مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور

11 کل کتب
دکھائیں

  • 1 مسئلہ سود اور غیر سودی مالیات (جمعہ 16 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:18634

    احترام مساجد، حرمت قرآن اور ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں جانیں قربان کر دینے کی حد تک زود حس واقع ہونے والی ہماری قوم سود کے معاملے میں جو بموجب حکم خداوندی "خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھلی جنگ ہے" بالکل بے حس ثابت ہوئی ہے۔ اتنی بڑی تنبیہہ ہمارے جذبات و احساسات میں کوئی ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہیں کرپاتی اور سود سے ہم اتنی بھی کراہت محسوس نہیں کرتے جتنی  کہ شراب اور لحم خنزیر سے۔ اس میں ہمارے ان علماء کا بھی دخل ہے جو سود اور ربا کے درمیان فرق کر کے سود کو مباح قرار دیتے ہیں اور ان نام نہاد روشن خیال دانشوروں کا بھی جن کا ایمان ہے کہ آج کے دور میں سودی بینکاری کے بغیر کسی ملک کا معاشی نظام چل ہی نہیں سکتا۔

    زیر تبصرہ کتاب اسلامی معاشیات کے ماہر اور حکومت پاکستان کی آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں اعلیٰ عہدہ پر فائز شخصیت محمد اکرم خان کی تالیف ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں انہوں نے سود اور ربا میں تفریق کی گمراہی کا پردہ چاک کیا ہے اور دوسرے حصے میں غیر سودی مالیات کی معقول اور قابل عمل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

    سود 
  • 2 منہج انقلاب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (اتوار 18 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:28625

    محترم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ایک عظیم داعی قرآن تھے جن کی شبانہ روز  محنت سے نہ صرف وطن عزیز بلکہ بے شمار دیگر ممالک میں بھی قرآن کریم کی دعوت پھیلی اور لوگ مطالعہ قرآن کی جانب راغب ہوئے محترم ڈاکٹر صاحب قرآن حکیم کی تجدید ایمان کا وسیلہ قرار دیتے تھے اور ایمان وعمل کی تجدید سے قیام خلافت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کےلیے سرگرم عمل تھے اس سلسلہ میں انہوں نے انقلاب بپا کرنے کا ایک مفصل پروگرام بھی تشکیل دے رکھا تھا جو ان کے بقول قرآن مجید اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ تھازیر نظر کتاب ''منہج انقلاب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم''بھی اسی موضوع پرہے ا س میں محترم ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے سیرت النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اولاً مراحل انقلاب کی تعیین فرمائی او راو ربعدازاں رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو مراحل انقلاب کی توضیح وتفصیل کے پہلو سے بیان  کیا ہے کتاب مذکور میں مندرجہ جزئی تفصیلات سے تو بلاشبہ کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ ان کا ثبوت کتب سیرت میں موجود ہے تاہم محترم ڈاکٹر صاحب مرحوم کے استدلال اوراستنباط و استنتاج پربحث ونظر کی گنجائش موجود ہے خصوصاً یہ نکتہ تجزیہ ومناقشہ کا طالب ہے کہ کیا سیرت سے تشریعی امور پراشتہاد ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اس لیے کہ ارباب اصول کے ہاں اخذواستدلال کے اسالیب میں حدیث وسنت کا تذکرہ توملتا ہے تاہم سیرت کا لفظ یااصطلاح مستعمل نہیں کتب سیرت میں دراصل نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال وآثار کو موضوع بحث بنایا جاتاہے ان سے استنباطِ امور شرعیہ مقصود نہیں ہوتا شرعی مع...

  • 3 آسان عربی گرائمر- حصہ اول (بدھ 29 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:18525

    ہمارے ہاں مدارس دینیہ میں ابتدائی طالبان علم کو عربی سے شدبد کے لیے علم نحو اور علم صرف کی ایسی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو نہ صرف اپنے اسلوب نگارش کے لحاظ سے کافی قدیم ہیں بلکہ ابتدائی طالب علم کے لیےان کو حل کرنا قدرے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ زیر نظر  کتاب ’آسان عربی گرامر‘ میں لطف الرحمن خان نے عربی قواعد کے حوالہ سے تمام تر مشکلات کا نہایت آسان اور قابل قدر حل پیش کیا ہے وہ طالب علم جو عربی زبان سے آشنائی چاہتے ہیں ان کےلیے یہ کتاب ایک نسخہ کیمیا ہے۔ یہ کتاب مولوی عبدالستار مرحوم کی کتاب ’عربی کا معلم‘ میں چند حک و اضافے اور ترتیب میں ردو بدل کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس  میں عربی قواعد کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مثالوں سے ان کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ ہر سبق کے اخیر میں سبق سے متعلقہ مشقوں نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے ان مشقوں کو حل کرنے سے طالب علم کی عربی استعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یقیناً یہ کتاب قابل تحسین بھی ہے اور اس قابل بھی کہ مدارس دینیہ اس کو اپنے نصاب میں جگہ دیں۔

     

     

  • 4 اسلامی قانون ارتداد (جمعرات 07 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:61034

    مرتد کی سزائے قتل کے معاملے میں آنحضرتﷺ کے زمانے سے لے کر عہد حاضرتک تمام ائمہ مجتہدین اور علمائے شریعت کا اتفاق رائے پایا جاتا ہے، لیکن ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا ایک مغرب زدہ گروہ احادیث نبوی، آثار صحابہ، ائمہ مجتہدین کی آرا اور چودہ سو سالہ تعامل کے علم الرغم مرتد کی سزائے قتل کو جائز نہیں سمجھتا۔ ایسے میں محترم ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن  نے زیر نظر کتاب لکھ کر اسلامی قانون میں ارتداد کی سزا سے متعلق کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ یہ کتاب اسلامی قانون میں مرتد کی سزا، مالی تصرفات پر پابندی، وصیت و میراث سے محرومی اور اس کی اولاد کے بارے میں متعلقہ احکام پر مشتمل ہے۔ اس میں سب سے پہلے ارتداد کے لغوی اور شرعی معنی کو قرآن، حدیث اور مستند کتب فقہ کی عبارتوں کے ذریعہ مشخص کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ارتداد کی شرائط ذکر کرنے کے بعد ارتداد کے اثرات اور نتائج سے بحث کی گئی ہے۔ یہ اثرات و نتائج مرتد کی ذات سے متعلق ہیں۔ موجودہ دور میں اہمیت کے اعتبار سے مرتد کی ذات سے متعلق احکام اور بالخصوص ’مرتد کی سزائے قتل‘ کے بارے میں مفصل گفتگو کی گئی ہے۔ مرتد کے بارے میں شرعی نقطہ نظر جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔(ع۔م)
     

  • 5 شہید مظلوم (جمعہ 26 نومبر 2010ء)

    مشاہدات:20042

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر لوگوں میں سے ہیں جن کے طرز عمل، اور اقوال و افعال کی لوگ اقتداء کرتے ہیں آپ کی سیرت، ایمان، صحیح اسلامی جذبہ اور دین اسلام کے فہم سلیم کے قوی مصادر میں سے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں اسی شخصیت کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ آج ایک مخصوص طبقہ کی جانب سے ایک ایسی شخصیت پر دشنام طرازی کا بازار گرم کیا جاتا ہے  جس نے وحدت اسلامیہ کی بقا کے پیش نظر کلمہ گو فسادیوں کے خلاف تلوار نہ اٹھائی۔اپنی پوری زندگی پیکر صدق و وفا اور امام عزم و استقامت بنے رہے۔ آپ نے اپنے اوپر اچھالے جانے والے تمام اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔ یہ کتاب فی زمانہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ذوالنورین کی عظمت کو ثابت کرتی ہے اور قارئین کے سامنے یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ ایمان و علم، اخلاق و آثار کے ساتھ انتہائی عظیم انسان تھے۔ آپ کی عظمت اسلام کے فہم و تطبیق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی اتباع کا نتیجہ تھی۔
     

  • رسول ِ اکرم ﷺ جس وقت دنیا میں  مبعوث ہوئے اور نبوت سے سرفراز کئے گئے وہ دور دنیا کا نہایت عجیب اور تاریک ترین دور تھا،  ظلم وستم،  ناانصافی و حقوق تلفی،  جبر وتشدد،  خدافراموشی و توحید بیزاری عام تھی،  اخلاق وشرافت کا بحران تھا،  اور انسان ایک دوسرے کے دشمن بن کر زندگی گزارہے تھے،  ہمدردی اور محبت کے جذبات،  اخوت و مودت کے احساسات ختم ہوچکے تھے،  معمولی باتوں  پر لڑائی جھگڑااور سالہاسال تک جنگ وجدال کا سلسلہ چلتا تھا،  ایسے دور میں  آپ ﷺ تشریف لائے،  اور پھر قرآنی تعلیمات ونبوی ہدایات کے ذریعہ دنیا کو بدلا، عرب وعجم میں  انقلاب برپاکیا،  عدل وانصاف کو پروان چڑھایا، حقوق کی ادائیگی کے جذبوں  کو ابھارا، احترام ِ انسانیت کی تعلیم دی،  قتل وغارت گری سے انسانوں  کو روکا،  عورتوں  کومقام ومرتبہ عطاکیا،  غلاموں  کو عزت سے نوازا، یتیموں  پر دست ِ شفقت رکھا، ایثاروقربانی،  خلوص ووفاداری کے مزاج کو پیدا کیا، احسانات ِ خداوندی سے آگاہ کیا، مقصد ِ حیات سے باخبر کیا، رب سے ٹوٹے ہوئے رشتوں  کو جوڑا، جبین ِ عبدیت کو خدا کے سامنے ٹیکنے کا سبق پڑھا یااور توحید کی تعلیمات سے دنیا کو ایک نئی صبح عطا کی،  تاریکیوں  کے دور کا خاتمہ فرمایا، اسلام کی ضیاپاش کرنوں  سے کائنات ِ ارضی کو روشن ومنور کردیا۔  نبی اکرم ﷺ کا یقینا انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ بھی ہے کہ آپ نے بھولی بھٹکی انسانیت کو پھر سے خدا کے در پر پہنچایا او...

  • 7 راہ نجات سورۃ العصر کی روشنی میں (جمعہ 10 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2809

    سورۃ العصر قرآن  حکیم کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے ۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نےزمانے کی قسم کھا کر کہا ہے کہ بالعموم انسان خسارے میں ہے سوائے  اس آدمی کے جس کے اندر وہ چار صفات پائی جائیں جن کا ذکر آیت نمبر 3 میں آیا ہے ۔خوش قسمتی سےاس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ تقریبا سب کےسب اردو میں عام طور پر مستعمل ہیں  اور ایک عام اردو دان بھی ان سے  بہت حدتک مانوس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ  کاسرسری مفہوم تقریبا ہر شخص  فوراً جان لیتا ہے اوراس میں کسی قسم کی دقت محسوس نہیں کرتا۔اپنے مضامین کے   اعتبار سے  قرآن مجید کی  ایک  عظیم الشان سورت ہے  امام شافعی﷫ نے اس کےبارے  میں فرمایا کہ ’’ اگر  لوگ تنہا اسی ایک سورۃ پر غور کریں تو یہ ان کے لیے  کافی ہوجائے ‘‘ یہ سورۃ کل تین آیات پر مشتمل ہے  او راس کی دوسری  آیت عددی اعتبار ہی  سے نہیں بلکہ مفہوم کے  لحاظ سے بھی مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ اس میں یہ درد ناک حقیقت بطور کلیہ بیان ہوئی  ہے کہ ’’انسان بالعموم اور بحیثیت مجموعی خسارے میں ہے ۔ پہلی آیت میں  اس حقیقتِ کبریٰ کے دلائل وشواہد کوصرف ایک  قَسم میں سمو کر پیش کردیاگیا ہے ۔ جبکہ تیسری آیت اس کلیے سے ایک استثناء کو بیان کررہی ہے۔اس سورۃ کے  دو حصے  ہیں  ایک دعویٰ اور اس کی دلیل پر مشتمل ہونےکی بناپر انتہائی گہری  علمی اہمیت کا حامل ہے  جبکہ دوسرا جز  عملی اعتبار سے انتہائی اہم&nbs...

  • 8 جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ (منگل 15 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1970

    دین اسلام ایک سراپا رحمت، عفو درگزری، تحمل اور بردباری کا مذہب ہے۔ جہاں دین اسلام نے ملکی سرحدوں کے دفاع کے احکام و مسائل سے آگاہ کیا ہے وہاں اسلام کی نظریاتی حدود کی حفاظت لازم قرار دی ہے۔ اسلامی نظریاتی حدود سے مراد اصلاح انسانیت ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک مغالطہ ذہنوں میں بٹھا دیا گیا ہے جو کہ جہاد اور قتال کو مترداف معنی مراد لیا جا رہا ہے ارشاد ربانی ہے"وجاھد ھم بہ جھاداً کبیرا"(الفرقان:52)۔ اس آیت مبارکہ میں فعل امر کے ساتھ آپﷺ کو یہ تاکید کی جا رہی ہے اس کتاب(قرآن مجید) کے ساتھ آپ جہاد کیجیے جبکہ قتال نام ہے دین اسلام کے دشمنوں سے محاذ آرائی کرنا، میدان مقتل میں فاتح و مغلوب ہونا۔ آپ ﷺ نےاپنے دور مکی میں تزکیہ نفس کیا اور لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرتے رہے اسی کتاب اللہ کے ساتھ مشرکین مکہ سے جہاد کرتے رہے۔ زیر نظر کتاب"جہاد با لقراٰن اور اس کے پانچ محاذ" مولانا ڈاکٹر اسرار احمد کے فکر انگیز درس کو شیخ جمیل الرحمٰن نے نہایت محنت کے ساتھ احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے کتابی شکل میں ڈھالا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ڈاکٹر صاحبؒ اپنے درس"جہاد بالقراٰن" کے موضوع کے تحت بے پناہ علمی نکات سے عوام الناس اور علماء کو آشنا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحبؒ کو غریق رحمت فرمائے اور شیخ جمیل الرحمٰن کو بھی اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • کتاب وسنت میں یہ امر پوری  طرح واضح کر دیاگیا ہے کہ دنیا کی یہ موجودہ زندگی عارضی اور فانی ہے۔ اصل اور حقیقی زندگی آخرت کی ہے،لہذا ہمیں  اس کی فکر کرنی چاہیے۔نبی کریم ﷺ نے  اس دنیا کے خاتمے یعنی قیامت برپا ہونے  کی متعدد چھوٹی اور بڑی نشانیاں  اور علامات بتلائی ہیں۔ علامات قیامت سے مراد قیامت کی  وہ نشانیاں ہیں جن کا ظہور قیامت سے قبل ہوگا، مثلاً امام مہدی کاظہور، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا اور اﷲ کے غضب سے ہلاک ہو جانا، سورج کا مغرب سے نکلنا، آگ کا ظاہر ہونا وغیرہ یہ سب علامات قیامت ہیں۔ اس طرح جب قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہوں گی پھر حکم الٰہی سے سیدنا اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے جس سے سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ کو منظور ہوگا دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔قیامت کی ان نشانیوں  میں سے ایک بڑی نشانی امام مہدی کا ظہور بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " امت مسلمہ کی عمر اور مستقبل قریب میں مہدی کے ظہور کا امکان " جامعہ ازہر مصر کے پروفیسر امین محمد جمال الدین کی عربی تصنیف"عمر امۃ الاسلام وقرب ظھور المھدی" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم پروفیسر خورشید عالم صاحب نے کیا ہے۔مولف کے خیال میں  عصر حاضر میں قیامت کی متعدد چھوٹی نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اور اب قیامت بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگا میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب جلد اول (جمعرات 23 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1282

    قرآن حکیم‘ رب کائنات کانہایت بابرکت اور پُر عظمت کلام ہے جو نبی آخر الزماں محمد رسول اللہﷺ کے ذریعے نوعِ انسانی کو عطاہوا۔ یہ در اصل نوعِ انسانی کے نام اللہ جل شانہ کے آخری اور کامل ترین پیغام ہدایت کا درجہ رکھتا ہے۔یوں تو قرآن حکیم پوری نوع انسانی کے لیے ہدایت کا خورشید تاباں بن کر نازل ہوار‘ اور اسی لیے اس کے بالکل آغاز ہی میں یعنی سورۃ البقرۃ کے تیسرے  ہی رکوع میں نوع انسانی سے براہ راست خطاب’’یا ایہا الناس‘‘ کے الفاظ سے ہوا‘ تاہم اس میں انسانوں کے مختلف طبقات سے علیحدہ علیحدہ بھی خطاب کیا گیا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں قرآن مجید کا ایک خاص نصاب ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ نصاب جس کا نقظۂ آغاز سورۃ العصر ہے‘ نہایت مؤثر اور مفید مطلب ثابت ہوا۔نصاب میں قرآن مجید کے اُن مقامات کو اہتمام کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جن میں خطاب براہ راست مسلمانوں سے ہے اور یوں مسلمانوں کی فکری وعملی رہنمائی پر مشتمل یہ جامع نصاب قرآنی دروس قرآنی  شکل میں بہت وسیع حلقے تک پھیلا۔ یہ دروس اصلاً چوالیس کیسٹوں میں تھے جنہیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کر کے ضروری ترمیم کے بعد سلسلہ وارشائع کیا گیا  ‘ پھر طلباء کی سہولت کے لیے ہر کیسٹ کو کتابی شکل دی گئی اس کے بعد سب کیسٹوں کو ایک کتابی شکل دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس میں چند ایک بڑے نصاب یہ ہیں۔ انسان کی انفرادی زندگی کی رہنمائی کے لیے سورۂ لقمان کا دوسرا اور سورۂ فرقان کا آخری رکوع‘ عائلی زندگی سے متعلق سورۂ تحریم مکمل‘ قومی‘ ملی اورسیاسی زندگی کی رہنمائی ک...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 958
  • اس ہفتے کے قارئین: 4612
  • اس ماہ کے قارئین: 32861
  • کل قارئین : 46457969

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں