اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #6727

    مصنف : ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    مشاہدات : 1217

    تاریخ صحافت

    (بدھ 08 اگست 2018ء) ناشر : مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

    صحافت کسی بھی معاملے بارے تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے  پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔صحافت پیشہ کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنیٰ کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔اردو اخبار نویسی کی تاریح انتہائی پرانی بھی نہیں ۔ دراصل اس کی شروعات چھاپہ خانے کے رواج کے بعد سے ہوئی سب سے پہلا اردو کا اخبار ”اخبار دہلی “تھا جسے مولوی باقر نے دہلی سے جاری کیا تھا ۔ بہت سے معلومات افزا مضامین علمی ، ادبی ،تاریخی اورتعلیمی موضوعات پر اس میں شائع ہوتے تھے ۔ 1857کی جنگ آزادی میں اس اخبار کا بڑااہم کردار رہا ہے ۔چونکہ اس کی پالیسی آزاد خیالی تھی ، اس لئے اس زمانہ میں سامراجی حکومت کے خلاف خوب لکھا گیا ۔ ہندوستانی قوم پرستی یعنی حبِ وطنی کی حمایت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ غدر فرو ہونے پر مولوی باقرکو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا اور اس طرح حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اورمحب وطن کی قربانی ہوئی ۔اردوکے دوسرے اخبار کے طورپر ”سید الاخبار“کا نا م سامنے آتا ہے ۔ اس کی ابتدا ءدہلی میں ہی سرسید کے بھائی محمد کے ہاتھوں ہو ئی تھی ۔ یہی وہ اخبار ہے جس کے ذریعہ سرسید کے خیالات سے عوام متعارف ہوئے ۔ اس کے بعد سے اردو اخبار کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتاہے ، جوانمرد ، محب وطن ، بےباک و نڈر بہت سے قلم کے شہ سوار صحافتی افق پر نمودار ہوتے ہیں ، آسمان ِ صحافت کے اولین ستاروں میں مولانا ظفر علی خان ، مولانا ابو لکلام آزاد ، مولانا محمدعلی جوہر ، مولانا حسرت موہانی اورمولانا عبد الحمید سالک وغیرہ ہیں ۔ زير تبصره کتاب  ’’ تاریخ صحافت ‘‘ جناب محمد افتخار کھوکھر کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے  مولانا امداد صابری  کی کتاب ’’ تاریخ صحافت  اردو ‘‘ اور  صحافت  کے موضوع پر  محمد عتیق صدیقی، ڈاکٹر عبد السلام خورشید ، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی اور ڈاکٹر معین الدین عقیل کی تحقیقی کاوشوں سے استفادہ کر کے  صرف ان مطالب کا احاطہ کیا ہے جو ایم ۔ اے ابلاغیات کی نصابی ضروتوں کوپورا کرتے  ہیں ۔ اس کتاب میں  برصغیر کی مسلم صحافت کو جس  دلچسپ اور عام فہم اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ اس  سے نہ صرف متعلقہ مضمون کے اساتذہ  اور طلبہ مستفید ہوسکتے ہیں بلکہ صحافت اور ابلاغیات سے دلچسپی رکھنے والے عام  قارئین بھی اس  کتاب  سے استفادہ کرسکتے ہیں۔(م۔ا) 

  • 2 #6891

    مصنف : ڈاکٹر محمد میاں صدیقی

    مشاہدات : 1231

    اصطلاحات حج و عمرہ

    (بدھ 27 فروری 2019ء) ناشر : مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

    بیت اللہ کا حج  ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین  رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اورآرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر  زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتبِ حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبوی ہے کہ آپ  ﷺنےفرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة "حج مبرور کا ثواب جنت کے  سوا کچھ نہیں ۔حج وعمرہ کے احکام    ومسائل کے متعلق اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں۔ہرسال لاکھوں لوگ  پاکستان سے  حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرتے ان میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو حج وعمرہ کے احکام ومسائل اور  حج وعمرہ کی اصطلاحات سے  واقفیت رکھتےہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ اصطلاحات حج وعمرہ ِ‘‘  ڈاکٹر  محمدمیاں صدیقی کی کاوش ہے   اس کتاب میں انہوں حج وعمرہ کے  احکام ومسائل کو بیان کرنے کے  بعد حروف تہجی کی ترتیب سے   حج وعمرہ کی اصطلاحات کو  آسان فہم اندا ز میں  مرتب کیا ہےیہ  حج وعمرہ کی اصطلاحات پر ایک جامع اور مستند کتاب ہے ۔(م۔ا )

  • 3 #1680

    مصنف : ڈاکٹر محمد میاں صدیقی

    مشاہدات : 6332

    قرآن مجید کا عربی،اردو لغت

    (پیر 06 مئی 2013ء) ناشر : مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

    گزشتہ چودہ سو برس میں علمائے امت نے قرآن مجید کی مختلف انداز سے، زمانے کے مخصوص احوال و ظروف کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ جہاں ایک طرف ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے وہیں قرآن حکیم کا ایک علمی اور فکری اعجاز بھی ہے۔ ’لغات القرآن‘ کے موضوع پر عربی زبان کے علاوہ اردو میں بھی قابل قدر کام ہوا ہے۔ عربی میں امام راغب اصفہانیؒ کی مفردات القرآن ایک منفرد تصنیف ہےجس کا اردو ترجمہ کتاب و سنت ڈاٹ کام پر موجود ہے۔ پیش نظر لغت کے مرتب ڈاکٹر محمد میاں صدیقی ہیں دیگر علوم اسلامی کے ساتھ ساتھ قرآنیات کے حوالے سے ان کی کتابیں حواشی قرآن حکیم، خلاصہ تفسیر، بیان القرآن، قرآن حکیم ایک نظر میں، احکام زکوٰۃ و عشر اور تفسیر آیات الاحکام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ زیر نظر کتاب ان حضرات کے لیے مرتب کی گئی ہے جو عربی زبان پر دسترس نہیں رکھتے اور ہر لفظ کے مادہ کو تلاش کرنا ان کے لیے دشواری کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے مادہ کے بجائے الفاظِ قرآن کو ان کی اپنی ہی صورت میں لغت تصور کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کر دیا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں بعض الفاظ ایک سے زائد مقامات پر آئے ہیں بلکہ بعض الفاظ ایسے ہیں جو بہت کثرت سے استعمال ہوئے ہیں، ہر مقام کا حوالہ دینا دشوار بھی تھا اس لیے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ جو لفظ ایک سے زائد جگہ آیا ہے اس کے دو ابتدائی حوالے درج کر دیے گئے ہیں۔ بہرحال اپنے موضوع پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اردو دان طبقہ کے لیے اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔(ع۔م)
     

  • 4 #3375

    مصنف : ڈاکٹر گیان چند

    مشاہدات : 7925

    تحقیق کا فن

    (بدھ 08 جولائی 2015ء) ناشر : مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحقیق کا فن "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجو ڈاکٹر گیان چند صاحب کی وہ قابل قدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے فن تحقیق کو موضوع بحث بنایا ہے۔یہ کتاب نہ صرف ان کی زندگی کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطالعے کا نچوڑ ہے بلکہ اس میں فن تحقیق کے وہ سارے پہلو آ گئے ہیں جو تحقیق کرنے والے ہر طالب علم ،ہر استاذ  اور تمام محققین کے لئے نہایت مفید ہیں۔ (راسخ)

  • 5 #3892

    مصنف : نور احمد شاد

    مشاہدات : 3486

    اردو مختصر نویسی

    (بدھ 06 جنوری 2016ء) ناشر : مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

    پاکستان میں رہنے والے اکثر لوگوں کی زبان اردو ہے، جو اردو میں ہی گفتگو کرتے ہیں اور اردو میں ہی اپنی تحریریں لکھتے ہیں۔آئینی طور پر حکومت پاکستان پر لازم تھا کہ وہ 1988ء تک اردو کو بطور دفتری زبان کے رائج کرے۔لیکن افسر شاہی نے بیوروکریٹس نے کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا اور ارود کے نفاذ میں روڑے اٹکاتے آئے۔دفاتر میں اردو کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تربیت یافتہ عملے کی کمی بیان کی جاتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مقتدرہ قومی زبان اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اردو مختصر نویسی اور ٹائپ کاری کے متعدد تربیتی مراکز قائم کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو مختصر نویسی"محترم نور احمد شاد صاحب کی تصنیف ہے، جوان مراکز میں تربیت پانے والے طلباء کی سہولت کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔امید ہے کہ اردو مختصر نویسی سیکھنے کے شائق دوسرے طلباء بھی اس کتاب کو کارآمد اور مفید پائیں گے۔اللہ کرے کہ ہماری حکومت اردو زبان کو دفاتر میں رائج کرنے کے لئے مخلص ہو جائے اور افسر شاہی کے ہتھکنڈوں اور جالوں کا شکار نہ ہو۔ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی حکومت کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ ہمیں غیروں کی زبان کی بجائے اپنے ملک میں اپنی قومی زبان نافذ کرنے کی ہمت دے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1990
  • اس ہفتے کے قارئین 12633
  • اس ماہ کے قارئین 36173
  • کل قارئین49226326

موضوعاتی فہرست