کل کتب 16

دکھائیں
کتب
  • 1 #3188

    مصنف : جمال الدین بن محمد قاسمی

    مشاہدات : 4466

    المسح علی الجوربین ، جرابوں پر مسح کے بارے میں علمی بحث

    (جمعرات 21 مئی 2015ء) ناشر : صادق خلیل اسلامک لائبریری فیصل آباد

    زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔عوام چونکہ ان کے مکروفریب سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہذا ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی بنی ہوئی ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب" المسح علی الجوربین ،جرابوں پر مسح کے بارے میں ایک علمی بحث"علامہ جمال الدین قاسمی﷫ کی عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا محمد عبدہ الفلاح صاحب﷫ نے کیا ہے۔جبکہ تحقیق اور حواشی حافظ احمد شاکر ﷫اور امام البانی ﷫کے ہیں۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا بھی اسی طرح درست ہے جس طرح موزوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 #2497

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3372

    بدنی طہارت کے مسائل

    (ہفتہ 04 اکتوبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    طہارت و پاکیزگی اسلام کے اولین احکام میں سے ہے۔ اسلام میں اس کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت بیان کی گئی  ہے۔طہارت جسمانی بھی  ہوتی ہے اور روحانی و ذہنی بھی۔ نبی کریم ؐنے ارشاد فرمایا :’’ طہارت نصف ایمان ہے‘‘۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام عبادات کرنے سے پہلے  ایک خاص قسم کی طہارت و پاکیزگی کا اہتمام کرنا لازم اور ضروری  ہے۔ اسلام نے طہارت وپاکیزگی کے اصول مقرر کر دئیے ہیں ۔ نبی کریم ؐنے اپنی تعلیمات کے ذریعے ان کی حدود بھی مقرر فرما دی ہیں۔ جس طرح نفس کی پاکیزگی ایک بہت بڑی نعمت ہے اسی طرح جسمانی پاکیزگی بھی گراں قدر نعمت ہے اور انسان پر اللہ کی نعمت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک انسان کا نفس اور اس کا جسم دونوں ہی پاکیزگی و طہارت کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ نماز جواسلام میں ایک  سب سے اہم اور فرض عبادت ہے اس کی درست ادائیگی کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ نمازی کا بدن ،کپڑے اور نماز پڑھنے کی جگہ ہر قسم کی نجاست اور آلودگی سے پاک ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب  " بدنی طہارت کے مسائل"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  عورتوں کے لئے بالخصوص اور مردوں کے لئے بالعموم بدنی طہارت مثلا وضو ،غسل اور تیمم وغیرہ جیسے موضوعات  کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔کیونکہ اکثر لڑکیاں اور لڑکے بالغ ہوجانے کے باوجود شرعی طہارت کے مسائل سے نابلد ہوتے ہیں۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

  • 3 #3212

    مصنف : ابو السلام محمد صدیق

    مشاہدات : 2413

    تعلیم الاحکام من بلوغ المرام کتاب الطہارت

    (جمعرات 04 جون 2015ء) ناشر : ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ، سرگودھا

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے  احوال ظروف کے  مطابق  مختلف  عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے  میں امام عبد الحق اشبیلی کی  کتاب  ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی  ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی  کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب  مختصر اور  ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے کتاب  کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر  کئی اہل علم نے  اس  کی  شروحات لکھیں اور  ترجمے بھی کیے ۔ شروحات میں   بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام  وغیرہ  قابل ذکر ہیں۔  اردو زبان  میں   علامہ عبد التواب  ملتانی  ،مولانا  محمد سلیمان  کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ  بھی اہل علم کے ہاں  متعارف ہیں اور اسی طرح عصرکے  معروف سیرت نگار اور نامور عالم  دین  مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے  مختصر شرح  لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام  نےاسے  طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے  بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ  الحدیث  حافظ عبدالسلام  بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی  بڑی اہم ہے  یہ تینوں کتب  کتاب  وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’  تعلیم الاحکام  من بلوغ المرام  کتاب الطہارت ‘‘ مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کے شاگرد رشید  مولانا  ابو السلام  محمد صدیق سرگودھوی ﷫ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ  الفاظ کا حل  راوی  کے مختصر حالات اور سوال وجواب کی صورت میں  وہ تمام  مسائل بیان   کیے ہیں  جوپیش آمدہ حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں۔  لیکن یہ    صرف  کتاب الطہارت کا ترجمہ وتشریح  ہے ۔ محدث روپڑی کے تین جلدوں پر مشتمل   فتاویٰ  جات بھی  مولانا  صدیق  کے مرتب شدہ ہیں  اللہ تعالیٰ موصوف  کی  تمام خدمات کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)
     

  • 4 #3198

    مصنف : عبد الرشید انصاری

    مشاہدات : 1957

    جرابوں پر مسح جائز ہے ؟

    (جمعہ 29 مئی 2015ء) ناشر : نا معلوم

    زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی بنی ہوئی ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب"جرابوں پر مسح جائز ہے؟"محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے ساتھ جرابوں پر مسح کے جواز کو ثابت کیا ہے۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے چونکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے دلائل کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے  فائدے کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #1984

    مصنف : خلیل احمد ملک

    مشاہدات : 2539

    طریقہ طہارت و صلاۃ

    (ہفتہ 19 اپریل 2014ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    نماز دینِ اسلام کے ارکان ِخمسہ میں ایک اہم اور بنیادی رکن ہونے کے علاوہ قرب الٰہی کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے پیارے نبی ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک او رمومن کو دکھوں اور تکلیفوں سے نجات دینے والی ہے ۔پریشانیوں اور مصائب میں مومن کاہتھیار اورکامیاب وکامران ہونے والوں کےلیے جنت کی کنجی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ''اللہ سے صبراور نماز کےساتھ مدد مانگو''نماز کے موضوع پر اردووعربی زبان میں بےشمار کتب موجود ہیں۔اردو زبان میں صفۃ صلاۃالنبی،مسنون نماز نبوی ، نماز محمد ی ،صلاۃالرسول وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔زیر نظر کتاب شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ، شیخ ابن باز کے طریقہ طہارت و صلاۃکے موضوع پر مختصر کتابچے کا ترجمہ ہے جس میں خلیل احمد ملک صاحب نے مناسب اضافہ کر وا کر اس مختصر کتاب کو ترتیب دے کر شائع کیا ہے ۔جس میں صحیح احادیث کی روشنی میں تمام ضروری مسائل طہارت وصلاۃ جمع کردئیے ہیں۔ کتاب پر نظر ثانی واضافہ کا کام جید عالمِ دین مولانا محمد شفیق مدنی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ، بانی وشیخ الحدیث مسعود اسلامک سنٹر،وسینئر مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) نے کیا ہے ۔اللہ اس کتاب کو اہل اسلا م کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 6 #6937

    مصنف : عبد الولی عبد القوی

    مشاہدات : 1251

    طہارت کے احکام ومسائل کتاب وسنت کی روشنی میں

    (اتوار 21 اپریل 2019ء) ناشر : انجمن اصلاح معاشرہ انڈیا

    اسلامی نظامِ حیات میں طہارت وپاکیزگی کے عنصر کوجس شدو مد سے اُجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے اس  طرح سے کسی اور مذہب میں  نہیں کی گئی ۔پلیدگی ،گندگی ا ور نجاست سے حاصل کی جانے والی ایسی صفائی وستھرائی جو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اسے طہارت کہتے ہیں۔نجاست خواہ حقیقی ہو، جیسے پیشاب اور پاخانہ، اسے خبث کہتے ہیں یا حکمی اور معنوی ہو، جیسے دبر سے ریح (ہوا) کا خارج ہونا، اسے حدث کہتے ہیں۔ دینِ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے اور اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بھی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اور وعدووعید کا خوب تذکرہ کیا ہے۔نبی  ﷺنے طہارت کی فضیلت بیان کرتے ہوءے فرمایا:الطّهور شطر الایمان (صحیح مسلم 223) طہارت نصف ایمان ہے۔ایک اور حدیث میں طہارت کی فضیلت کے متعلق ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:’’وضو کرنے سے ہاتھ، منہ،اورپاؤں کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔(سنن النسائی،:103)طہارت سے غفلت برتنے کی بابت نبیﷺ سے مروی ہے: ’’ قبر میں زیادہ عذاب طہارت سے غفلت برتنے پر ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 152)۔مذکورہ احایث کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو نجاست سے پاک رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو سب سے پہلے اسی بات کا حکم دیا تھا : ’’ اپنے لباس کو پاکیزہ رکھیے اور گندکی سے دور رہیے‘‘ (المدثر:5،4) مکان اور بالخصوص مقام عبادت کے سلسلہ میں سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا گیا: " میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں۔" (البقرۃ:125)۔اللہ تعالیٰ اپنے طاہر اور پاکیزہ بندوں ہی سے محبت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ: ’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222)، نیز اہل قباء کے متعلق فرمایا: "اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (التوبہ:108)۔لہذا روح کی  طہارت کے لیے  تزکیہ نفس کے وہ  تمام طریقے جن کی  تفصیل قرآن وحدیث میں  ملتی ہے ان کا اپنے  نفس کو پابند بنانا  ضروری ہے ۔جب کہ طہارتِ جسمانی  کے لیے  بھی ان تمام تفصیلات سے  اگاہی ضروری ہے  جو ہمیں کتاب وسنت  مہیا کر تی ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’طہارت  کے احکام ومسائل کتاب وسنت  کی روشنی میں  ‘‘ محترم جناب عبد الولی عبد القوی(مکتب دعوۃ وتوعیۃالجالیات،سعودی عرب )  کی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس مختصر کتاب کو نو فصلوں میں تقسیم کیا ہے ۔اس میں ہر مسئلہ کو کتاب وسنت  کے واضح دلائل سے مرصع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔مصنف نے کتاب کو مرتب  کرنے میں   حتی المقدور کوشش کی کہ اسلوب انتہائی سادہ اور سہل  ہو تاکہ  ہر خاص وعام بآسانی اس کتاب  سے مستفید ہوسکے ۔ اللہ تعالیٰ  کی  اس کوشش کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کے میزان حسنات میں  اضافہ کے ذریعہ بنائے ۔ (آمین)(م-ا)

  • 7 #4473

    مصنف : علامہ محمد عثمانی

    مشاہدات : 1914

    طہارت و صلوۃ آداب و شرائط

    (منگل 17 مئی 2016ء) ناشر : دار الکتب السلفیہ، لاہور

    اسلامی نظام حیات میں طہارت وپاکیزگی کے عنصر کوجس شدو مد سے اُجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے اس طرح سے کسی اور مذہب میں نہیں کی گئی ۔پلیدگی ،گندگی ا ور نجاست سے حاصل کی جانے والی ایسی صفائی وستھرائی جو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اسے طہارت کہتے ہیں۔نجاست خواہ حقیقی ہو، جیسے پیشاب اور پاخانہ، اسے خبث کہتے ہیں یا حکمی اور معنوی ہو، جیسے دبر سے ریح (ہوا) کا خارج ہونا، اسے حدث کہتے ہیں۔ دینِ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے اور اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بھی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اور وعدووعید کا خوب تذکرہ کیا ہے۔نبی ﷺنے طہارت کی فضیلت بیان کرتے ہوءے فرمایا:الطّھور شطر الایمان (صحیح مسلم 223) طہارت نصف ایمان ہے۔ایک اور حدیث میں طہارت کی فضیلت کے متعلق ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:’’وضو کرنے سے ہاتھ، منہ،اورپاؤں کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔(سنن النسائی،:103)طہارت سے غفلت برتنے کی بابت نبیﷺ سے مروی ہے: ’’ قبر میں زیادہ عذاب طہارت سے غفلت برتنے پر ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 152)۔مذکورہ احایث کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو نجاست سے پاک رکھے- اللہ تعالی نے اپنے نبی کو سب سے پہلے اسی بات کا حکم دیا تھا : ’’ اپنے لباس کو پاکیزہ رکھیے اور گندکی سے دور رہیے‘‘ (المدثر:5،4) مکان اور بالخصوص مقام عبادت کے سلسلہ میں سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا گیا: " میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں-" (البقرۃ:125)۔اللہ تعالی اپنے طاہر اور پاکیزہ بندوں ہی سے محبت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ: ’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222)، نیز اہل قباء کے متعلق فرمایا: "اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (التوبہ:108)۔لہذا روح کی طہارت کے لیے تزکیہ نفس کے وہ تمام طریقے جن کی تفصیل قرآن وحدیث میں ملتی ہے ان کا اپنے نفس کو پابند بنانا ضروری ہے ۔جب کہ طہارتِ جسمانی کے لیے بھی ان تمام تفصیلات سے اگاہی ضروری ہے جو ہمیں کتاب وسنت مہیا کر تی ہے۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’طہارت وصلاۃ آداب وشرائط‘‘علامہ محمد عثمانی صاحب کا مرتب شدہ ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں مرتب موصوف نے نماز کی فرضیت واہمیت کوبیان کرنے بعدنماز کی شرط اول طہارت کے ضمن میں غسل ، وضو، تیمم وغیرہ کا مکمل مسنون طریقہ اور نواقض وضو وتیمم کو باحوالہ بیا ن کیا ہے ۔اور پھر نماز کے فرائض وواجبات او رنماز کا مسنون طریقہ تحریرکیاہے ۔(م۔ا)

  • 8 #1736

    مصنف : ڈاکٹر طارق ہمایوں شیخ

    مشاہدات : 5238

    طہارت وضو ، تیمم اور غسل قرآن وحدیث کی روشنی میں

    (ہفتہ 29 جون 2013ء) ناشر : فہم قرآن انسٹیٹیوٹ لاہور

    اللہ تعالی کے نزدیک دین اسلام ہی اصل دین ہے اسی لئے اسلام نے اپنے پیروکاروں کو تمام امور حیات میں طہارت وصفائی کا پابند بنایا ہے۔ نبی آخرالزماں محمدﷺ نے اپنی ذات کا بہترین اسوہ پیش کیا۔ آپ ﷺ بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک جسم اور لباس کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے اور اپنے صحابہ کو بھی ترغیب دلاتے ۔ حالانکہ دیگر مذاہب میں بھی پاک صاف رہنے کے احکام ہیں لیکن غیرمسلم معاشرہ گندگی اور غلاظت میں غرق نظر آتا ہے ۔ اللہ تعالی نےجسم ،لباس ، رہنے کی جگہ،کھانے پینے اور زندگی گزارنے کے تمام امور میں صفائی اور پاکیزگی کا حکم دیا ہے ۔ سورہ بقرہ میں مسجدوں ، سورہ مدثر میں لباس ،سورہ مائدہ میں کھانے میں پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دیگر اقوام کی تقلید میں امت مسلمہ کے بیشتر لوگوں نے پاکیزگی کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ۔ اس لئے ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے اندر اسلامی طریقہ طہارت اور پاکیزگی کے آداب کا شعور بیدار کیا جائے ۔ چناچہ اسی مقصد کے حصول کی خاطر یہ کتابچہ لکھا گیا ہے ۔ جس میں محترم ڈاکٹر ہمایوں صاحب نے بہت ہی احسن اسلوب میں  اسلامی طہارت کی ان بنیادی تعلیمات کے اوپر روشنی ڈالی ہے جنہیں ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ انہیں ہروقت پیش نظر رکھے۔(ع۔ح)
     

  • 9 #5162

    مصنف : سید سابق مصری

    مشاہدات : 2539

    طہارت کے مسائل ( سید سابق )

    (ہفتہ 18 فروری 2017ء) ناشر : حدیبیہ پبلیکیشنز

    اسلامی نظام حیات میں طہارت وپاکیزگی کے عنصر کوجس شدو مد سے اُجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے اس طرح سے کسی اور مذہب میں نہیں کی گئی ۔پلیدگی ،گندگی ا ور نجاست سے حاصل کی جانے والی ایسی صفائی وستھرائی جو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اسے طہارت کہتے ہیں۔نجاست خواہ حقیقی ہو، جیسے پیشاب اور پاخانہ، اسے خبث کہتے ہیں یا حکمی اور معنوی ہو، جیسے دبر سے ریح (ہوا) کا خارج ہونا، اسے حدث کہتے ہیں۔ دینِ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے اور اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بھی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اور وعدووعید کا خوب تذکرہ کیا ہے۔نبی ﷺنے طہارت کی فضیلت بیان کرتے ہوءے فرمایا:الطّھور شطر الایمان (صحیح مسلم 223) طہارت نصف ایمان ہے۔ایک اور حدیث میں طہارت کی فضیلت کے متعلق ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:’’وضو کرنے سے ہاتھ، منہ،اورپاؤں کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔(سنن النسائی،:103)طہارت سے غفلت برتنے کی بابت نبیﷺ سے مروی ہے: ’’ قبر میں زیادہ عذاب طہارت سے غفلت برتنے پر ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 152)۔مذکورہ احایث کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو نجاست سے پاک رکھے- اللہ تعالی نے اپنے نبی کو سب سے پہلے اسی بات کا حکم دیا تھا : ’’ اپنے لباس کو پاکیزہ رکھیے اور گندکی سے دور رہیے‘‘ (المدثر:5،4) مکان اور بالخصوص مقام عبادت کے سلسلہ میں سیدنا ابراھیم اور اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا گیا: " میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں-" (البقرۃ:125)۔اللہ تعالی اپنے طاہر اور پاکیزہ بندوں ہی سے محبت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ: ’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222)، نیز اہل قباء کے متعلق فرمایا: "اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (التوبہ:108)۔لہذا روح کی طہارت کے لیے تزکیہ نفس کے وہ تمام طریقے جن کی تفصیل قرآن وحدیث میں ملتی ہے ان کا اپنے نفس کو پابند بنانا ضروری ہے ۔جب کہ طہارتِ جسمانی کے لیے بھی ان تمام تفصیلات سے اگاہی ضروری ہے جو ہمیں کتاب وسنت مہیا کر تی ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ طہارت کےمسائل ‘‘ سیدسابق کی مشہور ومعروف فقہ اسلامی کی عظیم کتاب ’فقہ السنۃ میں سے کتاب الطہارۃ کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاق المدارس کے نصاب میں شامل ہے ۔ لہذا طلبہ اور عام قارئین کی ضرورت کے پیش نظر اس کتاب کو مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی ﷾ نےاردو قالب میں ڈھالا ہے ۔موصوف نےاس کتاب کا عام فہم اور خوبصورت ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ کتاب میں موجود احادیث مبارکہ کی تخریج کی اور جہاں بات سمجھانے کی ضرورت تھی حاشیہ میں بات کی توضیح بھی کردی ہے۔(م۔ا)

  • 10 #5151

    مصنف : محمد روح اللہ نقشبندی غفوری

    مشاہدات : 1796

    فضیلت مسواک اور حقیقت ٹوتھ پیسٹ

    (اتوار 12 فروری 2017ء) ناشر : دار الاشاعت، کراچی

    اسلام ایک فطری مذہب ہے۔ اس میں ایک ایسی جامعیت پائی جاتی ہے کہ جس میں دین اور دنیا کی تمام بھلائی سمٹ کر آ جاتی ہے۔ ظاہر بین اس کے فوائد اور نتائج سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن اطباء قدیم اور جدید اور پر متفق ہیں کہ اکثر امراض دانتوں کی خرابی یا مسوڑھوں کی خرابی کے سبب پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو ختم کر دیتے ہیں اسی وجہ سے بعض بیمہ کمپنیوں نے اپنے گاہکوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے معالج اور ڈاکٹروں کو مقرر کر رکھا ہے تاکہ ان کے گاہکوں کی موت دانتوں کی خرابی کی وجہ سے واقع نہ ہو۔ دانتوں کی صفائی کا اثر جسمانی صحت پر پڑتا ہے ۔ڈاکٹروں اور حکماء نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دانتوں کی صفائی امراض پھیپھڑوں کے لیے اکسیر اعظم ہے اس لیے دانتوں کی حفاظت کے لیےاسلام نے ایک ایسا بہترین بُرش تعلیم فرمایا ہے جو کہ ہر جگہ ہر وقت حاصل ہو سکے پھر اس میں خالق المخلوقات نے ایسی تاثیر پیدا کر رکھی ہے جو کہ تمام امراض کے لیے شفا ہے اسی لیے پیشوائے اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو بہت دوست رکھتے اس کو کبھی ترک نہ فرماتے جب رات کو نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کرتے جب گھر میں داخل ہوتے تو مسواک کرتے جب وضو کرتے تو مسواک کرتے جب نماز کو کھڑے ہوتے مسواک کرتے پھر وقت وفات حالتِ نزع کے بھی مسواک کی، حدیث میں آیا ہے اگر امت پر گراں نہ ہوتا تو میں مسواک کو اُن پر فرض قرار دیتا جیسا کہ نماز کے لیے وضو فرض ہے۔عصر حاضر میں اگرچہ مسواک کے متبادل کے طور پر متعدد قسم کے ٹوتھ پیسٹ مارکیٹ میں آ چکے ہیں، لیکن یہ سب مسواک کا متبادل کبھی نہیں ہو سکتے۔ زیر تبصرہ کتاب" فضیلت مسواک اور حقیقت ٹوتھ پیسٹ "محترم مولانا روح اللہ نقشبندی غفوری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی بات کو واضح فرمایا ہے کہ مصنوعی ٹوتھ پیسٹ مسواک کے متبادل نہیں ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(راسخ)

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1472
  • اس ہفتے کے قارئین 5336
  • اس ماہ کے قارئین 43730
  • کل قارئین49304018

موضوعاتی فہرست