کل کتب 2

دکھائیں
کتب
  • 1 #6727

    مصنف : ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    مشاہدات : 1243

    تاریخ صحافت

    (بدھ 08 اگست 2018ء) ناشر : مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

    صحافت کسی بھی معاملے بارے تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے  پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔صحافت پیشہ کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنیٰ کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔اردو اخبار نویسی کی تاریح انتہائی پرانی بھی نہیں ۔ دراصل اس کی شروعات چھاپہ خانے کے رواج کے بعد سے ہوئی سب سے پہلا اردو کا اخبار ”اخبار دہلی “تھا جسے مولوی باقر نے دہلی سے جاری کیا تھا ۔ بہت سے معلومات افزا مضامین علمی ، ادبی ،تاریخی اورتعلیمی موضوعات پر اس میں شائع ہوتے تھے ۔ 1857کی جنگ آزادی میں اس اخبار کا بڑااہم کردار رہا ہے ۔چونکہ اس کی پالیسی آزاد خیالی تھی ، اس لئے اس زمانہ میں سامراجی حکومت کے خلاف خوب لکھا گیا ۔ ہندوستانی قوم پرستی یعنی حبِ وطنی کی حمایت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ غدر فرو ہونے پر مولوی باقرکو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا اور اس طرح حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اورمحب وطن کی قربانی ہوئی ۔اردوکے دوسرے اخبار کے طورپر ”سید الاخبار“کا نا م سامنے آتا ہے ۔ اس کی ابتدا ءدہلی میں ہی سرسید کے بھائی محمد کے ہاتھوں ہو ئی تھی ۔ یہی وہ اخبار ہے جس کے ذریعہ سرسید کے خیالات سے عوام متعارف ہوئے ۔ اس کے بعد سے اردو اخبار کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتاہے ، جوانمرد ، محب وطن ، بےباک و نڈر بہت سے قلم کے شہ سوار صحافتی افق پر نمودار ہوتے ہیں ، آسمان ِ صحافت کے اولین ستاروں میں مولانا ظفر علی خان ، مولانا ابو لکلام آزاد ، مولانا محمدعلی جوہر ، مولانا حسرت موہانی اورمولانا عبد الحمید سالک وغیرہ ہیں ۔ زير تبصره کتاب  ’’ تاریخ صحافت ‘‘ جناب محمد افتخار کھوکھر کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے  مولانا امداد صابری  کی کتاب ’’ تاریخ صحافت  اردو ‘‘ اور  صحافت  کے موضوع پر  محمد عتیق صدیقی، ڈاکٹر عبد السلام خورشید ، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی اور ڈاکٹر معین الدین عقیل کی تحقیقی کاوشوں سے استفادہ کر کے  صرف ان مطالب کا احاطہ کیا ہے جو ایم ۔ اے ابلاغیات کی نصابی ضروتوں کوپورا کرتے  ہیں ۔ اس کتاب میں  برصغیر کی مسلم صحافت کو جس  دلچسپ اور عام فہم اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ اس  سے نہ صرف متعلقہ مضمون کے اساتذہ  اور طلبہ مستفید ہوسکتے ہیں بلکہ صحافت اور ابلاغیات سے دلچسپی رکھنے والے عام  قارئین بھی اس  کتاب  سے استفادہ کرسکتے ہیں۔(م۔ا) 

  • 2 #6529

    مصنف : نذر الحفیظ ندوی

    مشاہدات : 1450

    سیکولر میڈیا کا شر انگیز کردار

    (بدھ 11 جولائی 2018ء) ناشر : عوامی میڈیا واچ کمیٹی لاہور

    میڈیا انگریزی زبان کا لفظ ہے اس سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔اردو میں ذرائع ابلاغ اور انگریزی میں اسے میڈیا کہتے ہیں۔موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ غورکیاجائے تو محسوس ہوگا کہ مغرب محض مؤثر اور طاقتور میڈیا کے ذریعے ہی ہمارے ذہنوں پر حکومت کررہاہے۔یہاں ہم سے مراد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسے وہ ممالک بھی اس میں شامل ہیں جہاں سیاسی شعور کافقدان ہے۔ جہالت عروج پر ہے اور مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ہرقسم کی رہنمائی کے لیے مغرب کی جانب دیکھتاہے۔ہمارے پڑھے لکھے طبقے کااحساسِ کمتری ہے کہ وہ مغرب کے ایجادکردہ ہرلفظ، اِصطلاح اور محاورے کو یوں قبول کرلیتا ہے جیسے یہ اِلہامی بات اور مقدس لفظ ہو۔ چنانچہ اس طرح مغرب میڈیانت نئے شوشے چھوڑتا رہتا ہے جن کا مقصد ہماری سوچ کو متاثر کرنا اور ہماری فکر کو ایک خاص رُخ پر ڈالنا ہوتاہے۔سیکولرمیڈیا کی وجہ سے وضع، ڈھنگ، سوچ فکر میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ میڈیا کی کوشش نوجوانوں کی سماجی اور سیاسی بیداری کی طرف لیجانا نہیں بلکہ ان کو ایک ماحول میں رنگنا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیکولر میڈیا کا شرانگیز کردار ‘‘ مولانا نذر الحفیظ ندوی ﷾ کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں میڈیا کو یہودیوں کی طرف سے اپنا لینے کے وقت سے آج تک اسکا مؤثر اور تخریبی رول کا جائزہ لیکر بہت جامع اور مفید کتاب کی ہے میڈیا کو یہودی کوششوں کے پس منظر میں بیان کیا ہے ۔ پھر آخر میں اسلام کی طرف سے حق پسندی کا طور وطریقہ واضح کیا ہے ۔یہ کتاب بہت سے قارئین کے سامنے نئے انکشافات پیش کرتی ہے اور اس میں دعو ت کے صحیح انداز عمل کی نشاندہی کر تی ہے ۔ نیز اس کتاب میں عصر حاضر میں سامنے آنے والے اور انسانوں کی آراء اور خیالات کی تشکیل جدید کرنے والے اس اہم ذریعہ کی وضاحت کی گئی ہے ۔اس کتاب کے استفادہ سے قارئین کے سامنے نئی حقیقتیں آجاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو حق وایمان کے مقصد کے لیے مفید بنائے اور لوگوں کےلیے اس کو صحیح فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بنائے ۔ آمین(م۔ا)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1717
  • اس ہفتے کے قارئین 11402
  • اس ماہ کے قارئین 49796
  • کل قارئین49396456

موضوعاتی فہرست