ﷺکو جو کچھ کہتے سنا تھا یا کرتے دیکھا تھا اسے انہوں نے حفظ کیا اور کچھ لوگوں نے اسے لکھا پھر بعد کی نسل تک اسے پہنچایا، جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے پھر سننے والوں نے دوسروں کو سنایا یہاں تک کہ اسے جمع کر دیا گیا. جیسے فلاں نے فلاں سے کہا اور فلاں نے فلاں سے کہا کہ میں نے اپنے کانوں سے محمد ﷺکو ایسا فرماتے ہوئے سنا ہے. آ ج صرف مسلمانوں کو یہ اعزاز اور فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے رسول کی ایک ایک بات کو مکمل طور پر محفوظ کیا، اس کے لئے مسلمانوں نے اسماء الرجال کاعلم ایجاد کیا،  جس  کی گواہی ایک جرمن مستشرق ڈاکٹر اے سپرگر (Dr A. Springer)  نےدی   اور حافظ ابن حجر ﷫کی کتاب الإصابہ (مطبوعہ کلکتہ )کے مقدمہ میں لکھا ہے:’’دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے دنیا کی کسی قوم کو یہ شرف حاصل ہوا نہ جدید مہذب دنیا میں کسی کو یہ فخر حاصل ہوا کہ اسماء الرجال کے تیکنک کو مسلمانوں کے انداز پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں. مسلمانوں نے اس علم سے دنیا کو آگاہ کرکے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اس ہمہ گیر اور عظیم علم کے ذریعہ 5 لاکھ لوگوں کی زندگیاں انتہائی باریکی  سے محفوظ ہو گئیں ‘‘۔زیر تبصرہ کتاب ’’تدوین حدیث‘‘سید اطہر بن جعفر  کی کتاب  تدوین قرآن حدیث اور تاریخ  کا  حصہ دوم تدوین حدیث ہے۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے    تدوین  حدیث کی تاریخ ، صحائف   حدیث  اورکتب حدیث  ومحدثین کا  تعارف پیش کرنےکے ساتھ ساتھ منکرین حدیث کے دلائل کا رد بھی پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 7 #4545

    مصنف : مفتی رفیع عثمانی

    مشاہدات : 2874

    کتابت حدیث عہد رسالتؐ و عہد صحابہ ؓ میں

    (پیر 25 جولائی 2016ء) ناشر : ادارہ المعارف، کراچی

    دورِجدید میں بعض تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ صحابہ کرام کے نزدیک علم سے مراد علم ِنبوت تھا (یعنی قرآن وحدیث) انہوں اپنی تمام زندگیاں قرآن وحدیث کے علم کے حصول میں لگا دیں۔ حضرت ابو ھریرہ نےزندگی میں کوئی مشغلہ اختیارنہیں کیا سوائے احادیث رسول اللہ ﷺ کے حفظ کرنے اوران کی تعلیم دینے کے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر و العاص، حضرت انس ، حضرت علی کے پاس احادیث کے تحریر ی مجموعے موجود تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ کتابت حدیث عہد رسالت وعہد صحابہ میں ‘‘مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے جاہلیت عرب میں کتابت کی ابتداء، مکہ مدینہ کے اہل قلم حضرات، عہد رسالت میں کتابت ، کتابت کےبارے میں اسلام کی روش اوراس کے اجتماعی زندگی پر اثرات، عہد رسالت میں کتابتِ حدیث، احادیث کے تحریری مجموعے، تبلیغی خطوط، انتطام مملکت کے مختلف شعبوں کے لیے قوانین وہدایات کی تحریری نقول، اوراس ضمن میں اسلوب واندازِ تحریر پر مفصل ومدلل مباحث پیش کیے ہیں ۔ نیز عہد صحابہ وتابعین﷭ میں کتابتِ حدیث، احادیث لکھنے والے صحابہ کرام ، تابعین عظام اور دوسری صدی ہجری میں تدوین حدیث اور احادیث کے مجموعات وغیرہ کا تعارف پیش کیا ہے ۔کتاب کےابتدائی صفحات میں حجیت حدیث ، منکرین حدیث اور مستشرقین کی اعتراضات کی حقیقت اوران کے جوابات اور حفاظت حدیث کے طریقوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔یہ کتاب حفاظت حدیث کے طریقۂ کتابت اوراس کے متعلق امور کی وضاحت کے موضوع پر اردو زبان میں مفید کتاب ہے ۔(م۔ا)

  • 8 #2423

    مصنف : ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی

    مشاہدات : 3953

    کتابت و تدوین حدیث

    (جمعہ 29 اگست 2014ء) ناشر : مکتبہ عمر فاروق، کراچی

    دورِجدید میں بعض تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے نزدیک علم سے مراد علم ِنبوت تھا (یعنی قرآن وحدیث) انہوں اپنی تمام زندگیاں قرآن وحدیث کے علم کے حصول میں لگا دیں۔ حضرت ابو ھریرہ ﷜نےزندگی میں کوئی مشغلہ اختیارنہیں کیا سوائے احادیث رسول اللہ ﷺ کے حفظ کرنے اوران کی تعلیم دینے کے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر و العاص، حضرت انس ، حضرت علی ﷢ کے پاس احادیث کے تحریر ی مجموعے موجود تھے ۔ زیر نظر کتاب ’’کتابتِ وتدوین حدیث صحابہ کرام﷢ کے قلم سے ‘‘ مصر سے طبع شدہ ایک عربی کتاب ’’کتابۃ الحدیث بالاقلام الصحابۃ‘‘ کا ترجمہ ہے محترم ڈاکر ساجدالرحمن صدیقی صاحب نے اسے بعض جزوی تبدیلیوں اور چند اضافوں کے ساتھ اردو کےقالب میں ڈھالا ہے۔ جس   میں فاضل مصنف نے مستند حوالوں کے ساتھ اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ صحابہ کرام﷢ نے احادیث کےمحموعے اور صحائف مدون اور مرتب کئے اور احادیث مبارکہ کو خود زمانۂ نبوت میں نبی کریم ﷺ کی اجازت اور آپ کے حکم سےضبط تحریر میں لاتے رہے۔ پہلی صدی ہجری میں کتابت وتدوین حدیث کا بہت عظیم الشان کام ہوا او رپھر اس کام کو حضرت عمر بن عبد العزیز نےباقاعدہ سرکاری سرپرستی میں آگے بڑھایا۔اللہ تعالی ٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 979
  • اس ہفتے کے قارئین 10664
  • اس ماہ کے قارئین 49058
  • کل قارئین49378406

موضوعاتی فہرست