کل کتب 8

دکھائیں
کتب
  • 1 #4884

    مصنف : محمد بن صالح العثیمین

    مشاہدات : 2256

    ادھار کے معاملات

    (پیر 31 اکتوبر 2016ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہے کہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ادہار کے معاملات‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین الشیخ محمد الصالح العثیمین﷫ کے ایک گراں قدر عربی کتابچہ ’’ المداینہ‘‘ سلیس اردو ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ شیخ موصوف نے ادھار کےلین دین کے متعلق معاملات کو شریعت کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ اس کتابچہ کی افادیت کے پیش نظر شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد﷾ نے اپنے صاحبزادے حامد حما سے اردو دان طبقہ کے لیے عربی سے اردو قالب میں منتقل کروایا ہے۔ موصوف نے اس میں ایک اضافی فائد ہ کے طور پر مسند امام احمد سےمنتخب احادیث کی روشنی میں قرض کے حقوق وآداب بھی تحریر کردئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو قارئین کےنفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 2 #4746

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2392

    بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام

    (بدھ 03 اگست 2016ء) ناشر : اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل رہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔اس وقت بینکوں کی جانب سے متعدد انواع کے کارڈ جاری کئے جاتے ہیں ، جن میں سے اکثر سودی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام "اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ہے جس میں اکیڈمی کے پندرہویں سیمینار منعقدہ 11-13 مارچ 2006ء میسور میں اے ٹی ایم کارڈ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق پیش کئے گئے تحقیقی مقالات ومناقشات اور فیصلوں کا مجموعہ  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #4939

    مصنف : حافظ عبد السلام بن محمد

    مشاہدات : 2505

    حلال و حرام کاروبار شریعت کی روشنی میں

    (بدھ 07 دسمبر 2016ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اورانبیاء ورسل ﷩ کےذریعے اپنےاحکامات ان تک پہنچائے۔اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کی پابندی کرنا عین عبادت ہے ۔ منہیات سے بچنا اور حرام سے اجتناب کرنا ایک حدیث کی رو سے عبادت ہی ہے۔ حرام کےاختیار کرنے سے عبادات ضائع ہوجاتی ہیں اورایک شخص کو مومن ومتقی بننے کے لیے حرام کردہ چیزوں سےبچنا ضروری ہوتا ہےاور اسلام نےبہت سی اشیاء کوحرام قرار دیا ہے جن کی تفصیل قرآن وحدیث کے صفحات پربکھری پڑی ہے۔ بعض علما ء نےاس پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ زيرتبصره كتاب ’’حلال وحرام کاروبار شریعت کی نظر میں ‘‘ جامعۃ الدعو ۃ الاسلامیہ مریدکے شیخ الحدیث مفسر قرآن محترم جناب حافظ عبد السلام بن محمد ﷾ کی حلال وحرام کےموضوع پر مختصر اور جامع تحریر ہے جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں انسان کی بنیادی ضروریات اشیائے خوردونوش کے حصول اور ان کےاستعمال کےسلسلہ میں حلال وحرام کےاحکامات کو آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عامۃ الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔(آمین)(م۔ا)

  • 4 #5330

    مصنف : حافظ انجینئر نوید احمد

    مشاہدات : 1389

    سود حرمت خباثتیں اشکالات

    (ہفتہ 13 مئی 2017ء) ناشر : تنظیم اسلامی،لاہور

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنیٰ زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب سود ہے ۔ ہماری معاشی زندگی میں سود کچھ اس طرح رچا بسا دیاگیا ہے کہ لوگ اس کو معاشی نظام کا ایک لازمی عنصر سجھنے لگے ہیں اور اس کےبغیر کسی معاشی سرگرمی کو ناممکن سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اب وہ امت مسلمہ جس کو اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں سود مٹانے کے لیے مامور کیا تھا جس کو سودخوروں سےاعلان جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اپنی ہر معاشی اسکیم میں سود کوبنیاد بناکر سودخوری کےبڑے بڑے ادارے قائم کررکھے ہیں اور سودی نظام کو استحکام بخشا جار ہا ہے ۔جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کو معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا ہے ۔ سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دینِ اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت ِاسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ سود حرمت، خباثتیں، اشکلات ‘‘تنظیم اسلامی پاکستان کے مرکزی شعبہ تعلیم وتربیت کے ناظم حافظ انجینیر نوید احمد ﷫ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں فاضل مرتب نے وطن عزیز پاکستان میں انسداد سود کےمعاملہ میں کی جانے والی کوششو ں کی روداد مرتب کی ہے ۔ نیر اس کتابچہ میں حافظ عاکف سعید صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’ تنظیم اسلامی کی انسداد سود کی جدو جہد کی روداد ‘‘ بھی شامل اشاعت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کومرتب کرنے والے احباب اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہماری معیشت کو سود جیسی لعنت سے محفوظ فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 5 #5506

    مصنف : پروفیسر سعید مجتبی سعیدی

    مشاہدات : 1270

    سونا چاندی کے زیورات کیسے خریدیں

    (پیر 19 جون 2017ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اشیاء کی خرید وفروخت کے سلسلہ میں سونے چاندی کو بطور قیمت مقرر اور ادا کرنے کا سلسلہ قدیم زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔عربوں کے ہاں دینار اور درہم کا رواج بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھی۔ زیر تبصرہ کتاب" سونا چاندی کے زیورات کیسے خریدیں؟"محترم پروفیسر سعید مجتبی سعیدی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے سونا چاندی خریدنے کے حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف  کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #3288

    مصنف : ڈاکٹر یوسف قاسم

    مشاہدات : 1842

    صنعت و تجارت کی زکوٰۃ اور سعودی عرب میں اس کا نفاذ

    (اتوار 28 جون 2015ء) ناشر : چوہدری عبد الباقی نسم دار التبلیغ رحمانیہ لاہور

    اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔مسائل زکوۃ میں سے مال تجارت کی زکوۃ کا مسئلہ بہت اہم ہے،اور موجودہ صنعتی دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔خصوصا اس کی ذیلی تفصیلات پر غور وفکر کی ضرورت ہے تاکہ اس کے عملی نفاذ میں آسانی رہے۔ زیر تبصرہ کتاب" صنعت وتجارت کی زکوۃ  اور سعودی عرب میں اس کا نفاذ " ملک عبد العزیز یونیورسٹی ریاض سعودی عرب کے ایک محقق استاذ  محترم ڈاکٹر یوسف قاسم  کا ایک تحقیقی  عربی مقالہ ہے جو اسی یونیورسٹی کے ششماہی مجلہ الاقتصاد والادارہ کے شمارہ نمبر 5 رجب 1397ھ بمطابق جولائی 1977ء میں شائع ہوا تھا۔جبکہ اس کا ترجمہ کرنے کی سعادت جماعت اہل حدیث کے نامور عالم دین اور محقق محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب  ﷫نے حاصل کی ہے۔اس مقالے میں دلائل شرعیہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں اموال وتجارت وصنعت پر زکوۃ کے طریق کار کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #4835

    مصنف : محمد تقی عثمانی

    مشاہدات : 2103

    ملکیت زمین اور اس کی تحدید

    (جمعرات 27 اکتوبر 2016ء) ناشر : مکتبہ دار العلوم، کراچی

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " ملکیت زمین اور اس کی تحدید "مسلک دیو بند کے معروف عالم دین محترم جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے ملکیت زمین اور اس کی تحدید کے موضوع  پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 #7044

    مصنف : ڈاکٹر تنزیل الرحمن

    مشاہدات : 595

    پاکستانی معیشت سے خاتمہ سود کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا خلاصہ

    (اتوار 01 ستمبر 2019ء) ناشر : صدیقی ٹرسٹ کراچی

    اسلامی نظام بینکاری کوئی ساٹھ ستر دہائیوں پر محیط نظام ہے جس کا آغاز مصر سے 1963ء میں میت غمر کے اسلامک بینک کے قیام کی صورت میں ہوا تھا ۔اس سے قبل اس حوالے سے چند کاوشیں اور تجربے  جنوبی ہند کی مسلم ریاست حیدرآباد میں بھی ہوچکے تھے۔ حیدرآباد دکن کے اس تجربے کے بعد1950ء 1951 ء میں اس طرح کی ایک ہلکی سی کاوش پاکستان میں بھی ہوئی جس میں شیخ احمد رشاد نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ اسلامی بینکاری کے قیام اور استحکام کے لئے پاکستان بھی پیش پیش رہا ہے ۔ اور مختلف محاذوں پر سودی لعنت پر مبنی نظام سے خلاصی اور قرآن وسنت کے پیش کردہ معاشی اصولوں کی روشنی میں ایسے طریقہ کار کے لیے  کاوشیں کی گئی ہیں کہ کسی طرح سود کی لعنت سے اس ملک کو پاک کیا جاسکے ۔ اس حوالے سے انفرادی اور اجتماعی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اسلامی معیشت کے اصولوں سے ہم آہنگ ایسا طریقہ کار وضع کرے جس سے سود ی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ماہرین معاشیات اور بینکاری کے تعاون سے ایک عبوری رپورٹ نومبر1978ءمیں اور حتمی رپورٹ جون 1980ء میں پیش کی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا لب لباب یہ تھا کہ : بلاسود بینکاری نفع ونقصان کی بنیاد پر قائم ہوگی ،بینکوں کا بیشتر کاروبار مشارکت ومضاربت پر مبنی ہوگا اور اجارہ ، مرابحہ ، وغیرہ محض وقتی متبادل کے طور پر استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔1980ء کے آخر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام تجارتی بینکوں کو یہ حکم جاری کیا کہ وہ 1981ء سے اپنے تمام معاملات غیر سودی بنیادوں پر قائم کرنے کے پابند ہوں گے ۔ اسٹیٹ بینک کے اس حکم نامے کے پیش نظر حکومتی تحویل میں موجود تجارتی  بینکوں نے پی ایل ایس اکاؤنٹ کے نام سے غیر سودی کھاتے کھولنے کی اسکیم شروع کی اور عندیہ دیا کہ رفتہ رفتہ پورے بینکاری نظام کو غیر سودی نظام میں تبدیل کردیا جائے گا ۔اسلامی نظریاتی کونسل نے جسٹس تنزیل الرحمٰن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس منعقدہ 1983ء میں حکومت کو یاد دلایا کہ ملکی معیشت سے سود کے خاتمے کے لئے حکومت نے 1979ء میں تین سال کی جو مدت مقرر کی تھی وہ دسمبر 1981ء میں ختم ہوگئی ہے ۔ لیکن ابھی تک سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس گزشتہ پانچ سال کے دوران حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں وہ موجودہ سودی استحکام کا سبب بن رہے ہیں ۔ پھر 1991ءمیں وفاقی شرعی عدالت، پاکستان کے روبرو ایک مقدمہ بعنوانڈاکٹر محمود الرحمن فیصل بنام سیکرٹری وزارتِ قانون اسلام آباد وغیرہ‘‘ سماعت کے لئے پیش ہوا۔ اس مقدمے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رائج متعدد قوانین کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جو سودی لین دین سے متعلق تھے اور استدعا کی گئی تھی کہ چونکہ قرآن و سنت میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آئین، حکومت کو اس امر کا پابند کرتا ہے کہ وہ تمام رائج قوانین کو قرآن و سنت میں بیان کردہ اُصولوں کے مطابق ڈھالے لہٰذا ان تمام قوانین کو قرآن و سنت سے متصادم قرار دیا جائے جن میں قانونی طور پر سودی لین دین یا کاروبار کی اجازت پائی جاتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے جو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن (چیئرمین) مسٹر جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان اور مسٹر جسٹس عبید اللہ خان پر مشتمل تھا، ۷ ؍فروری    1991ء    سے اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا۔ یہ سلسلہ ۲۴؍ اکتوبر   1991ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ۱۴ ؍نومبر  1991ء کو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت نے ۱۵۷ صفحات پر مشتمل تاریخی فیصلہ صادر کیا۔سودی نظام کےخلاف یہ جنگ پھر بھی جاری رہی۱۹۹۹ء میں بھی پھر اس کیس کی سماعت ہوئی ۔ عرفِ عام میں اس عدالتی جنگ کو ’’سود کا مقدمہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس انداز میں سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو یہ مقدمہ لڑا گیا اور خاص کر سود مخالف فریقین نے کسی مالی طمع کے بغیر جانفشانی اور دینی جذبے کے تحت کراچی سے اسلام آباد تک، جس پرجوش انداز میں اسلامی موقف کی پیروی کی، اس کی روشنی میں، سود کے خلاف اس عدالتی جنگ کو اگر عدالتی جہاد کہا جائے تو غیر مناسب نہ ہوگا۔پاکستان میں رائج سودی نظام کے خلاف اس تاریخی مقدمہ کی سماعت عدالت ِعظمیٰ کے فل بنچ نے کی۔ یہ بنچ مسٹر جسٹس خلیل الرحمن خان (چیئرمین) مسٹر جسٹس وجیہ الدین احمد، مسٹر جسٹس منیر اے شیخ، مسٹر جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی پر مشتمل تھا۔اس  کیس میں  سپریم کورٹ کی درخواست پر بین الاقوامی  سکالرز   اور  جید علماء نے  سود کےخاتمہ  پر دلائل پیش کیے۔اس موقعہ پر عظیم اسلامی اسکالر  ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾   مدیر اعلیٰ  ماہنامہ’’  محدث‘‘   لاہوروسرپرست  اعلیٰ جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور  کو  سپریم کورٹ نے  مقدمہ سود میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مدعو کیا حافظ صا حب نے  علمی  انداز سے اپنے دلائل مذکورہ فل پنچ کے سامنے پیش کیے   حافظ کی معاونت کے لیے راقم  کو بھی ان کےساتھ جانے کا موقع ملا۔ زیرتبصرہ کتاب ’’پاکستانی معیشت سے  خاتمہ سود کےلیے  اسلامی نظریاتی کونسل  کی رپورٹ کا خلاصہ  ‘‘  جنرل محمد ضیاء الحق    کے حکم پر اسلامی نظریاتی کونسل کی  طرف سے پیش جانے والی  رپورٹ  کا  خلاصہ ہے  یہ رپورٹ جسٹس تنزیل الرحمٰن  کی صدارت میں  کونسل نے  منظور کی تھی جو  جنرل  محمد ضیاء الحق  کی خدمت  میں پیش  ہوئی ۔یہ رپورٹ اپنے موضوع پر دنیا میں سب سے پہلی کوشش تھی جس کی تیاری میں نہ صرف صاحب بصیرت علمائے دین  بلکہ جدید اقتصادیات  وبینک کاری کے  پیچیدہ  علمی اور فنی مسائل کا گہرا شعور  وادراک رکھنے والے  اہل نظر  حضرات کا وسیع تجربہ بھی شامل ہے ۔ استیصال  سود کے موضوع  پر کونسل کی یہ رپورٹ مقدمہ  کےعلاوہ  پانچ ابواب اور ایک اختتامیہ پر مشتمل ہے  جس میں کونسل کے اخذ کردہ نتائج اور اس کی سفارشات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل کی تیارہ کردہ  طویل رپورٹ کا    خلاصہ کونسل کے چیئرمین نے   ہی کیا  ہےجسے صدیقی ٹرسٹ  ،کراچی نے شائع کیا  اور اب  کتاب وسنت سائٹ کےقارئین کےلیے پیش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ  وطن عزیز کو سود کی لعنت سے  پاک فرمائے ۔(آمین) (م۔ ا)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1723
  • اس ہفتے کے قارئین 11408
  • اس ماہ کے قارئین 49802
  • کل قارئین49396639

موضوعاتی فہرست