کل کتب 52

دکھائیں
کتب
  • 1 #2167

    مصنف : مولانا ابو القاسم محمد رفیق دلاوری

    مشاہدات : 3796

    ائمہ تلبیس

    (پیر 07 جولائی 2014ء) ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

    یہ بات روز روشن کی طر ح عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔کتب تاریخ میں اسو د عنسی ، مسیلمہ کذاب ، مختار ابن ابو عبید ثقفی اور ماضی قریب کے مرزا قادیانی سمیت کئی جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر موجودہے ۔زیر نظر کتاب ''آئمہ تلبیس '' مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری کی تصنیف ہے جوکہ خیر القرون کے زمانہ سے مرزاقادیانی تک کے تمام ان جھوٹے مدعیا ن نبوت کے سچے حالات و اقعات پر مشتمل ہے کہ جنہوں نے الوہیت،نبوت، مسیحیت ، مہدویت اور اس قسم کے دوسرے جھوٹے دعوے کر کےاسلام میں رخنہ اندازیاں کیں اور اسلام کے بارے میں مارہائے آستین ثابت ہوئے ۔(م ۔ا )

     

  • 2 #5620

    مصنف : تقی الدین علی السبکی

    مشاہدات : 1216

    اسلام اور احترام نبوت

    (بدھ 30 اگست 2017ء) ناشر : کاروان اسلام پبلیکیشنز، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لیے سیدنا محمدﷺ کو رسول اور رہنماء ورہبر بنا کر مبعوث فرمایا۔آپﷺ نے اپنوں اور بیگانوں میں تریسٹھ سالہ ظاہری زندگی بسر کی وہ بھی بھر پور۔ تمام کے ساتھ لین دین کیا‘ مسجد کے مصلیٰ سے لے کر سربراہ ریاست تک آپ نے معاملات سر انجام دیئے‘ اپنے تو کجا بیگانوں اور مخالفوں نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی ذات اقدس معاملہ بھی اس قدر امین وپاکیزہ ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی‘ لیکن اس کے باوجود کفار نے آپﷺ کو  ساحر‘ کاہن اور مجنون کہا۔آپﷺ نے ساری ظاہری حیات میں کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا‘ ہاں حدود الٰہی توڑنے اور مخلوق پر ظلم وستم کرنے والوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔آپﷺ کی سیرت وکردار پر بے بہا مواد عوام الناس میں موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا مواد بھی ہے جو احترام نبویﷺ کے مخالف ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے کہ نبیﷺ کی ناموس کے خلاف مواد کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے جس کا اس کتاب میں سلیس اور با محاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔اس کتاب میں چار ابواب ہیں۔ پہلا مسلمان گستاخ کا حکم‘ دوسرا ذمی اور دیگر کفار کستاخوں کا حکم‘ تیسرا سب وشتم سے مراد کیا ہے؟ اور چوتھا مقام مصطفیٰﷺ کا تذکرہ کے عنوان سے ہیں۔اور ہر باب میں حسب  ضرورت فصول کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام اور احترام نبوت ‘‘ مفتی محمد خان قادری کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 3 #509

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 10752

    اسلام اور توہین رسالت

    (اتوار 17 اپریل 2011ء) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین

    اہل مغرب کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر شخصی حملوں نے عصر حاضر میں ہر مسلم و غیر مسلم کے دل میں توہین رسالت کی حقیقت اور سزا کے بارے علم حاصل کرنے کا ایک جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغرب نے اس بات کو جانچ لیا ہے کہ اسلام کی اصل بنیادیں کتاب اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ لہٰذا کسی نہ کسی طرح ان کے بارے شکوک وشبہات پھیلا کے عام لوگوں کو ان سے متنفر کر دو تو عوام الناس کا بڑے پیمانے پر اسلام کی طرف میلان اور رجحان خود بخود تھم جائے گا۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی حفاظت کے لیے بہت سے اہل علم نے قلم اٹھایا ہے جن میں سب سے پہلے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’الصارم المسلول‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ نے بھی بہت ہی آسان فہم اسلوب بیان میں توہین رسالت کی سزا کی تاریخ اور اس کے شرعی دلائل پرروشنی ڈالی ہے۔علاوہ ازیں مغرب ان سازشوں کو بھی محترمہ نے بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن کی تکمیل کے لیے وہ توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں یا نت نئے ڈرامے رچاتے ہیں۔کتاب اپنے موضوع پر صحافتی انداز میں لکھی گئی ایک عمدہ کتاب ہے اگرچہ ایک جگہ محترمہ نے لکھا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کے لیے نیت کا اعتبار نہیں ہو گا، ہمارے خیال میں محترمہ کا یہ قول محل نظر ہے۔ اسلام میں تو ہر عمل کی بنیاد نیت ہے ، یہاں تک کہ کلمہ کفر کہنے اور نہ کہنے میں بھی نیت کا اعتبار کیا گیا ہے۔
     

  • 4 #503

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 19469

    الصارم المسلول علی شاتم الرسول -اپ ڈیٹ

    (بدھ 15 جون 2011ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    جاہلیت جدیدہ کے علم برداروں نے آزادی اظہار کے نام  پر انبیائے کرام علیہم السلام کو بالعموم او رحضور حتمی المرتبت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہانت کو اپنا منتہائے نگاہ ٹھہرا لیا ہے،جس کے مظاہر حالیہ چند برسوں میں مختلف یورپی ممالک میں دیکھنے کو ملے۔ان حالات میں یہ لازم تھا کہ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس و تعظیم کے تصور کو اجاگر کیا جاتا اور توہین رسالت کی شناعت و قباحت اور اس کی سزا وعقوبت کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیا جاتا۔اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کرامت کہیے  یا عنداللہ ان کی مقبولیت کہ ناموس رسالت کے دفاع و تحفظ پر جو کچھ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے قلم سے نکلا ہے سات صدیوں  سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اس قدر جاندار،زندہ اور مدلل ہے کہ اس مسئلہ میں آج بھی سند اور اولین مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔زیر نظر کتاب حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خاص اسی مسئلہ پر تحریر کی ہے اور اپنے خاص انداز تحریر میں اس قضیہ کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اس کتاب کے حسن قبول کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو شیخ الاسلام کے سخت ناقد اور مخالف ہیں وہ بھی اس کا اردو ترجمہ کر کے شائع کر رہے ہیں،جیسا کہ اس سے قبل اس ترجمے کو اسی ویب سائٹ پر پیش کیا جا چکا ہے۔اب معروف سلفی عالم اور مصنف و مترجم جناب پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم کا ترجمہ  پیش کیا جارہا ہے۔جو اگرچہ کافی عرصہ سے موجود ہے تاہم اس کی نئی طباعت حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے عقیدہ ناموس رسالت میں پختگی آنے کی اور جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ
     

  • 5 #4190

    مصنف : صلاح الدین سعیدی

    مشاہدات : 1360

    تجلیات ختم نبوت

    (بدھ 09 مارچ 2016ء) ناشر : دار الکتابت شیخ ہندی سٹریٹ لاہور

    اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺکو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپﷺخاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپﷺ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔آپﷺ نے فرمایا: میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپﷺ کی وفات کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  جھوٹا اور کذاب شخص مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔ زیر نظر کتاب"تجلیات ختم نبوت"محترم صلاح الدین سعیدی صاحب کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے ختم نبوت پر دلائل بیان کرنے کے بعد  اس  مردود اور کذاب کے جھوٹ اور فراڈ کا پردہ چاک کیا ہے اور مسلم مشاہیر کے اقوال کی روشنی میں قادیانیت کے دھوکے سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں  قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #97

    مصنف : شورش کاشمیری

    مشاہدات : 19048

    تحريک ختم نبوت

    (بدھ 30 جون 2010ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    یہ عقیدہ کہ سلسلہ نبوت ورسالت سیدنا محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہوچکا اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اسلام کا بنیادی ترین عقیدہ ہے جسے تسلیم کیے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا تاریخ میں ایسی کئی روسیاہیوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے ردائے نبوت پر ہاتھ ڈالنےکی ناپاک جسارت کی۔انہی میں مرزا غلام احمد قادیانی کانام بھی آتا ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا لیکن مسلمانان برصغیر نے اس فتنے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں بالآخرپاکستان میں انہیں آئینی طور پر کافرقرار دے دیاگیا لیکن اس  کےلیے اسلام اور جانثار ختم نبوت نے بےشمار قربانیاں دیں جن کی تفصیل معروف صحافی جناب آغاشورش کاشمیری نے ’’تحرک ختم نبوت‘‘ میں کی ہے جس میں 1891 ء سے لیکر 1974 ء تک اس عظیم تحریک کی تفصیلات کو انتہائی خوبصورت اور مؤثر اسلوب نگارش میں قلمبند کیا گیا ہے اس کتاب کے بعض مندرجات  سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن مجموعی طور پر یہ  کتاب  انتہائی مفید اور لائق مطالعہ ہے ۔
     

  • 7 #4192

    مصنف : مجاہد الحسینی

    مشاہدات : 2404

    تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء

    (جمعرات 10 مارچ 2016ء) ناشر : ختم نبوت پبلیکیشنز لاہور

    قیامِ پاکستان کے بعد 1952ء کو کوئٹہ کے ایک اجلاس میں مرزا محمود نے اعلان کیاکہ ہم 1952ء کے اندراندر بلوچستان کو احمدی صوبہ بنادیں گے۔‘‘ اس کا یہ اعلان مسلمانان پاکستان کے اوپر بجلی بن کر گرا تو علماء نے اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی کہ اس فتنہ کامقابلہ کرنے کے لیے ایک مستقل جماعت ہونی چاہیے۔ قادیانی جماعت کی حمایت برطانیہ، روس، اسرائیل، فرانس، امریکا سب کررہے تھے۔پاکستان میں ہر مکتبہ فکر نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے تحریک تحفظ ختم نبوت کا آغاز کیا۔جس میں بڑوں سے لے کر بچوں تک تمام نےبھر پور حصہ لیا۔1953میں ۔ تحریک ختم نبوت اپنے زوروں پرتھی ۔ عوام کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دو اور اس کے لیے لوگ ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار تھے۔ وزیرخارجہ ظفراللہ قادیانی اور جنرل اعظم نے انتظامیہ اور فوج کی مدد سے اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی لیکن لوگوں کا جذبہ عروج پر تھا ۔ روزانہ سینکڑوں لوگ سڑکوں پر گولیاں کھا کر شہید تو ہو جاتے لیکن پھر بھی اپنے آقا ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ مارنے والوں کو کافر قرار دینے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوتے تھے ۔ بڑے تو بڑے بچے تک اس تحریک کی خاطر جان قربان کرنے کو تیار تھے ۔ایک دن ایک دس بارہ سال کا بچہ بستہ لٹکائے اسکول جانے کے لیے نکلا۔ سڑک پر پہنچا تو لوگوں کو ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے اور فوج سے مار کھاتے دیکھا ۔ نہ جانے اچانک کیا ہوا کہ وہ خود بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے لگا ۔ اسی اثنا میں ایک فوجی کی اس پر نظر پڑ گئی اس نے آکر اس بچے کو پکڑ لیا اور کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہو چلو کان پکڑ لو ۔ بچے نے خاموشی سے کان پکڑ لیے ۔ فوجی اسے کہنے لگا کہ بتاؤ تمہاری اس حرکت پر تمہیں کتنا ماروں ۔ بچے نے کان چھوڑ کر فوجی کی طرف دیکھا اور مضبوط لہجے میں کہنے لگا اتنا مارو جتنی مار تم روز محشر کھا سکو ، یاد رکھو میں تو آج تمہاری مار برداشت کرلوں لگا لیکن محشر کے دن تم میرے رب کی مار برداشت نہیں کرسکو گے فوجی یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا ۔ ایسے ہوگیا جیسے اس کے بدن میں جان نہ رہی ہو ، بچے نے اپنا بستہ اٹھایا اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا اسکول کی طرف روانہ ہوگیا اور وہ فوجی اسے بت بنا کھڑا دیکھتا رہا ۔ اس طر ح کی سیکڑوں ایمان افروز داستانیں تاریخ کے صفحات میں درج ہیں ۔سچ ہے جذبہ ایمانی اور حب رسول ﷺ جب کسی کے دل میں سما جائے تو وہ بڑے سے بڑے ظالم کےسامنے کھڑے ہونے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء ‘‘ اس تحریک کےایک مجاہد جناب مجاہد الحسینی صاحب کے تحریک تحفظ ختم نبوت کی بابت ضرب مومن اخبار میں قسط وار شائع ہونے والے مضامین کا مجموعہ ہے اس میں انہوں نے اس تحریک دوران پیش آنے والے ناقابل فراموش واقعات اور مشاہدات کو پیش کیا ہے ۔ رسائل وجرائد کے معروف اشاریہ ساز محترم دو ست جنا ب شاہد حنیف صاحب نے اس میں مزید اضافہ جات کرکے اسے مرتب کیا ہے ۔مرتب موصوف رسائل وجرائد اور کتب کی اشاریہ سازی کےسلسلہ میں نہایت تندہی اور جانفشانی سے کام کررہیں اور بہت سے دینی علمی وادبی رسائل کے اشاریے مرتب کرنےکے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر کتابیات بھی مرتب کر چکے ہیں۔اور ان دنوں اہم علمی رسائل کے اشاریہ کا انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنےمیں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اس اہم کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق دے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

  • 8 #5612

    مصنف : ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

    مشاہدات : 2178

    تحفظ ناموس رسالت

    (منگل 22 اگست 2017ء) ناشر : ویمن اینڈ فیملی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان

    وطن عزیز جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان ہونے کا اعزاز حاصل ہے‘ دنیا کے نقشے پر مدینہ منورہ کے بعد پہلی نظریاتی ریاست ہے جو اسلام کے عملی اصولوں کو آزمانے کے لیے وجود میں آئی مگر کچھ عناصر اس ریاست کے اسلامی تشخص کو مٹانے کے لیے نت نئے طریقوں سے حملہ آور ہوتے رہتے ہیں انہیں کبھی حدود آرڈینس کے خاتمے کا بخار چڑھتا ہے تاکہ ایک مادر پدر آزاد معاشرہ قائم ہو سکے‘ کبھی محض غیر ملکی امداد یا ایجنسیوں سے رقم بٹورنے کے چکر میں عورت کے حقوق کے نام پر دکان سجا لیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اپنی عزت کے دفاع کے لیے آسمان  سر پر اٹھانے والے ناموس رسالتﷺ کی توہین کے قانون کی تبدیلی چاہتے ہیں اور نبیﷺ کے نور سے منور کرنے کے لیے ہم نے یہ وطن حاصل کیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  قانون توہین رسالت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اس کی تاریخ کیا ہےاور یہ قوانین کب بنے اور کیسے کیسے سزا دی گئی اور پھر قرآن مجید کے بیان کردہ قانون توہین رسالت اور حدیث سے بیان شدہ قوانین اور عمل صحابہ کو بھی کتاب کی زینت بنایا گیا ہے، اور نبیﷺ کی ناموس کوبھی بیان کیا گیا ہے اور شاتمین رسولﷺ  کے انجام کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے۔ ۔ یہ کتاب’’ تحفظ ناموس رسالتﷺ ‘‘ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 9 #2493

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3101

    تحفظ ناموس رسالت اور ہم

    (جمعہ 10 اکتوبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب   نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت   ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ زیر نظر کتابچہ ’’ تحفظ مامو س رسالت اور ہم ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے   گستاخانِ رسول سے نبٹنے کے لیے اس بات کواجاگر کیا ہے کہ اگر مسلمان ممالک کے حکمران صرف ایک دن کےلیے ان لمبی زبانوں او رخاکے بنانے والوں کے ممالک سے معاشی بائیکاٹ کرتے تو دشمن بغیر کسی جنگ کے سدھا ہوجاتا اوریہ سب اپنے کرتوں سے بازآجاتے۔بحر حال حکومتی سطح پر کچھ کرنے کی بجائے عام غیور مسلمانوں کوزیر نظر سطور میں انفرادی سطح پر علاج سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسلام دشمن قوتوں کی تمام سازشوں سے امت مسلمہ کو محفوط رکھے ۔آمین(م۔ا)

  • 10 #1403

    مصنف : ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

    مشاہدات : 14995

    توہین آمیز خاکوں پر بیت الحرام سے بلند ہونیوالی صدائیں

    (منگل 26 جون 2012ء) ناشر : مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور

    جیسا کہ اہل اسلام واقف ہیں کہ گذشتہ سالوں میں بعض مغربی ممالک کے اخبارات میں نبی کریمﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے اور اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور فیس بک پر خاکوں کے مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس صورت میں سرزمین توحید کیسے خاموش رہ سکتی تھی۔ بیت اللہ الحرام سے اس پر صدائے احتجاج بلند ہوئی جس نے رفتہ رفتہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو چراغ پا کر دیا اور اسی سے تحفظ ناموس رسالت کی مؤثر تحریک کا آغاز ہوا۔ ماہنامہ ’محدث‘ میں اس خطبہ کو اردو ترجمہ کر کے شائع کیا گیا۔ علاوہ بریں جامعہ لاہور الاسلامیہ اور ’محدث‘ کے مدیر حافظ حسن مدنی نے ’محدث‘ ہی میں اداریہ لکھا جس میں عالمی قوانین کے تناظر میں توہین آمیز خاکوں کا جائزہ لیا اور امت مسلمہ کے لیے لائحہ عمل پیش کیا۔ اس اداریے اور خطبہ حرم کو افادہ عام کے لیے پملفٹ کی صورت میں شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔ یہی پمفلٹ اس وقت قارئین کتاب و سنت ڈاٹ کام کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ (ع۔م)
     

< 1 2 3 4 5 6 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1770
  • اس ہفتے کے قارئین 7610
  • اس ماہ کے قارئین 59643
  • کل قارئین49524106

موضوعاتی فہرست