• #1916
    محمد ابراہیم کمیرپوری

    1 مقالات محرم

    واقعہ کربلا تاریخِ  اسلام کایک ایسا سلگتا موضوع ہے   جو کہ چودہ سو سال گزر جانے کے  باوجود اس کی حدت آج بھی  محسوس کی جارہی  ہے  قصائد حکایات کی دنیا میں تو یہ  بہت سہل عنوان ہے  اور  اس  حوالے سے  خود ساختہ  کہانیوں پر مشتمل  بے  شمار مواد موجود ہے  مگر تحقیقی انداز میں حقائق پر  مبنی   مواد بہت کم ہے ۔زیر نظر کتاب ’’مقالات محرم ‘‘  حافظ  محمد ابراہیم کمیر پوری﷫ کے  وہ علمی مقالات ہیں جو انہوں نے مختلف اوقات میں  اہلِ بیت کی عقیدت میں تحریر کئے  عقید ت کی رو میں انہوں حقیقت کو فراموش  نہیں کیا  او ران مقالات میں انہوں نے   خاص طور  پر ماہ  محرم  اور اس کی رسومات اور  اس میں  پیش آنےواقعا ت کوپیش کیا ہے  اللہ   تعالی   مولانا حافظ ابراہیم کمیر پوری  ﷫ کے درجات بلند فر مائے  اور  اس کتاب کو عوام الناس کے لیے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)
  • #3029
    حافظ محمد الیاس اثری

    2 اعزاز القرآن لعباد الرحمن المعروف اوصاف مومن

    اخلاق ان صفات اور افعال کو کہا جاتا ہے جو انسان کی زندگی میں اس قدر رچ بس جاتے ہیں کہ غیر ارادی طورپربھی ظہور پذیر ہونے لگتے ہیں۔ بہادر، فطری طور پر میدا ن کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور بزدل، طبیعی انداز سے پرچھائیوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ کریم کا ہاتھ خود بخود جیب کی طرف بڑھ جاتا ہے اور بخیل کے چہرے ہر سائل کی صورت دیکھ کر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ اسلام نے غیر شعوری اور غیر ارادی اخلاقیات کو شعوری اور ارادی بنانے کا کام بھی انجام دیاہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے شعور اور ارادہ کے ساتھ پیدا کرے تاکہ ہر اہم سے اہم موقع پر صفت اس کا ساتھ دے ورنہ اگر غیر شعوری طور صفت پیدا بھی کرلی ہے تو حالات کے بدلتے ہی اس کے متغیر ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ان تذکروں کو ملاحظہ کیا جائے جہاں اسلام نے صاحب ایمان کی اخلاقی تربیت کاسامان فراہم کیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ انسان میں اخلاقی جوہر بہترین تربیت اور اعلیٰ ترین شعور کے زیر اثر پیدا ہو۔اللہ تعالی نے قرآن مجید کی سورۃ الفرقان کے آخری رکوع میں عباد الرحمان کی بارہ صفات ذکر کی ہیں ،جو گویا بارہ مستقل مضامین ہیں۔ان صفات میں سے"زمین پر عاجزی سے چلنا ، جاہلوں سے اعراض کرنا ، راتوں کو عبادت کرنا، جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا ، خرچ کرنے میں اعتدال سے کام لینا ، نہ فضول خرچی  کرنا اور نہ ہی بخل کرنا ، شرک سے اجتناب کرنا ، قتل ناحق سے بچنا ، زنا اور بدکاری سے پرہیز کرنا، جھوٹی گواہی سے احتراز کرنا ، بری مجالس سے پہلوتہی  کرنا، کتاب اللہ سے متاثر ہونا ، بیوی بچوں اور اپنے لئے ہدایت کی دعا کرنا "قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اعزاز الرحمان لعباد الرحمان المعروف  اوصاف مومن " محترم حافظ محمد الیاس اثری استاذ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ  کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے مومنوں کی انہی بارہ صفات کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔یہ کتاب  درحقیقت رمضان المبارک میں دئیے گئے ان کے دروس پر مشتمل ہے،جنہیں افادہ عام کی نیت سے طبع کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہےکہ وہ مولف موصوف کی اس کوشش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2451
    محمد ظفر اقبال

    3 اسلام اور جدید سائنس نئے تناظر میں

    محترم ڈاکٹر ذاکر نائیک ﷾ہندوستان کے ایک معروف  مبلغ اور داعی ہیں۔آپ اپنے خطبات اور لیکچرز میں اسلام اور سائنس  کے حوالے سے  بہت زیادہ گفتگو کرتے ہیں ،اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو کچھ بتا دیا تھا ،آج کی جدید سائنس اس کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔اور یہ کام  وہ زیادہ تر غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت  کرتے ہیں ،تاکہ ان کی عقل اسلام کی حقانیت اور عالمگیریت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔اسلام اگرچہ سائنس کی تائید کا محتاج نہیں ہے ،اور اس کا پیغام امن وسلامتی اتنا معروف اور عالمگیر ہے کہ اسے مسلم ہو یا غیر مسلم  دنیا کا ہر آدمی تسلیم کرتا ہے۔لیکن  میرے خیال میں سائنس سے اسلام کی تائید میں غیر مسلموں کو کوئی عقلی دلیل پیش کرنے میں کوئی برائی والی بات بھی نہیں ہے۔لیکن بعض احباب ان کے اس طرز عمل سے نالاں ہیں ۔ان کے نزدیک اسلام کے پیغام میں اتنی زیادہ قوت  موجود ہے کہ ہمیں سائنس کی تائید وغیرہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید سائنس  نئے تناظر میں  (ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خطبات کی روشنی میں)" بھی اسی ضمن میں لکھی گئی ہے۔جو محترم محمد ظفراقبال صاحب کی کاوش ہے۔ ان کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ جس طرح مغرب میں عیسائیت اور سائنس کے اجتماع سے  لوگ عیسائیت   سے بیزار ہو گئے اور انہوں نے سائنس کو اپنا مذہب بنا لیا۔بہر حال یہ ڈاکٹر ذاکر نائیک﷾ کے اس طریقہ کار پر ایک تحقیقی مقالہ ہے ،جس میں صحت اور ضعف دونوں کا احتمال ہو سکتاہے۔اہل علم سے گزارش ہے کہ وہ کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی آراء سے ضرور آگاہ کریں ،تاکہ صحیح منہج سامنے آ سکے۔(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1912
    ابو تقی حفیظ الرحمن لکھوی

    4 مناسک حج و عمرہ

    حج بیت  اللہ ارکانِ اسلام میں سے  ایک اہم رکن  ہے بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی   میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت  کے سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردور عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں   زیرنظر کتاب ’’ مناسک  حج  عمرہ ‘‘بھی اس سلسلے میں  مولانا   حفیظ  الرحمن لکھوی ﷾ کی یہ  علمی  وتحقیقی کا وش  ہے مولانا محترم جہاں علم وتحقیق کے میدان کے شہسوار ہیں  وہاں ا نہیں اللہ تعالیٰ  نے متعدد بار حج بیت اللہ کی سعادت سےبھی نوازہ ہے  اس لیے  ان کی  یہ  عظیم  الشان تالیف علم  وتحقیق او رتجربہ ومشاہدہ پر مبنی  بہترین علمی دستاویز ہے جو بیک  وقت اہل علم اور عامۃ المسلمین کے لیے راہنمائے حج وعمرہ ہے  کتاب کی علمی وتحقیقی سطح بہت بلند اور  اندازِ تفہیم اور  جذبۂ نصیحت نہایت قابل قدر  ہے  اللہ  مولانا کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اسے  عوام الناس کے نفع بخش بنائے  ۔(آمین) (م۔ا)

  • #368
    حافظ صلاح الدین یوسف

    5 خلافت و ملوکیت ۔ تاریخی و شرعی حیثیت

    ملوکیت یعنی بادشاہت کے معائب و نقائص اور اس کی ہلاکت خیزیوں کو ابھار کر، جمہوریت کا "الحمرا" تعمیر کرنےوالوں میں ایک نام مودودی صاحب کا بھی ہے۔ جسے انہوں نے "خلافت و ملوکیت" نامی کتاب لکھ کر خوب واضح کیا ہے۔ جس میں مودودی صاحب نے پہلے تو تاریخی روایات کے متفرق جزئی واقعات کو چن چن کر جمع کیا ، پھر انہیں مربوط فلسفہ بنا کر پیش کیا، جزئیات سے کلیات کو اخذ کر لیا اور پھر ان پر ایسے جلی اور چبھتے ہوئے عنوانات صحابہ کرام کی طرف منسوب کر کے جما دئے کہ جنہیں آج کی صدی کا فاسق ترین شخص بھی اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرے۔ یہ نہ تو دین و ملت کی کوئی خدمت ہے، نہ اسے اسلامی تاریخ کا صحیح مطالعہ کہا جا سکتا ہے۔ البتہ اسے تاریخ سازی کہنا بجا ہوگا۔ یہ بات طے ہے کہ جو حضرات اپنے خیال میں بڑی نیک نیتی، اخلاص اور بقول ان کے وقت کے اہم ترین تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے قبائح صحابہ کو ایک مرتب فلسفہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اسے "تحقیق" کا نام دیتے ہیں، انہیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تسویدِ اوراق کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ جدید نسل کو دین کے نام پر دین سے بیزار کر دیا جائے۔ اور ہر ایرے غیرے کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔

    مودودی صاحب کی اس کتاب نے صحابیت کے قصر رفیع میں جو نقب زنی کی ہے خصوصاً حضرت عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہم کا جو کردار اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے، وہ لائق مذمت ہے۔ ان کی اس کتاب کی تردید میں اگرچہ  متعدد کتابیں اور مضامین شائع ہو چکے ہیں لیکن حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی زیر تبصرہ کاوش بعض حیثیتوں سے انفرادیت کی حامل ہے۔ ایک تو اس کتاب میں مودودی صاحب کے اس مؤقف کا نہایت تفصیلی رد ہے۔ حتی کہ کتاب کے آخر میں موجود ضمیمہ کا بھی جواب فاضل مصنف نے دیا ہے۔ دوسرے اکثر مقامات پر مودودی صاحب کا موقف ان کے اپنے الفاظ میں بیان کر کے اس کا ضعف واضح کیا گیا ہے۔ جس سے طرفین کے دلائل قاری کے سامنے خوب نکھر کر آ جاتے ہیں اور اسے حق بات پہچاننے میں دشواری نہیں ہوتی۔ مودودی صاحب کی کتاب سے جو جو غلط فہمیاں عوام الناس میں پھیل سکتی تھیں، اس کتاب میں ان سب کا باحوالہ، نہایت مفصل اور مدلل رد کیا گیا ہے۔

  • #1790
    خالد سیف اللہ رحمانی

    6 جدید فقہی مسائل جلد1

    جدید صنعتی اور فکری انقلاب نے جو بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں ان میں ایک جدید دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا فقہی اور شرعی حل بھی  ہے ۔ جو جدید ایجادات  اور نئے معاملات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان  مسائل کا حل کرنا ایک مشکل اور دشوار کام ہے ۔ اس لئے کہ ان کے لیے قرآن و حدیث اور فقہ کے قدیم  ذخیرہ میں ان کی نظائر اور ان سے قریب ترین صورتیں تلاش کرنی ہوتی ہیں ۔ احکام کی علتوں اور  اسباب پر غور کرنا ہوتا ہے ۔ اور اپنے زمانہ کے عرف اور رواج کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے ۔ اس  مشکل اور دشوار کام کو حل کرنا علما کے ذمہ ہے ۔ اور وہی ان کے صحیح حل تلاش کرنے کے اہل ہیں ۔ چناچہ ہر زمانہ کے اہل علم اور اہل افتا نے اپنے اپنے دور کے مسائل حل کیے ہیں ۔ موجودہ دور میں بھی ایسی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں ۔ زیر نظرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ مؤلف نے ایسے تمام جدید مسائل کو جن کا تعلق عبادات ، معاشرت اور معاملات اور اجتماعی مسائل سے ہے  یکجا کر دیا ہے ۔ اور نہائت اختصار و ایجاز کے ساتھ ، سہل ، عام فہم زبان اور دل نشین اسلوب میں مسائل پر گفتگو کی ہے اور ہر مسلہ مستند کتابوں سے حوالے اور نظائر  کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔ مصنف کی قابل تحسین بات یہ ہے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ  اختلاف سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ اور جہاں علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے وہاں اپنی رائے فتوی کی بجائے تجویز کے لب و لہجہ میں پیش کی ہے ۔ نیز  اس  کے  وجوہ دلائل بھی بیان کر دئیے ہیں ۔( ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں یہ کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #731
    ڈاکٹر اسرار احمد

    7 شہید مظلوم

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر لوگوں میں سے ہیں جن کے طرز عمل، اور اقوال و افعال کی لوگ اقتداء کرتے ہیں آپ کی سیرت، ایمان، صحیح اسلامی جذبہ اور دین اسلام کے فہم سلیم کے قوی مصادر میں سے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں اسی شخصیت کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ آج ایک مخصوص طبقہ کی جانب سے ایک ایسی شخصیت پر دشنام طرازی کا بازار گرم کیا جاتا ہے  جس نے وحدت اسلامیہ کی بقا کے پیش نظر کلمہ گو فسادیوں کے خلاف تلوار نہ اٹھائی۔اپنی پوری زندگی پیکر صدق و وفا اور امام عزم و استقامت بنے رہے۔ آپ نے اپنے اوپر اچھالے جانے والے تمام اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔ یہ کتاب فی زمانہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ذوالنورین کی عظمت کو ثابت کرتی ہے اور قارئین کے سامنے یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ ایمان و علم، اخلاق و آثار کے ساتھ انتہائی عظیم انسان تھے۔ آپ کی عظمت اسلام کے فہم و تطبیق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی اتباع کا نتیجہ تھی۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39792606

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں