• #5640
    حافظ ابن حجر عسقلانی

    1 حیات خضر علیہ السلام

    قرآن کی سورۃ کہف میں ہے کہ حضرت موسی اپنے خادم ’’جسے مفسرین نے یوشع لکھا ہے‘‘ کے ساتھ مجمع البحرین جارہے تھے کہ راستے میں آپ کی ملاقات اللہ کے بندے سے ہوئی۔ حضرت موسی نے اس سے کہا کہ آپ اپنےعلم میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں تو بندے نے کہا کہ آپ جو واقعات دیکھیں گے ان پر صبر نہ کر سکیں گے اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کرنا اس قول و قرار کے بعد دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں اللہ کے بندے نے چند عجیب و غریب باتیں کیں۔ کشتی میں سوراخ ، ایک لڑکے کا قتل اور بغیر معاوضہ ایک گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرنا، جس پر حضرت موسی سے صبر نہ ہو سکا اور آپ ان باتوں کا سبب پوچھ بیٹھے۔ اللہ کے بندے نے سبب تو بتا دیا ۔ لیکن حضرت موسی کا ساتھ چھوڑ دیا۔احادیث مبارکہ میں اس خاص بندےکا نام’’ خضر ‘‘آیا ہے اور مفسرین کی اکثریت کے نزدیک اس سے مرادحضرت خضر ہیں۔مفسرین نے حضرت خضر کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔انہوں نے واقعات وروایات کی چھان بین کرکے ان کے احوال زندگی معلوم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔مورخین نے حضرت خضر کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اورعلماء نے ان کی وفات وحیات پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’ حیات حضرت خضر ‘‘ معروف شارح صحیح بخاری امام احمد بن حجر عسقلانی ﷫کی حضرت خضر کے متعلق تصنیف شدہ عربی کتاب ’’الزھر النضرفی حال الخضر‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔صاحب کتاب نے حضرت خضر کے بارے میں کتب احادیث تواریخ اور سیر میں جس قدر روایات میسر آئیں ان سب کو اس کتاب میں جمع کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور ان روایات کا تحقیقی جائزہ بھی پیش کیا ہے ۔نیز معروف سکالر جناب صلاح الدین مقبول احمد ﷾ نے اس کتاب پر تحقیق اور تفصیلی مقدمۂ تحقیق تحریر کر کے اس کتاب کی اہمیت وافادیت کو چارچاند لگادئیے ہیں ۔محقق موصوف نے اپنے مقدمہ میں حضرت خضرﷺ کے متعلق کبار علماء کی تالیف کردہ سترہ (17) کتب کے نام بھی ذکر کیے ہیں اور امام ابن حجر عسقلانی ﷫ کے حالات زندگی اور حضرت خضر ﷺ کے متعلق مباحث کا خلاصہ تحریر کیا ہے ۔مترجم کتاب ہذا ابوعبد السلام محمد اکرم جمیل صاحب نے بڑے جذبے اور محنت سے اصل کتاب کے قریب قریب رہ کرآسان ترین ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔(آمین) (م۔ا)

  • #2764
    ام عبد منیب

    2 نسوانی بال اور ان کی آرائش

    جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے سر ،بھنوؤں اور پلکوں کے بال موجود ہوتے ہیں۔پورے جسم پر ہلکے ہلکے نرم نرم روئیں نظر آتے ہیں۔سر کے بال ساتویں دن منڈوا دینے کا حکم ہے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔لیکن یہ کٹانے یا منڈوانے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔زیر ناف ،بغل،مونچھ اور داڑھی کے بال جوانی کے آمد پر نمودار ہوتے ہیں،اور ساری عمر صاف کرنے ،کاٹنے یا مونڈنے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔عورت کی فطرت میں آرائش،اس کے بعد نمائش اور نمائش کے بعد ستائش وصول کرنے کا جذبہ رکھ دیا گیا ہے۔چنانچہ زمانہ قدیم ہی سے خواتین بنتی سنورتی چلی آرہی ہیں۔شریعت اسلامیہ نے بھی خواتین کو ان کا یہ فطری حق عطا کیا ہے،لیکن چند حدود وقیود کے ساتھ،تاکہ بے جا  بننےسنورنے کا جذبہ معاشرے اور خود اس عورت کے لئے فتنہ کا باعث نہ بن سکے۔ زیر تبصرہ کتاب  " نسوانی بال اور ان کی آرائش "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے عورتوں کو اپنے بالوں کی آرائش وزیبائش کے لئے  شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سادگی اپنانے کا سبق دیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • #2646
    ام عبد منیب

    3 قرآن خوانی

    قرآن خوانی  فارسی زبان کا  لفظ ہےجس کامطلب ہےقرآن پڑھنا ۔ہمارے  معاشرے  میں اس سے مراد کسی حاجت برآری یا مردے کوثواب  پہنچانےکے لیے  لوگوں کاجمع ہو  کر  قرآن   مجید پڑھنا۔ قرآنی خوانی کےلیے لوگوں کوکسی مخصوص وقت پر بلایا جاتا ہے  جس جس میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ فلاں مقصد کےلیے  قرآنی خوانی  ،یٰسین خوانی  یا آیت کریمہ وغیرہ  پڑھوانا ہے ۔ ساتھ حسبِ مقدور دعوت کابھی اہتمام کیا جاتاہے ۔لوگ اس میں باقاعدہ تقریب کےانداز میں آتے ہیں،حاضرین  میں  علیحدہ علیحدہ تیس پارے  بانٹ دیے جاتے ہیں ۔پڑھنے کےبعد  دعوت  اڑائی جاتی ہے ۔ بعض لوگ ختم بھی پڑھواتے ہیں اور بعض لوگ  رشتہ داروں کی بجائے مدارس کےبچوں کوگھر میں بلالیتے ہیں اور بعض مدرسہ میں ہی بیٹھ کر قرآن خوانی کرنے کا کہہ دیتے ہیں ۔اور بعض لوگ  گھروں میں سیپارے  بھیج دیتے ہیں۔ مردوں کو ثواب  پہنچانے والے اس طرح  کےتمام امور  شریعت کےخلاف ہیں  اور محض رسم ورواج کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیقت  یہ ہے کہ  اس  قرآن  خوانی کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے  دعا   کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف سے  روزے  رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے  چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر تبصرہ  کتابچہ ’’ قرآن خوانی ‘‘ محترم  ام عبد منیب  صاحبہ کی  اصلاح  عقائد کےسلسلے میں اہم  کاوش ہے  جس میں انہو ں نے قرآن  واحادیث اور علماء کرام کے  فتویٰ کی  روشنی میں ثابت کیا ہے کہ   جو  شخص قرآن خوانی یا  مختلف قسم کےاوراد وظائف پڑھ کرکسی دوسرے کے لیے  ایصالِ ثواب کرتا ہے یا غیر مسنون طریقے سے ان سب کاذکر اور تلاوت کرتا ہے تویہ سب امور رسول اللہ ﷺکی سنت سے انحرف ہے۔اللہ تعالی ٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • #2475
    ڈاکٹر ف ۔ عبد الرحیم

    4 دروس اللغۃ العربیۃ اردو۔2

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " دروس اللغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بھا " سعودی عرب کے معروف لغوی اور عالم دین ڈاکٹر ف ۔عبد الرحیم کی تین جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید کتاب ہے۔یہ کتاب مدینہ یونیورسٹی کی نصاب میں شامل ہےاور فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔ عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک مقبول ترین کتاب ہے ،جو متعدد دینی مدارس اور سکولوں وکالجوں کے نصاب میں داخل ہے۔کتاب اصلا عربی میں ہے اور یہ اس کا اردو ایڈیشن ہے ،جسے اسلامک فاونڈیشن ٹرسٹ انڈیا نے شائع کیا ہے اور ترجمہ کرنے کی سعادت مولانا الطاف احمد مالانی عمری نے حاصل کی ہے۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2056
    محمد اسحاق بھٹی

    5 مولانا احمد دین گکھڑوی

    مولانا احمددین گھکڑوی﷫ بہت بڑے مناظراور جلیل القدر عالمِ دین تھے 1900ء میں ضلع گوجرانوالہ کے ایک مشہور مقام گکھڑ میں پیداہوئےاور مختلف اہل علم سےدینی تعلیم حاصل کی ۔مولانا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدگرامی انتقال کرگئے لیکن انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا دورانِ تعلیم ہی مولانا احمد دین کووعظ وتقریرکا شوق پیدا ہوگیا تھا وہ بدعات او رغیراسلامی رسوم ورواج کے سخت خلاف تھے اور ان پرکھل کر تنقید کرتےتھے ذہن ابتداہی سے مناظرانہ تھا دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ باقاعدہ طور سے تقریبا 1920میں مناظرے اور تقریر کےمیدان میں اترے۔پھر عیسائیوں ،شیعوں، مرزائیوں اور بریلویوں سےان کے بے شمار مناظرے ہوئے او راس زمانے میں ان کے مناظروں کی سامعہ نواز گونج دور دور تک سنی گئی اور کامیاب مناظرکی حیثیت سے معروف ہوئے ۔زیر نظر کتاب معروف مؤرخ اہل حدیث مصنف کتب کثیرہ مولاناکی امحمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مولانا احمد دین کگھڑوی ﷫ کی دینی ، تبلیغی وعوتی خدمات او ربالخصوص ان کے مناظروں کی روداد اور واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے اللہ مولانا احمدین  کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور مصنف کتاب مولانا بھٹی صاحب کو تندورستی اور صحت عطا فرمائے اور ان دین ِاسلام کے لیے ان کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • #2050
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    6 ربنا لک الحمد آہستہ پڑھیں یا اونچی آواز میں؟

    نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے نماز سےمتعلق بہت سے مسائل(رفع الیدین ،آمین بالجہر یا بالسر،قراءت فاتحہ خلف الامام ، بسم اللہ الرحمن الرحیم بالجہر یا بالسر ) میں اختلاف زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے لیکن عصر میں اسی نوعیت کے ایک مسئلے کا اضافہ ہوگیا ہے او ر وہ ہے امام ومقتدی کا دعاء قومہ یعنی ربنا لک الحمد بالجہر یا بالسر پڑہنا۔زیر نظر کتابچہ اسی موضوع پر مولانا کفایت اللہ السنابلی ﷾(انڈیا) کی ایک علمی وتحقیقی کاوش ہے جس میں انہوں نے قرآنی آیات ،احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت کیا ہے کہ ربنا لک الحمد کو آہستہ پڑہنا ہی راحج ہے اور سلف صالحین صحابہ وتابعین،متقدمین محدثین وفقہاء اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ عصر کے علماء کی پیدا وار ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کو قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اس سے صحیح استدلال کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • #723
    محمد یحیٰ گوندلوی

    7 داستان حنفیہ

    ہمارے ہاں اپنے اپنے فرقے یا فقہی مکتب خیال کو برسر حق ثابت کرنے کے لیے بعض اوقات بڑے دلچسپ دلائل دیے جاتے ہیں۔اسی طرح کی ایک دلیل حنفیہ کرام دیتے ہیں کہ فقہ حنفی کی ایک وجہ ترجیح یا فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ ’’اجتماعی فقہ‘‘ہے۔ان کے بقول بڑے بڑے علما و مجتہدین نے رات دن ایک کر کے اس کی تدوین و ترتیب کا فریضہ سر انجام دیا۔ان کا کہنا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے اپنے چار ہزار شاگردوں میں سے صرف  چالیس شاگردوں کا انتخاب کیا جنہوں نے پورے تیس سال یعنی 120سے 150ھ تک تدوین فقہ میں حصہ لیا اور ایک ایسا مجموعہ تیار کیا جو اپنی عمدگی میں بے مثل اور بے نظیر ہے۔زیر نظر کتاب میں مولانا یحییٰ گوندلوی مرحوم نے اس دعوے کا جائزہ لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ بلا دلیل ہے کیونکہ امام صاحب نے نہ تو کوئی ایسی کمیٹی بنائی جس نے تدوین فقہ کا کام کیا ہو اور نہ  ہی انہوں نے فقہ مدون کرائی۔اس پر کئی قرائن ہیں مثلاً جن لوگوں کو اس کمیٹی کے ارکان ظاہر کیا جاتا ہے ان میں سے کئی تو اس کمیٹی کی تشکیل کے وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اور بعض بہت چھوٹی عمر کے تھے۔بہر حال یہ تحقیقی کتاب لائق مطالعہ ہے۔(ط۔ا)
  • #76
    ارشاد الحق اثری

    8 اعتکاف فضائل و احکام و مسائل

    یہ کتاب دراصل اعتکاف کے موضوع سے متعلقہ دو مقالات کا مجموعہ ہے۔ ایک مقالہ فضیلۃ الشیخ ابو المنیب محمد علی خاصخیلی کی کاوش ہے اور دوسرا فضیلۃ الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی تحقیق ہے۔ اعتکاف کے مسائل کے حوالے سے عوام میں جو تشنگی پائی جاتی ہے یہ کتاب اس کا کافی حد تک ازالہ کرتی ہے۔ کتاب و سنت کے دلائل سے مزین اس کتاب میں اعتکاف کی تعریف، فضائل و اقسام، مسائل، فضلیت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کتاب کا ایک اہم مبحث دور حاضر کا ایک اختلافی مسئلہ کہ کیا خواتین گھر میں اعتکاف کر سکتی ہیں؟  بھی ہے۔اعتکاف کے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے۔

  • #29
    ابن قیم الجوزیہ

    9 شرک اکبر کفراکبر اور بدعت کے بارے میں جاہل اور مقلد پر قیام حجت کےقواعد

    یہ کتابچہ دراصل علامہ ابن قیم کی دو کتابوں "کتاب الطبقات" اور"قصیدہ نونیہ" کی تلخیص ہے۔ اس میں جاہل مقلدین اور کفر اکبر، شرک اکبر اور دیگر بدعی عقائد میں مبتلا گروہوں پر حجت کے قواعد اور اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ایک حساس موضوع پر عمدہ تحریر ہے۔


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825311

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں