نا معلوم

24 کل کتب
دکھائیں

  • 11 مخارج حروف کا نقشہ (بدھ 28 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:5284

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قاعدہ مرتب کیا گیا ہے جس میں حروف کے مخارج کو ایک لسٹ میں جمع کرتے ہوئے اس کا ایک نقشہ بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اس قاعدے پر مولف کا نام موجود نہیں ہے۔ اس میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،متشابہ الصوت حروف،حروف قلقلہ، حروف مدہ اور حرکات وغیرہ کی ادائیگی کی انتہائی آسان اور سہل انداز میں پہچان کروائی گئی ہے۔ یہ قاعدہ بچوں اور بڑوں سب کے انتہائی مفید اور شاندار ثابت ہوا ہے۔ اللہ تعالی مولف کی ان خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 12 قرآن مجید کی تفسیریں چودہ سو برس میں (جمعرات 29 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2222

    تفسیر کا معنی بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے   اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھادیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن مجید کی تفسیریں چودہ سو برس میں ‘‘خدابخش...

  • آج کل  فرقہ بندی اس قدر عام ہے کہ ہرمسلمان پریشان ہے ۔کچھ لوگ اس صورت  حال سے تنگ آکر اسلام سےدور   ہو  رہے ہیں ۔ اور کچھ لوگ تمام فرقوں کو درست سمجھتے ہیں ۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے جہاں  اپنی امت کے  فرقوں کا ذکر کیا ہے وہاں صرف ایک فرقے کو جنتی کہا ہے ۔اور مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا  لیکن  اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ  اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا  اقرار کرنا ضروری  ہوگیا ہے ۔ضرورت اس امر کی   مسلمانوں کو  اس تقلیدی  گروہ بندی سے نجات  دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے ۔نبی کریم ﷺنے اپنی زبان ِرسالت سے  جس ایک فرقہ کو  جنتی کہا  وہ  اہل سنت والجماعۃ ہے ۔اب اہل سنت کی صحیح تعریف  کیا ہے یہ ساری بحث اس زیر تبصرہ رسالہ ’’تعریف اہل سنت  اور مسنون تراویح ایک دلچسپ  علمی مکالمہ‘‘ میں ایک مکالمہ کی صورت میں    پیش کی  گئی ہے ۔اس کتابچہ کےمطالعہ سے  اصلی اور نقلی  اہل سنت کا فرق واضح ہوجائے گا۔ قارئین تعصب کی عینک اتار کر  تلاش حق کے جذبے سے   اس کتابچے کو پڑھیں دل ٹھک جائے تو راہِ حق کوقبول کرنے میں ہر گز دیر نہ کریں اس کتابچے پر اگرچہ  اسے مرتب کرنے والے کا نام  نہیں ملا لیکن  می...

  • 14 رسالۂ حرمت متعہ (جمعہ 08 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1297

    اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔انسان کی عزت وآ برو کی حفاظت کےلیے دین اسلام نے نکاح کا حکم دیا ہے۔تاکہ حصول عفت کےساتھ ساتھ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل بھی جاری رہے۔ایک فرقہ (اہل تشیع )کے ہاں نکاح کی ایک صورت متعہ کے نام پر بھی رائج ہےجو اگر چہ اسلام کے آغازمیں جائز تھاتاہم آپﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی اسے بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ ناجائز و ممنوع قرار دے دیاتھا۔مگر اہل تشیع اپنے باطل نظریات و افکار سے اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرتے آئے ہیں۔ ان کااصل مقصد دین حنیف کا خاتمہ اور اپنے خود ساختہ عقائد کا پرچارہے۔ زیر تبصرہ کتاب"رسالہ حرمت متعہ"جس میں مصنف کتاب ہذا نے نصو ص صریحہ و احادیث صحیحہ عقل و نقل سے حرمت متعہ ثابت کی گئی ہےاور واضح کر دیاگیاہےکہ متعہ ایک ایسا فعل ہےکہ جس کو کوئی باعزت اور دیندار انسان اپنے اور اپنی اولاد کے لیے پسند نہیں کر سکتا۔نیز اہل تشیع کے جواز متعہ پر دلائل و براہیں کا رد کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ وہ اہل اسلام کو اس گمراہ فرقے سے محفوظ رکھے۔ آمین( عمیر)

  • 15 مسعود بی ایس سی کی جماعت المسلمین پر ایک نظر (جمعہ 10 جون 2016ء)

    مشاہدات:2700

    جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب آرہا ہے گمراہ فرقے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔اور اپنے دام ہم رنگ زمانہ میں ناسمجھ مسلمین کو پھنسا رہے ہیں۔قدیم زمانے میں نجد عراق میں کوفہ کا شہر گمراہ فرقوں کی جنم بھومی اور آماجگاہ تھا۔مثلا خوارج ،روافض ،جہمیہ ،مرجئہ ،معتزلہ وغیرہ ۔انہی فرقوں میں سے ایک  نام نہاد جماعت المسلمین بھی ہے جوکراچی کی پیداوار ہے ۔اس جماعت کے بانی مبانی مسعود احمد صاحب  بی ایس سی ہیں۔اس فرقے نے "جماعت المسلمین " کا خوبصورت لقب اختیار کر رکھا ہے جس طرح لبنان میں  رافضیوں نے "حزب اللہ "کا نام اختیار کر رکھا ہے۔یہ فرقہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے۔جو شخص ا س کے بانی مسعود احمد  صاحب کی بیعت نہیں کرتا وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہے،چاہے وہ قرآن وحدیث کا جتنا بڑا عالم وعامل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے امام ابن حجر﷫سمیت متعدد محدثین کی تکفیر کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مسعود  بی ایس سی کی جماعت المسلمین پر ایک نظر "جمعیت اہل حدیث بہاولپور کی طرف سے شائع کی گئ ہے جس پر کسی مولف کا نام موجود نہیں ہے۔اس کتاب میں جماعت المسلمین کے تمام باطل نظریات کا مدلل رد کیا  گیاہے اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔اللہ تعالی جمعیت اہل حدیث کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • عصر حاضر کے فتنوں میں سے جو فتنہ اس وقت اہل اسلام میں سب سے زیادہ خطرناک حد تک پھیل رہا ہے وہ انکار حدیث کا فتنہ ہے۔ اس کے پھیلنے کی چند وجوہات عام ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ منکرین حدیث نے روافض کی مانند تقیہ کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ یہ براہ راست حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ خود کو اہل قرآن یا قرآنی تعلیمات کے معلم کہلاتے ہوئے اپنے لٹریچر میں قرآن ہی پر اپنے دلائل کا انحصار کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین کو یہ ذہن نشین کرانے کی سعی کرتے ہیں کہ ہدایت کے لئے تشریح کے لئے ' تفسیر کے لئے ، سمجھنے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کافی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں۔قرآنی تعلیمات کے یہ معلم اپنے لیکچرز اور لٹریچر میں  کسی دوسری کتاب کی تفصیل اور گہرائی میں نہیں جاتے لیکن وہ چند مخصوص قرآنی آیات کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین و قارئین کو یہ باور کرانے کی بھر پور جدوجہدکرتے ہیں کہ قرآن کے علاوہ پائی جانے والی دیگر کتب اختلافات سےمحفوظ نہیں جبکہ قرآن میں کوئی بھی کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف قرآن ہی منزل من اللہ ہے چونکہ دوسری کتابوں میں روایات میں ، اسناد میں اور متون اقوال میں اختلافات بکثرت ہیں لہذا یہ دوسری کتابیں نہ تو منزل من اللہ ہیں نہ مثل قرآن ہیں نہ ہی اس لائق ہیں کہ انہیں پڑھا جائے اور ان کی روایات پر عمل کیا جائے۔ تحریف قرآن وانکار حدیث کےداعی مسٹر  غلام احمد پرویز صاحب ہیں، جن کی گمراہی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" پرویز کے بار...

  • مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دار ارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کی جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم، توضیح وتشریح، تعمیل واتباع، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔ زیر تبصرہ کتاب "دینی تعلیم کی اہمیت وفضیلت اور حصول علم کے بعض آداب" محترم سید حسین بن عثمان عمری مدنی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دینی تعلیم کی اہمیت وفضیلت کو بیان کرتے ہوئے حصول علم کے بعض آداب کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین...

  • 18 غیر مسلم ممالک میں عدالتوں کی طلاق (جمعرات 04 اگست 2016ء)

    مشاہدات:1590

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے۔اللہ تعالی نے جہاں نکاح  کرکےبندھن میں بندھنےکے احکام بیان کئے ہیں ، وہیں اگر یہ بندھن قائم رکھنا مشکل ہو جائے تو اسے طلاق کے ذریعے ختم کرنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " غیر مسلم ممالک میں عدالتوں  کی طلاق " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اس موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 19 مختصر دفاع آل و اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین (بدھ 15 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1062

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے ۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ   کو حاصل ہے اور پھر آگے صحابہ کرامؓ میں سے بھی کچھ صحابہ فضائل میں دوسروں کی نسبت عظمت والے ہیں اور ہمارے اسلاف کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے صحابہ کےحالات زندگی محفوظ کیے ہیں اور صحابہ کرامؓ کا دفاع کرتے رہیں ہیں۔ یقیناً شکوک وشبہات پھیلانا اور بدگمانیوں کو ہوا دینا انبیائے کرام کے دشمنان کا بہت پرانا وسیلہ ہے لیکن ان کا دفاع کرنا بھی امت کے علماء کا وطیرہ رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی  صحابہ کرامؓ پر کیے جانے والے شبہات کا دفاع کیا گیا ہے اور ان شبہات کا جائزہ لیا گیا ہے جو کہ وجہ اختلاف و نزاع  ہیں‘ اور پھر ان پر نبی کریمﷺ کے بعد اس امت کے بہترین لوگوں کے متعلق عقائد کی بنیادیں قائم کی گئی ہیں اور ان علماء کرام کے ردود بھی بیان کیا گیا ہے اور استدلال کے فاسد ہونے کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ کتاب ’’ مختصر دفاع آل اصحاب ‘‘  ادارۂ قسم الدراسات والبحوث جمعیت آل واصحاب کی عظیم کاوش ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے  وجملہ معاونین ومساعدین کو...

  • 20 سفر بہتری کی راہ پر (جمعرات 28 جون 2018ء)

    مشاہدات:833

    ہماری ذاتی وپیشہ ورانہ زندگی میں ہمارے رویے بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی کے کیا اغراض ومقاصد ہیں؟ اور ان تک کیسے پہنچانا ہے۔ اور اگر کوئی مشکلات آتی ہیں تو ان سے کیسے نبٹنا ہے ان سب باتوں میں ہمارے رویوں کا خاص عمل دخل رہتا ہے اس طرح ہم خود کو کتنا سمجھتے ہیں‘ دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہیں اور جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے پاس کتنی معلومات ہیں ان چیزوں کا بھی ہمارے رویوں سے گہرا تعلق ہے۔ویسے تو ہر شخص کو اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کو مؤثر بنانے کے لیے صحت مند اور مثبت رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسے افراد اور ادارے جن کے کام سے لاکھوں لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہو  ان کے لیے مثبت اور صحت مند رویوں کا حامل ہونا اور بھی اہم ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی حوالے سے ہے جس میں زیادہ تر توجہ پولیس محکمے کی طرف دی گئی ہے اور ماڈیول تین سطح پر ترتیب دیا گیا ہے۔1:کانسٹیبل/ہیڈ کانسٹیبل۔2:اسسٹنٹ سب انسپکٹر/سب انسپکٹر/ سب انسپکٹر/انسپکٹر۔3:اسسٹنٹ سپرنڈنٹ آف پولیس(زیر تربیت) اور پھر ماڈیول ہر سطح کے لیے ایک جیسے موضوع ہی رکھتا ہے جیسے خود آگاہی‘ زندگی کی مہارتیں اور سماجی آگاہی  وغیرہ کے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب پولیس ٹرینرز کی معاونت کے لیے ترتیب دی  گئی ہے۔ ہر حصے کا آغاز اس کی اہمیت اور محکمہ پولیس کے ساتھ اس کے تعلق سے ہوتا ہے ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سفر بہتری کی راہ پر ‘‘نیشنل پولیس اکیڈمی کی مرتب کردہ ہے۔...


1 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1163
  • اس ہفتے کے قارئین: 5320
  • اس ماہ کے قارئین: 29848
  • کل قارئین : 47089100

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں