کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #231

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 22360

    احادیث ہدایہ---فنی وتحقیقی حیثیت

    (ہفتہ 16 جنوری 2010ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    اس وقت پوری دنیا خصوصاً برصغیر پاک وہند میں فقہ حنفی کو خاصی پذیرائی حاصل ہے اور بلاتردد فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'الہدایۃ' کو کتاب وسنت کا نچوڑ قرار دیا جاتا ہے-  یہ دعوی کس حد تک درست ہے ؟ اور کیا 'ہدایۃ' فی الواقع قرآن کی طرح ہے؟  اس کا شافی اور تسلی بخش جواب ہمیں اس کتاب میں ملے گا-  جس میں ''الہدایۃ''  میں بیان کردہ من گھڑت روایات، اوہام الہدایۃ اور صاحب ہدایۃ کی تضاد بیانیاں جیسے متعدد موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے اس کی مکمل فنی وتحقیقی حیثیت آشکارا کی گئی ہے-  اصل میں اب سے  کچھ عرصہ قبل مولانا محمد یوسف جے پوری نے 'حقیقۃ الفقہ' کے نام سے کتاب لکھی جس میں احادیث ہدایۃ پر نقد وتبصرہ کیا گیا تھا جس پر ایک حنفی عالم نے ماہنامہ 'البینات' میں ایک لمبا چوڑا مضمون لکھ مارا جس کےجواب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے استحقاق حق اور ابطال باطل کا فرض ادا کرتے ہوئے تفصیلی مضامین قلمبند کیے – زیر مطالعہ کتاب کچھ حک واضافہ کے ساتھ انہی مضامین کی یکجا صورت ہے- کتاب کے مطالعے  سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ فقہی مسلک کتاب وسنت کی مکمل تفسیر نہیں بلکہ اس بحر بے کنار کا ایک قطرہ ہے-

     

  • 2 #110

    مصنف : حافظ ندیم ظہیر

    مشاہدات : 20600

    جعلی جزء کی کہانی اور علمائے ربانی

    (جمعہ 27 مارچ 2009ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    کچھ ہی عرصہ پہلے بریلوی مکتب فکر کی طرف سے "الجزء المفقود من الجرز الاول من المصنف" عربی میں اور "مصنف عبد الرزاق کی پہلی جلد کے دس گم گشتہ ابواب" اردو میں چھپے ہیں جو الجزء الموضوع (جعلی جزء) کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ اس "دریافت" میں بریلوی حضرات نے حدیث نور سمیت اپنے دیگر باطل عقائد کو سہارا دینے کیلئے احادیث کو گھڑا ہے۔ جس کا رد عالم اسلام کے بہت سے طبقات کی طرف سے کیا گیا ہے۔ عربی و عجمی علماء نے مختلف انداز میں اس نسخہ کا بطلان بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے نام پر سینکڑوں بدعات کو فروغ دینے والے احباب کیلئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کتنے خطرناک طریق پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ و بہتان باندھ رہے ہیں۔ مسلکی تعصب اور تقلیدی جمود کے نتائج ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس کتاب میں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ سمیت ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ، محمد یحیٰ گوندلوی، محمد داؤد ارشد کے علمی مقالات شامل ہیں۔  یہ کتاب ہر اس رہِ گم کردہ مسلمان کو فکر انگیز دعوت دیتی ہے جو ابھی اخلاص کی کچھ مقدار اور ایمان کی کچھ رمق دل میں تازہ رکھتا ہے۔
     

  • 3 #3579

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 1657

    حق بات

    (جمعہ 04 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    نبی کریم ﷺ نے جس طرح حدیث کو حاصل کر کی ترغیب دی اور اس کےحاملین کے لیے دعا فرمائی اسی طرح حدیث وضع کرنے یا حدیث کے نام پر کوئی غلط بات آپﷺ کی طرف منسوب کرنے سے سختی سے منع فرمایا اور اایسےلوگوکو نارجہنم کی وعید سنائی ہے اور اسی طرح علماء اور محدثین نے بھی اس کے متعلق سخت موقف اختیار کیا ان کے نزدیک حدیث کووضع کرنے والا اسی سلوک کا مستحق جو سلوک مرتد اور مفسد کےساتھ کیا جاتاہے ۔وضع حدیث کی ابتدا ہجرت نبوی ﷺ کے چالیس سال بعد ہوئی حدیث وضع کرنے میں سرفہرست روافض تھے خوفِ خدا اور خوف آخرت سے بے نیازی نے اس معاملہ میں ان کو اتنا جری بنا دیا کہ وہ ہر چیز کو حدیث بنادیتے تھے ۔علمائے اسلام نے واضعین کے مقابلہ میں قابل قدر خدمات انجام د ی انہوں نے ایسے اصول وقواعد مرتب کیے او ر موضوع حدیث کی ایسی علامتیں بتائیں جس سے موضوع احادیث کےپہچاننے میں بڑی آسانی ہوتی ہےاو ر موضوع احادیث پر مشتمل کتب لکھیں تاکہ لوگ ایسی ا حادیث سےباخبر ہوجائیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حق بات‘‘ ڈاکٹر محمد اسحاق رانا ﷫ کی کاوش ہے ۔ اس کتابچہ میں انہوں نے زبان زد عام حدیث’’ اطلبو العلم ولو کان بالصین‘‘ کی علمی تحقیق ملکی وغیر ملکی معروف علماء کے فتاویٰ کی روشنی میں مرتب کی ہے۔نیز اس میں اس حدیث کے علاوہ مزید 9 احادیث کی تحقیق کی بھی اس میں شامل ہے ۔ان دس جھوٹی تحقیق شدہ احادیث کے تقابل میں صحیح احادیث بھی پیش کردگئی ہیں تاکہ اتباع سنت محمد ﷺ کر کے جھوٹی احادیث کی وعید سے بچا جاسکے ۔اس کے علاوہ اس کتابچہ میں علوم حدیث کی بعض معروف اصطلاحات اور طبقات کے لحاظ سے راویوں کےنقشہ جات شامل اشاعت کردئیے گیے تاکہ قارئین ان کے مطالعہ سے صحیح اور جھوٹی حدیث کی حقیقت معلوم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں ضعیف اور موضوع احادیث پر عمل کرنے کی بجائے احادیث ِصحیحہ پر ہی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 4 #3771

    مصنف : محمد یوسف راجووالوی

    مشاہدات : 2326

    رسالہ مطمئنہ در تحقیق مسنہ

    (منگل 24 نومبر 2015ء) ناشر : جامعہ کمالیہ راجووال

    ماہِ ذوالحج سال بھرکے بعدجب آتاہے توجذبۂ تسلیم ورضاء اورجذبۂ ایثاروقربانی بھی ہمراہ لاتا ہے۔قمری سال کے اس آخری مہینے کامقدس چاند جونہی طلوع ہوتاہے،تسلیم ورضاکی لازوال داستان کی یادبھی ساتھ لاتا ہے۔ اس ماہ کی دس،گیارہ اوربارہ تاریخ کودنیابھرکے کروڑوں صاحب نصاب مسلمان اسوۂ ابراہیمی کی یادتازہ کرنے کیلئے قربانی کرتے ہیں۔عیدقربان!مسلمانوں کاعظیم مذہبی تہوارہے جوہرسال 12-11-10 ذوالحجہ کوانتہائی عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت،ذوق وشوق،جوش وخروش اورجذبۂ ایثارو قربانی کے منایاجاتاہے۔اس دن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپناتن،من ،دہن قربان کرنے کے عہدکی تجدیدہوتی ہے اوریہی مسلمانوں کی عید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے عظیم فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقدس ذکر قیامت تک فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتا رہے گا۔قرآن وحدیث کے صحیفوں میں محفوظ رہے گااور آسمان کی رفعتوں اور زمین کی وسعتوں میں ہرسال یونہی تازہ اورزندہ ہوتارہے گا۔قربانی کے جانور کی صفات شریعت نے تفصیل سےبیان کر دی ہیں،جن میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ جانور کم از کم "مسنہ"یعنی دودانت والا ہو، اور اگر ایسا جانور نہ مل سکے تو تنگی کی صورت میں ایک سال کا کھیرا مینڈھا کیا جس سکتا ہے۔لیکن افسوس کہ بعض  لوگ کھیرا چھترا ہی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک حوصلہ افزاء طرز عمل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " رسالہ مطمئنہ در تحقیق مسنہ"محترم مولانا محمد یوسف راجووالوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دلائل کے ساتھ مسنہ کی تحقیق کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #734

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹرعصمت اللہ

    مشاہدات : 22179

    غزوہ ہند

    (ہفتہ 27 نومبر 2010ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود جس جنگ میں شرکت کی ہو اس غزوہ کا نام دیا جاتا ہے ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے ایسے فرامین بھی جاری ہوئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے بعد ہونے والی جنگوں اور معرکوں کو بھی غزوہ کا نام دیا ان میں سے ایک غزوہ ہند سے متعلق نبوی پیشگوئی ہے۔ زیر نظر مختصر سی کتاب میں پروفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب نے غزوہ ہند سے متعلق اسی نبوی پیشگوئی کو موضوع بحث بنایا ہے۔ بہت سے اہل علم حضرات غزوہ ہند سے متعلق احادیث کا تو تذکرہ کرتے ہیں لیکن حوالوں سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ مصنف نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ بے شمار کتب مصادر کو کھنگالنے کے بعد موضوع سے متعلق تمام احادیث کو جمع کیا، ترتیب دے کر ان کا درجہ بلحاظ صحت و ضعف معلوم کیا پھر ان ارشادات نبوی سے ملنے والے اشارات و حقائق اور پیشگوئیوں کو آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے مدلل انداز میں واضح کیا ہے کہ خلافت راشدہ سے قیامت تک ہندوستان کے خلاف جتنے بھی حملے ہوں کے ان میں شریک لوگ غزوہ ہند میں ہی تصور کیے جائیں گے۔

  • 6 #6855

    مصنف : ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی

    مشاہدات : 1744

    یزید بن معاویہ اور جیش مغفورلہم ( جابر دامانوی )

    (ہفتہ 19 جنوری 2019ء) ناشر : ابوجابر سلفی لائبریری کیماڑی

    کسی بھی مسلمان کی  عزت وآبرو کا دفاع کرنا انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص  اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے ، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔(ترمذی:1931)اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا  کہ  کسی بھی مسلمان کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔یزید بن معاویہ ؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ ﷜کے بیٹے ہیں۔بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔یزید بن معاویہ کے متعلق  بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ قسطنطنیہ کے اس لشکر کا سپہ سالار تھا کہ جس نے سب سے پہلے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کی تھی اور حدیث میں  اس  لشکر کو مغفور لہم کے لیے پروانہ مغفرت  کی  بشارت سنائی گئی ہے ۔ زیر نظر   کتاب ’’یزید بن معاویہ اور جیش مغفور لہم‘‘  ڈاکٹر ابو جابر دامانوی ﷾ کے  ماہنامہ محدث  ،لاہور  میں جنوری 2010ء شائع شدہ مضمون کی کتابی صورت ہے ۔ڈاکٹر دامانوی  مضمون کے جواب میں  مولاناعبد الولی حقانی  اور  ڈاکٹر حافظ شریف شاکر نے  مضامیں تحریرکیے     جو  ماہنامہ  محدث ۔لاہور کے شمارہ  اپر یل 2010ء اور نومبر 2012ء  میں شائع ہوئے ۔ ڈاکٹر دامانوی نے اپنے مضمون میں  ناقابل تردید دلائل سے ثابت کیا کہ یزید بن معاویہ  قسطنطنیہ  پر حملہ کرنے والوں میں  سب  سے آخری لشکر میں شریک ہوا تھا  سیدنا محمود بن الربیع  کے جس قول سے یزید کا پہلے لشکر میں شامل ہونا ثاتب کیا جاتا ہے  ڈاکٹر دامانوی نے اسی قول سے اس کا  سب سے آخری لشکر میں شامل ہونا ثابت کیا ہے ۔ ڈاکٹر دامانوی صاحب نے   ماہنامہ محدث کے مطبوعہ مضامین کو  کتابی صور ت میں مرتب وقت  اسے چار  حصوں میں تقسیم کیا ہے  حصہ اول  : جیش مغفور  کا سپہ سالار کون تھا؟۔ حصہ دوم : لشکر قسطنطنیہ اور امارت یزید کا مسئلہ اور کیا جیش مغفور لہم کے سالار معاویہ  تھا؟ پر تبصرہ ۔  حصہ  سوم  جیشِ مغفور کے سالار پر تحقیق مزید؟۔ حصہ چہارم : یزید بن معاویہ کی شخصیت قرآن وحدیث ، اقوال صحابہ کرام وسلف صالحین کی روشنی میں ۔ کے عناوین  کے نام  سے  ہے  ۔(م۔ا) 

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1392
  • اس ہفتے کے قارئین 5256
  • اس ماہ کے قارئین 43650
  • کل قارئین49302302

موضوعاتی فہرست