دکھائیں کتب
  • 1 خلاصہ تحفۃ النظار یعنی سفرنامہ شیخ ابن بطوطہ (جمعہ 27 فروری 2015ء)

    مشاہدات:2083

    چودہویں صدی کے مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنی زندگی کے 28سال سیاحت میں گزارے ۔ان کا مکمل نام ابوعبداللہ محمد ابن بطوطہ ہے۔ مراکش کے شہر طنجہ میں1304ء کو پیدا ہوا اور 1378ء میں وفات پائی۔ ادب، تاریخ، اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اکیس سال کی عمر میں پہلا حج کیا۔ اس کے بعد شوق ِسیاحت میں افریقہ کے علاوہ روس سے ترکی پہنچا۔ جزائر شرق الہند اور چین کی سیاحت کی۔ عرب، ایران ، شام ، فلسطین ، افغانستان ، اور ہندوستان کی سیر کی۔ چار بار حج بیت اللہ سے مشرف ہوا۔ محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان آیا تو توسلطان نے اُس کی بڑی آؤ بھگت کی اور قاضی کے عہدے پر سرفراز کیا۔ یہیں سے ایک سفارتی مشن پر چین جانے کا حکم ملا۔ 28 سال کی مدت میں اس نے 75ہزار میل کاسفر کیا۔ آخر میں فارس کے بادشاہ ابوحنان کے دربار میں آیا۔ اور اس کے کہنے پر اپنے سفر نامے کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب کا نام عجائب الاسفارنی غرائب الدیار ہے۔ یہ کتاب مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی حالات کا مجموعہ ہے۔یورپ والوں کو انیسویں صدی میں ابن بطوطہ کے سفرنامہ کا علم ہوا۔ اسکے بعد اسکے کئی ترجمے یورپی زبانوں میں شائع ہوئے۔ اردو میں بھی کئی ترجمے شائع ہوئے۔ سب سے پہلا ترجمہ 1898 میں محمد حسین نے لاہور سے شائع کیا تھا۔ اسکے علاوہ کئی خلاصے بھی شائع ہوئے۔ زیر نظر کتاب ’’ خلاصہ تحفۃ النظار یعنی سفر نامہ شیخ ابن بطوطہ‘‘ سفر نامہ ابن بطوطہ کے ایک خلاصہ کااردو ترجمہ ہے مولوی عبدالرحمن خاں صاحب (سابق پرنسپل جامعہ عثمانیہ حیدر آباد،انڈیا) نے اسے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔موصوف نے اردوترجمہ کے...

  • 2 دریائے کابل سے دریائے یرموک تک (بدھ 29 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:15473

    زیر مطالعہ کتاب’دریائے کابل سے دریائے یرموک تک‘ خطہ ارضی پر واقع چھ ممالک افغانستان، ایران، لبنان، شام، عراق اور اردن کی تہذیب وثقافت اور حالات و کیفیات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مکہ مکرمہ میں ’رابطہ عالم اسلامی‘ کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے اس ادارے نے ایک وفد ان مذکورہ ممالک میں بھیجا۔ اس وفد کی قیادت محترم مصنف ابوالحسن ندوی نے کی۔ اس پروگرام کا مقصد مسلمانوں کے حالات و کیفیات، ان کے علمی و تہذیبی ادارے، اور ان کی ضرورتوں سے واقفیت حاصل کرنا اور وہاں کے باشندوں کو اس ادارے کے مقاصد سے آگاہ کرنا تھا۔ مولانا ابو الحسن ندوی نے اس دورے کی مکمل روداد سفر نامہ کے انداز میں قلمبند کر دی ہےجس سے ان ممالک کے حالات و حوادث کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ مصنف نے ان ممالک کی دینی، فکری، سیاسی واقتصادی صورتحال کی تصویر کشی کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری برتی ہے۔

     

  • 3 روس کے تعاقب میں (بدھ 08 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:22626

    افغان جہادکےنتیجےمیں جب روس ٹکڑے ٹکڑے ہواتوکروڑوں مسلمانوں کے علاوہ دیگراقوام بھی روسی تسلط سےآزادہوئیں ۔مساجداورمدارس جوشراب خانے اورسینماگھربنادیئے گئے تھے ،دوبارہ اللہ اکبرکی صداؤں سےمعمورہونےلگے۔اسی دوران خداکی توفیق سے زیرنظرکتاب کے مؤلف نےطورخم سے کوہ قاف تک کاسفرکیا۔انہوں نےجہادکے ثمرات کامشاہدہ کیااواپنی آنکھوں کے سامنے دنیاسے کیمونزم کاجنازہ اٹھتے اوراسے دفن ہوتےہوتے دیکھا۔اس سفرسے واپسی پرانہوں نے اپنے تاثرات قلم بندکیے اوریوں یہ کتاب منصہ شہودپرآئی ۔اس کےمطالعہ سے شکست خوردہ روس کی مکمل تصویرنگاہوں کے سامنے آجاتی ہے جومصنف کے دلنشین پیرائہ اظہارکامنہ بولتاثبوت ہے ۔

     

     

  • 4 سفر نامہ ابن بطوطہ (ہفتہ 09 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:3331

    حضرت انسان اپنے دل و دماغ میں بے شمارقسم کی خواہشات اور امیدوں کو جنم دیتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، دن و رات کی تفریق کیے بغیر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ ہر انسان اپنے ذہن کے مطابق مختلف قسم کی خواہشات رکھتا ہے بعض افراد تعلیم کے شوقین ہوتے ہیں، تو بعض افراد معیشت کی لگن، کچھ افراد کوئی جدید ٹیکنالوجی کے دلدادہ ہوتے ہیں، تو کچھ افراد تاریخی اسفار کی جستجو میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ ان خواہشات میں جو لوگ تاریخی اسفار کے شوقین ہوتے ہیں وہ اپنے سفر ناموں میں دوران سفر پیش آنے والے حالات، اقوام کی تہذیب و تمدن، ان کے رسم و رواج اور ان اقوام کے طرز بودوباش کو نہایت باریک بینی سے جانچتا ہے اور اپنے سفر نامے کو احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب" سفر نامہ ابن بطوطہ" عربی کتاب" عجائب الاسفار" کا اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مترجم خان بہادر مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت سہل اور آسان فہم سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔ کتاب ہذا میں ہندوستان، مالدیپ، چین و عرب، ایران، شام، مصر اور دیگر ممالک کے سفر نامے مذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو ہمت و استقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 5 سفر نامہ ابن بطوطہ ۔ حصہ اول ودوم (بدھ 31 اگست 2011ء)

    مشاہدات:24288

    ابن بطوطہ چھٹی صدی ہجری کا ایک معروف مسلمان سیاح تھأ۔اس زمانے میں سفر کی سہولیات بہت کم تھیں ۔اس عالم میں ابن بطوطہ نے رفت سفر باندھا اور کامل پچیس برس تک سمندر کی لہروں سے لڑتا،ہولناک ریگستانوں سے گرزتا،ہرشور دریاؤں کو کھگالتا اور اپنے ذوق سیاحت کو تسکین پہنچاتا رہا۔اس عرصے میں اس نے بے شمار خطوں اور ملکوں کی سیر کی اور جب وطن لوٹا تو پچاس برس کا بوڑھا ہو چکا تھا۔اس کا یہ طویل ،صبر آزما اور پرمشقت سفر،تفریحی نہیں تھا،علمی تھا۔اس نے جس ژدف نگاہی سے سب کچھ دیکھا ،جس قابلیت سے مشاہدات سفر مرتب کیے،جس خوبی سے اکابر رجال کے احوال وسوانح پر روشنی ڈالی وہ اسی کا حق ہے۔ابن بطوطہ کو  مورخوں کے ہاں  جونمایاں حیثیت حاصل ہے وہ اسی سفر نامے  کی بدولت ہے۔یہ سفر نامہ لکھ کر اس نے تاریخ کے عظیم الشان دور کو زندہ کیا ہے۔یہ سفر نامہ ابن بطوطہ کی آپ بیتی بھی ہے اس نے اپنی روداد کچھ اس طرح لکھی ہے کہ روداد جہاں بھی اس میں شامل ہو گئی ہے۔اس عظیم سفر نامے کو اردو  دان طبقے کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے امید ہے ارباب ذوق اس سے محفوظ ہوں گے۔(ط۔ا)

  • 6 سفر نامہ ارض القرآن (ہفتہ 10 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2853

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا سفر کیا گیا تھا۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان  میں  سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا زیر تبصرہ  ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے، جسے جناب مولانامحمد عاصم الحدّادنے مرتب کیا ہے۔ یہ حج و عمرہ کا سفرنامہ نہیں، بلکہ آثار و مقاماتِ قرآنی کی تحقیق و زیارت کے لیے کیے گئے ایک سفر کی روداد ہے۔ یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام  کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔ یہ سفرنامہ دینی اور تاریخی لٹریچر میں یہ ایک اہم اور مفید اضافہ ہے۔ تفہیم القرآن کی تالیف کا آغاز مولانا مودودی ؒ  نے محرم ۱۳۶۱ھ؍ فروری ۱۹۴۲ ءسے کیا اور یہ کام تیس سال کے بعدجون ۱۹۷۲ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ دورانِ تالیف انھوں نے محسوس کیا کہ جن مقامات و آثار کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے یا رسول اکرم...

  • 7 سفر نامہ حجاز 1930ء (اتوار 28 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1956

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سےبھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن ،لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں ۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سفر نامہ حجاز ‘‘ مولانا غلا م رسول مہر﷫ کے سفرحجاز کی روداد ہے ۔مولانا غلام رسول مہر نے خادم الحرمین الشریفین سلطان عبدالعزیز ابن سعود﷫ کی دعوت پر سفرمبارک کا عزم فرمایا تھااو ر23؍اپریل 1930 کو کراچی سے روانہ ہوئے۔مولانا اسماعیل غزنوی ﷫اور چند دیگر احباب ان کےہم سفرتھے ۔ ارض حرم میں 29؍ مئی1930ء تک انہیں قیام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔اس دوران سلطان ابن سعود سے ان کی ملاقات ہوئی ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور سعادتِ حج سےبھی مشرف ہوئے ۔اس سفر مبارک کی ہر منزل ہر مقام، قیام کی صحبت ومصروفیت کی روداد روزنامہ &...

  • 8 سفرنامہ حجاز (مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫) (پیر 29 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1255

    شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ﷫سے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے دہلی میں سید نذیرحسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین ہی نہیں دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔ مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور پیغمبر اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح ہندو بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی اسلامی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ عیسائیت اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسلام کی حقانیت کو ہر موڑ پر ہر حوالے سے ثابت کیا۔ ۱۸۹۱ء میں جب مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کیا‘ آپ اس وقت طالب علم تھے۔ زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے ردِ قادیانیت کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکاراکہ مرزا قادیانی اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ردِ قادیان...

  • 9 صحن حرم (جمعرات 24 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1255

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سےبھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن ،لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں ۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ صحن حرم‘‘ جناب یونس بصیر صاحب کے سفر حج کی گھر سے روانہ ہونے سے لے کر اختتام سفر تک مکمل روداد ہے ۔موصوف نے اپنے سفر حج کی پوری تفصیل نہایت خوبصورت الفاظ اور پرخلوص پیرائے میں قلم کی گرفت میں لانے کی کوشش کی ہے ۔اور اپنےاس سفر سعادت کواس اندار میں بیان کیا ہے کہ پڑھنے والاخود کو ان کا شریک سفر محسوس کرتا ہے اورآنکھوں میں روضۂ رسول اور بیت اللہ کے روح پر ور مناظر ،مناسک حج کی شکل میں گھومنا شروع ہوجاتے ہیں۔مؤرخ اہل حدیث مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ کی اس کتاب پر تقریظ سے کتاب کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔۔ (م۔ا)

  • 10 طورخم سے کوہ قاف تک روس کے تعاقب میں (پیر 02 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1893

    افغانستان ایشیاء کا ایک ملک ہے جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ افغانستان ہے۔ اس کے جنوب اور مشرق میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال مشرق میں چین، شمال میں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان ہیں۔ اردگرد کے تمام ممالک سے افغانستان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلق بہت گہرا ہے۔ اس کے بیشتر لوگ مسلمان ہیں۔ یہ ملک بالترتیب ایرانیوں، یونانیوں، عربوں، ترکوں، منگولوں، برطانیوں، روسیوں اور اب امریکہ کے قبضے میں رہا ہے۔ مگر اس کے لوگ بیرونی قبضہ کے خلاف ہمیشہ مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ ایک ملک کے طور پر اٹھارویں صدی کے وسط میں احمد شاہ درانی کے دور میں یہ ابھرا اگرچہ بعد میں درانی کی سلطنت کے کافی حصے اردگرد کے ممالک کے حصے بن گئے۔ روس کی کمیونسٹ پارٹی نے کمال اتا ترک کی طرز پر غیر اسلامی نظریات کی ترویج کی مثلاً پردہ پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔ یہ تبدیلیاں افغانی معاشرہ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ افغانستان میں حالات جب بہت خراب ہو گئے تو افغانی کمیونسٹ حکومت کی دعوت پر روس نے اپنی فوج افغانستان میں اتار دی۔25 دسمبر 1979 کو روسی فوج کابل میں داخل ہوگئی۔ افغانستان میں مجاہدین نے ان کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ جو کئی سالوں تک جاری رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس کو 1989 میں مکمل طور پر افغانستان سے نکلنا پڑا ۔بلکہ بعض دانشوروں کے خیال میں روس کے ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ یہی جنگ تھی۔ زیر تبصرہ کتاب " طور خم سے کوہ قاف تک  روس کے تعاقب میں "جماعۃ الدعوہ  پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ صاحب کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے  افغانستان سے روس کے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1127
  • اس ہفتے کے قارئین: 7685
  • اس ماہ کے قارئین: 32213
  • کل قارئین : 47112108

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں