اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری

  • نام : حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #71

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری

    مشاہدات : 14038

    رکعات التراویح مع اضافات و ضمیمہ

    (رکعات التراویح مع اضافات و ضمیمہ) ناشر : مکتبۃ السنہ الدار السلفیہ، کراچی

    نفلی عبادت اللہ تعالی کے قرب کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے اور نفلی عبادات میں سے قیام اللیل کی عبادت اللہ تعالی کو بہت زیادہ محبوب ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اور آپ کے صحابہ اس کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے -اسے خلفائے راشدین اور بعد کے ادوار میں مسلمہ اہمیت حاصل رہی ہے- قیام اللیل کہ جس کی ایک صورت نماز تراویح بھي ہے کے حوالے سے ہمارے ہاں کچھ اشکالات پائے جاتے ہیں-جن میں اس کی رکعتوں کی تعداد جیسے مسائل شامل ہیں-کہ قیام اللیل کی کتنی رکعات سنت ہیں-بعض کا خیال ہے کہ بیس رکعت سنت ہے اور بعض کا موقف ہے کہ گیارہ رکعتیں مسنون ہیں-اس اختلاف کے پیش نظر زیر نظر کتاب میں آپ کو اس طرح کے سوالات کے تسلی بخش جواب پڑھنے کو ملیں گے-مثلا کہ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکعات تراویح پڑھانا ثابت ہے؟کیا حضرت عمر اور دیگر خلفائے راشدین کے زمانہ میں تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا ؟رکعات تراویح کے عددمیں علماء کے درمیان  کیا اختلافات ہیں؟کتاب کے دوسرے حصے میں بھی آپ کو درج ذیل سوالات کے جوابات مل جائیں گے-نماز تراویح کی تعریف کیا ہے؟تہجد کے کیا معنی ہیں؟صلوۃ اللیل کا افضل وقت کیا ہے؟وغیرہ وغیرہ
     

  • 2 #4179

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری

    مشاہدات : 2313

    ابراء اہل الحدیث والقرآن

    (ابراء اہل الحدیث والقرآن) ناشر : جامعہ کمالیہ راجووال

    تقریباً1883ء بمطابق 1304ھ  مولولی امانت اللہ  غازی پوری نے شہر غازی پور میں  علمائے  اہل حدیث کےساتھ بے جا مزاحمت کرنی شروع کی اور ان کو بلاوجہ خلاف  دستور قدیم مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روک  ٹوک کرنے لگے ۔علماء اہل  حدیث  اور مسلک اہل حدیث کے خلاف فتوی جاری کیا ہے کہ  آمین پکار کر کہنا اور رفع الیدین اورنماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا اور امام کے پیچھے الحمد پڑھنے والے  اہل سنت سے  خارج  ہیں   اور دیگر فرق ضالہ  رافضی خارجی وغیرہما کے ہیں ۔اور اہل حدیثوں کو  اپنی  خوشی سے اپنی مسجد میں  آنے دیناشرعاً ممنوع ہے ۔ اور ان کےپیچھے نماز درست نہیں۔یہ  فتویٰ انگریز حکومت کی سرپرستی میں  چھپوا کر تقسیم کیاگیا۔جس کے بعد  اہل حدیث کو جبراً مسجدوں سے نکالنے کی پوری کوشش کی گئی ۔ جس سے مذہبی فسادات شروع ہوگئے او رنوبت عدالتوں میں مقدمات تک پہنچ گئی۔مذکور فتویٰ میں وہابیوں کی طرف جن ’’عقائد اور مسائل‘‘ کا انتساب کیاگیا ہے ۔ چونکہ وہ سب الزامات غلط بیانی اور مغالطوں پر مبنی تھے ۔اس لیے جید اور فاضل علمائے اہل حدیث نےان کے مفصل جوابات تحریر فرما کر شائع کیے ۔زیر تبصرہ رسالہ  ’’ابراء اہل الحدیث والقرآن مما فی جامع الشواہد من التہمۃ والبہتان‘‘ انہی جوابات میں  سےایک رسالہ ہے۔ یہ رسالہ استاذ الاساتذہ  محدث العصر  حافظ محمد عبد اللہ محدث غازی پوری ﷫ نے تحریر کیا ۔اس میں انہو ں  نے ان سب  بےبنیاد الزامات کے  جو ’’جامع الشواہد‘‘ میں اہل حدیث پر لگائے گئے تھے  مدلل طریقے سے  جوابات دیے  ہیں  اور ثابت  کیا کہ  وہ سب خلاف واقعہ ہیں ۔مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری ﷫کے رسالہ  ’’ابراء اہل الحدیث ‘‘ کو 1982ء میں    مولانا یوسف  راجووالوی ﷫ نے  دوبارہ  شائع کیا۔جس  پر مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے تقریظ لکھی  اور اس میں  حافظ عبد اللہ غازی پور ی﷫ کےمختصر حالات بھی شامل کیےگیے تھے۔حال ہی میں  گوجرانوالہ سے  حافظ شاہد محمود ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے  مجموعہ رسائل غازی پور ی  میں   بھی اس رسالے ک و  شامل کر کے تحقیق وتخریج کے ساتھ بڑے خوبصور ت انداز میں شائع کیا ہے ۔جس سے اس رسالے کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔(م۔ا)

  • 3 #5437

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری

    مشاہدات : 1275

    کتاب الزکوٰۃ (عبد اللہ غازی پوری)

    (کتاب الزکوٰۃ (عبد اللہ غازی پوری)) ناشر : مدرسہ اصلاح المسلمین، پٹنہ

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے کئی کتب کتب موجود ہیں۔زیر تبصرہ کتاب’’ کتاب الزکوٰۃ ‘‘ حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری ﷫ کی تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میں زکاۃ کے مسائل کو نہایت مدلل طریقے سے تحریر کیا ہے (م۔ا)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1608
  • اس ہفتے کے قارئین 13305
  • اس ماہ کے قارئین 51699
  • کل قارئین49417029

موضوعاتی فہرست