اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

عبد المعید مدنی

  • نام : عبد المعید مدنی

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #3154

    مصنف : عبد المعید مدنی

    مشاہدات : 3070

    تصوف دین یا بے دینی

    (تصوف دین یا بے دینی) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    تصوف ایک انسانی روحانی تجربہ ہے اسے دین وشریعت کا نام نہیں مل سکتا ہے اور ہر صوفی کاتجربہ دوسرے صوفی سےجدا ہوتا ہے اوراس تجربے میں جس قدر تعمق آتاجاتا ہے گمراہی اسی قدر بڑھتی جاتی ہے اس تجربے کےلیے انسان کو ہر قدم پر شریعت سے دو ر ہٹنا پڑتا ہے اور تجربے میں جس قد ر تعمق ہوگا اس کے بقدر انسان شریعت سےدور ہٹے گا۔ اور یہ تجربہ کسی حدودوقید کا پابند نہیں ہے ۔اس لیے اس میں ارتقاء آتا گیا اورگمراہیاں بڑھتی گئیں اوراس آزادئ فکر پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا اگر تصوف کسی پابندی کوبرا داشت کرلے توتصوف تصوف نہ رہ جائے گا تصوف کا مسلک ہی آزادی اور اباحیت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب جناب عبد المعیدمدنی ﷾ کے تصوف کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ اس میں انہوں نے تصوف کی شرعیت، عملیت، فعالیت اور مضرت پر بات کی ہے اور یہ نتیجہ ظاہر کیا ہے کہ تصوف ہر اعتبار سے دین سے خارج شئی ہے او رگمراہی کا منبع، دنیا میں کوئی نظریہ تصوف سے زیادہ گمراہ کن اور فاسد نہیں ہے او ردین کی قرآن وسنت سے ثابت شدہ باتوں پر تصوف کا عنوان لگانا بہت بڑی جسارت ہےجو معافی کے لائق نہیں ہے۔ (م۔ا)

  • 2 #3155

    مصنف : عبد المعید مدنی

    مشاہدات : 2038

    یہودی ریاست اور اس کی تباہ کاریاں

    (یہودی ریاست اور اس کی تباہ کاریاں) ناشر : نا معلوم

    14 مئی 1948ء وہ المناک دن تھا، جس نے مشرقِ وُسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اُس روز شہر تل ابیب کے ایک عجائب گھر میں ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ محض چند ایک غیر واضح بلیک اینڈ وائٹ تصاویر، ہلتے ہوئے کیمرے سے بنی ایک مختصر سی فلم اور انتہائی خراب کوالٹی کا صوتی ریکارڈ ہی اِس واقعے کے گواہ ہیں۔ ان تصاویر میں یہودیوں کی خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ ڈیوڈ بن گوریان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کے پیچھے دیوار پر صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہیرسل کی تصویر آویزاں ہے۔ بن گوریان کے بائیں ہاتھ میں وہ دستاویز ہے، جس پر اعلانِ آزادی کی عبارت درج ہے۔ بن گوریان نے کہا تھا: ’’اسرائیل ہی میں یہودی قوم نے جنم لیا تھا اور یہیں اُس کے فکری، مذہبی اور سیاسی وجود کی آبیاری ہوئی۔‘‘ اور یہ کہ طاقت کے زور پر در بدر کی جانے والی یہودی قوم جلا وطنی کے دور میں بھی اپنے آبائی وطن کے ساتھ وفاداری کا دم بھرتی رہی۔ مزید یہ کہ اُس کی اپنے وطن واپسی کی امید ہمیشہ زندہ رہی۔ پھر بن گوریان نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اعلان کیا:’’ہم یہاں اسرائیلی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ ہے ریاست اسرائیل۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" یہودی ریاست اور اس کی تباہ کاریاں " شیخ عبد المعید مدنی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی ناجائز ریاست اور تباہ کاریوں کا تذکرہ کیا ہے۔(راسخ)

  • 3 #3202

    مصنف : عبد المعید مدنی

    مشاہدات : 2701

    خارجیت جدیدہ کا عظیم فتنہ

    (خارجیت جدیدہ کا عظیم فتنہ) ناشر : نا معلوم

    متوازن فکر اور معتدل سوچ اور پھر ان کے مطابق رویہ بنانا انسانی زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ معتدل سوچ اور معتدل رویہ انسان کے لیے کامیابی کی دلیل ہوتی ہے اور ضمانت بھی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انساان بلاوجہ لوگوں کی دل آزاری اور فکری و ذہنی انتشار کا سبب نہیں بنتا ہے اور نئی الجھنیں اور پریشانیاں نہیں لاتا ہے۔ عدم توازان کی ایک نہایت سطحی شکل یہ ہے اور وہ بھی فساد عام کا نتیجہ ہے کہ انسان دین کے نام پر کسی معمولی سی بات کو اساسی اور اصولی مسئلہ بنا دے، یا ایک مباح شے کو عین اسلام یا عین کفر بتانا شروع کردے۔باہمی نزاعات کو عین دین بتانا شروع کردے، کفر سازی اور فتنہ سازی کو مہم جوئی بنا ڈالے۔ علم کی بو بھی سونگھنے کی صلاحیت نہ ہو لیکن علّامہ بننے کی کوشش کرے۔ دعوت و افتاء کا کاروبار کرنے لگے اور اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر لوگ اچھلنا شروع کردیں۔بے اعتدالی کی یہ ساری شکلیں اس وقت علمی و دعوتی دائرے میں نظر آتی ہیں اور ان پر اتنا اصرار ہے کہ خارجیت شاداب ہورہی ہے اور اس کے علائم صاف نظر آرہے ہیں۔ عالم اسلام ان دنوں بڑی ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے۔ قدم قدم پہ مسائل کا انبار اور  خارجی سازشوں سے لے کر داخلی پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دراز ہوتا جاتا  ہے۔ یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئي سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ زیر تبصرہ کتاب "خارجیت جدیدہ کا عظیم فتنہ" شیخ عبد المعید مدنی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی فکری عدم توازن اور خارجیت جدیدہ پر شاندار بحث کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 #4321

    مصنف : عبد المعید مدنی

    مشاہدات : 4031

    حدائق بخشش کا ایک جائزہ

    (حدائق بخشش کا ایک جائزہ) ناشر : ادارہ دعوۃ الاسلام، مؤناتھ بھنجن، پو پی

    یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ ہمارا ملک خالص کتاب وسنت پر مبنی مکمل اسلام کے تعارفی نا م کلمہ طیبہ کے مقدس نعرہ پر معرض و جود میں آیا تھا۔جس کا ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ 1956ء، 1963ء اور پھر 1973ء کے ہر آئین میں اس ملک کانام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان لکھا جاتا رہاہے اور سر فہرست یہ تصریح بھی ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا اور کتاب و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایاجائے گا۔ 1973ء کے منظور شدہ آئین وہ آئین ہےجس پربریلوی مکتبِ فکر کے سیاسی لیڈرشاہ احمد نورانی، مولوی عبدالمصطفیٰ الازہری وغیرہما کے بھی دستخط ثبت ہیں۔ اسی طرح جب صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے اسلامی نظام کی طرف پیش رفت کی ایمان پرور نوید سنائی تھی۔ جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب اس مملکت میں نظریاتی مقاصد ہی نہیں بلکہ در پیش سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، اور تمدنی مسائل کے حل کی راہیں بھی کھل جائیں گی۔ مگر افسوس ۔۔۔کہ احناف کے ایک گروہ نے تمام مذکورہ حقائق اور ملکی تقاضوں سے آنکھیں موندکر کتاب وسنت کو نظرانداز کرتے ہوئے فقہ حنفی کے نفاذ کا نعرہ بلند کیااور ملتان کے قاسم باغ سے یہ مطالبہ کر دیا کہ چونکہ فتاویٰ عالمگیری ہماری مکمل قانونی دستاویز ہے اور اس کا ہر ہر فتویٰ قرآن وحدیث کا عطر اور جوہر ہے۔ لہذا اس کو عوام میں نافذ کردیاجائے۔ زیر تبصرہ کتاب"حدائق بخشش کا ایک جائزہ" مولانا عبدالمعید مدنی کی تصنیف ہے۔ "حدائق بخشش" فاضل بریلوی کے کلام کا مجموعہ ہے برصغیر میں اس کتاب کو سب سے زیادہ پڑھا گیا اور چھاپا گیا۔ مگر اس کے با وجود یہ کلام دینی نقطہ نظر سے اتنہائی گمراہ کن اور تضاد سے بھری پڑی ہے۔ عشقِ رسول میں آکر اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کو کل صفات میں(نعوذ باللہ) ہم پلہ بنا دیا گیا ہے۔ مولانا موصوف نے قرآن سنت کی روشنی میں ان کی شرکیہ شاعری کا محاسبہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ رب العزت ان کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 5 #4649

    مصنف : عبد المعید مدنی

    مشاہدات : 2241

    تحریکی رجحان (جماعت اسلامی کی بنیادی کمزورریاں)

    (تحریکی رجحان (جماعت اسلامی کی بنیادی کمزورریاں)) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    مسلمانوں کے اندر وہ لوگ جو اہل سنت گردانے جاتے ہیں یا جن کو اہل سنت کہا جاتا ہے یا جو خود کو اہل سنت کہلوانا پسند کرتے ہیں عمومی طور پر ان کے اندر تین طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ 1۔ سلفی رجحان، 2۔ تحریکی رجحان اور 3۔ صوفی رجحان۔برصغیر میں ان تینوں رجحانات کی نمائندہ جماعتیں موجود ہیں۔ جماعت اہل حدیث سلفی رجحان کی نمائندہ ہے، جماعت اسلامی اور تمام تجدد پسند تحریکی وعصرانی رجحان کی نمائندہ ہیں اور دیو بندی وبریلوی جماعتیں صوفی رجحان کی نمائندہ ہیں۔ ہر رجحان کے اپنے افکار ومعتقدات اور اصول وضوابط ہیں اور ان کے مطابق ان کی چلت پھرت اور نشاطات وتحرکات ہیں۔جماعت اسلامی جو کہ تحریکی رجحان کی مالک ہے اس میں بعض ایسی چیزیں بھی پائی جاتی ہیں جو قابل اعتراض ہ ہیں اور ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تحریکی رجحان، جماعت اسلامی کی بنیادی کمزوریاں" انڈیا کے عالم دین مولانا عبد المعید مدنی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے انہی رجحانات کی روشنی میں جماعت اسلامی کی بنیادی کمزوریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1688
  • اس ہفتے کے قارئین 7673
  • اس ماہ کے قارئین 46067
  • کل قارئین49333897

موضوعاتی فہرست