کل کتب 20

دکھائیں
کتب
  • 1 #3543

    مصنف : عبد السلام بن محمد

    مشاہدات : 4463

    احکام زکاۃ و عشر و صدقہ فطر

    (اتوار 06 ستمبر 2015ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔مال ودولت اورزمین وغیرہ میں اگر زکاۃ وعشر نکال کر اسے اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کیا جائے تو اللہ رب العالمین کی طرف سے انعام واکرام ہے ورنہ یہ سب کچھ فتنہ وآزمائش بن جاتا ہے جو لوگ اللہ کے حکم کے مطابق مال ودولت پاک کرنا چاہتے ہیں تو ان کےلیے اگرچہ قرآن وحدیث اور کتب فقہ میں رہنمائی موجود ہے لیکن عام آدمی کےلیے اس کی تمام صورتوں کو آسانی سے سمجھنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ احکام ِ زکاۃ وعشر وصدقہ فطر‘‘ میں محترم حافظ عبد السلام بھٹوی﷾ نے زکاۃ وعشر اور صدقہ فطر کےمسائل کو عام فہم اور سادہ وسلیس انداز میں وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔محترم حافظ صاحب نے اس کتابچہ کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ ان ابواب میں زکاۃ و عشر اور صدقہ فطر کے متعلق ان تمام پہلوؤں کومد نظر رکھا گیا ہے جن کی ضرورت ان امور میں کبھی بھی پڑ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عام مسلمانوں کی رہنمائی کےلیے مفید اور مؤلف کےلیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

  • 2 #2637

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2552

    اموال زکاۃ کی سرمایہ کاری

    (اتوار 16 نومبر 2014ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی

    اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔اس پس منظر میں ایک رجحان یہ بھی ہے کہ اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری کی جائے  تاکہ زیادہ عرصہ تک اور زیادہ سے زیادہ فقراء کو اس سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر   انڈیا کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے دیگر موضوعات کی طرح  اس پر بھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں مختلف اہل علم نے مقالات پیش کئے اور اپنے موقف کا اظہار کیا۔یہ کتاب " اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری " اس سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کے مجموعے پر مشتمل ہے،جسے ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی نے طبع کیا ہے۔یہ  اہل علم اور طلباء کے لئے ایک گرانقدر علمی وتحقیقی تحفہ ہے۔تمام طالبان علم کو چاہئے کہ وہ اس خاص موضوع پر مطالعہ کے لئے اس  کتاب کو ضرور پڑھیں۔(راسخ)

     

  • 3 #3521

    مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

    مشاہدات : 1676

    انوار الزکوٰۃ

    (اتوار 16 اگست 2015ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے۔ جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے۔ یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار الزکاۃ ‘‘ بھی اسی سلسلہ ایک کڑی ہے ۔جو کہ معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی زکوۃ کےموضوع پر آسان فہم جامع کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے زکاۃ او رصدقات کےتمام مسائل قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مولانا کی تمام تبلیغی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • 4 #2639

    مصنف : قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

    مشاہدات : 5613

    جدید فقہی تحقیقات زکوۃ کے نئے مسائل

    (پیر 17 نومبر 2014ء) ناشر : کتب خانہ نعیمیہ سہارنپور

    اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔زکوۃ کے متعدد ایسے جدید مسائل ہیں ،اہل علم اور طلباء کے لئے ان سے آگاہی انتہائی ضروری تھی۔چنانچہ  انڈیا کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے دیگر موضوعات کی طرح  اس پر بھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں مختلف اہل علم نے مقالات پیش کئے اور اپنے موقف کا اظہار کیا۔یہ کتاب " جدید فقہی تحقیقات(زکوۃ کے نئے مسائل)" اس سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کے مجموعے پر مشتمل ہے،جسے محترم مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نے مرتب کیا ہے اور  کتب خانہ نعیمیہ دیو بند  نے طبع کیا ہے۔یہ  اہل علم اور طلباء کے لئے ایک گرانقدر علمی وتحقیقی تحفہ ہے۔تمام طالبان علم کو چاہئے کہ وہ  زکوۃ کے جدید مسائل کے حل کے لئے اس  کتاب کو ضرور پڑھیں۔(راسخ)

     

  • 5 #2264

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 3207

    حقیقت زکوۃ ، اسلام میں گردش دولت

    (ہفتہ 19 جولائی 2014ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    عربی زبان میں  لفظ  ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت  میں  زکاۃ ایک  مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے  زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا ہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے اس کی ادائیگی فر ض ہے اور  دین اسلام  کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے  نقصانات  ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں  تفصیل سے اس کے احکام  ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ  یقینا کافر اور واجب القتل ہے  ۔یہی وجہ کہ  خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ﷺ نے  مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو  اسے درد ناک عذاب میں  مبتلا  کیا جائے گا۔جس کی  وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔اردو عربی زبان میں  زکوٰۃ کے  احکام ومسائل کےحوالے سے  بیسیوں  کتب موجود ہیں۔زیر تبصرہ ’’ حقیقت زکاۃ ‘‘ برصغیر پاک وہندکے  مشہور عالم دین  مفسر قرآن مولانا بو الکلام آزاد  کی تصنیف ہے جس میں انہوں  نے زکاۃ کی  فرضیت واہمیت ،فضیلت  ،ادائیگی زکاۃ کے فوائد اور زکوۃ  کے جملہ احکام مسائل کو  بیان کرنے کےبعد قرآن اور سوشلزم  کے عنوان سے بھی بحث کی  ہے ۔اور اس کتاب کے آخر میں  زکاۃ کے  حوالے سے  مولانا سید ابو بکر غزنوی    کا رسالہ بعنوان ’’اسلام میں  گردش دولت ‘‘بھی شامل اشاعت ہے ۔اللہ تعالی  زکوۃ ادا کرنے کی طاقت رکھنے والے  اہل اسلام کو اسے ادا کرنے کی  توفیق دے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہو اور اسلامی معاشرہ میں غربت وافلاس  کا خاتمہ ہوسکے ۔(م۔ا)
     

     

  • 6 #653

    مصنف : حافظ محمد زاہد

    مشاہدات : 58519

    روزہ ،صدقہ فطر اور عیدالفطر فضائل اور مسائل

    (منگل 26 فروری 2013ء) ناشر : منور پبلی کیشنز لاہور

    روزہ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ روزہ رکھتے ہوئے شرعی احکامات کو ملحوظ رکھیں۔ رمضان کے فوراً بعد مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عیدالفطر کی خوشی میسر آتی ہے اسی طرح انھیں نماز عید سے پہلے صدقہ فطر بھی ادا کرنا ہوتا ہے لہٰذا اسے متعلقہ دینی احکامات سے آگہی ہر مسلمان کو ہونی چاہیے۔ زیر تبصرہ کتابچہ اسی سلسلہ میں ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ کتابچہ دراصل حافظ محمد زاہد کے چار مضامین کا مجموعہ ہے جو روزہ آفاقیت احکام فضائل اور آسانیاں، روزے کے 100 مسائل،  صدقہ فطر احکام و فضائل اور عیدالفظر احکام و فضائل کے عنوان سے لکھے گئے۔(ع۔م)
     

  • 7 #2580

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2401

    زکاۃ کے حق دار کون؟

    (جمعرات 13 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    زکاۃ اسلام کابنیادی رکن ہے ، جس کےبغیر اسلام اور ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔زکاۃ نماز ،روزے اورحج کی طرح فرض عبادت ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا ہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دین اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ﷺ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ جس طرح نماز، روزے اور حج کا وقت مشروع ہے اوران کا طریقہ بھی شریعت نے طے کردیا ہے اسی طرح کتنے مال پر کتنی مدت بعد،کس شرح سے زکاۃ عائد ہوتی ہے اور زکاۃ کےمال کےمستحق کون ہیں ان سب امورکو شریعت نے طے کردیا ہے۔زکاۃ ادا کرنا اپنی جگہ اہم عبادت ہےلیکن اس کےحق دار کون ہیں اور کن لوگوں کا اس پر حق نہیں ہے ۔یہ جاننا اس عبادت کی ادائیگی کےلیے بھی ضروری ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’زکاۃ کےحق دار کون؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب کی اہم کاوش ہے جس میں انہوں نےزکوٰۃ کی اہمیت   وفضیلت بیان کرنےکے بعد مصارف زکوٰۃ اورزکاۃ کے جملہ احکام مسائل کو عام فہم انداز سے قرآن حدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ جس سے عام قارئین بھی مستفید ہو سکتے ہی۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی تمام تحریری کاوشوں کو قبول فرمائے۔ (آمین) م۔ا)

  • 8 #6242

    مصنف : ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 2584

    زکوٰۃ مختصر احکام و مسائل

    (ہفتہ 17 فروری 2018ء) ناشر : صوبائی جمعیت اہل حدیث، ممبئی

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکوٰۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکوٰۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ زکوٰۃ مختصر احکام و مسائل‘‘ ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی مدنی﷾ کی تالیف ہے۔ جس میں زکاۃ کا معنیٰ ومفہوم، اہمیت، نصاب، زکاۃ کی حقیقت، اقسام اور اس کے مصارف کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • 9 #2757

    مصنف : میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    مشاہدات : 3716

    زکوٰۃ کے مسائل و فوائد

    (ہفتہ 20 دسمبر 2014ء) ناشر : ابوہریرہ اکیڈمی، لاہور

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اور اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ زکوٰۃ کے مسائل وفوائد ‘‘سابق ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث ،کنونئیر تحریک دعوت توحید ،پاکستان ،مدیر وبانی ابو ھریرہ اکیڈمی ،لاہور محترم میاں محمد جمیل ایم اے ﷾ کی   کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے زکوٰۃ کی اہمیت وفضیلت ،تاریخ ، فوائد وثمرات اور زکوٰۃ کے جملہ احکام ومسائل کو   قرآن وحدیث کے دلائل کی روشنی میں بڑے آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا ایک درجن کتب کے مصنف ہیں۔ اوردینی وعصری علوم کےمعیاری ادارے ابوھریرہ اکیڈمی چلانے کے علاوہ پاکستان میں دعوتِ توحید کوعام کرنے کے لیے ’’تحریک دعوت توحید‘‘ کی قیادت کرتے ہوئے شرک وبدعات کے خاتمے کےلیے بڑے فعال ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تصنیفی،تبلیغی واصلاحی خدمات کوشرفِ قبولیت سے نوازے اور کتاب ہذا کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

  • 10 #3536

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 3140

    زکوٰۃ، عشر اور صدقۃ الفطر (فضائل، احکام و مسائل)

    (پیر 31 اگست 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ زکٰوۃ، عشر اور صدقۃ الفطر فضائل واحکام ‘‘ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے زکاۃ کے تمام ضروری مسائل کی وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کرنےکی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ اس تعبدی حیثیت کا تقاضا ہے کہ اس کی ادائیگی میں اللہ ورسول کے احکام وہدایات کوملحوظ رکھا جائے۔ تو دوسری طرف اس کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیاگیا ہے جن کےذریعے سےزکوٰۃ کے معاشی ومعاشرتی فوائد سامنے آسکیں او رمعاشرے کے ضرورت مند افراد کی فلاح وبہود کےلیےاس زیاد ہ سے زیادہ کام لیاجا سکے ۔اس کےعلاوہ اس کتاب میں ان تمام پہلوؤں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے جو علماء کےلیے بھی قابل غور وفکر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1783
  • اس ہفتے کے قارئین 11468
  • اس ماہ کے قارئین 49862
  • کل قارئین49397598

موضوعاتی فہرست