ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

10 کل کتب
دکھائیں

  • 1 کیا نبی رحمتﷺ مغموم بھی ہوجاتے تھے؟ (جمعہ 07 فروری 2014ء)

    مشاہدات:3371

    بعض لوگوں کا  عقیدہ کہ نبیﷺ عام  انسانوں کی  طرح  پریشان ومغموم نہیں ہوتے تھے جبکہ یہ  عقیدہ  صریحا اسلامی عقاید اور  سلف صالحین کے عقیدہ کے خلاف ہے  کیونکہ جتنے بھی انبیاء اور رسل اللہ تعالی نے معبوث فرمائے وہ سب کے سب نسل آدم علیہ  السلام میں سے  انسان اور بشر ہواکرتے تھے اور اللہ نے  بشر کوہی  اشرف المخلوقات قرار دیاہے  بشر کایہ خاصہ ہےکہ  وہ دنیا  میں غم،خوشی ،دکھ ،سکھ غرضیکہ دنیا میں ہر قسم کے اثرات سےمتاثر ہوتا ہے   چونکہ نبی رحمت حضرت محمد بن عبد اللہ  بشرتھے اللہ   تعالی  نے ان  کوافضل البشر اور خاتم الانبیاء بناکر دنیا میں مبعوث فرمایا  لہذا بتقاضائے بشریت ان کا غم اور خوشی کے اثرات سے متاثر ہونا ضروری ہے ۔ نیز یہ عقیدہ یا خیال رکھنا کہ وہ مغموم نہیں ہوسکتے تھے  دین میں غلو اور عقیدہ اسلام کے منافی ہے ۔محترم ڈاکٹر رانامخمد اسحاق   ( فاضل مدینہ  یونیورسٹی  جوکہ  متعدد  کتب  کے  مؤلف  ہیں )نے زیر نظر کتابچہ  میں قرآن  واحادیث کی  روشنی میں  متعدد قرآنی آیات و احادیث اور اقعات  پیش کر کے  ثابت کیا ہےکہ نبی ﷺ بھی عام انسانوں کی طرح مغموم ہوجایا کرتےتھے ۔(م۔ا)
     

  • 2 قبر اور عذاب قبر (ہفتہ 08 فروری 2014ء)

    مشاہدات:3684

    عذاب  قبر دین اسلام کے    بنیادی  عقائد میں   سے  ایک  اہم   ترین عقیدہ   ہے۔ عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق ہونے  والے  اور بے دین افراد اگرچہ  عذاب قبر کا  انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ اس کے  برحق ہونے پر کتاب  وسنت میں  دلائل کے انبار موجود  ہیں ۔تمام  اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں ۔ عقیدہ  عذاب  قبر اس قدر اہم ہے کہ اس پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ   کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی  ہیں اور اسی طرح اردو زبان میں بھی کئی  جید علماء کرام  اور  اہل علم نے  اثبات عذاب قبر اور منکرین عذاب قبر کےرد میں کتب ومضامین لکھے  ہیں۔   زیر نظر کتابچہ بھی  اسی مسئلہ کے متعلق ہے جس میں کتاب وسنت کی روشنی دلائل وبراہین سے ثابت کیا گیا ہے کہ  عذاب قبر برحق ہے۔(م۔ا)
     

  • 3 علوم حدیث رسول صلی ا للہ علیہ وسلم (پیر 11 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2698

    علم حدیث  کی قدر ومنزلت اور شرف وقار صرف اس لیے ہےکہ  یہ شریعت اسلامی  میں قرآن پاک کے بعد دوسرا بڑا  مصدر ہے ۔علم حدیث ارشادات واعمال رسول اللہ ﷺ کامظہر  اور نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی کا عملی عکس ہے جو ہر مسلمان کی شب وروز زندگی کے لیے بہترین نمونہ  ہے ۔جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے  اس زبان کے قواعد واصول  کو سمجھنا ضروری ہے  اسی طر حدیث نبویﷺ میں مہارت حاصل  کرنےکے لیے  اصول  حدیث میں دسترس  اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے  اس علم کی اہمیت  کے  پیش نظر  ائمہ محدثین اور اصول حدیث  کی  مہارت رکھنےوالوں  نے  اس موضوع پر  کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً  امام شافعی نے الرسالہ کے  نام سے  کتاب تحریرکی  پھر اس کی روشنی میں  دیگر اہل  علم نے کتب  مرتب کیں۔زیر نظر کتاب ’’علوم حدیث رسول ﷺ‘‘  ڈاکٹر ر انا محمد اسحاق ﷫(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی علوم حدیث کےسلسلے میں  آسان فہم  تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں  نے حدیث وسنت کی  تعریف  اور ان کے فرق  کو واضح کر تے ہوئے  معروف اصطلاحات ِحدیث کو  بیان  کرنے  کے علاوہ  مکتوباتِ  نبوی  ،کاتبینِ  وحی ،کتابتِ حدیث کے ادواراور کتب ِاحادیث کےطبقات کوبھی بڑے احسن انداز میں  بیان کیا ہے  ۔ اللہ تعالی  فاضل مصنف کی  اس کاوش کو قبول  فرمائے اور اسے  طالبانِ ع...

  • 4 مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (ہفتہ 30 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1920

    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی کریمﷺ کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔اس شہر میں بہت سے تاریخی نشانات ، اور بکثرت اسلامی آثار وعلامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت ورفعت شان کا پتہ چلتا ہے۔اس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں ۔سیدنا عبد اللہ بن زید  نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا:سیدناابراہیم  نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم  نے مکہ حرم  قرار دیا، میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں یہاں کے مُد میں  اس کے صاع میں (برکت ہو) جس طرح ابراہیم  نے مکہ کے لئے دعاکی۔سیدناجابر بن عبد اللہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: مدینہ لوہار کی بھٹی کے مثل ہے جو یہاں کے خبث وگندگی کو دور کرتا ہے اور اچھائی کو نکھارتا ہے،سیدناابو ہریرہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: بلا شبہ ایمان مدینہ میں  اسطرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں آجاتا ہے۔یہ اور اس معنی کی متعدد احادیث سے مدینہ منورہ کے فضائل ومناقب کا علم ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مدینۃ النبی ﷺ "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق ﷫اور ان کے فرزند ارجمند ڈاکٹر رانا خالد مدنی ﷾کی تصنیف وتحقیق ہے۔جس میں انہوں نے مدینہ منورہ سے...

  • 5 نماز تراویح (رانا اسحاق ) (جمعہ 18 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:1479

    صحیح احادیث  کے مطابق  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر   کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام   کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں  او ر حضرت عمر   نے   بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتابچہ’’ 20 نماز تراویح‘‘دراصل  17 فروری 1994ء  نوائےوقت میں ’’نماز تراویح کی اہمیت‘‘ کے عنوان  سےشائع ہونے والے ایک آرٹیکل کےجواب  تحریرکیا  گیا تھا ۔نوائے  وقت کےمضمون  نگار نے  موطا امام مالک کی  ایک  حدیث کو  خلط ملط   کر کے  نماز تراویح کی تعداد بتائی  جس پر  جناب ڈاکٹررانا  محمد اسحاق﷫ نےایڈیٹر نوائے وقت اور مضمون نگار کو آگاہ کیا  مگر کسی نے جواب نہ دیا تو  موصوف نے یہ مضمون  کتابچہ کی صورت میں شائع کردیا ۔ تاکہ مسنون تراویح کی آٹھ رکعات کے  واضح اور ٹھوس دلائل سے عوام الناس واقف ہوکر اس پر عمل پیرا ہوسکیں او ر ڈاکٹر  رانا محمد اسحاق  ﷫نے ...

  • 6 تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت (پیر 06 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:4853

    اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”التمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے  ہر طرح کے تعویذات  کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو  جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری ،لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ جاہلیت کی ہیں، جن سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔سلف صالحین، حضرات صحابہ وتابعین ، ائمہ و محدثین کرام اور دیگر اہل علم کی رائے کے مطابق یہی بات راجح اور صحیح بھی ہے کہ تعویذ خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی اس کا لٹکانا حرام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت"محترم رانا ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  تعویذ گنڈے کی حقیقت،تعویذ گنڈے کے مفاسد...

  • 7 الجہاد (رانا اسحاق) (منگل 08 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2630

    جہاد دینِ اسلام کی چھوٹی ہے ۔جہاد اعلائے کلمۃ اللہ کا سب سے بڑا سبب او رمظلوموں ومقہوروں کو عد ل انصاف فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کےبعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنےوالے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔ جہادکی اہمیت وفضلیت کے حوالے سے کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں او رکئی اہل علم نے اس پر مستقبل عربی اردوزبان میں کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’الجہاد‘‘ڈاکٹر محمداسحاق رانا ﷫ کی کاوش ہے ۔جسے انہوں نے مدینہ کےقیام کےدوران تحریر کیا تھا اس کتابچہ میں قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کے فضائل بیان کیے ہیں ۔موصوف 1974ء تا 1980ء تک مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے ۔ آپ اس کے علاوہ بھی کئی چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ہیں۔ (م۔ا)

  • 8 حق بات (جمعہ 04 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1566

    نبی کریم ﷺ نے جس طرح حدیث کو حاصل کر کی ترغیب دی اور اس کےحاملین کے لیے دعا فرمائی اسی طرح حدیث وضع کرنے یا حدیث کے نام پر کوئی غلط بات آپﷺ کی طرف منسوب کرنے سے سختی سے منع فرمایا اور اایسےلوگوکو نارجہنم کی وعید سنائی ہے اور اسی طرح علماء اور محدثین نے بھی اس کے متعلق سخت موقف اختیار کیا ان کے نزدیک حدیث کووضع کرنے والا اسی سلوک کا مستحق جو سلوک مرتد اور مفسد کےساتھ کیا جاتاہے ۔وضع حدیث کی ابتدا ہجرت نبوی ﷺ کے چالیس سال بعد ہوئی حدیث وضع کرنے میں سرفہرست روافض تھے خوفِ خدا اور خوف آخرت سے بے نیازی نے اس معاملہ میں ان کو اتنا جری بنا دیا کہ وہ ہر چیز کو حدیث بنادیتے تھے ۔علمائے اسلام نے واضعین کے مقابلہ میں قابل قدر خدمات انجام د ی انہوں نے ایسے اصول وقواعد مرتب کیے او ر موضوع حدیث کی ایسی علامتیں بتائیں جس سے موضوع احادیث کےپہچاننے میں بڑی آسانی ہوتی ہےاو ر موضوع احادیث پر مشتمل کتب لکھیں تاکہ لوگ ایسی ا حادیث سےباخبر ہوجائیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حق بات&lsquo...

  • 9 نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت (جمعہ 11 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2794

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت ‘‘ ڈاکٹر محمد اسحاق رانا﷫ کا تصنیف شدہ ہے۔اس کتابچہ میں انہوں نےایسی 37 صحیح ترین احادیث جمع کردی ہ...

  • 10 نماز کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت (اتوار 04 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:3085

    دعا عبادت کا مغز ہے یا عین عبادت ہے۔ دعا کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے اور اللہ تعالی سے اس کی مدد مانگی جا سکتی ہے۔لیکن فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنے کے حوالے سے اہل علم کے درمیان دو رائے چلی آ رہی ہیں اور دونوں ہی غلو،مبالغے اور تشدد پر مبنی ہیں۔کچھ لوگ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کو بدعت قرار دیتے ہیں تو کچھ لوگ فرض نماز کے بعد دعا مانگنے کو ضروری اور فرض قرار دیتے ہیں۔یہ دونوں موقف ہی غلو اور تشدد پر مبنی ہیں۔دعا کرنا بھی اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے۔جس پر کوئی بھی کسی قسم کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔جس وقت کوئی چاہے، جب چاہے،جس طرح چاہے دعا کرے۔انفرادی دعا یا اجتماعی دعا اس پر کوئی مثبت یا منفی پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نماز کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تحقیق وتخریج محترم مولانا خالد مدنی صاحب نے فرمائی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں دعا کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)


2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 نماز نفل کتاب وسنت کی روشنی میں (اتوار 22 اگست 2010ء)

    مشاہدات:22177

    پروردگار کی بندگی کا سب سے اعلی اظہار نماز سے ہوتا ہے  یہی وجہ ہے کہ ہمار ے پیغمبر اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نفلی نمازوں کابھی بکثرت اہتمام کیا کرتے تھے نفل نماز بہت اہمیت کی حامل ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے روز قیامت اگر فرائض میں کمی ہوئی تو وہ نوافل سے پوری کردی جائے گی فلہذا ہمیں بھی نفل نماز کی ادائیگی کےلیے سعی وکاوش کرنی چاہئے زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف نے کتاب وسنت کی روشنی میں بڑے ہی خوبصورت اندازمیں نماز نفل کی اہمیت وفضیلت اور اس کے احکام ومسائل پرروشنی  ڈالی ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نماز نفل کی کون سی صورتیں ہوسکتی ہیں اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ پاک سے ان کی مشروعیت کہاں تک ثابت ہے آج جب کہ فرائض سے بھی غفلت برتی جارہی ہے ضرورت ہے کہ نماز کی اہمیت کو جانا جائے اور فرائض کے ساتھ نفل نماز کی بھی پابندی کی جائے اس کے لیے زیر نظر کتاب کامطالعہ انتہائی ممدو ومعاون ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ


     

  • 2 حقیقت شہادتین (ہفتہ 12 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:1673

    مسلمان کو سب سےزیادہ جس چیز کا اہتمام کرنا چاہیے او رجس چیز پر اسے سب سے زیادہ حریص ہونا چاہیے وہ وہ چیز ہے جس کا تعلق امو رِعقیدہ اوراصولِ عبادت سے ہے کیونکہ عقیدے کی سلامتی اور نبی کریمﷺ کی اتباع یہی دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن پر اعمال کی قبولیت کا دارمدار ہے اور یہی بندۂ مومن کے لیے نفع بخش ہیں ۔ زیر نظر کتاب ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے جوکہ امورِ عقیدہ سے متعلق اس عظیم کلمہ کی وضاحت پر مشتمل ہے جس کے لیے مخلوق کو پید اکیا گیا ،رسولوں کو مبعوث کیا گیا، کتابیں نازل کی گئیں اور جس کی بنا پر لوگ مومنوں اور کافروں میں تقسیم ہوگئے اورخوش نصیب اہل جنت اور بد نصیب اہل جہنم میں بٹ گئے اس کتاب میں اسی کلمۂ توحید کے فضائل ،معانی ،ارکان ، شروط اور نواقض اور اسی طرح اس کلمۂ طیبہ کے دوسرے جزء محمد رسول اللہﷺ کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ۔کتاب کے ترجمےکا کام '' زاد الخطیب'' کے مؤلف ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾ نے سر انجام دیا ہے حافظ صاحب اس کتاب کے علاوہ متعدد کتب کے مترجم ومؤلف بھی ہیں اللہ تعالیٰ اشاعت دین کے سلسلے میں مصنف ومترجم کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور اس کتاب کواپنے بندوں کے لیے نفع مند بنائے (آمین)(م۔ا)

     

     


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1874
  • اس ہفتے کے قارئین: 12478
  • اس ماہ کے قارئین: 31771
  • کل قارئین : 47788544

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں