• title-pages-adab-al-qazi-copy
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات قضا کےاصول آداب اور طریق کار پر متعد د کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب القاضی ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی ی‎﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب عدالتی نظام اورعدالتی طریق کار کےاہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔موضوع سےمتعلق قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اور آثار صحابہ مربوط شکل میں پیش کرنے کے بعد فاضل مصنف نےاہم عدالتی دستاویزات ، نظام قضاء ،سماعت مقدمہ اور فیصلے لکھنے کا اسلامی طریق کار عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ مسلمانوں کے عدالتی نظام کےمعاون اداروں سے متعلق ہے۔یہ کتاب شبعہ قانون سے وابستہ جج صاحبان ،وکلاء کرام طلبہ قانون اور اسلامی شریعت کےمیدان میں کام کرنے والوں کولیے ایک عمدہ تحقہ ہے۔(م۔ا)

  • pages-from-islam-aur-british-law
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    دنیابھر میں اسلام اور دہشت گردی کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کرنے کے لیے بہت سے حلقے اور حکومتیں سرگرم ہیں۔مغربی میڈیا، نظام تعلیم، صحافت، داخلی و خارجی پالیسیاں اوردیگر ذرائع ابلاغ اس دوڑ میں سب سے نمایاں ہیں۔بارہویں صدی سے لگاتارمسیحی چرچ نے نبی کریم ﷺ کو طاقت اور ہوس کے جنون میں مبتلافردباور کرانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو خون کے پیاسے اور شہوت پرست مطلق العنّان عربوں کے روپ میں پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ اسلام کے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو انتشار و خلفشاراورمختلف قسم کے شکوک و شبہات کا ایک جال بچھایا جارہاہے۔ خیر القرون سے لے کر دورحاضر تک یہودی و نصرانی ہمیشہ سے صفِ اوّل کے اسلام مخالف ثابت ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ برٹش ایک سامراجی مملکت کا نام ہے۔ انسانی حقوق کےسب سے بڑےعلمبردار کہلوانے والے در حقیقت نسل انسانی کے سب سے بڑے غاصب اور قاتل ہیں۔ اگر حقائق پر نظر رکھی جائے تو پچھلے پچاس (50) برسوں میں برٹش کئی وسیع پیمانے پر ہونے والی جنگوں میں ملوث رہا ہے۔جبکہ اسلام اس کے برعکس امن و سلامتی، اخوت، اور مساوات کا دین ہے۔ اسلام ایک واحد مذہب ہے جو غیر مسلموں کو بھی تحفظ اور پناہ بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور برٹش لاء" مولانا ابو الوفا ثناء اللہ مرحوم امرتسریؒ کی تصنیف ہے۔ مولانا مرحومؒ نے ان حالات میں اپنی کتاب کو تصنیف کیا جب انگریز برصغیر پر اپنی پوری قوت کے ساتھ مسلط تھا۔ قانون سازی کے تمام اختیارات گورنر جنرل کے ہاتھ میں تھے۔ ان حالات میں حضرت مولانا مرحومؒ یہ کتاب لکھ کر جہاں رائج الوقت قوانین کی خامیوں اور کوتاہیوں پر انگشت نمائی کی ہے وہاں اس کے ساتھ ہی ساتھ اسلامی قوانین سے ان کاموازنہ کر کے شرعی قوانین کی برتری اور فضیلت ظاہر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا مرحومؒ کو اجر عظیم سے نوازے اور امت مسلمہ کو فرنگیوں کی منافقانہ چالوں کو سدّ باب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • title-pages-islam-ka-nizam-e-tazirat-copy
    عبد الرحمن عبد العزیز الداؤد

    عالم انسانیت آج اکیسویں صدی کا جشن منانے میں مصروف ہے جب کہ انسانیت منہ چھپائے ماری ماری پھر رہی ہے۔ روئے زمین کا کوئی خطہ اسے پناہ دینے پر آمادہ نہیں۔ ہر طرف قتل وغارت‘ فتنہ وفساد اور وجل وفریب کے طوفان پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ امن‘ چین اور سکون نام کی کوئی چیز انسانی دنیا میں نظر نہیں آ رہی۔ عقل انسانی کے تراشیدہ قوانین اور اصول حیات انسان کی اجڑی بستیوں کو آباد کرنے سے قاصر ہیں۔ بے خدا ازموں اور بے روح نظریات کے علمبردار ہمارے قصر حیات کے دکھ درد دور کرنے سے عاجز ہیں۔ امت مسلمہ جسے اللہ عزوجل نے بہترین امت کے لقب سے نوازا تاکہ وہ اسلام کے قوانین کو روئے زمین پر نافد کرکے امن وسکون کا گہوارا بنائیں وہ امت خود اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں انہی تعزیرات اسلامیہ کو بیان کیا گیا ہےاور یہ کتاب اصلاًعربی زبان میں ہے جس کا عنوان’العقوبات فی الاسلام‘ تھا جسے طارق اکیڈمی فیصل آباد نے اردو زبان میں ٹرانسلیٹ کیا۔ ترجمہ نہایت عمدہ اور سلیس ہے۔ اس میں حدود وتعزیرات کی تعریف سے لے کر تمام تعزیزات وحدود کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے اور اسلام کے عدالتی نظام کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی عظیم کاوش ہے۔ اس میں حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام کا نظام تعزیرات ‘‘ عبد الرحمن عبد العزیز الداؤد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • pages-from-islam-ka-nizam-e-qanoon
    عبد القادر عودہ

    اسلام کا معنی ہے اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا اور جس سے وہ روکے بلا اعتراض رک جانا۔اسلام ایک عالمگیر شریعت ہے جس کا مقصد پوری انسانیت کی اصلاح اور فلاح ہے۔اسلام انسان کے بنائے ہوئے قوانین کو خدا کے بنائے ہوئے قوانین کی بالاتری سے محدود کرتا ہے۔منبر ومحراب سے لے کر حکومت واقتدار تک ہر شعبہ زندگی میں اسلام ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ ساری کائنات کا خالق ،مالک اور رازق اللہ تعالی ہے۔وہی اقتدار اعلی کا بلا شرکت غیرے مالک اور انسانوں کا رب رحیم وکریم ہے۔انسانوں کے لئے قوانین حیات مقرر کرنا اسی کا اختیار کلی ہے۔اس کا قانون عدل بے گناہ افراد میں اطمینان خاطر پیدا کرتا ہے اور بڑے جرائم پر اس کی مقرر کردہ سخت سزائیں مجرموں کو ارتکاب جرم سے روکنے ،انہیں کیفر کردار تک پہنچانے اور دوسرے افراد کے لئے عبرت وموعظت کا سامان مہیا کرنے کا باعث ہیں۔اسلامی قانون عدل وانصاف کی ضمانت فراہم کرتا ہے،معاشرتی حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور عزت وحرمت کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔انسانوں اور رب کے باہمی تعلق کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے قوانین کے نفاذ کے نتیجے میں زندگی میں وہ راحت،آرام اور آسائشیں پیدا ہوں جن کا قرآن حکیم میں بار بار وعدہ کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام کا نظام قانون"مصر کے معروف عالم دین اور اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام محترم جناب عبد القادر عودہ شہید ﷫کی عربی تصنیف "الاسلام واوضاعنا القانونیۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ محترم جناب غلام علی صاحب نے کیا ہے۔جو قبل ازیں جماعت اسلامی کے جریدے ترجمان القرآن میں بالاقساط چھپ چکا ہے۔کتاب کے آخر میں اسی موضوع سے متعلقہ چند مضامین اور مولف مصوف کی ہی ایک دوسری کتاب کا بھی ترجمہ کر یکجا کر دیا گیاہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-islami-dastoor-key-bunyaadi-aur-rahnumaa-asool
    مفتی عزیز الرحمن

    عرصہ دراز سے جدیدتعلیم یافتہ لوگوں کی طرف سےیہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اسلام میں لچک پیدا کی جائے۔اور اب یہ مطالبہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلام کی تشکیل جدید کی جائے۔حیرت کی بات ہے کہ اگر تو یہ لوگ اسلام کو جانتے ہیں ، تو پھر یہ اسلام کو کیا بنانا چاہتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو پھر اسے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ہیں۔کسی بھی مذہب کی تشکیل جدید یا اس میں مقرر شدہ رعایتوں کے بعد لچک اگر تحریف یا تبدیلی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے، یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی دستور کے بنیادی اور رہنما اصول"محترم مفتی عزیز الرحمن صاحب کی گرانقدر تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں اسلامی دستور کے بنیادی اور رہنما اصول کو بیان فرمایا ہے کہ آج کا دکھی انسان اسلام کے سائے میں ہی چین اور سکون کی زندگی گزار سکتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islami-riasat-ka-adalti-nizam-copy
    پروفیسر رفیع اللہ شہاب

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض  اہل علم نے  نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات پرمشتمل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلامی ریاست کا عدالتی نظام ‘‘ پروفیسر رفیع اللہ شہاب کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں  انہوں نے  اسلام سے  قبل  عدالتی  نظاموں کو مختصرا پیش کرنے کے بعد دورِ رسالت سے لےک موجودہ دور تک اسلام کے  عدالتی نظام کی تفصیلات پیش کی ہیں ۔(م۔ا)

  • title-pages-islami-adalat
    قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

    انسانی معاشرہ میں فسادکو ختم کرنے اور اور اللہ تعالی کی متعین کردہ حدود کو اس معاشرہ میں قائم رکھنے کا نام عدل ہے اسی عدل کے قائم کرنے والے کانام قضاء ہے قضاء کیا ہےقاضی کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟اور اسلامی عدالت میں کیا طریقہ کار ہونا چاہیے زیرنظر کتا ب اسلامی عدالت از مجاہد الاسلام قاسمی اس موضوع پر اردو دفعات پر مشتمل فقہ اسلامی کی پہلی کتاب ہے جو نہایت جامع اور مستند ہے اس کتاب کی ترتیب میں تمام ائمہ فقہ کی آراء سےاستفادہ کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-islami-qanoon-mehnat-o-ujrat
    حافظ مجیب اللہ ندوی

    یکم مئی کا دن دنیا بھر کے مزدوروں کے اتحاد اور یکجہتی کا دن ہےجس دن دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں مزدور محنت کش 1886ءمیں شکاگو میں شہید ہونے والے مزدوروں کو ان کی عظیم جدوجہد اورقربانی دینے کیلئے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اﷲ تعالیٰ نے محنت کی عظمت اور مزدوروں کے حقوق بیان فرمائے اور اس کے آخری رسول ﷺ ان احکامات خداوندی پر مکمل عمل پیرا ہوئے اور محنت کشوں کے حقوق خود ادا فرمائے اور پوری امت کو ان پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔ اﷲ کے حبیب ﷺ نے محنت کشوں کو اﷲ کے دوست کا اعزاز عنایت فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔’’مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دو‘‘ (ابن ماجہ) زیر تبصرہ کتاب "اسلامی قانون محنت واجرت"محترم مولانا مجیب الرحمن ندوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام میں پائے جانے والے مزدوروں کے حقوق اور محنت کی عظمت کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-islam-ka-qanoon-e-tadveen
    امین احسن اصلاحی

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی قانون کی  تدوین" پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے اسلامی قانون کے بنیادی تصورات،مقاصد شریعت اور اجتہاد،اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون،اسلام کا قانون جرم وسزا،اسلام کا قانون تجارت ومالیات،مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ ایک جائزہ،اور فقہ اسلامی دور جدید میں جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔ یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی تیسری کڑی ہے ۔اگرچہ ادارہ محدث کا مولف موصوف کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئےاس کتاب  کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔(راسخ)

  • title-pages-islami-nizame-adal-ka-nifaz-mushklat-aur-unka-hall-copy
    سید محمد متین ہاشمی

    اسلام کا نظامِ عدل اپنے  تصور انسان ، صفتِ دوام ،مساوات، تصور آخرت وخوف  الہ ، نظام عقوبات ، تصور قضا ، شہادت کے معیار اور سیدھے سادے طریق کار کی بنا پر دنیا کےتمام نظامہائے عدل سے ارفع اور فائق ہے۔ مغرب کےنظامِ عدل کوترمیمات کےذریعہ اسلامی  نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔ اس لیے  کہ اسلام کے نظام ِ عدل میں تصور انسان دوسرا ہے اور مغرب کے نظام میں دوسرا اور  تصور انسان ہی وہ بنیاد ہے جس پر قوانین کی تدوین عمل میں آتی ہے۔اس لیے وطن عزیز میں  اسلامی  نظام عدل کو ہی نافذ کرنا چاہیے۔ اور یہ سمجھنا کہ اسلامی نظام  کےنفاذ کی ذمے داری صرف حکومت پر عائد ہوتی ہے غلط ہے بلکہ یہ پاکستان کے ہر باشندے کی ذمہ داری ہے  کہ جن بنیادوں پر اس مملکت کا  قیام ہوا تھا انہیں بہر صورت وبہر قیمت مستحکم کیا جائے  اور اس کام کی انجام دہی میں ہر شخص  حسبِ حیثیت اپنا فر ض ادا کرے ۔ جنرل ضیاء کےدور حکومت میں  پاکستان میں  اسلامی  نظام عدل کے نفاذ کی کوششیں کی  گئیں اور اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گئے لیکن  یہ کوششیں بار آور نہ ہوسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی  نظام ِعدل کا نفاذ مشکلات ان کا حل‘‘مولاناسیدمحمد  متین ہاشمی ﷫ کی کاوش ہے اس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ اسلامی نظامِ عدل کی ایسی  چند امتیازی خصوصیات جو  دیگر نظامہائے عدل سے ممتاز کرنے  والی ہیں کو بیان کر کےبعد  پاکستان میں اسلامی  نظامِ عدل کے نقاذ میں مشکلات اوران کا  حل  کو  بڑے احسن انداز میں  بیان کیا ہے۔ اللہ  تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-aqziya-al-rasool--saww--urdu-tarjuma-copy
    محمد بن الفرج ابن الطلاح الاندلسی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام ِعدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیاتِ مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   زیر تبصرہ اہم  کتاب امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘ ہے  ۔ یہ کتاب  ان فیصلوں اورمحاکمات پر مشتمل ہے جو  نبی ﷺ نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مختلف مواقع پر صادر فرمائے۔یہ  عظیم الشان کتاب   ڈاکٹر اعظمی صاحب  کی تحقیق سے قبل  ناباب تھی  قدیم رسم الخط میں اس کے چند نسخے دنیا کی مختلف لائبریریوں میں موجود تھے ۔لیکن ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے جامعہ ازہر ،مصر میں اس  کتاب  گرانقدر کی تحقیق پر پی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے اس کتاب کو  نئی زندگی بخشی۔ موصوف نے  اس کی تحقیق وتدقیق میں انتہائی محنت اور جانفشانی  سے کام لیا  کتاب میں  وارد شدہ احادث  کی تخریج کی  اور فن  جرح تعدیل ک ےمسلمہ اصولوں کےمطابق ان  کی صحت وعدم صحت  و اضح کیا  اوراس کے ساتھ ساتھ  انہوں نے  ان احادیث سے مستنبط ہونے والے  فقہی اور قانونی احکام کے بارے  میں مختلف فقہی مسالک بھی بیان کردیے ہیں۔ او رکتاب کے آخر میں انہوں نے  استدراکات  کے عنوان سے آنحضور ﷺ کی مزید ان  احادیث وقضایا کا اضافہ بھی کردیا ہے  جو کسی وجہ  سے اصل کتاب میں شام  ہو نے  سے راہ گئے تھے ۔علاوہ ازیں انہوں نے کتاب کے شروع میں ایک مفصل مقدمہ لکھ اسلامی قانون کی اہمیت اور قانون نافذ کرنے  والے  اداروں اور افراد کے کردار او رذمہ داریوں پر بھی  تفصیل سے روشنی  ڈالی ہے ۔ کتاب کے آخر میں  مراجع، اعلام اور  عنوانات کی تفصیلی فہارس کا اضافہ کر کے اس کے  استفادہ کو زیادہ سے زیادہ آسان بنادیا ہے۔ یہ کتاب  قانون دان حضرات اور اسلامی آئین وقانون کے نقاذ سےدلچسپی رکھنے والے  احباب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے  ادارہ   معارف اسلامی منصورہ نے  تقریبا  28  سال قبل اس کاترجمہ کر وا کر اسے  حسن ِطباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، محقق ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اس کو  وطن عزیز میں اسلامی آئین وقانون کی تدوین وتفیذ کا ایک  مؤثر ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • page-from-al-mosooah-tul-qazaaiyya
    ریسرچ کمیٹی، فلاح فاؤنڈیشن، لاہور

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جس سے مظلوم کی نصرت، ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔ تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔ اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا: ’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔ جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت، عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے۔ ائمہ محدثین نےنبیﷺ اور صحابہ کرام ﷢کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔ اور کئی اہل علم نے اس سلسلے میں کتابیں تصنیف کیں ان میں سے اہم کتاب امام ابو عبد اللہ محمدبن فرج المالکی کی نبی کریمﷺ کے فیصلوں پر مشتمل ’’اقضیۃ الرسول ﷺ ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی﷾ نے جامعہ ازہر ،مصر میں اس کتاب کی تحقیق پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ادارہ معارف اسلامی ،لاہور نے اسکا اردو ترجمہ کرواکر شائع کیا۔ چند سال قبل شیخ ڈاکٹرارکی نور محمد نے صحابہ کرام﷢ کے کتب ِحدیث وفقہ اورکتب سیر وتاریخ میں منتشر اور بکھرے ہوئے فیصلہ جات کو ’’اقضیۃ الخلفاء الراشدین‘‘ کے نام سے جمع کرکے جامعہ اسلامیہ، مدینہ منور ہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اشاعت کتب کے عالمی ادارے دارالسلام نے نےاسے دو جلدوں میں شائع کیا ۔اور 1997ء حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ اور جسٹس خلیل الرحمٰن خاں اور پرو فیسر عبد الجبار شاکر ﷫ نےمجلس التحقیق الاسلامی، لاہور کے تحت الموسوعۃ القضائیۃ (اسلامی عدالتوں کے فیصلوں پر مبنی انسائیکلو پیڈیا) کے سلسلے میں کام کا آغازکیاجس میں عہد رسالت سے عصر حاضر تک شرعی عدالتوں کے فیصلہ جات کو جمع کر کےشائع کرنے کا منصوبہ تھا۔ ابھی صرف عربی زبان میں ایک جلد تیار ہوئی تھی جس کو مدنی صاحب شائع کرنے کے لیے کوشاں تھے لیکن اس دوران جسٹس خلیل الرحمن اور پرو فیسر عبد الجبار شاکر ﷫ نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کر واکر فلاح فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع کردیا۔ زیرتبصرہ کتاب وہی کتاب ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں امام ابو عبد اللہ محمدبن فرج المالکی کتاب ’’اقضیۃ الرسول ‘‘ پیش نظر ر ہی ہے۔ کتاب ہذا میں نبی کریم ﷺ کی طرف سے صادر کردہ 355 فیصلوں کو اطراف حدیث سے جمع کر کے پیش کیا گیا ہے۔ ابتدائی کام کے دوران راقم کوبھی محترم ریاض الحسن نوری﷫ کی نگرانی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کتاب ہذا جج حضرا ت اور وکلاء کے لیے ایک بہترین کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری عدالتوں کو انگریزی قانون کی بجائے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ کے نظام قضاء وعدل کے مطابق فیصلے کرنےکی توفیق دے۔ (آمین) ( م۔ا)

  • pages-from-tareekh-nifaaz-e-hadood
    ڈاکٹر نور احمد شاہتاز

    حدوداللہ سے مراد وہ امور ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت بیان کردی ہے اور اس بیان کے بعد اللہ کے احکام اور ممانعتوں سے تجاوز درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حددو سے تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے اور ان کے لیے عذاب مہین کی وعید سنائی ہے۔ اسلام کایہ نظام جرم وسزا عہد رسالت اورعہد خلافت راشدہ میں بڑی کامیابی سے قائم رہا جس کے بڑے فوائد وبرکات تھے۔ عصر حاضر کے بعض سیکولرذہنیت کےحاملین نے اسلامی حدود کو وحشیانہ اور ظالمانہ سزائیں کہا ہے۔ (نعوذ باللہ   من ذالک) اور بعض اسلام دشمنوں نےیہ کہا کہ اسلام کانظام جرم وسزا عہد رسالت وخلافت راشدہ کے بعد کبھی کسی ملک میں کامیبابی سے نہیں چل سکا۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’تاریخ نفاذ حدود‘‘ ڈاکٹر نور احمد شاہتاز کی تحقیقی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں تاریخی حولوں سے ثابت کیا ہے۔ کہ یہ نظام گزشتہ چودہ صدیوں میں ہر ملک وہر خطہ اسلامی میں نہایت کامیابی سے نافذ رہا اور اس کی برکات سے طویل عرصہ تک نسل انسانی نے استفادہ کیا۔ نیز فاضل مصنف نے شرائع سابقہ میں مقرر سزاؤں کا اسلامی سزاؤ ں سے تقابلی جائزہ کر کے معترضین ومعاندین کے منہ بند کردیئے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ تمام شرائع سماویہ وادیان ارضیہ و عارضیہ میں اسلامی سزاؤں کے مماثل یا ان سے بھی سخت بہت معمولی جرائم پر دینے کا رواج رہا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں تحقیقی وتاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-soudi-arab-me-adalti-tanzem-e-islami-copy
    ڈاکٹر سعود بن سعد آل دریب

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘ نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کےلیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے۔ عصر حاضر میں سعودی عرب  کا نظام عدل بھی اسلامی شریعت کی تنفیذ وتطبیق کا قابل تقلید نمونہ اور مثالی مظہر سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ا س کا امن وامان برقرار ہے اور  وہ خوش حالی اور اطمینان وسکون کے اعتبار سے مرکزی مقام پر فائز ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ سعودی عرب میں عدالتی تنظیم اسلامی شریعت اور عدالتی اقتدار کی روشنی میں ‘‘ سعودی عدالت کے ایک فاضل استاذ  کی عربی تصنیف’’ التنظم القضائی فی المملکۃ العربیۃ السعودیۃ فی ضوء الشریعۃ الاسلامیۃ ونظام السلطۃ القضائیۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں  مصنف  موصوف نے اسلامی  شریعت کی انفرادیت اورعظمت اور اس کی  تنفیذ کے سلسلے میں مملکت سعودی عرب کی مخلصانہ وعادلانہ کدوکاوش اور لگن کی وضاحت کی ہے۔امام  محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کے  علمی وتحقیقی ادارے نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرواکر  اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا ۔(م۔ا)

  • title-pages-sharie-ahkam-ki-khilaf-warzi-pr-rasool-ullah-k-faisle-copy
    محمد بن فرج المالکی القرطبی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام ِعدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیاتِ مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپﷺ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   زیر تبصرہ کتاب” شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہﷺ کے فیصلے  ‘‘ امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   کتاب ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘  کا  اردو ترجمہ ہے  ۔ یہ کتاب  ان فیصلوں اورمحاکمات پرمشتمل ہے جو  نبی ﷺ نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مختلف مواقع پر صادر فرمائے۔اس کتاب    میں  مصنف نے  وہ تمام فیصلے درج  کردئیے ہیں جو  فیصلے آپ نے خود فرمائے یاوہ فیصلے کرنے کا  آپ نے حکم فرمایا  ہے۔کتاب ہذا کا  ترجمہ    مولانا عبد الصمد ریالوی﷾ نے کیا ہے  اوراحادیث کی تحقیق وتخریج کا کام الشیخ طالب عواد نے کیا ہے۔ ادارہ   معارف اسلامی منصورہ نے   بھی تقریبا  28  سال قبل اس کاترجمہ کر وا کر شائع کیا تھا۔یہ اس  نسخے کا ترجمہ تھا جس پر ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے تحقیق وتخریج کا  کام  کر کے   جامعہ ازہر ،مصر  سےپی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔یہ کتاب  قانون دان حضرات اور اسلامی آئین وقانون کے نقاذ سےدلچسپی رکھنے والے  احباب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے  ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، محقق ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اس کو  وطن عزیز میں اسلامی آئین وقانون کی تدوین وتفیذ کا ایک  مؤثر ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-adalat-e-nabvi-key-faisley
    عبد اللہ قرطبی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے۔ ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام ﷢کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام﷢کے فیصلہ جات پرمشتمل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’عدالت نبوی کے فیصلے ‘‘از عبد اللہ القرطبی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں وہ مقدمات او ر فیصلےجمع کردئیے ہیں جو قاضی بالحق حضرت محمدﷺ کے دربار عالی میں وقتاً وفوقتاً پیش ہوتے رہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-adal-o-insaf
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا تیئسواں حصہ ہے، جس کا موضوع عدل و انصاف ہے۔ اس یونٹ میں آپ عدل و انصاف کے اسلامی اصول، قاضیوں کے لیے رہنما اصول اور ہدایت، عادل اور غیر عادل قاضی، منصب قضا کی خواہش و طلب، جھوٹے دعویدار اور جھوٹی قسم کھانے والوں کا ٹھکانا اور عدالتی آداب کا مطالعہ فرمائیں گے۔(ع۔م)

  • title-pages-asre-hazir-aur-islam-ka-nizam-e-qanoon-copy
    ڈاکٹر محمد امین

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " عصر حاضر اور اسلام کا نظام قانون " محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں فقہ اسلامی،علم اصول فقہ،فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص،اہم فقہی علوم اور مضامین ایک تعارف،تدوین فقہ اور مناہج فقہاء،اسلامی قانون کے بنیادی تصورات،مقاصد شریعت اور اجتہاد،اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون،اسلام کا قانون جرم وسزا،اسلام کا قانون تجارت ومالیات،مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ ایک جائزہ،اور فقہ اسلامی دور جدید میں جیسے عنوانات جمع  ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور پاکستاب میں اسلامی قانون کا نفاذ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-mafroor-larkiyon-ka-nikah-aur-hmari-adaltain
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ولایت ِنکاح کا مسئلہ یعنی جوان لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ''مفرورلڑکیوں کا نکا ح او رہمار ی عدالتیں''(از معروف عالم دین ، مفسر قرآن،محقق شہیر ،مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾) گھر سے فرار ہوکر نوجوان لڑکیوں کے عدالتی نکاح اور مسئلہ ولایت نکاح کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس میں حافظ صاحب نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح نوعیت وحقیقت کوواضح کرتے ہوئے اس کاتحقیقی جائزہ پیش کیا ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی حافظ صاحب کو صحت وتندرستی والی زندگی عطا فرمائے اور اشاعتِ اسلام کے لیے ان کی دعوتی ،تحقیقی و تصنیفی کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے او ر اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-mumtaz-qadri-case-me-suprem-court-of-pakistan-k-faisle-ka-sharie-jaiza-copy
    محمد خلیل الرحمن قادری

    نبی  کریمﷺکی عزت، عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کاجزوِلاینفک ہے اور حب ِرسولﷺایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔عصر حاضر میں کفار ومشرکین کی جانب سے نبوت ورسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کئےجارہے ہیں، دراصل یہ ان کی شکست خوردگی اور تباہی و بربادی کے ایام ہیں۔گستاخ رسول کی سزا ئے موت ایک ایسا بین  امر ہے کہ جس کے ثبوت کے لئے قرآن و حدیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ﷺ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ:اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے۔اور گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کو شرعا کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔لیکن افسوس کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک پاکستان  کی عدالتیں توہین رسالت کے معاملے پر کوتاہی اور غیر شرعی فیصلے صادر کر رہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"ممتاز قادری کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا شرعی جائزہ"محترم علامہ محمد خلیل الرحمن قادری  صاحب  ناظم اعلی جامعہ اسلامیہ لاہورکی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ممتاز قادری کیس کے حوالے سے پاکستان کی سپریم کورٹ سے صادر ہونے والے فیصلے  کا شرعی جائزہ پیش کیا ہےاور ممتاز قادری کا بھرپور دفاع کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 444 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :