کل کتب 49

دکھائیں
کتب
  • 1 #2294

    مصنف : مفتی عبد الولی خاں

    مشاہدات : 8636

    ابتدائی قواعد الصرف

    (اتوار 03 اگست 2014ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    احکامِ  شریعت سمجھنے کےلیے  جہاں دیگر علومِ اسلامیہ  کی اہمیت ہے وہاں عربی زبان سیکھنے کے لیے  ’’ فن صرف‘‘ کو بنیادی  درجہ حاصل ہے ۔جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے  علوم ِاسلامیہ  میں دسترس  تو کجا پیش رفت ہی ممکن نہیں۔ قرآن وسنت کے علوم سمجھنے کےلیے یہ ہنر شرط ِ لازم ہے۔ یہی  وجہ  ہے کہ مدارسِ اسلامیہ  میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی کی تدریس  وتفہیم کےلیے درجہ بدرجہ مختلف ادوار میں علمائے کرام  نے اس موضوع پر گرانقدر کتابیں لکھیں اور اسے آسان سے آسان تر بنانے کی سعی جمیل کی ۔زیر نظر  کتاب ’’ قواعد الصرف ‘‘بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک اہم کڑی ہے  ۔جوکہ الثانویہ العامۃ کے طلبا وطالبات کے  لیے  وفاق المدارس السلفیہ ،پاکستان  کے ذمہ دران اور دیگر اکابر علمائے کے حکم کے مطابق انہی  کی سرپرستی میں  دار السلام کی نصاب کمیٹی کے  تجربہ کار ارکان  اور علوم اسلامیہ کے ماہر معلّمین نے اس  کتاب  کی تحریر وترتیب میں بڑی محنت سے حصہ لیا ہے  اور مہارت ِفن ،باریک بینی ، اور احساس ذمہ داری  کا ثبوت  دیا ہے  اور وفاق المدارس کے اکابر علمائے کرام  اور کہنہ مشق مدرسین وشیوخ الحدیث  نے اس  پر نظر ثانی بھی فرمائی ہے ۔جس سے کتاب کی افادیت  مزید اضافہ ہوگیاہے  اور یہ کتاب  عربی کے  تدریسی سرمائے  میں  ایک  قیمتی اضافہ  اور عربی سیکھنے  کے آرزومندوں کے لیے ایک نادر تحفہ ہے ۔اللہ تعالی  دار السلام  کے ڈائریکٹر مولاناعبد المالک مجاہد﷾ اور ان کے  رفقاء کی  تفہم دین  واشاعت اسلام کے لیے  کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے(آمین)(م۔ا)

  • 2 #1804

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 14476

    ابتدائی قواعد النحو

    (بدھ 04 ستمبر 2013ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    علم نحو تمام عربی علوم و معارف کے لئے ستون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تمام عربی علوم اسی  کی مدد سے چہرہ کشا ہوتے ہیں ۔ علوم نقلیہ کی جلالت و عظمت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار و رموز اور معانی و مفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ۔ حق یہ ہے کہ قرآن و سنت اور دیگر علوم سمجھنے کے لئے علم نحو کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، علم نحو کی اس اہمیت کے پیش نظر عربی ، فارسی اور دیگر زبانوں میں اس فن کی مفصل و مطول ، متوسط اور مختصر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئیں ۔ اردو زبان میں صرف و نحو کی کتابیں لکھنے کا مقصد لسانی اصول و قواعد کی تسہیل و تفہیم اور عربی زبان کی ترویج و اشاعت ہی تھا ۔ کیونکہ فن تعلیم کا اصول اور تجربہ یہ ہے کہ اگر ابتدائی طور پر کوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہو جائے تو پھر اسے کسی بھی اجنبی زبان میں تفصیل و اضافہ سمیت بخوبی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی مقصد کے تحت ایف ائے طلبا کی ذہنی استعداد کے پیش نظر لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب کے اندر قواعد و مسائل کی عام فہم اور آسان اسلوب  میں وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 3 #1630

    مصنف : حافظ محمد بن بارک اللہ لکھوی

    مشاہدات : 22871

    ابواب الصرف

    (منگل 09 اکتوبر 2012ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، لاہور

    دین اسلام کو سمجھنے اور جاننے کے لئے علوم آلیہ کا جاننا ضروری ہے۔ ایک ماہر محقق اور عربی دان بننے کے لئے خاص طور پر عجمیوں کو مذکورہ علوم کا حصول درکار ہوتا ہے۔ عربی کی عبارت کو جاننے اور ان کی اصلاح کے لئے صرف و نحو کے قوائد ایک مرکزی اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذخیرہ عربی میں صرف و نحو تقریباً ساٹھ اور چالیس کے تناسب سے موجود ہے اور ان ہر دو علوم سے متعلق قواعد میں صرف انتہائی اہم علم ہے اور اس علم پر کئی عربی اور فارسی کتب مرتب کی گئی ہیں۔ برصغیر کے مدارس میں تفصیلی کتب نصاب میں شامل ہیں۔ لیکن مولانا محمد بارک لکھوی کی مرضی پر لکھی گئی یہ کتاب کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے درس نظامی کی پہلی کلاسز میں اس کو جگہ دی گئی ہے۔ تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے اور یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو پیش نظر رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ کتاب اپنی اہمیت کے حساب سے ایک مسلم حیثیت کی حامل ہے۔

  • 4 #2712

    مصنف : دار السلام ریسرچ سنٹر

    مشاہدات : 7409

    ابواب الصرف ( دار السلام)

    (پیر 15 دسمبر 2014ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔زیر تبصرہ کتاب "دار السلام ابواب الصرف"قرآن وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے مکتبہ دار السلام کے  زیر اہتمام چھ اہل علم کی کوششوں سے تیار کی گئی ہے۔اور اسے دارالسلام ابواب الصرف کانام دیا گیا ہے۔صرف کے ابواب پر سب سے پہلی کتاب مولانا محمد بارک اللہ  لکھوی﷫ نے ابواب الصرف کے نام سے لکھی اور یہ کتاب بھی اسی کا جدید ایڈیشن ہے ،لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی مولانا بارک اللہ لکھوی ﷫ کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔بہتر ہوتا کہ ان کا بھی کہیں نہ کہیں تذکرہ کر دیا جاتا۔بہر حال یہ کتاب درس نظامی کی پہلی کلاسز کے لئے تیار کی گئی ہے تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو پیش نظر رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ کتاب اپنی اہمیت کے حساب سے ایک مسلم حیثیت کی حامل ہے۔اللہ تعالی اس کی تیاری میں محنت کرنے والے تمام اہل علم کی اس کاوش کو قبول فرمائیں۔(راسخ)

     

  • 5 #7004

    مصنف : محمد الیاس بن عبد اللہ گڈھوی

    مشاہدات : 1804

    اجراء نحو و صرف مع اصطلاحات نحویہ

    (پیر 08 جولائی 2019ء) ناشر : ادارۃ الصدیق ڈابھیل گجرات انڈیا

    علومِ نقلیہ کی  جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی  حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ  علومِ عربیہ میں علم  نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے  وہ سب سے پہلے  نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج  ہوتا ہے   کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک  اس علم کے بغیر  حاصل نہیں ہو سکتا  یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی  مقام ہے جو کھانے میں نمک کا  ہے ۔  قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم  ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی  اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ  اول  سے لے کر اب  تک نحو وصرف  پرکئی کتب  اور ان کی شروح  لکھی  کی جاچکی ہیں  ہنوز یہ سلسلہ جاری  ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اجراء نحو وصرف مع اصطلاحات نحویہ‘‘ محمد الیان بن عبد اللہ گڈھوی (مدرس مدرسہ دعوۃ الایمان،گجرات ،ہند) کی مرتب شدہ ہے انہوں نے اس کتاب کو چارمرحلوں میں تقسیم کیا ہے ۔پہلا مرحلہ کلماتِ  ثلاثہ کی شناخت ۔دوسرا مرحلہ اعراب اور وجوہِ اعراب کا ہے ۔تیسرا مرحلہ ترکیبی اجزاء یعنی کلمہ کےسیاق وسباق سے تعلق کا  ہے ،یعنی ہر کلمے کا اپنے ماقبل ومابعد سےکیا ربط ہے۔ چوتھا مرحلہ ا قسامِ جملہ  یعنی جملہ اسمیہ ،فعلیہ وغیرہ۔یہ کتاب عربی عبارات پر عبور حاصل کرنے  کےلیے بے حد مفید ہے ۔(م۔ا)

  • 6 #3715

    مصنف : ابو محمد عبد الغفار بن عبد الخالق

    مشاہدات : 13855

    اردو خلاصہ شرح مائتہ عامل (سوالاً جواباً)

    (جمعہ 30 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    علوم ِنقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے: النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علومِ اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں۔ قرن ِ اول سے ل کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اردو خلاصہ شرح مائۃ عامل سوالاً جواباً‘‘ علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب ’’ مائۃ عامل ‘‘کی سوالاً جواباً اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے   لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سوالاً جواباً اس شرح کا اہم کام مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (مدرس الجامعۃ الحرمین اہل حدیث ماڈل ٹاؤن،گوجرانوالہ) نے بڑ ے آسان فہم انداز میں   کیاہے۔ جس سے طلبہ وطالبات کے لیے   اصل کتاب کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ   فاضل مترجم کی زندگی اور علم وعمل میں برکت فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 7 #4301

    مصنف : شیخ احمد بن علی بن مسعود

    مشاہدات : 9392

    اردو شرح مراح الارواح

    (ہفتہ 12 مارچ 2016ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "اردو شرح مراح الارواح"شیخ احمد بن علی بن مسعود ﷫کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ وشرح ہے۔اردو ترجمہ اور شرح کرنے کی سعادت محترم مولانا ابو حمزہ محمد شریف صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں لغت عرب کے ایک اہم ترین باب علم الصرف پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اورمترجم وشارح کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 #3138

    مصنف : محمد بشیر

    مشاہدات : 4544

    اساس الصرف حصہ اول

    dsa (اتوار 26 اپریل 2015ء) ناشر : دار العلم، اسلام آباد

    اللہ تعالی کاکلام اور نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں ہیں اسی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعتِ اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا   امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے شروع میں اس کے مسائل نحو کے تحت ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی نے علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ عجمی علماء بھی   پیش پیش رہے ۔جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ تعلیم وتدریس میں علم وفن کاپہلا تعارف طالب علم کی مادری زبان میں ہی ہوناچاہیے تو مختلف علاقوں کے اہل علم نے اپنی اپنی مقامی زبان میں اس فن پر کئی کتب تصنیف کیں ۔تاریخ اسلام کا یہ باب کس قد ر عظیم ہے کہ عربی زبان کی صحیح تدوین وترویج کا اعزاز عجمی علماء اور بالخصوص کبار علمائے ہندکے حصے میں آیا ہندوستان اور مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان فارسی ہونےکی وجہ سے ہندی علماء نے صرف ونحو کی کتب فارسی زبان میں ہی تصنیف کیں پھر رفتہ رفتہ برصغیر کے باشندوں کے لیے فارسی زبان بھی اجنبی ہونے لگی توبرصغیر کے فضلا ءنےاردو میں نحووصرف کے موضوع پرکتاب النحو، کتاب الصرف،عربی کا معلم کے علاوہ متعدد کتب لکھیں ان علماء کرام کااردو زبان میں صر ف ونحو پر کتابیں لکھنےکا مقصد عربی وزبان وادب کی تفہیم وتسہیل اور اشاعت وترویج ہی تھا کیوں کہ اگر ابتدائی طور پرکوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہوجائے تو پھر اس زبان میں تفصیل واضافہ کو بخوبی پڑھا اورسمجھا جاسکتاہے ۔ عربی زبان کی تفہیم کےلیے عصر حاضر میں مولانا بشیر سیالکوٹی کی کتب بھی بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’اساس الصرف‘‘دو حصوں پر مشتمل مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ﷾کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب علم صرف کے قواعد کی ایسی آسان اور جامع کتاب ہے جسے پڑھ کر عربی زبان لکھنے اور بولنے کی صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے ۔مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ایک معروف عالم دین، ماہر تعلیم،مصنف، مترجم اور ناشر ہیں۔ پاکستان میں عربی زبان کے فروغ اور حکومتی و دینی مدارس و جامعات کے نصاب کی اصلاح کے لیے آپ کی خدمات معروف ہیں۔آپ دارالعلم اسلام آباد اور معہداللغۃ العربیۃ پاکستان کے بانی و مدیر ہیں۔ آپ غیر عربوں کو عربی زبان کی تعلیم کے ماہر ہیں اور کئی مقبول کتابوں کے مصنف ہیں۔مدارسِ دینیہ کے نصاب میں شامل کتب اقراء، قواعد انشاء وغیرہ بھی آپ کی تصنیف ہیں۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی خدمات کو قبول فرمائے۔(آمین)

  • 9 #4941

    مصنف : حمید الدین فراہی

    مشاہدات : 3397

    اسباق النحو (حمید الدین فراہی)

    (اتوار 20 نومبر 2016ء) ناشر : دار التذکیر

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے۔ عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ اور متعدد اہل علم نے اس پر قلم آزمائی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسباق النحو" محترم مولانا حمید الدین فراہی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس کی ترتیب وتدوین محترم مولانا خالد مسعود صاحب نے فرمائی ہے جبکہ پیش لفظ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ﷫کے رقم کردہ ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ومرتب کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 10 #1990

    مصنف : سید غلام جیلانی

    مشاہدات : 5044

    البشیر الکامل شرح مائۃ عامل

    (جمعہ 25 اپریل 2014ء) ناشر : میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی

    علوم نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے, مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے۔ یہی وہ عظیم فن ہے جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی زبان کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے'' علم نحو''کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرن اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور شروح لکھی کی جاچکی ہیں،اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب البشیر الکامل بحل شرح مائۃ عامل علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب العوامل کی اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے ۔ لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔(م۔ا)

     

     

< 1 2 3 4 5 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1783
  • اس ہفتے کے قارئین 11468
  • اس ماہ کے قارئین 49862
  • کل قارئین49397785

موضوعاتی فہرست