الکتاب انٹرنیشنل، نئی دہلی

16 کل کتب
دکھائیں

  • 1 عقیدہ واسطیہ (منگل 25 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:19061

    ابن تيميه وه مصنف هیں جنہوں نے دین اسلام کی خدمت کرتے ہوئے ہر اہم موضوع پر گفتگو کی ہے اس لیے عقیدے کے معاملے میں بھی ابن تیمیہ نے جس انداز سے وضاحت کی ہے یہ انہی کا خاصہ ہے –اللہ تعالی کی صفات میں تحریف کے منکرین گروہ پیدا ہوئے جو کہ فلسفہ سے متاثر تھے تو ابن تیمیہ نے ان کے فلسفے کا رد اور ان کے باطل عقائد کا رد قرآن وسنت سے کیا اور ان کے عقائد کی خرابی کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد مدلل رد کیا ہے-ابن تیمیہ نے اس کتاب میں اہل سنت کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے عقیدے کی مختلف بحثوں موضوع سخن بنایا ہے جس میں اللہ تعالی پر ایمان کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف صفات کا ثبوت اور اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونے کا ثبوت اور مومنین کے لیے جنت میں اللہ تعالی کے دیدار پر تفصیلی بحث کی ہے- اسی طرح اولیاء کی کرامات کو واضح کیا ہے کہ کون سی چیز کرامت ہوتی ہے اور کون سی چیز کرامت سے خارج ہے بلکہ شیطانی دھوکہ ہے
     

  • 2 سیرت شیخ محمد بن عبد الوہاب (اتوار 27 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2160

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں اور شرک وبدعات کے خلاف میدان کارزار میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔آپ نے خالصتا کتاب وسنت کی دعوت کو عام کیا اور لوگوں کو شرک وبدعات سے دور کرنے کے لئے کتب لکھیں۔زیر تبصرہ کتاب(سیرت شیخ محمد بن عبد الوہاب﷫) سعودی عرب کے مفتی اعظم اور معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز ﷫کی ایک تقریر پر مشتمل ہے،جو انہوں نے مدینہ یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمائی تھی۔شیخ ابن باز ﷫اس وقت مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔اس خطاب میں انہوں نے شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی سیرت اور حالات زندگی کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا ہے،اور ان کی دینی واسلامی خدمات پر روشنی ڈالی۔جسے بعد میں کتابچے میں شکل میں طبع کر دیا گیا۔اس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم شیخ عبد الحلیم بستوی نے حاصل کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف﷫ اور شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب﷫ دونوں اہل علم کی قبروں کو منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 تبر اسلام (پیر 04 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2354

    بیسویں صدی کا ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف عالم دین ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مہاشہ دھرمپال کی کتاب"نخل اسلام" کے جواب میں لکھی گئے ہے۔یہ شخص گوجرانوالہ کا ایک مسلمان تھا۔جس کا نام عبد الغفور تھا۔1903ء میں پنڈت دیانند شرما کی تحریروں اور آریہ سماج کی شدھی تحریک سے متاثر ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے،اور عبد الغفور سے دھرمپال بن گیا۔جس پر سماجیوں نے بڑی خوشی منائی اور جگہ جگہ جلوس نکالے۔اللہ تعالی مولف کی اس عظیم الشان کاوش کو قبول ومنظور فرمائے اور مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت بنائے۔آمین(راسخ)

  • 4 تُرک اسلام (منگل 05 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2361

    بیسویں صدی کا ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف عالم دین ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مہاشہ دھرمپال کی کتاب"ترک اسلام" کے جواب میں لکھی گئے ہے۔یہ شخص گوجرانوالہ کا ایک مسلمان تھا۔جس کا نام عبد الغفور تھا۔1903ء میں پنڈت دیانند شرما کی تحریروں اور آریہ سماج کی شدھی تحریک سے متاثر ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے،اور عبد الغفور سے دھرمپال بن گیا۔جس پر سماجیوں نے بڑی خوشی منائی اور جگہ جگہ جلوس نکالے۔اس موقع پر آریہ سماج نے ایک لیکچر کا بھی اہتمام کیا جس میں اس نے اپنے مذہب کی تبدیلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قرآن مجید پر ایک سو پندرہ اعتراضات کئے،جسے آریہ سماج نے مرتب کر کے " تَرک اسلام" کے نام سے...

  • 5 تحقیقی ، اصلاحی اور علمی مقالات جلد اول (پیر 22 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:6282

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ...

  • 6 احناف کی تاریخی غلطیاں (جمعہ 25 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2407

    سو لہویں اور سترہویں صدی عیسوی تک تقریبا پورا ہندوستان شرک، بدعات، ہندوانہ رسم و رواج، مشرکانہ زندگی اور تقلید جامد میں بری طرح جکڑا ہوا نظر آتاہے۔ خانقاہی نظام اور ہر خانقاہ کا اپنا جدا مسلک تھا۔کہیں ’’فنا فی الشیخ‘‘ اور کہیں ’’وحدت الوجود‘‘کی تعلیم دی جاتی تھی۔ حاجت روائی کے لئے قبروں پر حاضری اور چلہ کشی عام تھی۔ اسی گورکھ دھندے میں صبح وشام صرف ہوتا تھا۔ لوگ قرآن وسنت سے نا آشنا ہو چکے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب’’احناف کی تاریخی غلطیاں‘‘محمد احسن اللہ ڈیانوی عظیم آبادی کی تصنیف کرداہے، مگر وہ اپنی وفات کی وجہ سے اس کو مکمل نہ کرسکے جو بعدمیں ان کے فر زندے رشید عزیزی محمدسلمہ اللہ نے اس نا مکمل تصنیف کی تکمیل کی، گوکہ اس موضوع پر اب تک متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں، مگر بالخصوص یہ کتاب اپنے موضوع پر لکھی گی گزشتہ کتابوں سے ذرا مختلف ومنفرد ہے، اور اس کتاب کا موضوع محققین احناف کی تاریخی غلطیوں سے متعلق ہے، جن میں زیادہ تر غلطیاں سیدین شہیدین کی تحریک جہاد سے متعلق ہے ہیں۔ جب کہ چند ایک دوسرے موضوعات کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے، اور ان کا حقیقت پر مبنی تسلی بخش جوابات دیے گئے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین(شعیب خان)

  • 7 مسدس شاہراہ دعوت (اتوار 05 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:908

    کویت میں مقیم برصغیر کے عظیم اسکالر اورجید عالم دین فضیلة الشیخ صلاح الدین مقبول احمد صاحب حفظہ اللہ کو الله پاك نے اهل وطن سے پہلے اہل كويت ميں بڑی پزيرائي عطا كرركهى ہے- كويت ميں ان كے شاگردوں كا حلقہ بڑا وسيع ہے جن ميں سے بعض بڑے بڑے عہدوں پر فائز هيں، ہمارا تجربہ ہےكہ علماء كى صحيح قدر و منزلت عرب ہى پہچانتے ہيں،ہم ايك عرصہ سے آپ كوعربی زبان میں محقق ، مؤلف ، داعی اور اسکالرکی حیثیت سے توجانتے تھے تاہم یہ معلوم نہیں تھا کہ آپ عربى اور اردو زبان کے قادرالکلام شاعر بھی ہیں، عربى زبان ميں ہم نے آپ كا ايك مدحيہ كلام پڑھا تھا لیکن اردو زبان کی شاعری کا علم اس وقت ہوا جب ہم نے علامہ محمد اسحاق بھٹی صاحب کی کتاب ”دبستانِ حدیث“ پڑھى- زیرِ تبصرہ کتاب ’’مسدّسِ شاہراہِ دعوت‘‘جید عالم دین فضیلة الشیخ صلاح الدین مقبول احمد صاحب حفظہ اللہ کی ہے۔ جو کہ مسدس یعنی 834 ابیات پر مشتمل یہ کتاب اسلامی افکار کا ایک حسین مجموعہ ہے ۔ پاکیزہ شاعری کی اہمیت وضرورت پرزوردیتے ہوئے شيخ موصوف نے جن موضوعات کو نظم کے لیے انتخاب کیا ہے وہ خالص اسلامی ہیں مثلاً ایمانیات، صفات باری تعالی، رسالت ،صحابہ کرام ، محاسن اسلام ،اسلام پر مخالفین کے اعتراضات اوران کے جوابات ، محدثین کی مساعی جمیلہ ، اہل حدیث کے فضائل ومحاسن اورفقہائے کرام اور ان کی مساعی جمیلہ وغیرہ ۔مزید مسدس پر تین بڑی شخصیات علامہ محمد اسحاق بھٹی ،علامہ ابن احمد نقوی اورمولانا عبدالعلیم ماہر کے اعتراف نامے اورعلمی تبرکات نے اس کی اہمیت کودوبالا کردیا ہے ۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی...

    شعر 
  • 8 منبہات مترجم اردو (منگل 23 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1965

    عقیدۂ توحید کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ‘ عقیدۂ آخرت ہے۔ توحید کے طرح تمام انبیاء نے اس کی تعلیم بھی اپنی قوم کو دی ہے اور بتایا ہے کہ اس کا انکار در اصل اللہ کا انکار ہے کیونکہ اس کے بعد اللہ کا ماننا بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس عقیدہ کو ماننے کے دنیا وآخرت میں جو فوائد اور اس کے جو عمدہ اثرات ونتائج ہیں اور نہ ماننے کے کی صورت میں جو برے اور خطرناک نتائج سامنے آئیں گے ان تمام پر قرآن مجید نے مفصل روشنی ڈالی ہے۔انسان اگر معمولی غوروفکر سے کام لے تو یہ حقیقت اس کے سامنے واضح ہو جائے گی کہ اس عقیدہ کے سوا کوئی بھی چیز انسان کو راہِ راست پر نہیں قائم رکھ سکتی۔زیرِ تبصرہ کتاب   بھی عقیدۂ آخرت کے حوالے سے ہی لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب اصلاً عربی میں ہے اور اس کا ترجمہ سلیس کیا گیا ہے اور اصل عربی کتاب مرقم نہیں ہے لیکن آسانی کے پیش نظر مترجم نے مرقم کر دیا ہے اور کتاب کی ایک طرف عربی عبارت اور اسی کے سامنے اس کا ترجمہ دیا گیا ہے۔ لیکن اس کتاب میں حوالہ جات کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس میں یہ نقص ضرور موجود ہے۔ یہ کتاب’’ منبهات ‘‘ علامہ ابن حجر عسقلانی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی بیسیوں  کتب اور  بھی ہیں جیسا  کہ مقدمہ فتح الباری ‘فتح الباری شرح صحیح البخاری‘الاصابہ فی تمييز الصحابہ‘الدُر الکامنہ وغیرہ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسن...

  • 9 خرافات حنفیت بجواب تحفہ اہل حدیث (جمعرات 25 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1383

    اسلام گروہ بندی کا قائل نہیں ہے بلکہ اس سے سخت نفرت کا اظہار کرتا ہے مگر جب سے اسلام میں تقلید نے جنم لیا ہے اسی وقت سے امت تشتت اور گروہ بندی کا شکار ہو گئی ہے اور اس کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔ من جملہ تقلیدی مذاہب میں سے ایک مذہب حنفی بھی ہے جس نے ارض فتن عراق میں  جنم لیا اور وہیں عنفوان شباب کو پہنچا۔ حنفی مذہب سے رائے اورقیاس کو عروج حاصل ہوا اور سنت کی حیثیت محض ثانوی ہو کر رہ گئی۔اور یہ لوگ اُلٹا اہل حدیث کو نشانہ بناتے ہیں اور  انہیں خرافات کا طعنہ دیتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں   حنفیت کے ان باطل دعوؤں کا رد کیا گیا ہے اور ان کی خرافات کا علمی جائزہ لیا گیا ہے اور کتاب وسنت کے دلائل سے ان کو لغو اور باطل قرار دیا ہے اور اس حقیقت کو منکشف کیا گیا ہے تحفہ اہل حدیث کے مصنف ابو بلال جس گروہ سے تعلق رکھتا ہے وہ سنت صحیحہ کا دشمن اور احادیث نبویہ کا تمسخر اُڑانے والا گروہ ہے۔ یہ کتاب’’ خرافات حنفیت بجواب تحفہ اہل حدیث ‘‘ حافظ فاروق الرحمن یزدانی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 10 بدعتی دعاؤں سے بچئے (جمعہ 26 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:888

    اللہ رب العزت سے مانگنا بہت عظیم عمل ہے اور اللہ کو بہت پسند بھی ہے اور اگر اللہ سے دعا نہ مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں گے میں انہیں جہنم میں پھینکوں گا تو ادھر مراد دعا ہے کہ دعا نہ مانگی جائے تو تکبر میں داخل ہوتے ہیں۔ فرض نماز کے بعد دعا کرنا متعدد احادیث سے ثابت ہے لیکن حدیث کے اتنے بڑے ذخائر کے اندر اس دعا میں رفع یدین کرنے کے سلسلے میں ایک بھی صحیح حدیث وارد نہیں ‘ یہی اس بات کی بین دلیل ہے کہ عہد نبویﷺ‘ عہد صحابہؓ میں اس دعا کا رواج نہیں تھا‘ نیز ہر فرض نماز کے بعد امام ہاتھ اُٹھا کر دعا کرے اور مقتدی آمین آمین کہتے جائیں‘ دعا کی یہ ہیئت نہ نبیﷺ سے نہ صحابہؓ سے‘ نہ صحیح سند سے اور نہ ضعیف سند سے ثابت ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں دعا کے موضوع کو ہی زیر بحث بنایا گیا ہے کہ دعا کب؟کیسے  مانگنی چاہیے اور جو لوگ ہر فرض نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر امام کے دعا کروانے اور مقتدیوں کے آمین آمین کہنے کے قائل ہیں ان کی تردید کی گئی ہے اور ان کے دلائل کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی طرح عیدین کے بعد‘ دفن میت کے بعد‘ اختتام مجلس کے وقت‘ افطار کے وقت اور عقد نکاح کے وقت مروجہ طرق سے ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنے کی تمام مباحث کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ بدعتی دعاؤں سے بچئے ‘‘ ابوطاہر بن عزیز الرحمان سلفی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  ک...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1496
  • اس ہفتے کے قارئین: 3577
  • اس ماہ کے قارئین: 28105
  • کل قارئین : 47065788

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں