اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #4519

    مصنف : علامہ واقدی

    مشاہدات : 4139

    صحابہ کرام ؓ کے جنگی معرکے

    (منگل 07 جون 2016ء) ناشر : مکتبہ خلیل غزنی سٹریٹ لاہور

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ درس گاہِ محمدیہ ﷺ کی تعلیم و تربیت نے افرادِ انسانی کی ایک ایسی مثالی جماعت تیار کی کہ انبیاء کرام کے بعد روئے زمین پر کوئی جماعت ان سے بہتر سیرت و کردار پیش نہ کر سکی۔ وہ مقدس جماعت جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی کیا گیا اور جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" خیر امتی قرنی (بخاری)"میری امت کی سب سے بہترین جماعت میرے عہد کے لوگ ہیں" یہ وہ جماعت تھی جن کی سیرت و کردار کے بارے میں دشمنوں نے بھی گواہی دی۔ تاریخ اسلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے روشن اور شاندار تذکروں سے مزین ہے۔ بہادروں اور شہسواروں کا ایک ایسا دستہ، جنہوں نے دین اسلام کے پودے کی اپنے خون سے آبیاری کی۔ زیر تبصرہ کتاب’’صحابہ کرام کے جنگی معرکے المعروف به فتوح الشام ‘‘مؤرخ اسلام علامہ واقدی  کی تصنیف  ہے عربی زبان میں اور اس کا اردو ترجمہ شبیر احمد انصاری نے کیا ہے  جس میں انہوں  نے  صحابہ کی سیدنا ابوبکر صدیق کےدور میں ملک شام  کے لیے  مجاہدین کی روانگی اور ان حالات واقعات کو تفصیلاً ذکر کیا ہے۔اللہ رب العزت سے  دعا  کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجوے عظیم سے نوازے۔آمین(شعیب خان)

  • 2 #4655

    مصنف : شاہ اسماعیل شہید

    مشاہدات : 1896

    تقویۃ الایمان مع حواشی از ابو الحسن ندوی

    (جمعہ 13 مئی 2016ء) ناشر : مکتبہ خلیل غزنی سٹریٹ لاہور

    جس طرح  امام ابن تیمیہ ﷫ کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ ﷫ کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا-تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید ﷫ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے۔ ’’تقویۃ الایمان‘‘ کا موضوع توحید ہے جو دین کی بنیاد ہے اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جاچکے ہیں۔ تقویۃ الایمان  بھی انہی کتب  میں سے ایک اہم کتاب ہے ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1826ء میں شائع ہوئی جب  شاہ اسماعیل شہید سید احمد بریلوی﷫ اور ان کی جماعت مجاہدین کےہمراہ وطن مالوف سے ہجرت کر کے جا چکے تھے ۔اور ہند وستان کی آزادی  و تطہیر کے لیے جہاد بالسیف کا آغاز  ہورہا تھا۔کتاب تقویۃ الایمان اب تک لاکھوں کی تعداد میں  چھپ کر کروڑوں  آدمیوں کے  لیے  ہدایت کا ذریعہ بن چکے ہے۔ شاہ اسماعیل شہید﷫ کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا ہے  اور مصلحانہ ہے علمائے حق کی طرح انہوں نے صرف کتاب و سنت کومدار بنایا ہے۔ آیات وآحادیث پیش کر کے وہ نہایت سادہ اور سلیس میں ان کی تشریح  فرمادیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی  بھی غیر شرعی رسمیں  معاشرے میں مروج تھیں ان کی اصل حقیقیت دل نشیں انداز میں  آشکارا کردیتے ہیں۔ انہوں نے  عقیدہ  وعمل کی ان تمام خوفناک غلطیوں کوجو اسلام کی تعلیم توحید کے  خلاف تھیں مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا۔مثلاً شرک فی  العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العبادات، شرک فی العادت۔ یوں  تقویۃ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اردو زبان میں یہ کتاب معمولی  پڑھے لکھے آدمی سے لے کر متبحر عالم دین تک سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ زیر تبصرہ ’’تقویۃ الایمان‘‘ در اصل عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی ﷫ کے  ان حواشی  کاترجمہ  ہے جوانہوں نے تقویۃ الایمان کو عربی زبان میں منتقل کرتے ہوئے اس پر ایک گرانقدر مقدمہ اور شاہ  صاحب کے مختصر جامع حالات زندگی کی دلکش تصویر کشی بھی کی او رجگہ جگہ بہت سےقیمتی تشریحی حواشی اور جلیل القدر علماء  ومشائخ کےتائیدی بیانات وارشادات بھی نقل  فرمائے۔ اور اس کا نام ’’رسالہ التوحید ‘‘ رکھا بلاد عربیہ میں اسے شرف قبول حاصل ہوا اور اسے دار العلوم ندوۃ العلماء   کے نصاب میں شامل کر لیاگیا۔محترم مولانا شمس الحق ندوی صاحب (ایڈیٹر تعمیر حیات ‘‘ نے مولانا ابو الحسن ندوی ﷫ کے  تقویۃ الایمان پر تحریر کردہ حواشی کو اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اصل کتاب کی طرح یہ  حواشی بھی مشرکانہ ومبتدعانہ رسم ورواج کا خاتمہ کریں گے۔ (ان شاء اللہ)(م۔ا)

  • 3 #6511

    مصنف : خلیق انجم

    مشاہدات : 1684

    سید سلیمان ندوی

    (منگل 10 جولائی 2018ء) ناشر : مکتبہ خلیل غزنی سٹریٹ لاہور

    برصغیر پاک وہند کے  معروف سیرت  نگار اور مؤرخ  مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ معارف جاری کیا جو آج بھی  جاری وساری ہے ۔علامہ  موصوف کی حیات  وخدمات کے سلسلے  متعدد شائع ہوچکی ہیں زیر نظر  کتاب’’ سید سلیمان ندوی  ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے  یہ کتاب مارچ 1985ء میں انجمن ترقی اردو ہند کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے دو روزہ سمینار میں پیش گئے مقالات کا مجموعہ  ہے ۔اس سمینار میں بہت عالمانہ مقالے  پڑھے گئے  ان مقالات کی افادیت کے پیش  نظر جناب  خلیق انجم صاحب نے انھیں کتابی صورت میں مرتب کیا اور مکتبہ خلیل  اردو بازار ،لاہور نے اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا۔(م۔ا)

  • 4 #6765

    مصنف : ابن عبدالشکور

    مشاہدات : 3654

    آئینہ سیرت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ

    (جمعہ 14 ستمبر 2018ء) ناشر : مکتبہ خلیل غزنی سٹریٹ لاہور

    خادم  رسول ﷺ  سیدنا انس بن مالک ﷜ قبیلہ نجار سے تھےجو انصار مدینہ کا معزز ترین خاندان تھا،ان کنیت ابو حمزہ تھی سیدنا  انس ﷜ کی والدہ ماجدہ کا نام ام سلیم سہلہ بنت لمحان انصاریہ ہے جوکہ رشتہ میں وہ آنحضرتﷺ کی خالہ تھیں۔ سیدنا انس  ﷜ہجرت نبویﷺ سے دس سال پیشتر یثرب میں پیدا ہوئے 8،9 سال کی عمر تھی کہ ان کی والدہ   نے اسلام قبول کرلیا، ان کے والد بیوی سے ناراض ہوکر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا،ماں نے دوسرا نکاح ابو طلحہ انصاری سے کرلیا جن کا شمار قبیلۂ خزرج کے امیر اشخاص میں تھا اوراپنے ساتھ انس کو ابو طلحہ کے گھر لے گئیں، انس نے انہی کے گھر میں پرورش پائی۔ہجرت کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے انہیں بطور خادم نبی  کریم  کے سپرد کردیا۔ اس وقت ان کی عمر دس برس کی تھی۔ سیدنا  انس ﷜ زندگی بھر نبی کریم ﷺ  کے خادم رہے۔آپﷺ کی وفات تک اپنے فرض کو نہایت خوبی سے انجام دیا ،سفر وحضر اورخلوت وجلوت کی ان کے لیے کوئی تخصیص نہ تھی۔نزول حجاب سے پہلے وہ آنحضرتﷺ کے گھر میں آزادی کے ساتھ آتے جاتے تھے۔وہ کم وبیش دس برس حامل نبوتﷺ کی خدمت کرتے رہے اورہمیشہ اس شرف پر ان کو ناز رہا۔ سیدنا انس﷜  تقریباً تمام غزوات  میں شریک ہوئے۔غزوہ بدر میں کم سن ہونے کے باوجود شریک تھے۔ غزوہ خیبر میں انس،ابوطلحہ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے اورآنحضرت ﷺ سے اس قدر قریب تھے کہ ان کا قدم آنحضرتﷺ کے قدم سے مس کررہا تھا،8ھ میں مکہ اور طائف میں معرکوں کا بازار گرم ہوا اور 10ھ میں آنحضرتﷺنے حجۃ الوداع یعنی آخری حج کیا، ان سب واقعات میں انس نے شرکت کی ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق﷜ نے سیدنا  انس ﷜کو بحرین میں صدقات کا افسر بنا کر بھیجا۔  خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا عمرفاروق ﷜نے اپنے عہد خلافت میں انہیں تعلیم فقہ کے لیے ایک جماعت کے ساتھ بصرہ روانہ کیا، اس جماعت میں تقریباً دس اشخاص تھے،سیدنا  انس ﷜ نے مستقل بصرہ میں سکونت اختیار کی اورزندگی کا بقیہ حصہ یہیں بسر کیا۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں زیادہ تر انہیں سے احادیث روایت کی ہیں۔ سید نا انس ﷜ سے  2286 احادیث منقول ہیں  جو مختلف کتب احادیث میں موجود ہیں ۔سیدنا انس بن مالک ﷜ نے سو برس سے زیادہ عمر پائی، بصرہ کے قریب ہی ایک مقام پر93ھ میں آپ کا انتقال ہوا، بصرہ میں آخری صحابی کی وفات آپ کی ہوئی۔عربی زبان میں  توصحابہ کرام ﷢ کے حالات واقعات  کے متعلق کئی کتب  موجود  جن ابن حجر عسقلانی ﷫  کی  کتاب ’’ الاصابہ فی تمیز الصحابہ ‘‘ قابل ذکر ہے ۔ اور اسی طرح  اردو زبا اسی نوعیت کی  کتاب  سیر الصحابہ بھی ۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان  افروز  تذکرے سوانح حیا ت کے  حوالے  سے  ائمہ محدثین او راہل علم   نے   کئی  کتب تصنیف کی  ہیں عربی زبان  میں  الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ  قابل ذکر ہیں  ۔اور اسی طرح اردو زبان میں  کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ اردو کتب میں  سے ایک کتاب ’’سیر الصحابۃ‘‘ ہے یہ کتاب 15 حصوں میں  نو مجلدات پر مشتمل۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ آئینہ سیرت  حضرت انس بن مالک ﷜‘‘ ابن عبد الشکور  کی کاوش ہے ۔مصنف نےا س کتاب میں  سیدنا انس بن مالک کی سیرت  ،ان کے عزیر واقاب  کا ذکر کرنے کے علاوہ   سیرت النبی ﷺ  کو اس میں شامل کیا ہے  اور نبی کریم ﷺ کے کئی صحابہ کرام ﷜ کا  بھی اس میں  تذکرہ موجود ہے اور حضرت انس بن مالک سے مروی رویات کو  موضوعات وعناوین  کے  تحت  اس کتاب میں درج کردیا ہے۔  (م۔ا) 

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 618
  • اس ہفتے کے قارئین 2544
  • اس ماہ کے قارئین 40938
  • کل قارئین49273267

موضوعاتی فہرست