دکھائیں کتب
  • 1 آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے (منگل 24 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:9543

    فقہی فروعی اختلافات نئے نہیں  بلکہ زمانہ قدیم سے ہی آرہے ہیں۔یہ اختلافات حضرات صحابہ کرام میں بھی تھے ۔ اسی طرح تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین میں بھی تھے ۔ مگر وہ حضرات اس  کے باوجود باہم شیر و شکر تھے۔لیکن مقلدین مجتہدین کے دور میں  یہ فقہی اختلافات شدت اختیار کرتے چلے گئے اور امت کے  اندر انتشار و افتراق نے جنم لینا شروع کر دیا ۔ پھر وہ وقت بھی آگیا کہ یہی فقہی اختلافات باہمی کفر و فسق کی بنیاد بھی بننے لگے۔  حالانکہ اختلافات کا پیدا ہوجانا  ایک فطری امر ہے لیکن تشویش ناک  صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب  یہ غیر انسانی رویے اور جنگ و جدال کی  شکل اختیار کرجائیں۔ زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس کا سبب تالیف یہ ہے کہ عصر حاضر کے جید عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے اپنے معاصر ،دیو بندی مکتبہ فکر کے راسخ عالم دین مولانا سرفراز احمد صفدر صاحب کو ان کی تصنیفات میں  وارد شدہ بعض فکری و اجتہادی مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ ایڈیشن میں تبدیلی کی درخواست کی۔ جس پر  مولاناسرفراز صفدر صاحب نے توجہ فرماکر اصلاح کرلی۔ لیکن ان کے بیٹے  حافظ عبدالقدوس صاحب  نے یہ محسوس کیا کہ والدگرامی کی یہ پسپائی حلقہ احباب میں باعث تشویش  بن رہی ہے ۔ چنانچہ  اس پر انہوں نے ارشادالحق اثری صاحب پر ایک کتاب لکھ ڈالی ۔ جس میں مولانا کی ذات گرامی کے ساتھ ساتھ مسلک اہل حدیث پر نیش زنی کی گی ۔ پھر مولانا ارشادالحق صاحب نے اس  کے جواب میں زیر نظر کتاب رقم فرمائی۔(ع۔ح)

  • 2 آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے (منگل 24 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:9543

    فقہی فروعی اختلافات نئے نہیں  بلکہ زمانہ قدیم سے ہی آرہے ہیں۔یہ اختلافات حضرات صحابہ کرام میں بھی تھے ۔ اسی طرح تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین میں بھی تھے ۔ مگر وہ حضرات اس  کے باوجود باہم شیر و شکر تھے۔لیکن مقلدین مجتہدین کے دور میں  یہ فقہی اختلافات شدت اختیار کرتے چلے گئے اور امت کے  اندر انتشار و افتراق نے جنم لینا شروع کر دیا ۔ پھر وہ وقت بھی آگیا کہ یہی فقہی اختلافات باہمی کفر و فسق کی بنیاد بھی بننے لگے۔  حالانکہ اختلافات کا پیدا ہوجانا  ایک فطری امر ہے لیکن تشویش ناک  صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب  یہ غیر انسانی رویے اور جنگ و جدال کی  شکل اختیار کرجائیں۔ زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس کا سبب تالیف یہ ہے کہ عصر حاضر کے جید عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے اپنے معاصر ،دیو بندی مکتبہ فکر کے راسخ عالم دین مولانا سرفراز احمد صفدر صاحب کو ان کی تصنیفات میں  وارد شدہ بعض فکری و اجتہادی مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ ایڈیشن میں تبدیلی کی درخواست کی۔ جس پر  مولاناسرفراز صفدر صاحب نے توجہ فرماکر اصلاح کرلی۔ لیکن ان کے بیٹے  حافظ عبدالقدوس صاحب  نے یہ محسوس کیا کہ والدگرامی کی یہ پسپائی حلقہ احباب میں باعث تشویش  بن رہی ہے ۔ چنانچہ  اس پر انہوں نے ارشادالحق اثری صاحب پر ایک کتاب لکھ ڈالی ۔ جس میں مولانا کی ذات گرامی کے ساتھ ساتھ مسلک اہل حدیث پر نیش زنی کی گی ۔ پھر مولانا ارشادالحق صاحب نے اس  کے جواب میں زیر نظر کتاب رقم فرمائی۔(ع۔ح)

  • 3 آبی وسائل شرعی احکام ضوابط (بدھ 18 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1529

    پانی اور ہوا انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ کائنات کے وجود و بقا کے لئے خالقِ کائنات کی پیدا کردہ نعمتوں میں سے عظیم نعمت ہے۔ انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزوں میں پانی اور ہوا کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماءِ کل شیءٍ حی افلا یو منون۔ ترجمہ: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورۃ انبیاء، آیت ۳۰) سی کرہِ ارض (زمین) پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے۔ زمین جب مردہ ہو جاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔ اللہ نے انسانوں کے لئے پانی کا انتظام مختلف طریقوں سے کر رکھا ہے۔ پانی کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر اس کی بوند بوند کی حفاظت کرنا ہرانسان کاحق ہے۔ نبی کریمﷺ نے احادیث مبارکہ میں پانی کو استعمال کرنے کے متعلق احکامات صادر فرمائے ہیں۔ کتب حدیث وفقہ میں کتاب المیاہ کےنام محدثین و فقہاء نے ابواب قائم کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آبی وسائل شرعی احکام وضوابط‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا کی جانب سے مارچ 2011ء میں ’’آبی وسائل اور ان کے متعلق احکام‘‘ کے عنوان سےمنعقد کیے گئے بیسویں سیمینار میں پیش کئے گئے علمی وتحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ۔اس موضوع کے متعلق نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر بھی تقریباً یہ پہلا سیمینار تھا۔ جس میں ارباب فقہ و افتاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس مسئلہ کی مختلف جہتوں پر سہل او...

  • 4 آسان فقہی اصطلاحات اردو ترجمہ المصطلحات الفقہیہ (اتوار 01 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:2884

    اسلام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا آخری پیغام ہے جو ہر اعتبار سے محفوظ ہے۔ اس کے احکام وفرامین کا مستقل سر چشمہ قرآن مجید اور سنت مطہرہ ہے۔ فقہ الاحکام کا ذخیرہ عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں حجاز کی حدود سے نکل کر افریقا اور ایشیاء کے متعدد اقالیم میں نو مسلم افراد اور اقوام کی ہمہ نوع رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا دکھائی دیتا ہے۔بسا اوقات تمدن کے ارتقاء‘ مقامی عرف کے تقاضے اور حالات کے اقتضا سے ایسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں کہ جن میں کوئی متعین نص موجود نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں فقیہ کتاب وسنت سے مستنیر حکمت‘ تدبر اور غور وفکر سے کام لیتے ہوئے ایسی قیاسی رائے ظاہر کرتا ہے جو نصوص کے مزاج سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔اور اس موضوع پر بہت سی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی  اسی موضوع کے حوالے سے ہے جس میں  فقہی اصطلاحات کو بیان کیا گیا ہے یہ کتاب عربی زبان میں تھی جس کا افادۂ عام کے لیے اردو ترجمہ کیا گیا ہے اور یہ لفظی ترجمہ نہیں ہے  کہ ہر لفظ کا نیچے ترجمہ کیا ہو اور نہ ہی ایسا ترجمہ ہے کہ عبارت سے اس کا کوئی تعلق ہی نہ ہو بلکہ خیر الامور اوسطھا کے تحت دونوں جانبوں کی رعایت کی گئی ہے ۔اکثر مقامات پر اس کا توضیحی ترجمہ کیا گیا ہے اور اگر عبارت دقیق اور مغلق  تھی تو لفظی ترجمہ بھی کیا گیا ہے اور  اس میں مترجم نے ضمیمے میں چند اصطلاحات کا اضافہ بھی کیا ہے اور یہ کتاب کئی فقہی اصطلاحات کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب اصلا عربی میں ’’المصطلحات الفقہیہ حسب ترتیب ابواب الفقہیہ‘‘ کے...

  • 5 آلہ جہیر الصوت وغیرہ کی شرعی حیثیت (پیر 15 جون 2015ء)

    مشاہدات:1949

    دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال  کے بارے میں اہل علم  نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے  مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس  شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس  حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مکالمے کی شکل میں  اس مراسلے کا ایسا زبر دست اور شاندار جواب دیا کہ اس پرسب  عش عش کر اٹھے۔آپ کا وہ جواب اس وقت آپ کے سامنے ہے،کہ نماز میں لاوڈ سپیکر کا استعمال بالکل جائز اور درست ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 أدب الخلاف اردو ترجمہ سلیقۂ اختلاف (جمعہ 25 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:14770

    اختلاف رائے انسانی سرشت میں داخل ہے اور کسی بھی شخصی رائے کو من وعن قبول کر لینا ناممکن ہے ۔حتی کہ شرعی مسائل میں بھی اختلاف رائے کی گنجائش باقی ہے ۔اور مختلف مسائل میں مختلف علما کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔جائز اختلاف حق ہے اور دلائل کی رو سے اختلاف کا وقوع پذیر ہونا بعید از قیاس نہیں۔نیز کتاب وسنت کے دلائل بھی بے طریق احسن وجادلہ ومباحثہ کی اجازت دیتے ہیں۔لیکن اختلاف رائے کی صورت میں فریق مخالف کو ہدف تنقید بنانا ،دشنام طرازی کا لامتناہی سلسلہ شروع کرنا اور فریق مخالف کی عزت اور خون تک کو حلال سمجھ لینا قطعاً ناجائز ہے ۔اور انتہائی سفلت اور کمینگی ہے ۔اخلاق کے دائرہ میں رہتے ہوئے ناقد کی بات سننا اپنے دفاع میں دلائل دینا،مباحثے کو خوبصورت پیرائے میں ڈھالنا اور فریق مخالف کی عزت ووقار کو ملحوظ رکھنا مباحثہ کی بہترین صورت ہے ۔زیر تبصرہ کتاب اختلاف رائے کے آداب واحکام پر مشتمل ہے ۔جس کا مطالعہ قارئین کے لیے بہترین ثابت ہو گا۔(ف۔ر)
     

  • 7 اثبات رفع الیدین (منگل 30 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:14137

    ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں سنت رسول کو ملحوظ خاطر رکھے کیونکہ ہر وہ عمل جو سنت رسول سے مخالف ہو نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ روز قیامت وبال بھی بن جائے گا- بہت سے مسلمان نماز تو ادا کرتے ہیں لیکن  اس میں سنت رسول کا خاص اہتمام نہیں کرتے انہی میں سے ایک اہم سنت رفع الیدین ہے- زیر نظر کتاب میں مولانا ابوخالد نور گھرجاکھی نے احادیث، صحابہ وتابعین، آئمہ اور محدثین کے اقوال کی روشنی میں رفع الیدین کا اثبات پیش کیا ہے اور محکم دلائل کے ساتھ رفع الیدین کے تارکین کا رد بھی کیا ہے-اثبات رفع الیدین کے لیے انہوں نے صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت کا قولی اور فعلی ثبوت پیش کیا ہے –یعنی کہ صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت سے اثبات الیدین سے متعلقہ روایات کو پیش کیا اور اس کے بعد صحابہ کی ہی ایک بہت بڑی جماعت سے عملی طور پر رفع الیدین کا ثبوت پیش کیا ہے کہ وہ سب رفع الیدین کے قائل بھی تھے اور فاعل بھی تھے-
     

  • 8 احسن الجدال بہ جواب راہ اعتدال (ہفتہ 11 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:5802

    حیدر آباد شہر(انڈیا)  کے مشہور دیو بندی عالم دین  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  صاحب نے  ’’’راہ  اعتدال‘‘کے  نام سے   ایک  کتاب لکھی،  جس  میں  انہوں نے  چند مشہور مسائل  تقلید ،  اما م ابو حنیفہ کا مقام ،قراءت خلف الامام ،رفع الیدین ،آمین بالجھر ،مصافحہ کا مسنون طریقہ، عورتوں اور مردوں کی نماز میں فرق ،خواتین کا مساجد میں آنا  وغیرہ  جیسے  موضوعات پر خامہ فرسائی فرمائی ،اور انہوں   نے ان مسائل میں اپنے مذہب کے اثبات میں  آیات  قرآنیہ کی تحریف سے بھی گریز نہیں کیا اور اپنے موقف کی تائید میں ہر ہر قدم پر روایات ضعیفہ کاسہارا لیا اور  غیر مقلدیت   کوگمراہی  کا دروازہ کہا جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ساری خرابیوں اورگمراہیوں کی جڑ تو تقلید ہے ۔ زیر نظر  کتا ب ’’احسن الجدال بہ جواب راہ اعتدال ‘‘مولانا  حافظ جلال الدین  قاسمی  فاضل  دار العلوم دیو بند﷾ کی اہم تالیف  ہے۔  جس میں   انہوں  نے رحمانی صاحب کی کتاب ’’ راہ اعتدال ‘‘کا تحقیقی جائزہ لیاہے   اوررحمانی  صاحب  کی بے اعتدالیوں کا خوب  محاسبہ کیا ہے۔ فاضل مصنف  ایک وسیع النظر عالم دین اورکئی کتب کے مصنف ہیں ۔آپ  کی کتابوں کو علمی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتاہے اللہ تعالی مصنف کی اس  کاوش کو شرف قبولیت بخشے  اور اس کتاب...

  • 9 احکام سوگ (منگل 06 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2772

    اسلام ایک کامل ضابطہ حیات کا نام ہے ۔اس کے احکام انسانی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہیں۔جہاں ہمارادین خوشی کے موقع پر ہمیں بے لگام نہیں چھوڑتا وہیں غم کاسامنا کرنے کے بارے میں بھی ہماری راہنمائی فرماتا ہے۔موت نظامِ قدرت کا ایک لازمی باب ہے ۔موت کےرنج والم کی کیفیت کا شریعت اسلامیہ کے ضوابط کے تحت سامنا کرنے کا نام سوگ ہے ۔لیکن ہمارے پاک وہند کے معاشرےمیں اس حوالے سے ہندوؤانہ رسوم ورواج کا اس قدر چلن عام ہوچکا ہے کہ سوگ کے متعلق ہم کتاب وسنت کی ہدایات کوفراموش کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ''احکام سوگ'' احمد بن عبداللہ السلیمی کے عربی رسالہ الاحداد اقسامه ،احکامه کا ترجمہ ہے ۔جس میں فاضل مصنف نے سوگ کی تعریف ،اقسام اور احکام ومسائل کوقرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے جس کا مطالعہ خصوصا خواتین کے لیے انتہائی مفید ہے اللہ رب العزت کتاب ہذا کو مصنف مترجم اورناشر کےلیے خیر وبرکت کا ذریعہ بنائے اورامت کے لیے بھی نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

     

  • 10 احکام شرعیہ میں حالات و زمانہ کی رعایت (بدھ 03 اگست 2016ء)

    مشاہدات:1940

    معاشرے کی حالت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی،بلکہ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، یہ تبدیلی کبھی معمولی ہوتی ہے جو حالات کے اتار چڑھاو سے رونما ہوتی ہے اور کبھی ہمہ گیر ہوتی ہے  جو ایک دور کے بعد دوسرے دور کے آنے سے ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔پہلی صورت میں زیادہ کدوکاوش کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ چند احکام ومسائل کے موقع ومحل میں تبدیلی سے کام چل جاتا ہے۔لیکن دوسری صورت میں چند مسائل پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے قانونی نظام کو نئے انداز میں ڈھالنے اور نئے قوانین وضع کرنے کی ضرورت  ہوتی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس نے عبادت،سیاست ،عدالت اور تجارت سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اور یہ ایک عالمگیر مذہب ہے جو تاقیامت پیش آنے والے مسائل کا حل اپنے پاس رکھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" احکام شرعیہ میں حالات وزمانہ کی رعایت " مسلک دیو بند سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مولانا محمد تقی امینی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے تاریخ اسلام کی روشنی میں اسلام کی اسی عالمگیریت کو بیان کیا ہے۔(راسخ)

    فقہ 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 877
  • اس ہفتے کے قارئین: 4264
  • اس ماہ کے قارئین: 24957
  • کل مشاہدات: 45232044

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں