• #3632
    قاضی عبد الکریم

    1 نفاذ شریعت اور پاکستان

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نظریہ پاکستان کے بارے میں واضح رہنا چاہئے کہ قرار داد مقاصد 1949ء اور 1973ء کے متفقہ آئین میں واضح طورپر یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کتاب وسنّت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دستور کو عوام پاکستان کے منتخب نمائندے منظور کرچکے ہیں، عدالتیں اس کی بناپر فیصلہ کرتی ہیں اور یہ جمہوری اساسات پر ایک مسلمہ بن چکا ہے کہ پاکستان میں اسلام نظام کو قائم کیا جائے گا۔ایک اسلامی ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا صدیوں پرانا خواب تھا۔جس کے شواہد مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد ہماری پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اسی نفسیات اورمسلمانوں کے دیرینہ خواب کو سمجھتے ہوئے قائداعظم نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روزمعرضِ وجود میں آگیا جس روز ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ پھر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں نے فقط یہ کیاکہ جو بات آپ کے دلوں اور ذہنوں میں تھی، اسے طشت ازبام کردیا یعنی ببانگِ دہل کہہ دیا۔اگرپاکستان کا تصور نظریاتی نہیں تھا تو پھر وہ اسی دن کیوں معرضِ وجود میں آگیا جس دن ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا؟ زیر تبصرہ کتاب" نفاذ شریعت اور پاکستان"قائد تحریک نفاذ شریعت مولانا قاضی عبد الکریم کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالے سے قانونی تجاویز دی ہیں، اور یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں نفاذ شریعت کا عمل موجودہ دور میں بھی نہائت آسان ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3383
    قاری محمد یعقوب شیخ

    2 شان مصطفی اور گستاخ رسول کی سزا

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب   نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت  ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں  ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شان مصطفیٰ ﷺ اور گستاخ رسول کی سزا‘‘جماعت الدعوۃ ،پاکستا ن کے مرکزی رہنماجناب قاری محمد یعقوب شیخ ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے شان مصطفیٰ ﷺ کوبیان کرنے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی شان او رمقام ومرتبہ کا لحاظ نہ کرنے والے گستاخوں کی سزا’’قتل‘‘ کو قرآن وحدیث اور اجماعِ امت کی روشنی میں دلائل سے ثابت کیا ہے نیز کیا گستاخِ رسولﷺ کے لیے عفو ودرگزر کی گنجائش ہےاور اس کو معاف کرنے کا کسی کو اختیار ہے اور قانون توہین رسالت کے اٹھنے والے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازکر ان کےلیے صدقہ جاریہ اور آخرت میں ذریعہ نجات بنائے (آمین)

  • #2357
    ناصر الدین البانی

    3 احادیث ضعیفہ کا مجموعہ جلد اول

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2294
    مفتی عبد الولی خاں

    4 ابتدائی قواعد الصرف

    احکامِ  شریعت سمجھنے کےلیے  جہاں دیگر علومِ اسلامیہ  کی اہمیت ہے وہاں عربی زبان سیکھنے کے لیے  ’’ فن صرف‘‘ کو بنیادی  درجہ حاصل ہے ۔جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے  علوم ِاسلامیہ  میں دسترس  تو کجا پیش رفت ہی ممکن نہیں۔ قرآن وسنت کے علوم سمجھنے کےلیے یہ ہنر شرط ِ لازم ہے۔ یہی  وجہ  ہے کہ مدارسِ اسلامیہ  میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی کی تدریس  وتفہیم کےلیے درجہ بدرجہ مختلف ادوار میں علمائے کرام  نے اس موضوع پر گرانقدر کتابیں لکھیں اور اسے آسان سے آسان تر بنانے کی سعی جمیل کی ۔زیر نظر  کتاب ’’ قواعد الصرف ‘‘بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک اہم کڑی ہے  ۔جوکہ الثانویہ العامۃ کے طلبا وطالبات کے  لیے  وفاق المدارس السلفیہ ،پاکستان  کے ذمہ دران اور دیگر اکابر علمائے کے حکم کے مطابق انہی  کی سرپرستی میں  دار السلام کی نصاب کمیٹی کے  تجربہ کار ارکان  اور علوم اسلامیہ کے ماہر معلّمین نے اس  کتاب  کی تحریر وترتیب میں بڑی محنت سے حصہ لیا ہے  اور مہارت ِفن ،باریک بینی ، اور احساس ذمہ داری  کا ثبوت  دیا ہے  اور وفاق المدارس کے اکابر علمائے کرام  اور کہنہ مشق مدرسین وشیوخ الحدیث  نے اس  پر نظر ثانی بھی فرمائی ہے ۔جس سے کتاب کی افادیت  مزید اضافہ ہوگیاہے  اور یہ کتاب  عربی کے  تدریسی سرمائے  میں  ایک  قیمتی اضافہ  اور عربی سیکھنے  کے آرزومندوں کے لیے ایک نادر تحفہ ہے ۔اللہ تعالی  دار السلام  کے ڈائریکٹر مولاناعبد المالک مجاہد﷾ اور ان کے  رفقاء کی  تفہم دین  واشاعت اسلام کے لیے  کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے(آمین)(م۔ا)

  • #1552
    عبد القادر بن محمد بن حسن ابوطالب

    5 حسن معاشرت سے شوہر کی اصلاح(اضافہ شدہ ایڈیشن)

    اسلام نےصنف نازک کو ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے روپ میں جو مقام عطا کیا ہے وہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔اسی کے باوصف عورت معاشرے کی اصلاح میں سب سے اہم عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے خواتینِ اسلام کو اپنے مقام و مرتبے کو سمجھنا چاہیئے اور ایک شوپیس کی صورت میں اپنے کو پیش کرنے کی بجائے معاشرے کے عزت دار فرد کا سا کردار ادا کرنا چاہئے۔ زیر تبصرہ کتاب کا نام اگرچہ ’حسن معاشرت سے شوہر کی اصلاح‘ ہے لیکن اس میں شوہر کی اصلاح کے حوالے سے بہت سی نگارشات کے علاوہ خود بیوی کی اصلاح کے حوالے سے بھی کافی قیمتی ابحاث موجود ہیں۔ کتاب کے شروع میں ان باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ایک بیوی کو خاوند سے مطلوب ہوتی ہیں۔ اس میں شادی کرتے ہوئے عورت کی صفات کا خیال رکھنے کے ساتھ بیوی کے لیے بعض تفریحی امور اختیار کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد ایک تفصیلی بحث میں ان امور کا تذکرہ کیا گیا ہے جو خاوند کو ایک بیوی سے مطلوب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ازدواجی زندگی سے متعلقہ چند نصیحتیں بھی کتاب کا حصہ ہیں۔کتاب اصل میں عربی میں تھی جس کے مصنف عبدالقادر بن محمد بن حسن ابو طالب ہیں موصوف ایک مصری عالم اور سعودی عرب کے شہر دمام میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل مولانا عبدالرحمٰن عزیز نے کیا ہے۔ ترجمہ نہایت آسان پیرائے میں کیا گیا ہے، ثقیل اور مشکل الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1764
    مختلف اہل علم

    6 انسانی حقوق اور اسلامی نقطہ نظر

    اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں ۔اللہ تعالی کی بندگی و اطاعت اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالی کے حقوق ملتے ہیں اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں ۔ اسلام میں انسانی حقوق کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اسی لیے اسلام نے ان حقوق کو بہت واضح طور پر پیش کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے ، انسان ایک سانپ کی طرح تنہا کسی بل میں اور ایک شیر کی طرح تنہا کسی غار میں زندگی نہیں گزار سکتا ، وہ سماج اور خاندان کا محتاج ہے اور بہت سے رشتے داروں کے حصار میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ چناچہ اس نسبت سے بھی انسان  کے اوپر بہت سے حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ والدین اور اولاد کا حق ، بیوی ، بھائیوں اور بہنوں کا حق اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ یہ تمام حقوق اصل اسلامی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس لئے شریعت میں انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور انہیں بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ زیر مطالعہ کتاب در اصل انڈیا میں منعقد سمینار میں دیے گئے لیکچرز کا مجموعہ ہے ۔ جس میں اس موضوع کے حوالے سے تقریبا تمام پہلو آچکے ہیں ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور فکر انگیز کتاب ہے ۔ اللہ ان تمام لوگوں کی محنت کو ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے جنہوں نے اس کے لیے کاوش فرمائی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #36
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    7 فاتحہ خلف الامام بشمول دو فتوے سکتات اور آمین

    سورہ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا ایک لازمی جز ہے جو کہ احادیث سے با صراحت ثابت ہے اور نماز میں سورہ فاتحہ کے نہ پڑھنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے اس لیے علما نے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر بہت کچھ لکھا ہے جس کی ایک مثال بدیع الدین راشدی کی زیر نظرکتاب فاتحہ خلف الامام ہے –نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں لوگوں میں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جہری نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور پھر اس موقف کو تقویت دینے  کے لیے اور اس کو ثابت کرنے کےلیے دلائل دیے جاتے ہیں-تو ان دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے سورہ فاتحہ کے بارے میں کیا موقف ہونا چاہیے مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے نام سے کتاب تصنیف کر کے اس بات کو بڑے اچھے انداز واضح کیا ہے-اس کتاب میں مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے بارے میں صحیح اور مرفوع احادیث کا ذکر کیا ہے اور ان راویوں کا ذکر بھی کیا ہے جن سے یہ احادیث مروی ہیں اور اس کے علاوہ ایسے آثار کو بیان کیا ہے جو صحابہ کرام سے منقول ہیں اور آخر میں دو اہم فتوے بیان کیے ہیں  جوکہ امام کے سکتات میں مقتدیوں کا سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں ہیں-

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825424

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں