دکھائیں کتب
  • 1 اپنی جمہوریت !یہ دنیا نہ آخرت (جمعرات 22 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:17625

    ہرمسلمان کی خواہش ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کانفاذ ہو لیکن اس کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اس میں اختلاف ہے ایک بڑاطبقہ موجودہ جمہوری نظام کے ذریعے نفاذ اسلام کی کوششوں میں مصروف ہے اگرچہ 60 سال سے اس سے خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تاہم اسلامی انقلاب اور حکومت الہیہ کے نعروں کی حامل جماعتیں آج بھی اسی میدان میں زو رلگا رہی ہیں اس کےبرعکس ایک حلقے کی رائےہے کہ جمہوریت کے ذریعے اسلام نہیں آسکتا زیرنظر کتابچے میں اسی کی ترجمانی کی گئی ہے مروجہ جمہوریت کےحق میں جودلائل دیئے جاتے ہیں ان کابھي اس میں جائزہ لیا گیا ہے نیز بعض جلیل القدر اہل علم مثلاًمحمد قطب اور علامہ البانی وغیرہ کی رائے بھی شامل ہے

     

  • 2 خلافت و جمہوریت (جمعرات 27 اگست 2009ء)

    مشاہدات:20576

    جس طرح سوشلزم سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری انتہاء ہے بالکل اسی طرح موجودہ جمہوریت شخصی اور استبدادی حکومت کی دوسری انتہاء ہے- اسلام ہر معاملہ میں راہ اعتدال کو ترجیح دیتا ہے اسی لیے اس نے خلافت کا نظام متعارف کروایا ہے جس میں  ہر شخص کو اس کا جائز حق  عطا کیا جاتاہے- زیر نظر کتاب میں خلافت  وجمہوریت اور اس کی ضمنی مباحث کو تحقیقی اور علمی امانت کے ساتھ سپرد قلم کیا گیا ہے- کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے-پہلے حصے میں خلفائے راشدین کا انتخاب  کس طرح عمل میں آیا ، پر تفصیلی بحث کی گئی ہےپھر  اس کے ضمن میں دیگر مباحث جن میں عورت کے ووٹ کا حق اور طلب امارت یا اس کی آرزو جیسے مسائل پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا گیاہے-کتاب کے دوسرے حصے میں دور نبوی اور خلفائے راشدین میں مشہور مجالس مشاورت اور اس کی ضمنی مباحث کو درج کیا گیاہے پھر ان تمام اعتراضات اور اشکالات کا حل پیش کیا گیا ہے جو جمہویت نوازوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں-کتاب کے تیسرے اور آخری حصے میں ربط ملت کے تقاضے اور اسلامی نظام کی طرف پیش رفت  میں ایک مجمل سا خاکہ پیش کرتے ہوئے مغربی جمہوریت کے مزعومہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے- جس سے اس بحث کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ موجودہ وقت میں اسلامی نظام حیات کی طرف کیسے پیش رفت کی جاسکتی ہے-

     

  • 3 خلافت و ملوکیت ۔ تاریخی و شرعی حیثیت (جمعہ 21 مئی 2010ء)

    مشاہدات:19629

    ملوکیت یعنی بادشاہت کے معائب و نقائص اور اس کی ہلاکت خیزیوں کو ابھار کر، جمہوریت کا "الحمرا" تعمیر کرنےوالوں میں ایک نام مودودی صاحب کا بھی ہے۔ جسے انہوں نے "خلافت و ملوکیت" نامی کتاب لکھ کر خوب واضح کیا ہے۔ جس میں مودودی صاحب نے پہلے تو تاریخی روایات کے متفرق جزئی واقعات کو چن چن کر جمع کیا ، پھر انہیں مربوط فلسفہ بنا کر پیش کیا، جزئیات سے کلیات کو اخذ کر لیا اور پھر ان پر ایسے جلی اور چبھتے ہوئے عنوانات صحابہ کرام کی طرف منسوب کر کے جما دئے کہ جنہیں آج کی صدی کا فاسق ترین شخص بھی اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرے۔ یہ نہ تو دین و ملت کی کوئی خدمت ہے، نہ اسے اسلامی تاریخ کا صحیح مطالعہ کہا جا سکتا ہے۔ البتہ اسے تاریخ سازی کہنا بجا ہوگا۔ یہ بات طے ہے کہ جو حضرات اپنے خیال میں بڑی نیک نیتی، اخلاص اور بقول ان کے وقت کے اہم ترین تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے قبائح صحابہ کو ایک مرتب فلسفہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اسے "تحقیق" کا نام دیتے ہیں، انہیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تسویدِ اوراق کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ جدید نسل کو دین کے نام پر دین سے بیزار کر دیا جائے۔ اور ہر ایرے غیرے کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔

    مودودی صاحب کی اس کتاب نے صحابیت کے قصر رفیع میں جو نقب زنی کی ہے خصوصاً حضرت عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہم کا جو کردار اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے، وہ لائق مذمت ہے۔ ان کی اس کتاب کی تردید میں اگرچہ  متعدد کتابیں اور مضامین شائع ہو چکے ہیں لیکن حافظ صلاح الدی...

  • 4 خلافت ہمارے جملہ مسائل کا حل (جمعہ 18 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1631

    دنیا میں پیدا ہونے والا ہر فرد اللہ تعالی کا خلیفہ یا دوسرے لفظوں میں اس کے دئیے ہوئے اختیارات کو ایک مدت تک استعمال کرنے پر قادر ہے۔البتہ کاروبار حیات چلانے کے لئے ہر شخص اپنی اپنی خلافت کا ایک اس شخصیت میں مرتکز کرنے کا پابند ہے جسے اسلام کی زبان میں خلیفۃ المسلمین کہا جاتا ہے،اور جو اس نظام کا سربراہ ہوتا ہے جس نظام کو اللہ تعالی اس دنیا میں برپا اور رواں دواں دیکھنا چاہتے ہیں۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" خلافت ہمارے جملہ مسائل کا حل"محترم جناب چودھری رحمت علی صاحب کی تصنیف ہے۔مولف نے اپنی اس کتاب میں اسلامی نظام خلافت  کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 مسئلہ خلافت (جمعرات 16 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:16444

    مولانا ابو الکلام آزاد جہاں تقریر و خطابت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں ایک عالی مرتبت عالم دین کی ہستی بھی ان کے اندر موجود ہے۔ جس کا حقیقی اندازہ مولانا کی زیر نظر کتاب ’مسئلہ خلافت‘ کے مطالعے سے ہوگا۔ خلافت کے موضوع پر متعدد کتب سامنے آ چکی ہیں لیکن مولانا نے اس کتاب میں جس طرح موضوع بحث کو سمیٹا ہے یہ انہی کا خاصہ ہے۔ انہوں نے خلافت سے متعلقہ حارث اشعری کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے امامت و خلافت کی شرائط بیان کی ہیں اور اس پر نصوص سنت اور اجماع اشمت سے دلائل ثبت کئے ہیں۔ حکمران کے خلاف کے خروج کے تناظر میں واقعہ امام حسین پر روشنی ڈالتے ہوئے بحث کو مسلمانان ہند خلافت سلاطین عثمانیہ تک لے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں جزیرہ عرب کی تحدید، ترک موالات اور مسلمانان ہند اور نظم جماعت جیسے موضوعات بھی کتاب کی زینت ہیں۔

     

  • 6 مغربی جمہوریت حقیقت اور سراب (ہفتہ 14 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:5645

    مذہب سے اظہاربیزاری کرکےاپنی عقل کی بنیادپرجو سیاسی نظام انسان  نے وضع کیاہےاس دورجدیدمیں اسے جمہوریت کہتےہیں ۔ جمہوریت کو اساس اہل یورپ نےفراہم کی ۔پھربعد میں مسلمانوں نے اسےاپنایا۔مسلمانوں جب اسے اپنایاتو اس میں بنیادی طور پر تین طرح کی آراتھیں ۔پہلی یہ کہ اسے مکمل رد کردیاجائےدوسری یہ تھی کہ اسےمکمل قبول کرلیاجائے جبکہ بعض کےہاں اسے قبول توکیا جائے لیکن ترمیم و اضافےکےساتھ ۔زیرنظرکتاب اولیں نقطہ کی حامل ہے جس میں مصنف نے عقلی ،فطری ،اخلاقی اور شرعی بنیادوں پر اس کاکھوکلا پن ثابت کرکےدکھادیاہے۔موصوف کاکہناہےکہ گزشتہ دوصدیوں سے دنیاجمہوریت کاتجربہ کررہی ہے ۔جس میں اسے مسلسل ناکامی کا سامناکرناپڑرہاہے۔اور آئندہ بھی اس کی کامیابی کوئی امکانات نظر نہیں آرہےسو بہتر یہی ہےکہ اسلام کا دیاہوانظام خلافت جوکہ ایک فطر ی نظام ہےمسلمانوں کو چاہیےکہ اسے اپنائیں۔کیونکہ اس میں ہی ان کی کامیابی کاراز ہے۔اس کےعلاوہ یہ ہےکہ دنیاکی دیگر اقوام کو اگرظاہر ی طورپر کچھ کامیابی مل بھی جاتی ہےاس سے یہ دوکھانہیں کھاناچاہیےکہ مسلمانوں کو بھی اس سے کامیابی ممکن ہوکیونکہ اس امت کی اساس ہی دیگرہے۔(ع۔ح)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 859
  • اس ہفتے کے قارئین: 7904
  • اس ماہ کے قارئین: 35598
  • کل قارئین : 45948565

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں