اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #5160

    مصنف : ڈاکٹر گوہر مشتاق

    مشاہدات : 2578

    روزے کے روحانی اور طبی فوائد قرآن ، حدیث اور میڈیکل سائنس کی روشنی میں

    (جمعہ 17 فروری 2017ء) ناشر : اذان سحر پبلی کیشنز لاہور

    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کی نفسیاتی تربیت میں اہم کراداکرتی ہے ۔ نفس کی طہارت ، اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام او ر نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی طلب روزے کے بنیادی اوصاف میں سے ہیں۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ ہم روزےکو قرآن وسنت کی روشنی میں رکھنے ، افطار کرنے اور اس کے شرائط وآداب کو بجا لانے کا خصوصی خیال رکھیں۔دورِ سلف کی نسبت دورِ حاضر میں بہت سے جسمانی بیماریاں رونما ہورہی ہیں نیز طب میں جدید آلات اور دوا کے استعمال میں گوناگوں طریقے منظر عام آچکے ہیں بوقت ضرورت ان سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بن چکا ہے۔روزے کے عام احکام ومسائل کے حوالے سے اردوزبان میں کئی کتب اور فتاوی جات موجود ہیں لیکن روزہ او رجدید طبی مسائل جاننےکےلیے اردو زبان میں کم ہی لٹریچر موجود ہےکہ جس سے عام اطباء او ر عوام الناس استفادہ کرسکیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’روزے کے روحانی اور طبی فوائد ‘‘ڈاکٹر گوہر مشتاق کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے قرآن وحدیث اور جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ روزہ ایک ایسی جامع عبادت کہ جس میں بے شمار روحانی اور طبی فوائد موجود ہیں اور اس کااعتراف مسلمان علماء کےعلاوہ غیر مسلم حکماء اور مفکرین نے بھی کیا ہے ۔ اور آج جدید میڈیکل سائنس نے روزے کے فوائد کے بارے میں مزید ثبوت فراہم کردیئے ہیں بلکہ ایک مغربی ماہر طب ڈاکٹر ایلن ہاس نے تو کہا ہے کہ ’’ روزہ واحد عظیم ترین طریقۂ علاج ہے ‘‘۔ فاضل مصنف اس کتاب کےعلاوہ بھی اسلام اور جدید سائنس کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف کرچکے ہیں ۔(م۔ا)

  • 2 #5182

    مصنف : ڈاکٹر گوہر مشتاق

    مشاہدات : 1774

    انسانی دل اور قبول اسلام ایک مذہبی سائنسی تجزیہ

    (منگل 28 فروری 2017ء) ناشر : اذان سحر پبلی کیشنز لاہور

    جس طرح انسان مٹی اور روح کا حسین امتزاج ہے، اسی طرح انسان کو اللہ تعالی نے ذہن اور دل عطا کئے ہیں۔جس طرح اس دنیا کی زندگی روح اور جسم کے درمیان ایک داستان ہے، بالکل اسی طرح اس حیات دنیاوی میں انسان کے دل اور دماغ میں ایک کشمکش رہتی ہے۔اگر اکثر مواقع پر دماغ اپنی من مانی کرتا ہے تو دل بھی کئی مواقع پر دماغ پر فتح حاصل کر لیتا ہے اور انسان سے وہ کرواتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔قرآن وحدیث میں انسانی دل کو ذہانت کا منبع اور جذبات واحساسات رکھنے والا عضو قرار دیا گیا ہے۔تاہم بیسویں صدی کے وسط میں سائنس نے پہلی مرتبہ یہ حیرت انگیز دریافت کی کہ انسانی دل میں بھی انسانی دماغ کی طرح ذہانت کے خلئے پائے جاتے ہیں۔اس انقلابی  دریافت کے بعد پھر انسانی دل پر بحیثیت منبع ذہانت کے مغرب میں کئی سائنسی تحقیقات ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب " انسانی دل اور قبول اسلام، ایک مذہبی، سائنسی تجزیہ "محترم ڈاکٹر گوہر مشتاق صاحب،پی ایچ ڈی امریکہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے یہی واضح کیا ہے کہ جو چیز اسلام نے آج سے 1400 سو سال پہلے بتا دی تھی ، سائنس آج انہیں دریافت کر رہی ہے، جو اسلام کے مذہب حق ہونے پر دلیل ہے۔(راسخ)

  • 3 #6557

    مصنف : شہباز حسین بارا

    مشاہدات : 1398

    استعماری تاریخ کے سیاہ اوراق

    (منگل 17 جولائی 2018ء) ناشر : اذان سحر پبلی کیشنز لاہور

    استعماریت کے معنیٰ ایک ملک کے ذریعہ دوسرے ملک یا علاقہ کو بتدریج اور منظم طریقہ سے سیاسی اور اقتصادی طور پر محکوم بنانے یا ایسے محکوم علاقوں کو برقرار رکھنے کی پالیسی کے ہیں۔ اس معنیٰ میں نوآبادیوں یا محکوم علاقوں کا وجود قدیم زمانہ سے ملتا ہے۔ ایشیا میں عربوں، منگولوں اور چینیوں کی توسیع، استعماری نوعیت کی تھی۔ خصوصی طور پر استعمار سے مراد یورپی طاقتوں کی پندرہویں اور سولہویں صدی کی جغرافیائی دریافتوں کے بعد سے سمندر پار علاقوں میں جنگ، فتوحات اور خالی علاقوں میں نوآباد کاری کی کوششوں سے ہے۔ استعماری طاقتیں نئے علاقوں کی تلاش، نوآباد کاری اور جنگ کے حادثوں سے استعماری طاقتیں بن گئیں۔ یورپی استعمار انیسویں صدی کے خاتمہ تک اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا جس کے محرکات سیاسی اور اقتصادی دونوں تھے۔ ایشیا اور افریقہ میں یورپ کی استعماری توسیع کا محرک سامراجیت بھی تھی یعنی اندرون یورپ بڑی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں سمندر پار مقبوضات کا حصول قومی طاقت کی نشانی اور اس کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔استعماری تسلط اور استعماری حکومت کے جواز میں کئی طرح کے دلائل دئیے جاتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’استعماری تاریخ کےسیاہ اوراق‘‘ جناب شہباز حسین بارا کی کاوش ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں انسانی تاریخ کےانتہائی المناک پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔تاریخ کے یہ تلخ اور سیاہ ابواب کمزور قوموں کے خلاف استعمار یعنی طاقتور ظالم قوموں کے ظلم کی عبارت ہیں اور نئی نسل کے لیے معلومات او رہنمائی کا خزانہ لیے ہوئے ہیں۔مصنف موصوف نے بڑے جذبے اور ہمت کےساتھ تاریخ کےمختلف ادوار میں استعمار کے ہتھکنڈے اور انسانیت کےخلاف ظالمانہ اقدامات بے نقاب کیے ہیں وہ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کےلیے کافی ہیں جو آج کےاستعمار کی حاشیہ نشینی کر رہے ہیں ۔(م۔ا) 

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1877
  • اس ہفتے کے قارئین 7717
  • اس ماہ کے قارئین 59750
  • کل قارئین49529022

موضوعاتی فہرست