دکھائیں کتب
  • 1 البیرونی کا ہندوستان (منگل 30 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1909

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک فرد اپنے زندگی کے اہداف و مقاصد اپنی یاداشت کی روشنی میں طے کرتا ہے اسی طرح قوموں کے بحیثیت مجموعی اہداف و مقاصد کے تعین میں سب سے بڑا عمل دخل اس کی تاریخ کا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا اپنی تاریخ سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اور قوموں کی مجموعی نفسیات کے معاملے میں بھی تاریخ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ قوم یہود کی ہی مثال لیجیے جو حضرت سلیمان اور حضرت داوؑد علیھماالسلام کے دور میں دنیا کی سپر پاور تھے اب اس دور کو گزرے ہوئے ہزاروں سال بیت چکے ہیں لیکن ابھی تک اس دور کی یاد ان کے دلوں میں زندہ ہے اور آج بھی دنیا بھر کے یہودی اپنی اس کھوئی ہوئی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب "البیرونی کا ہندوستان ،قدیم ہندوستان کی تہذیب وثقافت کی مستند تاریخ"قیام الدین احمد کی تالیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ عبد الحی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف نے  معروف مسلمان سائنس دان البیرونی کے زمانے  کی ہندوستانی تہذیب ، ثقافت اور یہاں کے رہنے والے لوگوں کے عقائد ونظریات پر مفصل گفتگو کی ہے۔البیرونی کا زمانہ دسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے،جب یہاں سامانی سلاطین کی حکومت تھی۔البیرونی 973 عیسوی میں خوارزم کے مضافات میں پیدا ہوئے۔بیرون شہر پیدا ہونے کے...

  • 2 المقامات الخمس للحریری (پیر 15 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:399

    عربی زبان و ادب عرب قوم سامی اقوام کی ایک شاخ ہے۔ ان قوموں میں بابلی، سریانی فینیقی، آرمینی، حبشی، سبئی اور عربوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ دنیا کی دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی ادب کی دونوں قسمیں نظم و نثر پائی جاتی ہیں۔ لکھنے پڑھنے کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے زمانۂ جاہلیت میں عرب ادبا اور شعرا بعض خاص میلوں میں سال میں ایک دفعہ جمع ہو کر خرید و فروخت کے علاوہ شعر و شاعری اور خطابت میں مقابلہ اور اپنے آبا و اجداد کے کارناموں کو گنا کر ایک دوسرے پر فخر کرتے تھے۔ ان میلوں میں قابل ذکر عکآظ مجنتہ اور ذوالمجاز ہیں۔ ان میلوں کی وجہ سے شعر و ادب کا پورے جزیرہ میں سال بھر تک چرچا رہتا تھا۔ زمانہ جاہلیت کی نثر عربوں میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے اسلام سے پہلے کا اکثر ادبی سرمایہ ضائع ہو گیا پھر بھی جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اس کی بنیاد پر نثر جاہلی کو تین قسموں میں بانٹا جاتا ہے۔ (۱) تقریر (۲) کہاوتیں (۳) نصیحتیں اور حکیمانہ جملے۔اسی بنا پر عربی ادب پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ جن میں سے عمدہ کتاب ’’المقامات الحریری‘‘ عربی ادب و لٹریچر پر مشتمل ہے۔جس کے لیے مختلف اہل علم اورعربی زبان کے ماہر اساتذہ نے نصابی کتب کی تفہیم وتشریح کے لیے کتب وگائیڈ تالیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ المقامات الخمیس للحریری‘‘ جس کا اردو ترجمہ غلام رسول کوکب نے انتہائی عمدہ اسلوب میں مرتب کیا ہے۔ تا کہ اساتذہ اور طلباء کے لئے آسانی کا باعث بنے۔اور درس نظامی میں طلباء اس کتاب سے استفادہ کرکے امتحان میں نمایاں کامیابی حا...

    ادب 
  • زیر تبصرہ کتابچہ " امام کعبہ کا پیغام ،پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام " امام کعبہ سماحۃ الشیخ الدکتور عبد الرحمن بن بعد العزیز السدیس ﷾کے آل پاکستان علماء کنونشن منعقدہ 31 مئی 2007ء بمقام الحمراء ہال مال روڈ لاہور زیر اہتمام مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان میں کئے گئے فکر انگیز خطاب،اور اس میں بنائی گئی چند تصاویر پر مشتمل ہے۔خطاب عربی میں ہے ،جبکہ اسے اردو میں پیش کرنے کی سعادت مکتبہ دار السلام لاہور نے حاصل کی ہے۔امام کعبہ﷾ نے اپنے اس خطاب میں چند تمہیدی باتیں کرنے کے بعد علی الاعلان اس بات کا اظہار کیا ہے مسلک حق ،مسلک اہل حدیث ہی ہے اور یہی نجات پانے والی جماعت ہے۔آپ نے اتفاق اتحاد پر زور دیتے ہوئے تفرقہ بازی اور انتشار وافتراق سے بچنے کی تلقین کی ،کیونکہ اسی میں امت کی فلاح وبہبود اور نجات کا راستہ ہے۔آپ نے امت کو سیاست ،تجارت سمیت ہر میدان میں آگے بڑھنے اور اپنی خداد صلاحیتوں کو فضول مصروفیات میں ضائع کرنے کی بجائے دین کی خدمت اور فروغ اسلام میں خرچ کرنے پر زور دیا ۔(راسخ)

  • ایک اسلامی ملک ہے اور ہمیشہ نامور سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ جمہوریہ مالدیپ ،چھوٹے بڑے تیرہ سو جزائر پر مشتمل بحرہند کے اندر ایک اسلامی ریاست ہے۔سمندر کے اندرپانچ سو دس (510)میل لمبا شمال سے جنوب اور اسی (80)میل چوڑا مشرق سے مغرب اس ملک کا کل رقبہ ہے۔ مالی یہاں کا دارالحکومت ہے جو سری لنکا سے جنوب مغرب میں چارسو (400)میل کے فاصلے پر بنتاہے۔ دار الحکومت ہونے باعث حکومت کے مرکزی دفاتر،اعلی عدالتیں اور تعلیم کے بہترین ادارے یہاں موجود ہیں۔ مالدیپ کے ان جزائر میں چھوٹے بڑے پہاڑی سلسلے بھی چلتے ہیں لیکن پھر بھی یہ جزائر سمندر کے برابر یا معمولی سے بلند ہیں اورکوئی جزیرہ بھی سطح سمندر سے چھ فٹ سے زیادہ اونچا نہیں ہے۔مون سون ہوائیں یہاں پر بارش کا سبب بنتی ہیں اور بارش کی سالانہ اوسط چوراسی(84) انچ تک ہی ہے جبکہ سالانہ اوسط درجہ حرارت 24سے 30ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے، گویا یہ ایک معتدل آب و ہوا کا بہترین قدرتی خطہ ہے۔ بعض جزائر ریتلے ساحلوں پر مشتمل ہیں اور ان میں پام کے درخت اور صحرائی جھاڑیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہاں مچھلی بکثرت کھائی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مالدیپ کی حضارۃ اور ادب پر اسلام کے اثرات "محترم قاری محمد یونس صاحب کی کاوش ہے، جو انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر تیار کی۔ صاحب مقالہ چونکہ ایک عرصہ تک دینی خدمات کے سلسلے میں مالدیپ میں مقیم رہے، لہذا انہوں نے اسی موضوع کا انتخاب کیا۔ ( راسخ)

  • 5 نصاب الادب (جمعرات 18 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:464

    شریعت اسلامی کے بنیادی مآخد عربی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔ اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہے جس کی وجہ سے وہ فرمان الٰہی اور فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ حتی کہ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کی اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل اسلامیات کے اسباق کو بھی بذات خود پڑھنے پڑھانے سے قا صر ہے ۔دنيا كي سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان دنیا کے نقشے پر اس لیے جلوہ گر ہوئی تھی کہ اس کے ذریعے اسلامی اقدار اور دینی شعائر کا احیاء ہوگا۔علماء ومدارس کی اپنی حدتک عربی زبان کی نشرواشاعت کے لیے کوششیں وکاوشیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر حکومت کی طرف کماحقہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ نصاب الادب ‘‘ مجلس المدینہ العلمیہ(دعوت اسلامی) کی کاوش ہے ۔ اس کتاب کی جدت ،ندرت،اہمیت اور افادیت یہ ہے کہ یہ جدیداحوال وظروف اور وزمرہ معاملات ومسائل کو پیش نظر رکھ کر مرتب کی گی ہے ۔ تدریس وتفہیم میں سہولت کے پیش نظر اسے مکالمات کی صورت میں تیار کیا گیا ہے اور مشکل الفاظ نمایاں کر کے ان کے معانی واضح کردیے گئے ہیں ۔ مدارس دینیہ کے طلباء و مدرسین کے لیے یہ کتاب ایک نادر تحفہ ہے کیونکہ مدارس دینیہ کی اکثریت عربی گرائمر تو جانتی ہے مگر آج کل کی بولی اور لکھی جانے والی عربی زبان سےناواقف ہے ۔اس کتاب کی مدد سے عرب ممالک کے مسافروں کے لیے عربی سیکھنا نہایت آسان ہے ۔ اور یہ کتاب اساتذہ وطلبہ کےل...

    ادب 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 581
  • اس ہفتے کے قارئین: 1353
  • اس ماہ کے قارئین: 7570
  • کل مشاہدات: 41235437

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں