دکھائیں کتب
  • 1 ابتدائی قواعد الصرف (اتوار 03 اگست 2014ء)

    مشاہدات:8029

    احکامِ  شریعت سمجھنے کےلیے  جہاں دیگر علومِ اسلامیہ  کی اہمیت ہے وہاں عربی زبان سیکھنے کے لیے  ’’ فن صرف‘‘ کو بنیادی  درجہ حاصل ہے ۔جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے  علوم ِاسلامیہ  میں دسترس  تو کجا پیش رفت ہی ممکن نہیں۔ قرآن وسنت کے علوم سمجھنے کےلیے یہ ہنر شرط ِ لازم ہے۔ یہی  وجہ  ہے کہ مدارسِ اسلامیہ  میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی کی تدریس  وتفہیم کےلیے درجہ بدرجہ مختلف ادوار میں علمائے کرام  نے اس موضوع پر گرانقدر کتابیں لکھیں اور اسے آسان سے آسان تر بنانے کی سعی جمیل کی ۔زیر نظر  کتاب ’’ قواعد الصرف ‘‘بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک اہم کڑی ہے  ۔جوکہ الثانویہ العامۃ کے طلبا وطالبات کے  لیے  وفاق المدارس السلفیہ ،پاکستان  کے ذمہ دران اور دیگر اکابر علمائے کے حکم کے مطابق انہی  کی سرپرستی میں  دار السلام کی نصاب کمیٹی کے  تجربہ کار ارکان  اور علوم اسلامیہ کے ماہر معلّمین نے اس  کتاب  کی تحریر وترتیب میں بڑی محنت سے حصہ لیا ہے  اور مہارت ِفن ،باریک بینی ، اور احساس ذمہ داری  کا ثبوت  دیا ہے  اور وفاق المدارس کے اکابر علمائے کرام  اور کہنہ مشق مدرسین وشیوخ الحدیث  نے اس  پر نظر ثانی بھی فرمائی ہے ۔جس سے کتاب کی افادیت  مزید اضافہ ہوگیاہے  اور یہ کتاب  عربی کے  تدریسی سرمائے  میں ...

  • 2 ابتدائی قواعد النحو (بدھ 04 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:13849

    علم نحو تمام عربی علوم و معارف کے لئے ستون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تمام عربی علوم اسی  کی مدد سے چہرہ کشا ہوتے ہیں ۔ علوم نقلیہ کی جلالت و عظمت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار و رموز اور معانی و مفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ۔ حق یہ ہے کہ قرآن و سنت اور دیگر علوم سمجھنے کے لئے علم نحو کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، علم نحو کی اس اہمیت کے پیش نظر عربی ، فارسی اور دیگر زبانوں میں اس فن کی مفصل و مطول ، متوسط اور مختصر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئیں ۔ اردو زبان میں صرف و نحو کی کتابیں لکھنے کا مقصد لسانی اصول و قواعد کی تسہیل و تفہیم اور عربی زبان کی ترویج و اشاعت ہی تھا ۔ کیونکہ فن تعلیم کا اصول اور تجربہ یہ ہے کہ اگر ابتدائی طور پر کوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہو جائے تو پھر اسے کسی بھی اجنبی زبان میں تفصیل و اضافہ سمیت بخوبی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی مقصد کے تحت ایف ائے طلبا کی ذہنی استعداد کے پیش نظر لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب کے اندر قواعد و مسائل کی عام فہم اور آسان اسلوب  میں وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 3 ابواب الصرف (منگل 09 اکتوبر 2012ء)

    مشاہدات:22471

    دین اسلام کو سمجھنے اور جاننے کے لئے علوم آلیہ کا جاننا ضروری ہے۔ ایک ماہر محقق اور عربی دان بننے کے لئے خاص طور پر عجمیوں کو مذکورہ علوم کا حصول درکار ہوتا ہے۔ عربی کی عبارت کو جاننے اور ان کی اصلاح کے لئے صرف و نحو کے قوائد ایک مرکزی اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذخیرہ عربی میں صرف و نحو تقریباً ساٹھ اور چالیس کے تناسب سے موجود ہے اور ان ہر دو علوم سے متعلق قواعد میں صرف انتہائی اہم علم ہے اور اس علم پر کئی عربی اور فارسی کتب مرتب کی گئی ہیں۔ برصغیر کے مدارس میں تفصیلی کتب نصاب میں شامل ہیں۔ لیکن مولانا محمد بارک لکھوی کی مرضی پر لکھی گئی یہ کتاب کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے درس نظامی کی پہلی کلاسز میں اس کو جگہ دی گئی ہے۔ تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے اور یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو پیش نظر رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ کتاب اپنی اہمیت کے حساب سے ایک مسلم حیثیت کی حامل ہے۔

  • 4 ابواب الصرف ( دار السلام) (پیر 15 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:6830

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔زیر تبصرہ کتاب "دار السلام ابواب الصرف"قرآن وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے مکتبہ دار السلام کے  زیر اہتمام چھ اہل علم کی کوششوں سے تیار کی گئی ہے۔اور اسے دارالسلام ابواب الصرف کانام دیا گیا ہے۔صرف کے ابواب پر سب سے پہلی کتاب مولانا محمد بارک اللہ  لکھوی﷫ نے ابواب الصرف کے نام سے لکھی اور یہ کتاب بھی اسی کا جدید ایڈیشن ہے ،لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی مولانا بارک اللہ لکھوی ﷫ کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔بہتر ہوتا کہ ان کا بھی کہیں نہ کہیں تذکرہ کر دیا جاتا۔بہر حال یہ کتاب درس نظامی کی پہلی کلاسز کے لئے تیار کی گئی ہے تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو...

  • 5 اجراء نحو و صرف مع اصطلاحات نحویہ (پیر 08 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:1485

    علومِ نقلیہ کی  جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی  حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ  علومِ عربیہ میں علم  نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے  وہ سب سے پہلے  نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج  ہوتا ہے   کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک  اس علم کے بغیر  حاصل نہیں ہو سکتا  یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی  مقام ہے جو کھانے میں نمک کا  ہے ۔  قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم  ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی  اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ  اول  سے لے کر اب  تک نحو وصرف  پرکئی کتب  اور ان کی شروح  لکھی  کی جاچکی ہیں  ہنوز یہ سلسلہ جاری  ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اجراء نحو وصرف مع اصطلاحات نحویہ‘‘ محمد الیان بن عبد اللہ گڈھوی (مدرس مدرسہ دعوۃ الایمان،گجرات ،ہند) کی مرتب شدہ ہے انہوں نے اس کتاب کو چارمرحلوں میں تقسیم کیا ہے ۔پہلا مرحلہ کلماتِ  ثلاثہ کی شناخت...

  • 6 اردو خلاصہ شرح مائتہ عامل (سوالاً جواباً) (جمعہ 30 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:12687

    علوم ِنقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے: النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علومِ اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں۔ قرن ِ اول سے ل کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اردو خلاصہ شرح مائۃ عامل سوالاً جواباً‘‘ علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب ’’ مائۃ عامل ‘‘کی سوالاً جواباً اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے   لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سوالاً جواباً اس شرح کا اہم کام مولانا عبد ال...

  • 7 اردو شرح مراح الارواح (ہفتہ 12 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:8637

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "اردو شرح مراح الارواح"شیخ احمد بن علی بن مسعود ﷫کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ وشرح ہے۔اردو ترجمہ اور شرح کرنے کی سعادت محترم مولانا ابو حمزہ محمد شریف صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں لغت عرب کے ایک اہم ترین باب علم الصرف پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اورمترجم وشارح کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 اساس الصرف حصہ اول (اتوار 26 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:4337

    اللہ تعالی کاکلام اور نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں ہیں اسی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعتِ اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا   امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے شروع میں اس کے مسائل نحو کے تحت ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی نے علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ عجمی علماء بھی   پیش پیش رہے ۔جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ تعلیم وتدریس میں علم وفن کاپہلا تعارف طالب علم کی مادری زبان میں ہی ہوناچاہیے تو مختلف علاقوں کے اہل علم نے اپنی اپنی مقامی زبان میں اس فن پر کئی کتب تصنیف کیں ۔تاریخ اسلام کا یہ باب کس قد ر عظیم ہے کہ عربی زبان کی صحیح تدوین وترویج کا اعزاز عجمی علماء اور بالخصوص کبار علمائے ہندکے حصے میں آیا ہندوستان اور مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان فارسی ہونےکی وجہ سے ہندی علماء نے صرف ونحو کی کتب فارسی زبان میں ہی تصنیف کیں پھر رفتہ رفتہ برصغیر کے باشندوں کے لیے فارسی زبان بھی اجنبی ہونے لگی توبرصغیر کے فضلا ءنےاردو میں نحووصرف کے موضوع پرکتاب النحو، کتاب الصرف،عربی کا معلم کے علاوہ متعدد کتب لکھیں ان علماء کرام کااردو زبان میں صر ف ونحو پر کتابیں لکھنےکا مقصد عربی وزبان وادب کی تفہیم وتس...

  • 9 اسباق النحو (حمید الدین فراہی) (اتوار 20 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:3130

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے۔ عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ اور متعدد اہل علم نے اس پر قلم آزمائی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسباق النحو" محترم مولانا حمید الدین فراہی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس کی ترتیب وتدوین محترم مولانا خالد مسعود صاحب نے فرمائی ہے جبکہ پیش لفظ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ﷫کے رقم کردہ ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ومرتب کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 10 البشیر الکامل شرح مائۃ عامل (جمعہ 25 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:4721

    علوم نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے, مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے۔ یہی وہ عظیم فن ہے جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی زبان کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے'' علم نحو''کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرن اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور شروح لکھی کی جاچکی ہیں،اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب البشیر الکامل بحل شرح مائۃ عامل علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب العوامل کی اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے ۔ لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔(م۔ا)

     

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1837
  • اس ہفتے کے قارئین: 4067
  • اس ماہ کے قارئین: 18038
  • کل قارئین : 48336436

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں