• #3355
    عبد المنان راسخ

    1 مصباح الخطیب

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطباء کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ  کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب ، مصباح الخطیب ، حصن  الخطیب )  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔( م۔ا)

  • #1382
    امام ابن حزم اندلسی

    2 قوموں کا عروج و زوال

    امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ ظاہر ی تھے لیکن پھر بھی ان کی علمیت اور علوم اسلامیہ میں مہارت کےتمام لوگ معترف ہیں۔ انھوں نے بے شمار قیمتی کتابوں کا ذخیرہ اپنے پیچھے یادگارچھوڑا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب موصوف کی مشہور زمانہ کتاب ’کتاب الفصل فی الملل والنحل‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ جس میں انھوں نے ظاہری اصولوں کو عقائد پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے فلاسفہ، ملاحدہ، مادیین، یہود، نصاریٰ غرض اکثر اہل مذاہب کے عقائد و خیالات نقل کیے ہیں اور ان کا شدت کے ساتھ رد کیا ہے۔ انھوں نے توراۃ و انجیل کے محرف ہونے پر جو بحث کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو یہود و نصاریٰ کی کتب پر مجتہدانہ عبور حاصل تھا۔ وہ اسلامی عقائد پر روشنی ڈالتے ہوئےہر فرقہ کے ان مسائل کا رد پیش کرتے ہیں جو اس کے نزدیک غلط اور باطل ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ان تفسیری روایات کا شدت سے رد کیا ہے جن کے مطابق انبیا غیر معصوم ہیں۔ علاوہ ازیں انھوں نے جادو کی حقیقت و ماہیت پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ جادو سے خرق عادت امور وجود میں نہیں آ سکتے۔ اس کے علاوہ بہت سی فلسفیانہ مباحث بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ علامہ ابن حزم نے کتاب میں بعض ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا ہے جن سے عام طور پر سلف متفق نہیں ہیں مثلاً ان کا دعویٰ ہے کہ عورتیں بھی پیغمبر ہو سکتی ہیں اور اس پر انھوں نے تفصیل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بہت سی قرآنی آیات سےاستدلال کیا ہے پھر انھوں نے اس خیال کا بھی تفصیل کے ساتھ رد کیا ہے کہ عورتوں کا درجہ مردوں سے کم ہے۔ اردو ترجمہ نہایت سلیس ہے جو کہ مولانا عبداللہ عمادی نے کیا ہے اور بہت سی مشکل عبارتوں کو سادہ اور آسان لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #998
    عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی

    3 تفسیر السعدی(اردو)پارہ 19

    اللہ عزوجل نے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانےکے لیے جو کتابیں نازل فرمائیں،قرآن حکیم ان میں آخری کتاب ہے جو تاقیامت بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ورہنمائی کا ذریعہ ہے ۔قرآن کے مطالب و مفاہیم کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری جناب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہ طریق احسن سرانجام دیا۔بعد ازاں مفسرین عظام نے حدیث نبوی اور ارشادات صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں قرآنی مطالب کو لوگوں تک پہنچایا۔اس فن میں اب تک بے شمار تفاسیر مختلف زبانوں میں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔علامہ عبدالرحمٰن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ کی تفسیر بھی معتبر کتب تفاسیر میں شمار ہوتی ہے ۔آپ سعودی عرب کے نام ور عالم دین تھے۔زیر نظر ’تفسیر السعدی‘کی متعدد خصوصیات ہیں،مثلا:یہ اسرائیلی اور ضعیف روایات سے پاک ہے،قصص وواقعات سے عبر وحکم کا استنباظ بھی خوب اور نہایت عجیب ہے۔یہ تفسیر اختصار اور جامعیت کا حسین امتزاج ہے۔تفسیر میں منہج سلف کی پابندی کی گئی ہے۔آج کے مادی دور میں قرآنی حکمت وموعظت کے حصول کے لیے یہ تفسیر انتہائی مفید ہے ،جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو کرنا چاہیے تاکہ وہ قرآن حکیم سے اپنے تعلق کو استوار کر سکے اور فلاح و کامرانی سے بہرہ مند ہو سکے۔(ط۔ا)


    نوٹ:
    مکمل تفسیر السعدی(اردو)ڈاؤن لوڈ کرنے یا آن لائن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #819
    حافظ صلاح الدین یوسف

    4 معانی القرآن الکریم

    یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آج اس کائنات میں قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب موجود نہیں ہے ،جسے پوری قطعیت اور یقین کے ساتھ الہامی قرار دیا جاسکےیہ شرف محض قرآن مقدس ہی کو حاصل ہے ۔قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل سے امت کو بلندی حاصل ہوئی ہے اور اس سے غفلت برتنے سے پستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امت مسلمہ کی موجودہ ذلت ورسوائی کا سبب بھی یہی ہے کہ آج افراد امت نے قرآن حکیم کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔قرآن سے اعراض اور بے التفاتی ہی کا ایک مظہر یہ ہے کہ اسے سمجھنے کو کوشش نہیں کی جاتی بلکہ محض الفاظ کی تلاوت پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے یوں یہ قرآن سے دوری کا مظہر بھی ہے اور سبب بھی کہ جب تک قرآن کے معانی سے واقفیت نہیں ہو گی اس سے تعلق بھی استوار نہیں ہو سکتا۔المختصر تعلق بالقرآن  کے لیے اس کے مفاہیم سے با خبر ہونا ضروری ہے ۔اس کے لیے جناب حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کے زیر نظر ترجمہ قرآن کا مطالعہ بہت مفید ثابت ہو گا جو معانی القرآن الکریم کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔اس میں لفظی ترجمے کا انداز اختیار کیا گیا ہے ،جس سے الفاظ قرآنی کا مفہوم سمجھنے میں آسانی رہتی ہے۔(ط۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825421

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں