دکھائیں کتب
  • 1 الفاروق (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22834

    حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے سوانح اور حالات تفصیل کےساتھ اور اس صحت کے ساتھ لکھے جاچکے جو تاریخی تصنیف کی صحت کی اخیری حد ہے دنیا میں اور جس قدر بڑے بڑے  نامور گزرےہیں ان کی مفصل سوانح عمریاں پہلےسے موجود ہیں ۔اب آپ خود اس بات کا اندازہ لگالیں کہ تمام دنیا میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا کوئی ہم پایہ گزرا ہے یا نہیں ۔؟
    ’الفاروق ‘ جس میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت سے وفات تک واقعات اور فتوحات ملکی کےحالات درج ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور مذہبی انتظامات  اور علمی کمالات اور ذاتی اخلاق اور عادات کی تفصیل  بھی بیان کی گئی ہے ۔
    اس کتاب کی صحت میں کوئی کم کوشش نہیں کی گئی بحرحال کتاب کے آخر میں ایک غلط نامہ لگادیا گیا ہے جو کفارہ جرم کا کام دے سکتا ہے ۔

     

  • 2 امن عالم سیرت طیبہ کی روشنی میں (پیر 19 فروری 2018ء)

    مشاہدات:699

    اگرچہ دنیا کے تمام ممالک اکیسویں صدی کے سنہری سورج کی تبریک کا جشن منانے میں مصروف ہیں اور سائنس وٹیکنالوجی اپنی ترقی وایجادات پر نازاں اِترا رہی ہے لیکن انسانیت خود کرب واکراہ‘ خوف وہراس‘ بھوک وافلاس اور ظلم وتشدد کے جہنم سے جس قدر دوچار ہے یہ انتہائی نازک صورت حال بھی سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بد امنی کی اس سنگین عالمی صورتِ حال کا ماوا امریکی ورلڈ آرڈر میں مضمر نہیں ہے اور نہ  ہی روس‘ چین اور یورپی کونسل کا اتحاد آج اس آگ کو ٹھنڈا کر سکتا  ہے‘ اس گھناؤنی صورت حال کو صرف اور صرف محمد عربیﷺ کا دیا ہوا اسلامک آرڈر فار ورلڈ پیس اینڈ پراسپیرٹی ہی یقینی درست کر سکتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے جس میں نبیﷺ کے پیغام امن کو دنیا کے سامنے لانے کی عظیم کاوش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں چھ ابواب مرتب کیے گئے ہیں پہلے میں امن عالم کی ضرورت واہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے‘ دوسرے میں  بعثت نبویﷺ کے وقت بد امنی کی عالمی حالت کا جائزہ لیا گیا ہے اور تیسرے باب میں امن کے لیے نبیﷺ کی تعلیمات کیا ہیں؟ اس بات کا بیان ہے‘ چوتھے باب میں عصر حاضر میں بد امنی کی وجوہات کو بیان کیا گیا ہے ‘ پانچویں باب میں مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزام کا جائزہ لیا گیا ہے اور چھٹے باب میں امن عالم کے لیے تجاویز وسفارشات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ امن عالم سیرت طیبہ کی روشنی میں ‘‘ حاجی...

  • 3 دیار پورپ میں علم اور علماء (پیر 17 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:653

    مسلم دورِ حکومت میں دہلی کےمشرق میں صوبۂ الہ آباد ، صوبہ او دھ اور صوبۂ عظیم آباد پر مشتمل جو وسیع او رمحدود خطہ  ہےاس کو  پُورب  کہا جاتا ہے۔ہر صوبہ  میں دار الامارت ، ہر دار الامارت  سے متعلق بڑے بڑے شہر ہر شہر میں متعلق قصبات  اور ہر قصبہ کسے متعلق دیہات تھے ۔ملک پُورب کےقصبات شہروں کےحکم میں تھےجن میں عالیشان عمارتیں، شرفاء کےمحلات  ، علماء، مشائخ ، مختلف قسم کےپیشہ ور ، مدارس اور مساجد تھیں جو جمعہ وجماعت سے  معمور تھیں اسی ملک کو دیار پُورب سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کی  مسلسل فتوحات  کےزمانہ میں ہندوستان کا یہ علاقہ(دیار پورب)اسلام او رمسلمانوں سےآشنا ہوچکا تھا۔ خاص  طور سے بنارس کی فتوحات نے ان اطراف میں بڑی اہمیت اختیار کر لی تھی۔ ا س کےبعد  سالار مسعود غازی علوی اور ان کے رفقاء کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اسلام اور مسلمانوں کاشہرہوا۔ زیر نظر کتاب ’’ دیارِ پُورب میں علم اور علماء‘‘ مبارکپور کے معروف سیرت نگار ومؤرخ جناب قاضی اطہر مبارکپوری ﷫کی  تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں  شیرازِ ہند پُورب کی سات سوسالہ اسلامی تاریخ کے  چار علمی ادوار قائم کر کے ہر دور  کی علمی دینی سرگرمی اوراربابِ عمل وفضل وکمال کا اجمالی تعارف کرایا ہے۔اس کےبعد اس دیار کےکئی خانوادہ ہائے علم وفضل کےعلماء  ومشائخ، ان کے اساتذہ وتلامذہ معاصرین اور متعلقین کاتذکرہ درج کیا ہے ۔جس سے سر زمین پوُرب میں غلام سلطنت کے قیام سےلے ک...

  • عبداللہ بن ابی کا مکمل نام اپنی ماں کی نسبت سے، عبداللہ بن ابی بن سلول، بتایا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد سے قبل اہل مدینہ میں اسکی حیثیت اثر اور مرتبہ سب سے ممتاز تھا اور ہجرت سے کچھ روز قبل اہل مدینہ کے تمام قبائل نے اسے متفقہ طور پر اپنا سردار مقرر کرلیا تھا اور اسکی باقاعدہ رسم تاج پوشی کے لئے دن اور بھی تیہ کر لی گئی تھی۔ عبداللہ بن ابی نے بظاہر اسلام قبول کرلیا اور ظاہری اعتبار سے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام احکامات کی پاپندی شروع کردی لیکن اندر ہی اندر وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض اور عناد کی عاد میں جل رہا تھا۔ وہ جب تک زندہ رہا اس نے اسلام کی جڑ کاٹنے کے لئے یہودیوں اور مشرکین مکہ سے رابطے استوار رکھے اور غزوہ بدر اور احد میں نہ خود حصہ نہیں لیا بلکہ اندر ہی اندر صحابہ کو بھی جہاد پہ جانے سے روکتا رہا۔ یہی منافق شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی عائشہ بنت ابی بکر پر تہمت لگانے میں بھی پیش پیش رہا۔اسلامی تاریخ اور بطور خاص مسلمانوں میں تفرقات پیدا ہونے کے ابتدائی ماحول اور محرکات کے سلسلے میں عبداللہ بن ابی کا نام اولین شخصیات میں لیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام میں اس کو رئیس المنافقین کہا گيا۔ اس کی وفات پر عمر فاروق نے اس کا واضح طور پر اظہار بھی کیا تھا کہ یہ شخص منافق تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسکی نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ لیکن اس کے باوجود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسکے مسلمان بیٹے کی دلجوئی کے لئے کمال رحم اور عفو در گزر سے کام لیتے ہوئے ا...

  • 5 شیر شاہ سوری (اتوار 18 فروری 2018ء)

    مشاہدات:657

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک شیرشاہ سوری بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص انہی کی شخصیت پر ہے ۔کتاب اصلاً پشتو زبان میں ہے جس کا اس کتاب میں سلیس اور با محاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔اس کتاب میں شیر شاہ سوری کے حالات زندگی اور ان کے کارناموں کو بیان کیا گیا ہے‘ کیونکہ وہ اپنے دور کے نہایت دور اندیش‘ ہوشیار اور بے حد دانشمند حکمران تھے اور ان کی یہ خصوصیت بھی کہ وہ نہایت معمولی جاگیر دار کا بیٹا تھا اور اس نے صرف اپنی بہادری‘ غیر معمولی ہمت‘ محنت اور دور اندیشی سے دہلی کا تخت حاصل کیا۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ شیر شاہ سوری ‘‘ ودیا بھاسکر کی تالیف کردہ اور اس کا ترجمہ ممتاز مرزا نے کیا ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی می...

  • 6 مثالی شخصیات ( دی آئیڈیلز ) حصہ دوم (ہفتہ 27 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:611

    نبیﷺ کے جانثار صحابہ کرامؓ جنہیں انبیائے کرام کے بعد دنیا کی مقدس ترین ہستیاں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جن کے بارے میں قرآں کریم کی رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ کی ضمانت موجود ہے اور جنہیں آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابی کالنجوم فرما کر ستاروں کی مانند قرار دیا ہے‘ روئے زمین پر وہ مبارک ہستیاں تھی جن کی سانس قرآن وسنت کی معطر خوشبووں سے لبریز تھیں اور جن کا ہر ہر لمحہ قال اللہ وقال الرسول کی مکمل عکاسی کرتا تھا۔ زير تبصره کتاب ’’مثالی شخصیات ؍دی آئیڈیلز‘‘میں مصنف نے اس کتاب کے پہلے حصے میں صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ ، فضائل ومناقب کو بیان کرنے کے بعد نبی کریم ﷺکے 13 جلیل القدر صحابہ کرام اور ایک صحابیہ ام ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا آسان ا نداز میں مختصراً تعارف پیش کیا تھا اور اب دوسرے حصے میں پندرہ معتبر شخصیات کا اختصار اور جامعیت کے ساتھ تعارف دیا ہے ۔ یہ کتاب’’ مثالی شخصیات ‘‘ عادل سہیل ظفر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور  کتب  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 7 محمد بن قاسم (ہفتہ 11 اگست 2018ء)

    مشاہدات:826

    محمد بن قاسم  کا پورا نام عماد الدین محمد بن قاسم تھا جو کہ بنو امیہ کے ایک مشہور سپہ سالار حجاج بن یوسف کا بھتیجا تھا۔ محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کرکے ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرایا۔ ان کو اس عظیم فتح کے باعث ہندوستان و پاکستان کے مسلمانوں میں ایک ہیرو کا اعزاز حاصل ہے اور اسی لئے سندھ کو "باب الاسلام" کہا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان پر اسلام کا دروازہ یہیں سے کھلا۔محمد بن قاسم 694ء میں طائف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خاندان کے ممتاز افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ جب حجاج بن یوسف کو عراق کا گورنر مقرر کیا گیا تو اس نے ثقفی خاندان کے ممتاز لوگوں کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا۔ ان میں محمد کے والد قاسم بھی تھے جو بصرہ کی گورنری پر فائز تھے۔ اسطرح محمد بن قاسم کی ابتدائی تربیت بصرہ میں ہوئی۔ بچپن ہی سے محمد مستقبل کا ذہین اور قابل شخص نظر آتا تھا۔ غربت کی وجہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پوری نہ کرسکے اس لئے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں بھرتی ہوگئے۔ فنون سپہ گری کی تربیت انہوں نے دمشق میں حاصل کی اور انتہائی کم عمری میں اپنی قابلیت اور غیر معمولی صلاحیت کی بدولت فوج میں اعلی عہدہ حاصل کرکے امتیازی حیثیت حاصل کی۔ محمد بن قاسم کو 15 سال کی عمر میں 708ءکو ایران میں کردوں کی بغاوت کے خاتمے کے لئے سپہ سالاری کے فرائض سونپے گئے۔ اس وقت بنو امیہ کے حکمران ولید بن عبدالملک کا دور تھا اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔ اس مہم میں محمد بن قاسم نے کامیابی حاصل کی اور ایک معمولی چھاؤنی شیراز کو ایک خاص شہر بنادیا۔اس دوران محمد بن قاسم کو فارس ک...

  • 8 محمد بن قاسم اور اسکے جانشین (جمعرات 06 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:648

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک محمد بن قاسم  بھی ہیں۔اور تاریخ کسی بھی قوم کے عروج وزوال کی عینی شاہد ہوا کرتی ہے اور اس کے بنا ہر قوم نامکمل یا ادھوری کہلاتی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص محمد بن قاسم کے حوالے سے ہی ہے اور اس کتاب کو لکھنے والے مصنف بہت اچھے مؤرخ اور ادیب بھی ہیں ۔ مصنف نے اس کتاب میں تاریخ اور خاص طور پرپاک وہند اور بنگلہ دیش کے اسلامی دور کی تاریخ کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ اس میں انہوں نے عربی ماخذ کی مدد سے محمد بن قاسم کے بارے میں کئی نئے انکشافات کیے ہیں‘ اور باقی مؤرخین کے طرز سے ہٹ کر انہوں نے کئی نئے حقائق اور تاریخ کو کتاب کی زینت بنایا ہے۔یہ کتاب نہایت عرق ریزی کے ساتھ لکھی گئی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ محمد بن قاسم اور اسکے جانشین ‘‘ پروفیسر محمد اسلم کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں&...

  • 9 مشہور لوگوں کی عظیم مائیں (بدھ 20 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:646

    ماں اس ہستی کا نام ہے جو زندگی کے تمام دکھوں اور مصیبتوں کو اپنے آنچل میں چھپا لیتی ہے۔ اپنی زندگی اپنے بچوں کی خوشیوں، شادمانیوں میں صَرف کرتی چلی آئی ہے اور جب تک یہ دنیا قائم و دائم ہے یہی رسم جاری رہے گا۔یوں تو دنیا میں سبھی اشرف المخلوقات چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو، چاہے کسی بھی مذہب سے اس کا تعلق ہو ماں ہر ایک لیئے قابلِ قدر ہے۔ مگر خاص طور پر ہماری مشرقی ماں تو ہوتی ہی وفا کی پُتلی ہے۔ جو جیتی ہی اپنے بچوں کیلئے ہے ۔ ویسے تو دنیا نے ماں کیلئے ایک خاص دن کا تعین کر دیا ہے مگرجو ہر سال کے دوسری اتوار کومنایا جاتا ہے، چونکہ ہم حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں اور اسلام ہی ہمارا مکمل مذہب ہے اس لئے یہاں یہ ذکر ضرور کروں گا کہ اسلامی تعلیم کی روشنی میں اللہ کی طرف سے ماں دنیائے عظیم کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔ ماں تو ایک ایسا پھول ہے جو رہتی دنیا تک ساری کائنات کو مہکاتی رہے گی۔ اس لئے تو کہتے ہیں کہ ماں کا وجود ہی ہمارے لئے باعثِ آرام و راحت، چین و سکون، مہر و محبت، صبر و رضا اور خلوص و وفا کی روشن دلیل ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’مشہور لوگوں کی عظیم مائیں‘‘ مقبول ارشد کی ہے۔ جس میں ماں کی عظمت، شفقت،محبت اور پیار کو بیان کرتے سرِ فہرست آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کا تذکرہ کیا ہے ان کے بعد دیگر افراد (قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، عبد الستار ایدھی...) کی ماؤوں کا تذکرے بیان کیے ہیں۔امید ہے اس کتاب کے مطالعہ سے بہت سی مائیں اپنی اولاد کی اچھی پرورش کرنے کی کوشش کریں گی۔۔ اللہ تعا...

  • 10 معظم علی (ہفتہ 11 اگست 2018ء)

    مشاہدات:360

    ٹیپوسلطان برصغیرِ کا وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہے جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت ِفکر، آزادی وطن اور دینِ اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی، ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا۔ ٹیپوسلطان 1750 میں بنگلور کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوا ۔ٹیپوسلطان کا نام جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا، ٹیپوسلطان کے آباؤ اجداد کا تعلق مکہ معظمہ کے ایک معزز قبیلے قریش سے تھا جو کہ ٹیپوسلطان کی پیدائش سے اندازاً ایک صدی قبل ہجرت کرکے ہندوستان میں براستہ پنجاب، دہلی آکر آباد ہوگیا تھا۔ٹیپوسلطان کے والد نواب حیدر علی بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے حامل شخص تھے جو ذاتی لیاقت کے بے مثال جواں مردی اور ماہرانہ حکمت عملی کے سبب ایک ادنیٰ افسر ’’نائیک‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ڈنڈیگل کے گورنر بنے اور بعد ازاں میسور کی سلطنت کے سلطان بن کر متعدد جنگی معرکوں کے بعد خود مختار بنے اور یوں 1762 میں باقاعدہ ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ (موجودہ کرناٹک) قائم کی۔ 20 سال تک بے مثال حکمرانی کے بعد نواب حیدر علی 1782 میں انتقال کرگئے اور یوں حیدر علی کے ہونہار جواں سال اور باہمت فرزند ٹیپوسلطان نے 1783 میں ریاست کا نظم و نسق سنبھالا۔دنیا کے نقشے میں ہندوستان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور ہندوستان میں ریاست میسور ایک نقطے کے مساوی ہے اور اس نقطے برابر ریاست میں سولہ سال کی حکمرانی یا بادشاہت اس وسیع وعریض لامتناہی کائنات میں کوئی ح...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 506
  • اس ہفتے کے قارئین: 4089
  • اس ماہ کے قارئین: 21045
  • کل مشاہدات: 42397481

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں