دکھائیں کتب
  • 1 ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار (پیر 04 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:507

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر حافظ احمد یار صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص پروفیسر حافظ احمد یار کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ت...

  • 2 ارمغان پروفیسر ملک محمد اسلم (اتوار 03 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:464

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر ملک محمد اسلم صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص ملک محمد اسلم کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر ملک محمد اسلم ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ...

  • 3 ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی (پیر 04 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:486

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام علامہ علاؤ الدین صدیقی صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص علامہ علاؤ الدین صدیقی کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو...

  • 4 اسلام کا نظام اخلاق وادب (منگل 11 فروری 2014ء)

    مشاہدات:17963
    اسلام ادب وآداب اور اخلاق و حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کی زندگی اچھے اخلاق کا سب سے بڑا نمونہ نظر آتی ہے۔ بڑوں کےساتھ عزت سے پیش آنا چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ آپﷺکی زندگی کا خاصہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر انسان سے اس قسم کا رویہ مطلوب ہے۔ ابوحمزہ عبدالخالق مستقل مزاجی کے ساتھ بہت سے موضوعات پر تحقیقی کام سامنے لا رہے ہیں۔ ’اسلام کا نظام اخلاق وادب‘ کے نام سے بھی موصوف کا اہم علمی کام سامنےآیاہے۔ کتاب کو انھوں نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے پہلے حصے میں آداب پر عمومی گفتگو کی گئی ہے دوسرا حصہ اچھے اخلاق پر مشتمل ہے جس میں تزکیہ نفس، شرم و حیا، پردہ پوشی اور سچ بولنا جیسے موضوعات شامل ہیں جبکہ تیسرا حصہ برے اخلاق کے عنوان سے ہے جس میں غیبت، چغلی، حسد، بغض اور بدگمانی جیسے موضاعت شامل اشاعت ہیں۔ کوئی بھی بات بلا حوالہ نقل نہیں کی گئی۔ (عین۔ م)

  • 5 اصطلاحات حدیث تعریف اور تشریح (منگل 11 فروری 2014ء)

    مشاہدات:20103

    احادیث رسولﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے جہاں علم جرح و تعدیل، علم تاریخ الرواۃ اور معرفۃعلل الحدیث جیسے علوم وجود میں آئے وہیں اس سلسلہ میں کسی بھی غلطی سے محفوظ رہنے کے لیے علم مصطلح الحدیث وجود میں لایا گیا۔ احادیث کا مطالعہ اور ان سے استنباط و استخراج اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اصطلاحات حدیث کا پورا درک نہ ہو جائے۔ زیر مطالعہ کتاب اسی سلسلے کی ایک اہم کڑیہ ہے۔ اصطلاحات حدیث پر بہت سی عربی اور اردو کتب میں موجود ہیں لیکن اس کتاب کی افادیت اس وجہ سے زیادہ ہے کہ اس میں اختلافی اقوال کے ذکر اور مسائل کو پھیلا کر بیان کرنے سے گریز کیا گیا ہے اور حدیث کے قواعد و اصطلاحات کو عام فہم انداز میں نقل کیا گیا ہے۔کتاب کا اردو ترجمہ مظفر حسین ندوی نے کیا ہے۔ ترجمہ اس اعتبار سے زیادہ قابل اعتماد ہو گیا ہے کہ اس کی ایک نظر ثانی مولانا تاج الدین ازہری اور دوسری نظر ثانی مولانا عبدالقیوم نے کی ہے۔ (عین۔ م)

  • 6 اقبال سید سلیمان ندوی کی نظر میں (پیر 12 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:552

    علامہ محمد اقبالؒ ہماری قوم کے رہبر و رہنما تھے،آپ کو شاعر مشرق کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مشرق کے جذبات و احساسات کی جس طرح ترجمانی کا حق اقبال مرحوم نے ادا کیا ہے اس طرح کسی دوسرے نے نہیں کیا ہے ۔شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پرواز درست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔۔ ان کی شاعری عروج رفتہ کی صدا ہے ۔ ان کے افکار و نظریات عظمت مسلم کے لئے ایک بہترین توجیہ اور جواز فراہم کرتے ہیں،اوراسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثرپیغام ہے ۔ان کی شاعری میں نری جذباتیت نہیں بلکہ وہ حرکت وعمل کاایک مثبت درس ہے ۔اس سے انسان میں خودی کے جذبے پروان چڑھتے ہیں اورملت کاتصورنکھرتاہے ۔بنابریں یہ کہاجاسکتاہے کہ اقبال نے اسلامی تعلیمات کونظم میں بیان کیاہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اقبال سید سلیمان ندوی کی نظر میں‘‘ اختر راہی کی تصنیف ہے۔ جس میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی ’اسرار خودی‘، رموز بے خودی، خضرِ راہ، پیام مشرق، مثنوی مسافر، بال جبریل، ضرب کلیم اور دیگر اقبال سے متعلق افکار پر سید سلیمان ندوی کے نظریات کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 7 اقبال سے ایک انٹرویو (جمعرات 08 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:974

    علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف،قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی ،بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ) کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔اقبال کے آبا ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ زیر تبصرہ کتاب"...

  • 8 اقبال کامل (بدھ 05 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1520

    علامہ محمد اقبالؒ ہماری قوم کے رہبر و رہنما تھے،آپ کو شاعر مشرق کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مشرق کے جذبات و احساسات کی جس طرح ترجمانی کا حق اقبال مرحوم نے ادا کیا ہے اس طرح کسی دوسرے نے نہیں کیا ہے ۔شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پرواز درست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔۔ ان کی شاعری عروج رفتہ کی صدا ہے ۔ ان کے افکار و نظریات عظمت مسلم کے لئے ایک بہترین توجیہ اور جواز فراہم کرتے ہیں،اوراسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثرپیغام ہے ۔ان کی شاعری میں نری جذباتیت نہیں بلکہ وہ حرکت وعمل کاایک مثبت درس ہے ۔اس سے  انسان میں خودی کے جذبے پروان چڑھتے ہیں اورملت کاتصورنکھرتاہے ۔بنابریں یہ کہاجاسکتاہے کہ اقبال نے اسلامی تعلیمات کونظم میں بیان کیاہے۔تاہم یہ بات بھی ملحوظ خاطررکھناضروری ہے کہ علامہ عالم دین نہ تھے ہمارے ملی شاعرتھے اوربس  ۔ زیر تبصرہ کتاب" اقبال کامل "انڈیا کے معروف عالم دین مولانا عبد السلام ندوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے علامہ اقبال کی مفصل سوانح حیات کے ساتھ ساتھ ان کی تصنیفات اور ان کے فلسفہ اور شاعری پر نقد وتبصرہ بھی کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 9 اقبال کی ابتدائی زندگی (پیر 12 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:621

    علامہ محمد اقبالؒ ہماری قوم کے رہبر و رہنما تھے،آپ کو شاعر مشرق کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مشرق کے جذبات و احساسات کی جس طرح ترجمانی کا حق اقبال مرحوم نے ادا کیا ہے اس طرح کسی دوسرے نے نہیں کیا ہے ۔شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پرواز درست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔۔ ان کی شاعری عروج رفتہ کی صدا ہے ۔ ان کے افکار و نظریات عظمت مسلم کے لئے ایک بہترین توجیہ اور جواز فراہم کرتے ہیں،اوراسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثرپیغام ہے ۔ان کی شاعری میں نری جذباتیت نہیں بلکہ وہ حرکت وعمل کاایک مثبت درس ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اقبال کی ابتدائی زندگی‘‘ ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین کی تصنیف ہے۔ جس میں ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کے خاندان کا تعارف اور ان کی ساری زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔امام ابن تیمیہ کی حیات وخدمات کےحوالے سے عربی زبان میں کئی کتب اور یونیورسٹیوں میں ایم فل ، پی ایچ ڈی کے مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں ۔ اردو زبان میں امام صاحب کے حوالے سے کئی کتب اور رسائل وجرائد میں سیکڑوں مضامین ومقالات شائع ہوچکے ہیں ۔ چند کتب قابل ذکر ہیں ۔ابو زہرہ کی کتاب جس کاعربی سے اردو میں ترجمہ رئیس احمد جعفری ندوی نے کیاہے حضرت امام پر تحقیق کاحق ادا رکردیا۔ مولانا ابو الحسن ندوی﷫ نے اپنی مشہور تصنیف ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد دوم امام ابن تیمیہ کےلیے وقف کردی اورڈاکٹر غلام جیلانی برق نے ان پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۔زیر تبص...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 753
  • اس ہفتے کے قارئین: 4214
  • اس ماہ کے قارئین: 10431
  • کل مشاہدات: 41278415

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں