• #3800
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    1 کتاب التوحید ( سید شبیر احمد )

    اللہ  تبارک و تعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں  واحد اور بے  مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ  کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے  قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے  اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی  عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آتی ہے  ۔نیز  شرک اعمال  کو ضائع وبرباد کرنے  والا اور ثواب سے محروم  کرنے والا ہے ۔ پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ چنانچہ جس  کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں  اللہ کے علاوہ کسی  کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی  وہ مشرک ہے۔تردید شرک اور اثبات کےسلسلے میں  اہل علم نے تحریر اور تقریری صورت میں  بےشمار خدمات  انجام دیں۔ ماضی میں  شیخ الاسلام  محمد بن الوہاب﷫  کی  اشاعت  توحید  کےسلسلے میں خدمات  بڑی  اہمیت کی حامل ہیں ۔شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔علماء کا  اس بات پر اتفاق ہے کہ  اسلام میں توحید کے موضوع پرکتاب التوحید جیسی کوئی کتاب  نہیں لکھی  گئی۔یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔شیخ موصوف نے اس کتاب میں ان تمام امور کی  نشان دہی کردی ہے  جن سے عقائد میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور نتیجۃً انسان ایسے عملوں کا ارتکاب کرلیتا ہے  حو شرک کے دائرے میں آتے ہیں ۔اس کتاب میں مصنف علیہ ﷫ نےہر مسئلہ کے لیے علیحدہ علیحدہ باب باندھا ہے اور ہر بات کے ثبوت کےلیے  قرآن مجید کی آیات اور احادیثِ صحیحہ بطور دلیل پیش کی  ہیں۔ بعد ازاں ہر باب کے خاتمہ پر آیاتِ قرآنی اوراحادیث  سے استنباطِ احکام کیا ہے  اور یہ اندازِ تحقیق اتنا سادہ اور علمی ہے کہ کسی  شخص کے لیے اس سے اختلاف کی گنجائش اور انکار کی جرأت باقی نہیں رہتی ۔الاّ یہ کہ وہ سرے سے احکامِ دین کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کردے ۔انہی انفرادی خصوصیات کی وجہ سے ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کتاب  کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت  و افادیت کے پیشِ نظر متعد د اہل علم  نےاس کی شروحات بھی لکھی  ہیں اور  کئی علماء نے اس کتاب  کےمتعد د زبانوں  میں ترجمہ  بھی کیا  ہے۔اردو  زبان میں بھی اس کےمتعدد علماء نےترجمے کیے  جسے   سعودی  حکومت  اور اشاعتی اداروں نے لاکھوں کی تعداد میں  شائع کر کے  فری تقسیم کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید‘‘  کا ترجمہ  محترم  جناب  سید شبیر احمد  صاحب نے کیا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کتاب میں ایک  تفصیلی مقدمہ کا اضافہ کیا ہے ۔جس میں  توحید کےبارے میں کچھ بنیادی اور اصولی گفتگو پیش کی  ہے  تاکہ ایک مسلمان یہ بات سمجھ سکے کہ دراصل توحید سے مراد کیا ہے ؟ اس کے تقاضے کیا ہیں ؟ اور ایک مسلمان اور موحد ہونے کی حیثیت سے اس پر کیا فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اس کے نتائج کیا ہیں؟اللہ تعالیٰ مترجم کی اس کوشش ومحنت  کوقبول فرمائیں اور قارئین کے لیے اس کومفید اور نفع بخش ثابت کرے ۔(آمین) (م۔ا)

  • #3022
    یحیٰ علی

    2 نجومیوں کی سیاہ کاریاں

    جادو کرنا یعنی سفلی اور کالے علم کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں او رصلاحیتوں کو مفلوج کرنا او ران کو آلام ومصائب سے دوچار کرنے کی مذموم سعی کرنا ایک کافرانہ عمل ہے یعنی اس کا کرنے والا دائرہ اسلام سے نکل جاتا اورکافر ہوجاتا ہے یہ مکروہ عمل کرنے والے تھوڑے سے نفع کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے اور ان کے امن وسکون کوبرباد کرتے ہیں جولوگ ان مذموم کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں وہ عام طور پر اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں۔ او رلوگ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائےاپنے مصائب ومشکلات کے وقت دکھوں تکلیفوں کے مداوا اور غموں وپریشانیوں سے نجات کے ساتھ ساتھ سعادت ونیک بختی ،کامیابی کوکامرانی ،دولت کےحصول اورجاہ وحشمت کی طلب کےلیے مارے مارے عاملوں او رنجومیوں کے آستانوں پر ماتھے رگڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان نجمیوں نے ہر ہر خاندان میں پھوٹ ، عداوت ، دشمنی بغض اور حسد وکینہ کے بیج بودیے ہیں۔ ماں کوبیٹے، بہن کو بھائی اورباپ کو اولاد کا دشمن بنا چھوڑا ہے۔ انسانیت ان کی مذموم شیطانی کارستانیوں ،سیاہ کاریوں اور بدکاریوں سے جان بلب ہے اور کسی ایسی راہنمائی کی متلاشی ہے جوان کےدکھوں کا مدوا ثابت ہوسکے ، ان کے دین وایمان اور مادی دولت کےساتھ ساتھ ان کی عزت وناموس کی حفاظت کا بھی باعث بن سکے۔ زیر تبصر ہ کتاب ’’نجومیوں کی سیاہ کاریاں‘‘ جناب یحییٰ علی﷾ کی کاوش ہےجس میں انہوں نے امت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر مرض کی درست تشخیص کی ہے او رنجومیوں کے ہاتھوں بر باد انسانیت اور زخمی روحوں کےزخموں پرشافی مرحم رکھا ہے۔ اوران کوان سفاک بہروپیوں کےجال سےنکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔قارئین عاملوں ، نجومیوں کی سیاہ کاریوں کوجاننےاور ان سے اپنے آپ اور دوسروں کے عقیدہ وایمان اور دولت وعزت کو بچانے کے لیے اس کتا ب سے ستفادہ کریں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے فرمائے کہ انہوں نے اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی مطبوعات مجلس التحقیق الاسلامی کی لائبریری اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں۔ آمین(م۔ا)

  • #2513
    ہارون یحییٰ

    3 کائنات کی تخلیق

    یہ لا محدود کائنات ،جس میں ہم رہتے ہیں،کس طرح وجود میں آئی ؟یہ تمام توازن،ہم آہنگی اور نظم وضبط کس طرح سے پیدا ہوئے؟یہ کیونکر ممکن ہوا کہ یہ زمین ہمارے رہنے کے لئے موزوں ترین اور محفوظ قیام گاہ بن گئی؟ایسے سوالات نوع انسانی کے ظہور ہی سے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ان کے جوابات کی تلاش میں  سرگرداں سائنس دان اور فلسفی ،اپنی عقل ودانش اور عقل سلیم کی بدولت اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ  کائنات کی صورت گری اور اس میں موجود نظم وضبط کسی اعلی ترین خالق مطلق کی موجودگی کی شہادت دے رہے ہیں۔جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔یہ ایک غیر متنازعہ سچائی ہے ،جس تک ہم اپنی ذہانت استعمال کرتے ہوئے پہنچ سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کا اعلان اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں واشگاف الفاظ میں کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " کائنات کی تخلیق"ہارون یحیی کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ محترم علیم احمد نے کیا ہے ۔مصنف 1956ء میں انقرہ ترکی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے آرٹس کی تعلیم میمار سینان یونیورسٹی سے اور فلسفے کی تعلیم استنبول یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کی سیاست ،سائنس اور اسلامی عقائد پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کا شمار ان معروف مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ارتقاء پرستی اور ارتقاء پرستوں کے دعووں کو طشت ازبام کیا اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔آپ کی یہ کتب دنیا کی متعدد زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔آپ کی کتب مسلمانوں ،غیر مسلموں سب کو مخاطب کرتی ہیں خواہ ان کا تعلق کسی عمر،نسل اور قوم سے ہو،کیونکہ ان کتب کا مقصد صرف ایک ہے:خدا کے ابدی وجود کی نشانیوں کو قارئین کے سامنے لا کر ان کے شعور کو اجاگر کرنا۔آپ نے ترکی میں "سائنس ریسرچ فاونڈیشن "قائم کی ہے جو اب ایک مضبوط ادارہ بن چکی ہے۔یہ ادارہ نہ صرف ڈارون پرستی کی تردید میں بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتا ہے ،بلکہ جدید دور میں اسلام کی درست تصویر پیش کرنے کی بھی سعی کر رہا ہے۔ اس کتاب میں مولف نے عدم سےکائنات کی تخلیق،مادہ پرستی کی سائنسی شکست،دھماکے میں توازن،ایٹموں میں ہم آہنگی آسمانوں میں نظم وضبط،زمین ایک نیلگوں سیارہ اور پانی میں صورت گری جیسے موضوعات بیان کرتے ہوئے غور وفکر کرنے اور ایک اللہ کو ماننے کی دعوت دی ہے۔(راسخ)

     

  • #2450
    ام عبد منیب

    4 ایمان کی ادنیٰ شاخ

    اسلامی تہذیب شائستگی اور وقار کی حامل ہے ۔ایک مسلمان شعوری طور پر مسلمان بھی ہو اور پھر وہ کسی کے  خلاف تہذیب حرکت کا ارتکاب کر ے یہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہونا چاہیے۔دور حاضر میں  مسلمانوں کی اکثریت مغربی ممالک کی اس حوالے  سے بہت تعریف کرتی  ہے  کہ ان کےہاں گلیاں ،سرکیں اور دکانیں وغیرہ  بہت صاف ہوتی ہیں اور وہ لوگ ایک دوسرے  پر کوئی اعتراض اورایک دوسرے کوروک ٹوک نہیں کرتے  لیکن وہ ایمان جیسی عظیم  نعمت  سے  محروم ہیں ۔ فرمان نبوی کے  مطابق  کے 60یا70 سے  زیادہ شاخیں ہیں ۔ جن میں افضل شاخ توحید  کا اقراراور  اس کی ادنی ٰ شاخ رستے سےتکلیف دینے والی چیز کا ہٹا دینا ہے ۔زیرنظرکتابچہ’’ایمان کی ادنی ٰ شاخ راستے سےتکلیف داہ چیز کا ہٹا دینا‘‘ میں  محترمہ ام عبد منیبہ  صاحبہ نے  ایمان  کی ادنیٰ  شاخ کو موضوع بحث  بناتے ہوئے   بڑے عام انداز میں  اس  فرمان نبوی ’’الایمان بضع وسبعون  او بضع ستون.....‘‘  کی  وضاحت کی  ہے اللہ تعالی ٰ ان  کی اس کاوش کوعوام الناس کے لیے  فائد مند بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2445
    محمد سرور بن نایف زین العابدین

    5 دعوت الی اللہ اور انبیاء کرام کا طریق کار

    ہر مسلمان کے لیے   ضروری ہے کہ  کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام  اسی  طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس  طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام  کرتے رہے  ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل  پیرا ہونے  بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے  عمل کی  ضرورت ہوتی اور عمل  سے پہلے علم کی ۔تبلیغ کی اہمیت کے لیے  یہی بات کافی ہے  کہ اللہ  تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے بے شمار انبیاء ورسل کو مبعوث فرمایا اورچونکہ یہ سلسلہ حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اس لیے اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ  پر ہے۔تبلیغ کے موثر او رنتیجہ خیز  ہونے کے لیے  ضروری  ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ  اور انبیا ﷩ کا اسوہ اور دیگر شرعی  اصول  مبلغ کے لیے  پیش نظر رہیں ۔ کیونکہ انبیاء  کرام ﷩ کی   زندگیاں ہی اپنے  اپنے دور اورعلاقے کے لوگوں کے لیے مشعل راہ تھیں جبکہ عالمگیر اور دائمی نمونۂ عمل  صرف سید الاولین وسید الآخرین  ،رحمۃ للعالمین  کی حیات طیبہ  ہے ۔ لہذا معیشت ہویا معاشرت ،حکومت ہو یا سیاست ،زندگی سےمتعلق ہر ہر شعبہ میں ہمیں    انبیاء کرام  ﷩ کے نقشِ قدم  پر چلنا ہے  ۔زیر نظر کتاب ’’دعوت الی اللہ اور انبیاء کاطریق ِکار ‘‘ شیخ  محمد سرور بن نایف زین العابدین  کی   منہج دعوت انبیاء کے  حوالے سے  موصوف  کی ایک  عربی  تصنیف’’ منہج الانبیاء فی الدعوۃ الی اللہ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ جس میں انہوں نے اس بات کو واضح کیاکہ  عصرِ حاضر میں دعوت دین کا کام کرنے والے افراد ،جماعتوں اور تحریکوں کےلیے بھی یہ بات  ازبس ضروری  ہے  کہ دعوت  کےمیدان میں  حضرات انبیاء ﷩ کی  مقدس سیرتوں کے مینارہ نور سے کسبِ فیض کریں تاکہ دعوت  کے میدان میں ہماری یہ کوششیں مفید،مؤثر اور موجبِ خیر وبرکت ثابت ہو سکیں۔(آمین)  (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2444
    عبد الرحمن عبد الخالق

    6 دعوت سلفیہ کے علمی اصول

    احوال وظروف کے لحاظ سے دین کی دعوت وتبلیغ اوراصلاح معاشر ےکی کوشش ہر مسلمان   پر حسب استطاعت  لازم اور ضروری  ہےتاکہ دین کی دعوت عام اور  لوگ بے دینی کی بجائے  دینداری کی طرف مائل ہوں۔ تبلیغ کی اہمیت کے لیے  یہی بات کافی ہے  کہ اللہ  تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے بے شمار انبیاء ورسل کو مبعوث فرمایا اورچونکہ یہ سلسلہ حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اس لیے اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ  پر ہےتبلیغ کے موثر او رنتیجہ خیز  ہونے کے لیے  ضروری  ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ اور دیگر شرعی  اصول  مبلغ کے لیے  پیش نظر رہیں ۔زیر نظر کتاب ’’دعوت سلفیہ کےعلمی اصول ‘‘  کویت کے جید سلفی عالم دین  شیخ عبد الرحمن عبد الخالق﷾ کی عربی تصنیف ’’الاصول العلمیۃ للدعوۃ السلفیہ‘‘کاترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں دعوت سلفیہ کے علمی اصولوں (توحید  ،اتباع رسول ، تزکیہ نفس، سلفی دعوت کے اغراض ومقاصد) پر  بڑی شرح وبسط  کے ساتھ  روشنی ڈالی  ہے۔اپنی  افادیت کے  بیش نظر  حق وصداقت کے طلب گار کے لیے یہ کتاب ایک مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہے ۔اللہ تعالی ٰ مؤلف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو  قبول فرمائے اور   دعاۃ ، واعظین کے لیے اسے مفید بنائے (آمین )(م۔ا) 

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2323
    محمد بن اسماعیل بخاری

    7 صحیح بخاری جلد دوم

    امام بخاری  کی شخصیت اور  ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام  بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ  عطا کیا بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے  مختلف انداز میں  مختلف  زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی  کو  امتیازی مقام  حاصل  ہے  ۔اردو زبان میں سب سے پہلے  علامہ وحید الزمان نے  صحیح بخاری کا  ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث  اور  اہل علم نے  صحیح بخاری  کا ترجمہ  حواشی اور شروح  کا کام  سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی  جانے  والی فیض الباری  ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری  اور  حافظ عبدالستار حماد کی شرح بخاری  قابل ذکر ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ صحیح بخاری ‘‘ مو لانا  داؤد راز کے  ترجمے ساتھ سات مجلدات پر مشتمل یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں  منفرد نوعیت  کی  حامل ہے ۔محترم سید شاہنواز حسن، محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے صحیح بخاری  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  صحیح بخاری کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متنِ حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔قارئین کی آسانی کی  کے پیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  صحیح بخاری کی احادیث کو سات حصوں میں  تقسیم  کر کے  فہارس  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔اللہ تعالی ٰ کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)
    سات حصوں میں موجود احادیث کی  تقسیم حسب  ذیل ہے ۔
    حصہ 1 :  کتاب الوحی سے کتاب الجمعہ  احادیث:1سے941
    حصہ2 :  کتاب صلاۃ الخوف سے کتاب فضائل مدینہ  احادیث 942 سے 1890
    حصہ3 :  کتاب الصوم سے کتاب الوصایا  احادیث 8191سے 2781
    حصہ4 :  کتاب الجھاد والسیر سے کتاب فضائل الصحابہ  احادیث 2782سے 3775
    حصہ5 :  کتاب مناقب الانصار سے کتاب التفسیر  احادیث3776سے 4835
    حصہ6 :  کتاب التفسیر (بقیہ) سے کتاب اللباس    احادیث4836سے 5969
    حصہ7 :  کتاب الادب سے کتاب التوحید  احادیث5960سے 7563
    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1391
    سید نذیر حسین محدث دہلوی

    8 فتاوی نذیریہ - جلد2

    برصغیر میں علمائے اہل حدیث کی تجدیدی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے عقائد، عبادات، معیشت، معاشرت، سیاست اور اخلاق غرض ہر موضوع پر قرآن و حدیث کی تعلیمات امت تک پہنچانے میں بہت سی سعی کیں اور روز مرہ کے مسائل کا حل نہایت معتدل انداز میں پیش کیا۔ زیر نظر ’فتاویٰ نذیریہ‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں شیخ العرب والعجم مولانا سید نذیر حسین دہلوی اور ان کے تلامذہ کرام کے لکھے گئے فتاویٰ جات کو پیش کیا گیا ہے۔ ان فتاویٰ جات کو جمع کرنے میں مولانا شمس الحق عظیم آبادی اور مولانا عبدالرحمان مبارکپوری رحمہا اللہ کی بھر پور محنت اور لگن شامل ہے۔ جو فتاویٰ جات عربی یا فارسی میں تھے ان کا ترجمہ حاشیہ میں رقم کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب کو پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1021
    ام عبد الرحمٰن ہرش فیلڈر

    9 شادی سے شادیوں تک

    اسلام تعدد ازواج کا پرزور حامی ہے  اور مسلم مرد کو بیک وقت چار شادیوں کی رخصت ہے ۔یہ خدائی فیصلہ مردوزن کے لیے نہایت موضوع اور عصمت وعفت کے تحفظ کا بہترین نسخہ ہے۔سو تعدد ازواج فحاشی وبدکاری سے بچاؤ اور نسل انسانی میں ارتقاء کا بہترین ذریعہ ہے۔لیکن دشمنان اسلام بالخصوص مغرب اور اس کے حواری مسلمانوں کو پاکدامن اور جنسی آلائشوں سے پاک دیکھنا کبھی بھی پسند نہیں کرتے۔بلکہ ان کی شروع سے خواہش ہے کہ اہل اسلام بھی اقوام مغرب کی طرح جنسیت زدہ ہو جائیں اور فحاشی وبدکرداری کے گند میں لتھڑ کر بےضمیر وبے غیرت ہو جائیں۔اپنی اسی سوچ کی آبیاری کے لیے کبھی وہ حقوق نسواں کے نام سے اور کبھی تعدد ازواج کے قانون میں نقائص نکال کر سادہ لوح مسلمانوں اور مغربیت زدہ افراد کو اپنے دام تذویر میں لانا چاہتے ہیں۔لیکن اسلام کے قوانین اٹل ہیں اور عقلی اور نقلی دلائل سے شرعی دلائل کا توڑ اور ان کی بے وقعتی ناممکن ہے ۔اور علمائے کرام نے ہر دو رمیں ان شورشوں کی قوی دلائل سے بیخ کنی کی اور حق کو حق ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔تعدد ازواج کے برحق ہونے اور اس پر وارد اعتراضات کا اس کتاب میں خوب جائزہ لیا گیا ہے۔اور تعدد ازواج سے دوچار مسلم بہنوں کی اصلاح کے لیے خاطر خواہ مواد جمع کیا گیا ہے ۔جو ان کی حوصلہ افزائی کے لیے کافی مواد ثابت ہو گا۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں



  • #793
    سید ابو الحسن علی ندوی

    10 نظام تعلیم مغربی رجحانات اور اس میں تبدیلی کی ضرورت

    تعلیم کا مسئلہ  ہر ملک کےلیے  ایک بنیادی حیثیت رکھتاہے ۔کسی بھی  ملک یا قوم کی ترقی کے لیے  یہ ایسی شاہ کلید ہے  ،جس  سے سارے  دروازے  کھلتے  چلے جاتے  ہیں ۔مسلمانوں نے  جب تک اس حقیقت  کو فراموش نہیں کیا وہ دنیا کے منظرنامہ پر چھائے رہے  اور انہوں نے دنیا کو علم کی روشنی سے بھر دیا ، لیکن جب  مسلمانوں کی  غفلت کے نتیجے  میں  پوری دنیا اخلاقی بحران کاشکار ہوگئ تو عالم اسلام خاص طور پر اس سے متاثر ہوا۔اس کی سب سےبڑی وجہ یہ ہے کہ  اس نے  اپنی بنیاد ہی فراموش کردی اور یورپ کے نظام تعلیم کو اختیار کرلیاجس نے  پورے عالم اسلام کو متاثر کیا۔  خود اسلامی ملکوں میں پڑھنے والوں کا حال یہ ہے وہ  جب اپنی اپنی یونیورسٹیوں سے پڑھ کرنکلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے  وہ یورپ کے پروردہ ہیں  جس کے نتیجہ میں اسلامی ملکوں میں ایک کشمکش کی فضا پید ا ہوگئی ہے۔مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ﷫  نے  اپنی تقریروں او رتحریر وں  میں اسلامی ملکوں میں ذہنی کشمکش کا بنیادی سبب  مسلمانوں میں  رائج یورپی نظام تعلیم کو قرار دیا  اوراز سرنو پورا نظام تعلیم وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  اس کوعالم اسلام کا سب سے  بڑا چیلنچ قرار دیا۔ زیر نظر کتاب بھی  مولانااابو الحسن  علی ندوی  کی اس موضوع پر اہم تقاریر ومضامین کا مجموعہ ہے  جس میں  مولانانے  اسلامی ملکوں میں نظام تعلیم کی اہمیت اور وہاں کی قیادت، نظام تعلیم وتربیت کا معاشرہ اور  اس کے رجحانات ،نظام تعلیم وتربیت کی بنیادیں،نصاب تعلیم  ۔جیسے اہم موضوعات  پر تفصیلی بحث کی ہےاللہ تعالی مولانا کے درجات بلند  فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825306

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں