• #3905
    ابوبکر محمد بن الحسین بن عبد اللہ الآجری

    1 اخلاق العلماء

    اللہ تبارک وتعالیٰ نےاپنی مخلوق میں سےجس کو پسند فرمایا ان کو ایمان کی دولت سےنوازہ پھر ایمان والوں میں سے جن کو پسند فرمایاان پر احسان فرمایاتو ان کو کتاب وحکمت اور دین کی سمجھ عطافرمائی علم سے ان کا درجہ بلندکیااور بردباری سے ان کوآراستہ کیا۔انہیں سے حلال وحرام، حق وباطل،مفید اور غیرمفید، بھلائی اور برائی کی تمیز ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی کلام پاک میں علماء دین کا ذکر اپنے نورانی فرشتوں کے ساتھ کیاہے اور رسول اللہ ﷺ نے علماء دین کو انبیاء کرام کا وارث قرار دیا ہے۔ یہ علماء ہی ہیں جو غافل انسانیت کے لیے تنبیہ اور تشنگان حق کے لیے روشنی کے مینارہیں شیطان انہیں کی وجہ سے کبیدہ خاطر ہےاہل حق کے دل انہیں سے زندہ و جاوید ہیں اور گمراہوں کے دل انہیں سے مرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اخلاق العلماء"ابو بکر محمد بن الحسین بن عبداللہ الآجری کی تصنیف ہے جس کو محمد سلیمان الکیلانی نے بہت احسن انداز سے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اس میں علماء کی فضیلت،علماء کے آداب،علماء کی ہمنشینی وغیرہ کا ذکرکیاہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کو اجر عظیم عطافرمائے۔آمین(عمیر)

  • #3878
    عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی

    2 شہر خموشاں ( قبرستان )

    اللہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے انتہائی اہم کردار انسان کو وجود بخشا  حضرت انسان کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے ۔ انسان اپنی تخلیق کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنے آخری منزل تک پہنچتا ہے۔انسان جب فقط روح کی شکل میں تھا تو عدم میں تھا روح کے اس مقام کو عالم ارواح کہتے ہیں او رجب اس روح کو وجود بخشا گیا اس کو دنیا میں بھیج دیا گیا  اس کے اس ٹھکانےکو عالم دنیا اور اسی طرح اس کے مرنے کے بعد قیامت تک کے لیے جس مقام پر اس کی روح کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں اس کے بعد قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو ان کی دائمی زندگی سے ہمکنار کیا جائے گا۔مرنے کے بعد کے حالات جو مابعد الطبیعات میں آتے ہیں کو اسلام نے بڑے واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ کہ مرنے کے بعد اس کا قیامت تک کے لیے مسکن قبر ہے اور برزخی زندگی میں قبر میں اس کے ساتھ کیا احوال پیش آتے ہیں۔ انسان کے اعمال کی جزا و سزا کا پہلا مقام قبر ہی ہے کہ جس میں وہ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دے کر اگلے مراحل سے گزرتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’شہر خموشاں‘‘ مولانا  عبدالرحمن عاجزمالیر کوٹلوی﷫ کی تالیف ہے۔اس کتا ب کا زیادہ  حصہ ان کی دیگر کتب   کےمضامین کے انتخابات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں انہوں  نے  دور حاضر کے انسانوں کو قرآن کریم کی آیات کریمہ اور احادیثِ رسول اللہﷺ کے حوالے  سے یاددلایا ہے  کہ وہ جس طرح دنیا کی زندگی  میں کثرتِ مال ودولت ور آل واولاد کےلیے شب وروز سرگرم عمل ہیں ،اور وہ اس میں اس حد تک تجاوز  کر گئے ہیں کہ ان کی  زندگی کا مطمح نگاہ اورمقصودہی مال ودولت کی کثرت رہ گیا ہے۔ جس  کے باعث وہ قرآن کی آیت کریمہ  کے مطابق ’’تکاثر‘‘ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے ہیں  اور مزید ہورہے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ شہرخموشاں (قبرستان) کی جانب رواں دواں ہیں اسی طرح انہیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہ اس شہر میں رہائش پذیر ہونے کےلیے اپنے  سانھ کیا زاد سفر لے جارہے ہیں ۔ کیونکہ یہ دنیا کی زندگی  تو عارضی ہے اور حیات ابدی تو آخرت میں نصیب ہوگی۔الغرض اپنے موضوع کے اعتبار سےیہ منفرد کتاب  ہے ۔اللہ تعالیٰ  مصنف کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • #3568
    قاری محمد یعقوب شیخ

    3 حرمین شریفین کا تحفظ اور یمن کا امن

    دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرم اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین  شریفین کے  تحفظ اور دنیا بھر میں  دین اسلام کی نشر واشاعت    ، تبلیغ   کے لیے خدمات  لائق تحسین  ہیں ۔سعودی عرب کا دفاع اور حرمین شریفین کا  تحفظ  عالم اسلام کے مسلمانوں کابھی  دینی  فریضہ ہے ۔ کیونکہ سعودی عرب میں  حرمین شریفین امتِ مسلمہ کےروحانی مرکز ہیں ۔حالیہ ایام میں  سعودی اور یمن  کے مسئلہ ماشاء اللہ  عالم اسلام کے مسلمانوں نے  سعودی  کے  دفاع  اور  حرمین کے تحفظ کے لیے  مثالی کردار ادا کیا  ۔ زیر تبصرہ   ’’ حرمین شریفین کا تحفظ  اور یمن کا امن‘‘ پاکستان کی  دینی جماعتوں  کے قائدین  کے خطابات   اور اخبار  ورسائل  کے ممتاز کالم  نگاروں  کے منتخب مضامین  اور کالموں کا مجموعہ ہے  جسے   جماعۃ الدعوہ   پاکستان کےمرکزی رہنما  قاری محمد یعقوب شیخ ﷾ نے   کتابی  صورت میں مرتب کیا ہے  اور دار الاندلس  نے خوبصورت انداز میں  طبع کیا ہے ۔ سعودی عرب اور  یمن  کے  معاملہ میں پاکستانی مسلمانوں کی  کاوشوں  پر مشتمل  بہترین کتاب ہے ۔اللہ تعالی ٰ  مرتب  اور ناشرین کی  اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • #3146
    پروفیسر عبد الرحمن طاہر

    4 مصباح القرآ ن پارہ 25

    پاکستان میں قرآن مجید کے اردو ترجمہ اور تفہیم کے حوالے سے بہت سے لوگ اور مراکز اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو عوام الناس کو قرآن کے ترجمہ سے آگاہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ’مصباح القرآن‘ کی شکل میں انھوں نے قرآن مجید کے ترجمہ کو آسان اور سائنٹفک انداز میں سکھانے اور پڑھانے کی سبیل نکالی ہے۔ ترجمہ قرآن میں یقیناً ایک نئے اور مفید اسلوب سے آراستہ یہ کوشش قرآنی مطالب کو عام کرنے اور ایک طالب قرآن کو معانی و مفاہیم سے آشنا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس میں ترجمہ قرآن کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس میں روز مرہ زندگی میں اردو زبان میں استعمال ہونے والے 65 فیصد الفاظ کو سیاہ رنگ میں پیش کیا گیا ہے، تکرار کے ساتھ استعمال ہونے والے 20 فیصد الفاظ کو نیلا اور 15 فیصد دوسرے اہم الفاظ کو سرخ رنگ میں پیش کر کے ان کے فہم کے الگ الگ ادارے متعین کر دئیے ہیں تاکہ ایک استاد یا طالب قرآن ان کی مدد سے ان کا خصوصی فہم حاصل کر لے، یوں اسی صفحے کے مقابل صفحہ پر پھر انھی تین رنگوں میں تقسیم الفاظ قرآن کے معانی کو بھی ’مفتاح‘ کے اصولوں کے مطابق انھی رنگوں میں قواعد کی تقسیم اور جوڑ توڑ کے پیرائے میں یوں درج کیا گیا ہے کہ کسی آیت شریفہ کا کوئی لفظ یا ان لفظوں کے مزید کسی گرامر میں منقسم حصے کی تعیین، تشریح اور تفہیم بہت واضح اور دلچسپ ہوگئی ہے۔ ترجمہ میں رنگوں کا استعمال قرآنی الفاظ کے رنگوں کے مطابق کیا گیا ہے، بعض الفاظ کی ضروری وضاحت بھی حاشیہ میں کر دی گئی ہے۔ ’مصباح القرآن‘ کو پڑھنے سے قبل اگر پروفیسر صاحب کی کتاب ’مفتاح القرآن‘ میں بیان کردہ علامات کو سمجھ لیا جائے تو قرآن فہمی میں یقیناً بہت بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ’مفتاح القرآن‘ کتاب و سنت ڈاٹ کام پر آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔(ع۔م)

     

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل سپارے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #2609
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    5 مشکوۃ المصابیح جلد اول

    اللہ تعالی کی رسی یعنی  قرآن کریم  کے ساتھ انسان کا  تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب  تک  قرآن کریم کی  تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی  آپ کے طریقہ سے نہ ہو  اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے  جب تک اس علم پر عمل  نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں  سے   ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘  کے نام سے معروف    ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے  امام بغوی  نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ  خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔اس  کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم کیے گئے  اور  جید علماء کرام  نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا  ہے ۔ یہ  مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے  تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے  بھی  روشنی کامینارہ  ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ  ایسا ذخیرہ ہے  کہ جوہر  ایک  مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے  کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔زیرتبصرہ   مشکوٰۃ المصابیح کا نسخہ   سیدمحمد  عبداللہ   غزنوی کے   فرزند جلیل   سید محمد عبدالاول غزنوی کا ترجمہ وفوائد   پانچ مجلدات پر مشتمل ہےاور اس میں احادیث کی تخریج  کےساتھ ساتھ شیخ ناصرالدین البانی کی  طرف سے حکم الحدیث کے عنوان  سے صحت وضعف کا حکم  لگا کر حدیث کی اہمیت کو واضح کیاگیاہے ۔محترم  حافظ عبد لخبیر اویسی اور  پروفیسر ابو انس محمدسرور گوہر نے  اس میں  تسہیل ترجمہ وحواشی کا  کام  انتہائی خوش اسلوبی سے کیا  ہے ۔جس  کی وجہ سے  قاری کےلیے     سید عبد الاول غزنویکے ترجمہ وفوائد سے  استفادہ کرنا آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ  تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل تمام احباب کی مساعی جمیلہ کو شرف ِقبولیت سے  نواز ے ۔جلد اول  کے  شروع میں  ائمہ  محدثین  کے  حالات واحوال پر  مشتمل  طویل  مقدمہ اور  جلد پنجم کے  آخر میں’’ الاکمال فی اسماء الرجال ‘‘کا ترجمہ بھی شامل  اشاعت  ہے  جو کہ طالبانِ حدیث کے لیے  انتہائی مفید ہے ۔(آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2255
    حافظ محمد سلیمان ايم ایڈ

    6 توحید پر ایمان اور شرک سے بیزاری

    توحید پرایمان اور شرک سے  بیزاری ہی اصل دین  ہے ۔اس کے بغیر  اللہ تعالی کسی دین کو قبول نہی نہیں فرماتا ۔تمام انبیاء کرام ﷩ ایک  ہی پیغام  اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام  سالہاسال تک مسلسل  اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے  انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت  نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور  اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے  آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے  جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں توحید کی  اہمیت کے پیش نظر  ہر دور  میں اہل علم  نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں ہیں۔زیر نظر کتاب ’’توحید پر ایمان اور  شرک سے  بیزاری ‘‘ اسی مذکورہ مبارک سلسلہ کی کڑی ہے ۔ جسے  محترم حافظ  محمد سلیمان (ایم ۔ایڈ) نے  بہت سلیس ، اورعام  فہم انداز میں مرتب فرمایا ہے۔ مختلف  عنوانات  کے تحت آیات کریمہ اور احادیث نبویہ ﷺ کا انتخاب کر کے  ان کا اردو  ترجمہ اور  ہلکے پھلکے  انداز میں ان کی تشریح بھی کردی ہے ۔تاکہ  عامۃ المسلمین کے لیے  استفادہ آسان ہواور  انہیں توحید کی حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری محسوس نہ ہو۔ اللہ تعالی اس کتاب کو مرتب ناشر اورمعاونین کے لیے  باعث نجات اور صدقہ جاریہ بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • #2315
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    7 کتاب التوحید

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔اس کتاب کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اس کتاب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،اس کتاب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی یہ افادی حیثیت مسلم رہے گی۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2146
    ڈاکٹر عبد اللہ عباس الندوی

    8 قاموس الفاظ القرآن الکریم ( اپ ڈیٹ )

    قرآن مجیدایک کامل دستورِحیات اورانسانیت کوجینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے ،قرآن صرف انہی کے لیے منہج ودستور بن سکتا ہے جو اس کے معانی ومطالب کوسمجھ سکیں اس کے معانی سے واقفیت صرفی ونحوی اعتبار سے قرآن کے جاننے وپر موقوف ہے ۔لغت عرب کے قواعد کو جانے بغیر اگر کوئی قرآن سمجھنےکی کوشش کرے گا تو بجائے ہدایت کےگمراہی اور کجروی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ ایسی لغرشوں سے بچانے کے لیے علمائے عجم نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر اور اعراب سےمتعلق متعدد کتابیں لکھی ہیں ۔زیرِنطرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے ’’جامعه ام القریٰ‘‘مکہ مکرمہ کے معلم ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی نے انگریزی دان طبقہ کے لیے عربی سے انگلش میں تصنیف کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد الرزاق (فاضل جامعہ ریاض) نے افادہ عام کے لیے اس کااردو ترجمہ کیا ہے ۔مترجم نے ترجمہ سلیس او رعام فہم بنانےکی حتی المقدور کوشش کی ہے ۔اس کتاب میں قرآن مجید کےکلمات والفاظ کی صرفی تصریف اور نحوی ترکیب کے ساتھ لغوی معنی کو بیان کیا گیا ہے ۔انگریزی متن کے بعض مختلف فیہ مقامات پرتر جمہ میں توضیحی نوٹ بھی لکھا گیا ہے ۔ قرآن کریم کوسمجھنے کے لیے ہر سطح کے   طلباء کے لیے نہایت کار آمد قاموس ہے۔اللہ تعالیٰ اسے قرآن ِفہمی کا ذریعہ بنائے اور شرفِ قبولیت سے نوازے(آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • #2142
    قاری سلمان احمد میر محمدی

    9 القول السدید

    قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایک معجزہ ہے ۔اس کی تلاوت ِکا بھر پور اجروثواب اس امر پرموقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ جاننا او رسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے فن تجوید پر اب تک اردو میں بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا نہایت سہل اور آسان ہے۔ ۔ پیشِ نظر کتاب بھی انہی کتب میں ایک اضافہ ہے۔ جو کہ جامعہ لاہورالاسلامیہ ،لاہورمیں شیخ القراء قاری ابراہیم میر محمدی﷾ کے اولین شاگرد او ر بھائی محترم قاری سلمان احمد میر محمدی﷾ ( فاضل وسابق مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ) کی کاوش ہے۔ قاری صاحب نے اپنی کتاب میں تجوید کے تقریباً تمام اساسی قواعد کو نہایت سہل انداز میں بیان کردیا ہے ۔مبادیات تجوید، مخارج، صفات سے لے کر ادغام اور سکتہ تک کے تمام تر قواعد کتاب کا حصہ ہیں۔کتاب کے آخر میں تجوید سے متعلقہ بعض ضروری مسائل بھی بیان کر دئیے گئے ہیں یہ کتاب کلیۃ القرآن و ا لتربیۃ الاسلامیہ ،بنگہ بلوچاں میں شامل ِنصاب ہے جس سے ابتدائی کلاسوں اور ریفریشرکورسز کے طلباء مستفید ہوتے ہیں(م۔ا)

     

  • #726
    حافظ عماد الدین ابن کثیر

    10 قصص الانبیآء، قرآن واحادیث صحیحہ کی روشنی میں

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پیدا کیا تو ان کے لیے ہدایت کا راستہ مبرہن کرنے کے لیےبہت سی برگزیدہ ہستیوں کو بھی مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو خالق کی پہچان عطا کریں اور توحید خالص کا درس دیں۔ پیش نظر کتاب ’قصص القرآن‘ میں انہی بابرکت شخصیات کا ذکر خیر ہے۔ جنہوں نے راہ خدا میں آنے والی ہر تکلیف کا جواں مردی سے مقابلہ کیا اور خدا کا پیغام بندوں تک پہنچانے میں کسی پس و پیش سے کام نہ لیا۔  اس کتاب میں جہاں اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں فرشتے دیوانہ وار  آدم علیہ السلام کو سجدہ کرتے نظر آتے ہیں وہیں یوسف علیہ السلام تخت مصر پر براجمان دکھائی دیتے  ہیں۔ اس میں حضرت نوح علیہ السلام کی طویل داستان تبلیغ ہے تو ہودعلیہ السلام کی قوم پر آنے والے عذاب کا قصہ بھی درج ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نمرود کے سامنے سینہ سپر نظر آتے ہیں تو حضرت ایواب علیہ السلام طویل بیماری کے باوجود اپنے رب کا شکر ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ الغرض اس کتاب میں قرآن میں بیان کردہ تمام قصص کو یکجا کر دیا گیا ہے تاکہ اہل خرد عبرت و نصائح حاصل کر کے خالق حقیقی کے سامنے جبین نیاز کو جھکا دیں۔ یہ کتاب امام ابن کثیر کی مشہور زمانہ کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا عطاء اللہ ساجد نے کیا ہے ۔ اس ترجمہ کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں قصص کے ذیل میں پیش کی جانے والی احادیث تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کی گئی ہیں اور متعدد نقشوں کی مدد سے جائے پیدائش اور مقامات ہجرت و وفات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ہر باب  کے آخر میں بیان کیے جانے والے نتائج و فوائد اور عبرتوں نے کتاب کی قدر کو بڑھا دیا ہے۔


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39792613

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں