دکھائیں کتب
  • 11 احکام عدت (جمعہ 02 جون 2017ء)

    مشاہدات:2573

    اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے ۔حیات انسانی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلام نے اس کی راہنمائی نہ فرمائی ہو ۔عبادات ومعاملات سے متعلق مسائل واحکام وآگاہی اسلامی معاشرہ کے ہر فرد کی ضرورت ہوتی ہے انہی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ عدت وسوگ کا ہے۔موت کےرنج والم کی کیفیت کا شریعت اسلامیہ کے ضوابط کے تحت سامنا کرنے کا نام سوگ ہے ۔لیکن ہمارے پاک وہند کے معاشرےمیں اس حوالے سے ہندوؤانہ رسوم ورواج کا اس قدر چلن عام ہوچکا ہے کہ سوگ کے متعلق ہم کتاب وسنت کی ہدایات کوفراموش کر چکے ہیں۔عورت کی عدت سے مراد وہ ایام کہ جن کے گزر جانے پر اس سے نکاح کرنا حلال ہو جاتا ہے۔عورت کے عدت گزارناواجب ہے اس پر تمام علماء امت کا اجما ع ہے ۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’احکام عدت ‘‘ شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی کاوش ہے ۔ اس میں انہوں نے مسئلہ عدت وسوگ کی جملہ جزئیات کا احکاطہ کرتے ہوئے عدت او ر سوگ کےجملہ اہم وضروری مسائل کو اردو زبان میں تحریر کیا ہے تاکہ بوقت ضرورت اردو طبقہ بھی اس اسے استفاد ہ کرسکے ۔(م۔ا)

  • 12 احکام قسم و نذر (اتوار 04 جون 2017ء)

    مشاہدات:2135

    اسلامی شریعت میں نذر ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہےکسی خیر کے کام کا عہد کرلینا۔یعنی نذریا منت ایک وعد ہ ہے  جو اللہ تعالیٰ سےکیا جاتا ہے ۔ لہذا تمام وعدوں کے نسبت اس وعدے کو پورا کرنا زیادہ اہم اور قابل ترجیح ہے ۔ اگرچہ عہد کوئی بھی ہو اسے پورا کرنا مسلمان پر لازم ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(الاسراء:34) ’’اور عہد پورا کرو بے  شک  عہد کے متعلق سوال کیاجائے گا‘‘۔ نذرماننے میں قسم  کھانے کامفہوم خود بخود شامل ہے  لہذا یہ ایک  وعدہ ہے  کہ جس کے متعلق قسم کھائی جاتی ہے کہ اسے  ضرور پورا کروں گا۔نذ ر ماننا  فرض نہیں  لیکن  جب کوئی نذر مان لے  توپھر اسے پورا کرنا فرض ہوجاتا ہے اور نذرپوری نہ کرنا سخت گناہ ہے ۔روزہ مرہ زندگی میں   اکثر وبیشتر قسم ونذر کا استعمال ہوتا ہے ۔اکثر لوگوں کو شریعت کے مسائل کا  علم نہیں ہوتا اس لیے ان مسائل میں اکثر غلطیاں کرجاتے ہیں  بلکہ بعض اوقات ایسی فاش غلطیاں ہوتی ہیں جو شرک کے دائرہ  میں آتی ہیں ۔ شارح سنن ابن ماجہ     شیخ الحدیث  مولانا محمد علی جانباز ﷫ نے زیر تبصرہ   رسالہ ’’ احکام قسم ونذر  ‘‘  میں لوگوں کو انہی مسائل سے  آگاہ کیا  ہے کہ لوگ جس میں اکثر وبیشتر غلطیاں کرتے  ہیں ۔مصنف موصوف نے   احکام  قسم کو بیان کرتے ہوئے  قسم کا  حکم ، قسم کی اقسام  او رکفار قسم کو  و...

    فقہ 
  • 13 اختلاف رائے، آداب و احکام (منگل 19 اگست 2014ء)

    مشاہدات:3442

    امت محمدیہ آج جن چیزوں سے دوچار ہے ،اور آج سے پہلے بھی دو چار تھی ،ان میں اہم ترین چیز بظاہر اختلاف کا معا ملہ ہے جو امت کے افراد وجماعتوں، مذاہب وحکومتوں سب کے درمیان پایا جاتا رہا اور پایا جاتا ہے یہ اختلاف کبھی بڑھ کر ایسا ہوجاتا ہے کہ گروہ بندی تک پہنچ جاتا ہے اور یہ گروہ بندی باہمی دشمنی تک اور پھر جنگ وجدال تک ذریعہ بنتی ہے ۔اور یہ چیزیں اکثر دینی رنگ وعنوان بھی اختیار کر لیتی ہیں جس کے لیے نصوصِ وحی میں توجیہ وتاویل سے کام لیا جاتا ہے ، یا امت کے سلف صالح صحابہ وعلماء واصحاب مذاہب کے معاملات وحالات سے استناد حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اختلاف اساسی طورپر دین کی رو سے کوئی منکر چیز نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک مشروع چیز ہے جس پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ اختلاف رائے احکام وآدا ب‘‘ فضلیۃ الشیخ دکتور سلمان فہد عودہ کی عربی تصنیف ’’ فقہ الاختلاف ولا یزالون مختلفین‘‘ کا   اردو ترجمہ ہے ۔مؤلف موصوف نے اس کتاب میں اساسی حیثیت سے اختلاف کی شرعی نوعیت کا تذکرہ کیا ہے ، اور اس کو کتاب وسنت ،نیز صحابہ وعلماء مجتہدین کی سیرت وکردار کی روشنی مین واضح کیا ہے ۔اور اس مشروعیت کےپیچھے نظری وعملی طور پر جو صالح نتائج وثمرات ہیں ان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اور ان آداب کوبھی بیان کیا ہے جن کی رعایت اس غرض سے کی جانی چاہئے تاکہ اختلاف سے وہ صالح فائدہ وثمرہ حاصل کیا جا سکے جواس کی مشروعیت سے مقصود ہے خواہ یہ اس سلسلے کے اخلاقی آداب ہوں یا عملی وانتطامی۔اس کتاب کو اپنی پوری تفصیل میں اس انداز پر...

  • 14 اختلافات ائمہ کی شرعی حیثیت (ہفتہ 09 اگست 2014ء)

    مشاہدات:3787

    شریعت اسلامی انسانیت کے لئے اللہ تعالی کا ہدایت نامہ ہے ،جس میں زندگی کے تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی یا اجمالی راہنمائی موجود ہے۔شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں ،جو یقینی ذرائع سے ثابت ہیں،اور الفاظ وتعبیرات کے اعتبار سے اس قدر واضح ہیں کہ ان میں کسی دوسرے معنی ومفہوم کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ان کو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ کہا جاتا ہے،اور شریعت کے بیشتر احکام اسی نوعیت کے ہیں۔جبکہ بعض احکام ہمیں ایسی دلیلوں سے ملتے ہیں،جن کے سندا صحیح ہونے کا یقین نہیں کیا جا سکتا ہے،یا ان میں متعدد معانی کا احتمال ہوتا ہے۔اسی طرح بعض مسائل قیاس پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں قیاس کی بعض جہتیں پائی جاتی ہیں۔تو ایسے مسائل میں اہل علم اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق فتوی دیتے ہیں،جو ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اہل علم اور ائمہ کرام کے ان اختلافات اور اجتہادی آراء کا شرعی حکم کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اختلافات ائمہ کی شرعی حیثیت "ایفا پبلیکیشنز دہلی انڈیا کی مطبوعہ ہے،جس میں اسی اہم ترین موضوع پر منعقد سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کو جمع کر دیا گیا ہے ،اور تمام مقالہ نگار اہل نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ان قیمتی مقالات کو جمع کرنے کی سعادت مولانا صفدر زبیر ندوی صاحب نے حاصل کی ہے۔ادارہ کتاب وسنت ڈاٹ کام کا مقالہ نگار حضرات سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن چونکہ یہ ایک خالص علمی اور تحقیقی مجموعہ ہے ،چنانچہ افادہ کی غرض سے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ تعالی تمام مقالہ نگار اور مرتب وتمام معاونین کی اس خدمت کو اپنی بارگ...

  • 15 اسباب اختلاف الفقہاء (ہفتہ 23 مئی 2015ء)

    مشاہدات:3360

    جن دین اسلام کی صداقت وحقانیت کا موضوع زیر بحث آتا ہے تو اکثر یہ شبہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ دین اختلافات ومجالات کی جولانگاہ ہے۔اس میں مختلف فرق ومذاہب پائے جاتے ہیں،ان میں کس کو اختیار کیا جائے اور کس کو ترک کیا جائے؟اعداء دین کی طرف سے تو اس شبہ کا ذکر وبیان چنداں حیرت خیز نہیں۔مگر مقام افسوس ہے کہ عصر حاضر میں نام نہاد مسلم اس شبہ کی آڑ میں سرے سے دین حنیف ہی سے کنارہ کشی کا جواز تلاش کرنے لگے ہیں۔حالانکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دور کے اکثر مذاہب میں اس قدر اصولی واساسی نزاعات پائے جاتے ہیں اور ان میں تفرقہ بازی کی اس قدر بھر مار ہے کہ ایک فریق دوسرے کو اس مذہب سے خارج کئے بغیر دوسری کسی بات پر مطمئن نہیں ہوتا۔یہودی ،عیسائی ،ہندو اور موجودہ  دور کے دیگر مذاہب اس کی بہترین مثال ہیں۔عیسائیوں کے دو مشہور فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی باہم نبرد آزمائی اور معرکہ آرائی تو تاریخ عالم کی مشہور داستان ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسباب اختلاف الفقہاء"سعودی عرب کے معروف عالم دین امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض کے چانسلر  ڈاکٹر عبد اللہ  بن عبد المحسن  الترکی﷾ کی تصنیف ہے،جس میں اسی شبہ کا تسلی بخش جواب دیا گیاہے،اور فقہاء کرام کے اختلافات کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کا اردو ترجمہ پاکستان کی معروف شخصیت  پروفیسر غلام احمد حریری صاحب﷾ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 16 اسباب اختلاف الفقہاء ( ارشاد الحق اثری ) (منگل 10 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:19441

    زیر تبصرہ کتاب دراصل شیخ محمد عوامہ کی تصنیف "اثر الحدیث الشریف فی اختلاف الفقہاء" ، جس کا خلاصہ دیوبندی آرگن ماہنامہ بینات میں شائع ہوا ، کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔ شیخ عوامہ نے اپنی کتاب میں ائمہ فقہاء کےاختلافات کے حقیقی عوامل بیان کرنے کے بجائے درحقیقت محدثین کرام رحمہم اللہ کے اس عام تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ میں حفظ و ضبط کی کمی تھی اور وہ دوسرے ائمہ حدیث کی نسبت حدیث کا کم علم رکھتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے ائمہ حدیث کے بارے میں اپنے روایتی عناد کا مظاہرہ بھی کیا ۔ ان کی انہی بے اصولیوں کا جائزہ اس کتاب میں لیا گیا ہے ۔ جب قرآن ایک، نبی ایک، قبلہ ایک، دین ایک ۔۔ پھر امت میں اتنے اختلافات کیوں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے متمنی ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ یقیناً بصیرت مہیا کرے گا۔ چونکہ یہ ایک دقیق علمی موضوع ہے۔ اس لئے عام حضرات کیلئے یہ کتاب تفہیم کے لحاظ سے کچھ مشکل ہو سکتی ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم اپنے قارئین سے درخواست کریں گے کہ وہ پھر بھی اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

     

     

  • 17 اسلام اور برٹش لاء (جمعرات 14 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2297

    دنیابھر میں اسلام اور دہشت گردی کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کرنے کے لیے بہت سے حلقے اور حکومتیں سرگرم ہیں۔مغربی میڈیا، نظام تعلیم، صحافت، داخلی و خارجی پالیسیاں اوردیگر ذرائع ابلاغ اس دوڑ میں سب سے نمایاں ہیں۔بارہویں صدی سے لگاتارمسیحی چرچ نے نبی کریم ﷺ کو طاقت اور ہوس کے جنون میں مبتلافردباور کرانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو خون کے پیاسے اور شہوت پرست مطلق العنّان عربوں کے روپ میں پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ اسلام کے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو انتشار و خلفشاراورمختلف قسم کے شکوک و شبہات کا ایک جال بچھایا جارہاہے۔ خیر القرون سے لے کر دورحاضر تک یہودی و نصرانی ہمیشہ سے صفِ اوّل کے اسلام مخالف ثابت ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ برٹش ایک سامراجی مملکت کا نام ہے۔ انسانی حقوق کےسب سے بڑےعلمبردار کہلوانے والے در حقیقت نسل انسانی کے سب سے بڑے غاصب اور قاتل ہیں۔ اگر حقائق پر نظر رکھی جائے تو پچھلے پچاس (50) برسوں میں برٹش کئی وسیع پیمانے پر ہونے والی جنگوں میں ملوث رہا ہے۔جبکہ اسلام اس کے برعکس امن و سلامتی، اخوت، اور مساوات کا دین ہے۔ اسلام ایک واحد مذہب ہے جو غیر مسلموں کو بھی تحفظ اور پناہ بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور برٹش لاء" مولانا ابو الوفا ثناء اللہ مرحوم امرتسریؒ کی تصنیف ہے۔ مولانا مرحومؒ نے ان حالات میں اپنی کتاب کو تصنیف کیا جب انگریز برصغیر پر اپنی پوری قوت کے ساتھ مسلط تھا۔ قانون سازی کے تمام اختیارات گورنر جنرل کے ہاتھ میں تھے۔ ان حالات میں حضرت مولانا مرحومؒ یہ کتاب لکھ کر جہاں رائج الوقت قوانین کی خامیوں اور کوتاہیوں پ...

  • 18 اسلام اور جدید فکری مسائل (جمعرات 17 اگست 2017ء)

    مشاہدات:2558

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام اور جدید فکری مسائل ‘‘ مولانا خالد سیف رحمانی کی کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور شریعت اسلامی سے متعلق ملکی و عالمی سطح پر پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈوں کا سنجیدہ جائزہ لیا گیا ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کی عقل ۃ فطرت اور حکمت و مصلحت سے ہم آہنگی پر روشنی ڈالی گئی ہے نیز موجودہ دور میں پیش آنے والے حدید فکری مسائل پر دعوتی و تذکیری اسلوب میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اسلامی نقظۂ کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 19 اسلام اور جدید فکری مسائل (جمعرات 17 اگست 2017ء)

    مشاہدات:2558

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام اور جدید فکری مسائل ‘‘ مولانا خالد سیف رحمانی کی کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور شریعت اسلامی سے متعلق ملکی و عالمی سطح پر پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈوں کا سنجیدہ جائزہ لیا گیا ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کی عقل ۃ فطرت اور حکمت و مصلحت سے ہم آہنگی پر روشنی ڈالی گئی ہے نیز موجودہ دور میں پیش آنے والے حدید فکری مسائل پر دعوتی و تذکیری اسلوب میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اسلامی نقظۂ کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 20 اسلام اور جدید فکری مسائل (جمعرات 17 اگست 2017ء)

    مشاہدات:2558

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام اور جدید فکری مسائل ‘‘ مولانا خالد سیف رحمانی کی کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور شریعت اسلامی سے متعلق ملکی و عالمی سطح پر پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈوں کا سنجیدہ جائزہ لیا گیا ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کی عقل ۃ فطرت اور حکمت و مصلحت سے ہم آہنگی پر روشنی ڈالی گئی ہے نیز موجودہ دور میں پیش آنے والے حدید فکری مسائل پر دعوتی و تذکیری اسلوب میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اسلامی نقظۂ کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1090
  • اس ہفتے کے قارئین: 5580
  • اس ماہ کے قارئین: 39601
  • کل قارئین : 47860472

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں