نا معلوم

24 کل کتب
دکھائیں

  • 1 منکرین حدیث اور مسئلہ تقدیر (بدھ 12 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:21697

    اس کتاب میں مسئلہ تقدیر پر منکرین حدیث کے بے بنیاد شبہات و اعتراضات پر جامع و مدلل رد و تنقید ہے۔ اہم مباحث میں دین اور مذہب میں فرق , خلق و امر کی بحث , لفظ گمراہی کا لغوی و اصطلاحی معنی , قانو ں , تدبر قرآن , تقدیر میں پرویزی کا معنی , تشریح اور طریقہ کا ر , ہدایت و ضلالت کی بحث , تقدیر پر ایمان کا باہمی تعلق , عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول , انسان میں نیکی اور بدی کی تمیز , ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر , تقدیر اور تدبیر کا باہمی تعلق , منکرِ تقدیر کا اقرار تقدیر جیسے تمام مسائل شامل ہیں۔

  • 2 متنازعہ مسائل کے قرآنی فیصلے (بدھ 09 جون 2010ء)

    مشاہدات:21064

    ہمارے ہاں بہت سے دینی مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے ہرفرقہ والا اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے مخالف کو گمراہ قرار دیتا ہے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ عوام قرآنی تعلیمات سے ناآشنا ہے حالانکہ عقیدہ سے متعلق بعض مسائل ایسے ہیں کہ قرآن میں ان کا دوٹوک حل موجود ہے زیر نظر کتاب میں بعض اختلافی مسائل کے بارے میں قرآنی آیات پیش کی گئی ہیں جن سے اختلاف کاواضح فیصلہ ہوجاتا ہے اس سلسلہ میں عقیدہ کے چار اہم مسائل یعنی مسئلہ علم غیب ،مسئلہ حاضر وناظر،غیراللہ  کی پرستش اور سفارش  او رمسئلہ مختار کل پرروشنی ڈالی گئی ہے ۔

     

  • 3 ایک مجلس کی تین طلاق علمائے احناف کی نظر میں (ہفتہ 02 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:77249

    زیر نظر رسالہ میں طلاق ثلاثہ سے متعلق چند مفتیان احناف کی آرا پیش کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا محمد عبدالحلیم قاسمی کے  تین خطوط شامل کیے گئے ہیں جو کہ نہایت سبق آموز ہیں۔ پہلا خط ہفت روزہ ’اہل حدیث‘ سے لیا گیا ہے۔ دوسرا ملتان کے حالات او ر اسی خط کا ذکر کر کے مولانا محترم کو لکھا گیا پہلا جواب پہنچتے کچھ تاخیر ہو گئی تو اگلا خط لکھ کر ارسال کر دیا گیا۔ مولانا نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا تامل دونوں خطوط کا جواب ارسال فرما دیا۔ (ع۔م)
     

  • 4 قرآن کریم کے آخری تین پاروں کی تفسیر (ہفتہ 15 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:17308

    اسلام کے ابتدائی دور ہی سے علمائے حق نے قرآنی علوم کی ترویج وتبلیغ کاسلسلہ شروع کیا اور عامۃ الناس کی آسانی کے لیے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو احسن اور عام فہم انداز سے پیش کیا ،تاکہ قرآن حکیم کی تعلیمات عام ہوں اورلوگوں میں قرآن فہمی    کا ذوق اجاگر ہو ۔علماءکرام نے یہ فریضہ بخوبی ادا کیا اور قرآن مقدس کی تفسیر ،تشریح ،لغوی بحث ،شان نزول کے بیان سمیت مختلف تحقیقی وتکنیکی پہلؤوں پرکام کیا،جوقرآن کے ساتھ ان کی شدید محبت ومودت کی واضح علامت ہے۔ قرآن کریم کے آخری تین پاروں کی جہاں اور اعتبارات سے بہت زیادہ اہمیت ہے وہیں تفصیلی احوال جنت و جہنم اور دیگر احکامات الٰہیہ نے ان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی کے پیش نظر زیر مطالعہ کتاب میں قرآن کریم کے آخری تین پاروں کا ترجمہ و تفسیر اور دیگر احکام و مسائل کو بالبداہت بیان کر دیا گیا ہے۔ شروع میں قرآن کریم کی فضیلت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس کے بعد آخری تین پاروں کا متن کے ساتھ مکمل اردو ترجمہ قم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آخر میں ان پاروں سے مستنبط شدہ احکام کو نہایت عمدہ اور سہل انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 5 عبد القادر جیلانی اور گیارہویں شریف (جمعہ 05 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:4733

    شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں آپ کی دینی خدمات ہی آپ کا تعارف ہیں۔ آپ کی علمیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ امام ابن قدامۃؒ جیسی عظیم شخصیت کا شمار آپ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں کچھ لوگ ان کو غوث اعظم قرار دیتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔ حالانکہ مافوق الاسباب مدد فقط اللہ تعالیٰ سے مانگی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ان کے نام پر گیارہویں شریف کا بھی اہتمام کرتے ہیں ہمارے ہاں ہر ماہ چھوٹی گیارہویں شریف اور سال کے بعد بڑی گیارہویں شریف کا پورے زور و شور کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں شیخ عبدالقادر جیلانی کے تعلق سے گیارہویں شریف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس مختصر سے کتابچہ میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی بعض تعلیمات و ہدایات لکھنے کے بعد گیارہویں میں بارہ سے زائد شرعی مخالفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 6 سوئے حرم (منگل 22 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:4505

    اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے ان میں سے ایک حج و عمرہ ہیں۔یہ اللہ کی طرف عائد کردہ وہ فریضہ ہے جسے ہر مسلمان پر  سال میں ایک بار یا زندگی میں   ایک بار بشرط استطاعت  ادا  کرنا لازم ہے۔اس  کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔حج کی قبولیت سے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ لیکن جس طرح باقی فرائض اسلام ادا کرنے کے لیے  کچھ آداب و احکام ہیں ایسے ہی حج کے بھی ہیں۔انہی میں سے حج کے مختلف مقامات  و شعائر پر ادعیہ  ماثورہ پڑھنا بھی ہے۔ذیل کے کتابچے میں الفتح ٹریول والوں نے  حج میں پڑھی جانے والی یہی  دعائیں نقل فرمائی ہیں۔مثلا طواف کے سات چکروں ، صفاء و مروہ اور منیٰ و عرفات  وغیرہ پر۔(ع۔ح)

  • 7 تلاش حق ایک تحریری مناظرہ (منگل 20 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2907

    اہل حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں ،نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت او رایک تحریک کا نام ہے زندگی کےہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے بے شمار لوگ اور کئی نامور علماء اوراہل علم نے مسلک حقّ اہل حدیث کی حقانیت کو دیکھ کر اپنا مسلک ترک کے مسلک اہل حدیث اختیار کیا۔ اس حوالے سے کتاب ''ہم اہل حدیث کیوں ہوئے '' از محمد طیب محمدی ﷾ لائق طالعہ ہے یہ کتاب ویب سائٹ پر موجود ہے۔ زیر نظر کتاب''تلاش حق '' بھی ایک حنفی عالم دین کا حنفیت کو چھوڑ کر مسلک اہل حدیث ا ختیار کرنے کی داستان پر مشتمل ہے یہ کتاب وہ خط وکتابت ہے جو مدتوں سابق حنفی عالم دین مولوی نواب محی الدین اور سید مسعود بی۔ ایس۔ سی کے مابین تقلید شخصی اور دیگر بہت سے اختلافی مسائل پر ہوتی رہی سید مسعود بی ایس سی نے مولوی محی الدین کے اشتعال انگیز سوالات کے جوابات اس احسن انداز اور پختہ دلائل وبراہین کی روشنی میں دئیے کہ بالآخر مولوی محی الدین صاحب نے طویل خط وکتابت کے بعد حنفیت کوچھوڑ کر اہل حدیث ہونے کااعلان کردیا ۔کتاب کے شروع میں مولانا محی الدین کا وہ خط بھی شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے حنفیت کو چھوڑ نے کے اسباب اور اپنے اہل حدیث ہونےکی داستان تحریر کی ہے اور آخر میں محترم مسعود بی۔ ایس ۔سی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ جن کے ساتھ باہمی مراسلت ان کے اہل حدیث ہونے میں معاون بنی ۔ اللہ...

  • 8 اسلام میں داڑھی کا مقام (منگل 27 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2254

    اللہ تعالی نے مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ایک ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔زیر نظر کتاب(اسلام میں داڑھی کا مقام) WWW.AHLULHADEETH.NET ویب سائٹ سے ڈاون لوڈ کی گئی ہے اور اس پر کسی مولف کا نام مکتوب نہیں ہے۔ لیکن یہ اپنے موضوع پر ایک شاندار تصنیف ہے۔اس میں داڑھی رکھنے کے وجوب کے دلائل کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ فائدے کی غرض سے اسے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ (راسخ)

     

     

  • 9 مختصر سیرت البانی (جمعرات 19 جون 2014ء)

    مشاہدات:1869

    علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫ عصر حاضر میں مسلمانوں کے نامور علماء کرام میں سے ہیں۔آپ علم حدیث کے ان نمایاں علماء کرام میں سے شمار کئے جاتے ہیں،جو فن جرح وتعدیل میں یگانہ روز گار شمار کئے جاتے ہیں۔آپ مصطلح الحدیث میں حجت مانے جاتے ہیں۔ان کے بارے میں اہل علم فرماتے ہیں کہ انہوں نے حافظ ابن حجر﷫ اور حافظ ابن کثیر﷫ وغیرہ جیسے علماء جرح وتعدیل کے دور پھر سے زندہ کردیا ہے۔زیر تبصرہ مضمون " مختصر سیرت محدث امام مجدد محمد ناصر الدین البانی﷫"محترم طارق علی بروہی کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے اس عظیم الشان محدث اور عالم دین کی زندگی اور سیرت کو قلمبند کیا ہے،تا کہ حدیث کے طالب علم ان کی مانند اپنی زندگی کو خدمت حدیث میں کھپا دیں اور حدیث مبارکہ میں محدثین کے اصولوں کو پیش نظر رکھیں۔اللہ تعالی مولف کو جزائے خیر سے نوازے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 قنوت نازلہ کی دعائیں (بدھ 04 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:5566

    نازلہ مصیبت کو کہتے ہیں اور قنوت دعا کو، اس لیے قنوت نازلہ کا معنی ہے۔ مصائب میں گھر جانے اور حوادث روزگار میں پھنس جانے کے وقت نماز میں اللہ تعالیٰ سے ان کے ازالہ و دفعیہ کی التجا کرنا اور بہ عجزو انکساری ان سے نجات پانے کے لیے دعائیں مانگنا۔پھر مصیبتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً دنیا کے کسی حصہ میں اہل اسلام کے ساتھ کفار کی جنگ چھڑنا ان کے ظلم و ستم کا تختہ مشق بن جانا، قحط اور خشک سالی میں مبتلا ہونا، وباؤوں اور زلزلوں اور طوفان کی زد میں آ جانا وغیرہ۔ ان سب حالتوں میں قنوت نازلہ پڑھنی مسنون ہے اور نبیﷺ، صحابہ کرام اور سلف امت کا یہی معمول تھا ۔ اس کا مقصد فقط یہی ہے کہ مسلمان اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ خدا سے معافی مانگیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اہل اسلام پر رحم و کرم فرمائے اور ان کو ان مصائب اور تکالیف سے نجات دے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد امام سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.. الخ سے فارغ ہو کر بلند آواز سے دعاء قنوت پڑھے اس کے ہر جملہ پر سکوت کرے اور مقتدی پیچھے پیچھے بآواز بلند آمین کہتے رہیں۔ آں حضرت ﷺاور آپ کے صحابہ کرامؓ سے یہی طریقہ ثابت ہے – قنوت نازلہ سےمقصود مظلوم ومقہور مسلمانوں کی نصرت وکامیابی اور سفاک وجابر دشمن کی ہلاکت وبربادی ہے اس مقصد کو جو بھی دعا پورا کرے وہ مانگی جاسکتی ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں قنوت نازلہ کےحوالے سے کچھ دعائیں جمع کردی گئی ہیں تاکہ قارئین کے لیے انہیں یاد کرنے میں آسانی رہے اور ائمہ مساجد کافروں سے برسر...


1 کل کتب
دکھائیں

  • 1 سنت نبوی پر عمل واجب اور اس کا انکار کفر ہے (جمعہ 30 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2582

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسل...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1988
  • اس ہفتے کے قارئین: 8519
  • اس ماہ کے قارئین: 27812
  • کل قارئین : 47749593

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں