کل کتب 28

دکھائیں
کتب
  • 1 #1967

    مصنف : محمد اسرار مدنی

    مشاہدات : 3464

    ارتداد اور توہین رسالت

    (منگل 01 اپریل 2014ء) ناشر : ادارہ اسلامیات انار کلی ،لاہور

    نبی کریمﷺ کی عظمت و توقیراہل ایمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دورِ صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی کے لائق ہے۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔شاتم رسول دوسروں کے دلوں سے عظمت وتوقیر رسول ﷺ گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے، اس لئے توہین ِرسول ﷺکو "تہذیب و شرافت" سے برداشت کرلینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ نیز ذات رسالت مآب ﷺچونکہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکزو محورہیں اس لئے جو زبان آپﷺ پر طعن کے لیے کھلتی ہے، اگر اسے کاٹانہ جائے اور جو قلم آپﷺ کی گستاخی کیلئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑانہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہوکر رہ جائیگا۔نبی کریم ﷺکو (نعوذباللہ) نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دینے والا ہے اور وہ ہمارے ایمان کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانے کیلئے ہجو نگاروں کو گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا۔ ۔اور اسی طرح مرتد کی سزابھی قتل ہے۔آنحضرتﷺ کے زمانے سے لے کر عہد حاضرتک تمام ائمہ مجتہدین اور علمائے شریعت اس پر متفق ہیں ۔زیر نظر کتاب میں میں فاضل مصنف نے نبی کریم ﷺ کے مقام ومرتبے کوبیان کرنے کے بعد نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا کے حوالے سے قرآن مجید ،احادیث نبویہ ،آثار صحابہ،اجماع امت، او ر فقہاء وعلماء اسلام کے فتاوی پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے او ر جن گستاخانِ رسول کو سزا دی گئی ان واقعات کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ گستاخ رسول اگر توبہ کر لے تو بھی سزا سے نہیں بچ سکے گا ۔ اس کے بعدکتاب کے دوسرے حصے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مرتد کی سزا کو پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ مرتد کی سزا قتل ہے لیکن اگر اس جرم کامرتکب شخص خلوصِ دل سے سچی توبہ کرلیتا ہے تو اس کی سزائے موت ختم کی جاسکتی ہے اور اسے معاف کیا جاسکتا ہے اور تائب نہ ہونے والے مرتد اس دنیا میں سزائے موت او ر آخرت میں میں درد ناک عذاب او رغضب الٰہی کے مستحق ہونگے ۔توہین رسالت ا ورمرتد کے بارے میں شرعی نقطہ نظر جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔(م۔ا)

     

     

  • 2 #4347

    مصنف : مفتی جمیل احمد تھانوی

    مشاہدات : 5412

    اسلام اور حدود و تعزیرات

    (بدھ 23 مارچ 2016ء) ناشر : ادارہ اشرف التحقیق جامعہ دار العلوم الاسلامیہ لاہور

    ساری کائنات کا خالق ،مالک اور رازق اللہ تعالی ہے۔وہی اقتدار اعلی کا بلا شرکت غیرے  مالک اور انسانوں کا رب رحیم وکریم ہے۔انسانوں کے لئے قوانین حیات مقرر کرنا اسی کا اختیار کلی ہے۔اس کا قانون عدل بے گناہ افراد میں اطمینان خاطر پیدا کرتا ہے اور بڑے جرائم پر اس کی مقرر کردہ سخت سزائیں مجرموں کو ارتکاب جرم سے روکنے ،انہیں کیفر کردار تک پہنچانے اور دوسرے افراد کے لئے عبرت وموعظت کا سامان مہیا کرنے کا باعث ہیں۔اسلامی قانون عدل وانصاف کی ضمانت فراہم کرتا ہے،معاشرتی حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور عزت وحرمت کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔انسانوں اور رب کے باہمی تعلق کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے قوانین کے نفاذ کے نتیجے میں زندگی میں وہ راحت،آرام اور آسائشیں پیدا ہوں جن کا قرآن حکیم میں بار بار وعدہ کیا گیا ہے۔جس نسل نے تخلیق پاکستان میں حصہ لیا ،اس کے لئے پاکستان میں اسلامی قوانین کا نفاذ ایک سہانا خوان اور جنت گم گشتہ کا حصول تھا۔،لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد معاشرے سے فیڈ بیک ملتی ہے وہ کسی طرح حوصلہ افزاء نہیں ہے۔اس لئے اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا معاذ اللہ خدائی قوانین اپنی تاثیر کھو چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور حدود وتعزیرات"محترم مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی صاحب کے مقالات پر مشتمل ہے، جسے محترم مولانا خلیل احمد تھانوی صاحب نے مرتب کیا ہے۔اس کتاب میں مولف نے اسلامی حدود کی افادیت کو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اسلامی سزاؤں کے نفاذ ہی سے احوال امت کی اصلاح ممکن ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالی مملکت پاکستان میں اسلامی نظام کو نافذ فرمائے اور اس کے لئے راستے آسان فرمادے۔آمین(راسخ)

  • 3 #5840

    مصنف : عبد الرحمن عبد العزیز الداؤد

    مشاہدات : 1956

    اسلام کا نظام تعزیرات

    (پیر 16 اکتوبر 2017ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    عالم انسانیت آج اکیسویں صدی کا جشن منانے میں مصروف ہے جب کہ انسانیت منہ چھپائے ماری ماری پھر رہی ہے۔ روئے زمین کا کوئی خطہ اسے پناہ دینے پر آمادہ نہیں۔ ہر طرف قتل وغارت‘ فتنہ وفساد اور وجل وفریب کے طوفان پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ امن‘ چین اور سکون نام کی کوئی چیز انسانی دنیا میں نظر نہیں آ رہی۔ عقل انسانی کے تراشیدہ قوانین اور اصول حیات انسان کی اجڑی بستیوں کو آباد کرنے سے قاصر ہیں۔ بے خدا ازموں اور بے روح نظریات کے علمبردار ہمارے قصر حیات کے دکھ درد دور کرنے سے عاجز ہیں۔ امت مسلمہ جسے اللہ عزوجل نے بہترین امت کے لقب سے نوازا تاکہ وہ اسلام کے قوانین کو روئے زمین پر نافد کرکے امن وسکون کا گہوارا بنائیں وہ امت خود اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں انہی تعزیرات اسلامیہ کو بیان کیا گیا ہےاور یہ کتاب اصلاًعربی زبان میں ہے جس کا عنوان’العقوبات فی الاسلام‘ تھا جسے طارق اکیڈمی فیصل آباد نے اردو زبان میں ٹرانسلیٹ کیا۔ ترجمہ نہایت عمدہ اور سلیس ہے۔ اس میں حدود وتعزیرات کی تعریف سے لے کر تمام تعزیزات وحدود کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے اور اسلام کے عدالتی نظام کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی عظیم کاوش ہے۔ اس میں حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام کا نظام تعزیرات ‘‘ عبد الرحمن عبد العزیز الداؤد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 4 #3323

    مصنف : سید محمد متین ہاشمی

    مشاہدات : 4458

    اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ مع اسلام کا نظام احتساب

    (جمعہ 03 جولائی 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    اسلامی حکومت میں اسلامی حدود کا نفاذ نہ تو کسی حکمران کی صوابدید پر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران انہیں سیاسی انتقام کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔یہ حدود تو اس رب ذوالجلال والاکرام نے عائد کی ہیں جو اپنے بندوں پر ساری کائنات میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ان حدود کے نفاذ کا بڑا مقصد اسلامی حکومت میں بسنے والے ہر فرد کی عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ اور انسانیت کی تکریم ہے نہ کہ توہین۔پھر یہ کہ یہ حدود اندھا دھند نافذ نہیں کر دی جاتیں بلکہ ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ  میں کئی شرائط،لوازم،حد درجہ احتیاط اور کڑا معیار شہادت مقرر ہے۔اسلامی حدود کے نفاذ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک بھر میں سب کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے اور بدکاری کے معمولی شبے پر لوگوں کو سنگسار کر دیا جائے گا۔یہ محض مغرب زدہ لوگوں کا پروپیگنڈا اور اسلام دشمنی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ  مع اسلام کا نظام احتساب " دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے ریسرچ ایڈ وائزر مولانا  سید محمد متین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے قوانین مغرب سے متاثر اور مرعوب حضرات کی اسی قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اسلامی حدود کا فلسفہ ،مصالح،اجرائے حد میں احتیاط اور معاشرے میں ان کیبرکات کو بیان کرتے ہوئے حدود شرعیہ کا مختصر اور جامع تعارف کروایا ہے۔ساتھ ہی اسلام کے نظام احتساب کی اہمیت اور اس کے شرائط وآداب پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #3323

    مصنف : سید محمد متین ہاشمی

    مشاہدات : 4458

    اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ مع اسلام کا نظام احتساب

    (جمعہ 03 جولائی 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    اسلامی حکومت میں اسلامی حدود کا نفاذ نہ تو کسی حکمران کی صوابدید پر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران انہیں سیاسی انتقام کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔یہ حدود تو اس رب ذوالجلال والاکرام نے عائد کی ہیں جو اپنے بندوں پر ساری کائنات میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ان حدود کے نفاذ کا بڑا مقصد اسلامی حکومت میں بسنے والے ہر فرد کی عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ اور انسانیت کی تکریم ہے نہ کہ توہین۔پھر یہ کہ یہ حدود اندھا دھند نافذ نہیں کر دی جاتیں بلکہ ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ  میں کئی شرائط،لوازم،حد درجہ احتیاط اور کڑا معیار شہادت مقرر ہے۔اسلامی حدود کے نفاذ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک بھر میں سب کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے اور بدکاری کے معمولی شبے پر لوگوں کو سنگسار کر دیا جائے گا۔یہ محض مغرب زدہ لوگوں کا پروپیگنڈا اور اسلام دشمنی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ  مع اسلام کا نظام احتساب " دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے ریسرچ ایڈ وائزر مولانا  سید محمد متین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے قوانین مغرب سے متاثر اور مرعوب حضرات کی اسی قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اسلامی حدود کا فلسفہ ،مصالح،اجرائے حد میں احتیاط اور معاشرے میں ان کیبرکات کو بیان کرتے ہوئے حدود شرعیہ کا مختصر اور جامع تعارف کروایا ہے۔ساتھ ہی اسلام کے نظام احتساب کی اہمیت اور اس کے شرائط وآداب پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #3547

    مصنف : ڈاکٹر احمد فتحی بہنسی

    مشاہدات : 2402

    القصاص فی الفقہ الاسلامی

    (جمعرات 10 ستمبر 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    اسلام شریعت میں قصاص سے مراد برابر بدلہ ہے۔ یعنی جان کے بدلے جان، مال کے بدلے مال، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت۔ یعنی جیسا کوئی کسی پر جرم کرے اسے ویسی ہی سزا دی جائے۔اور اسلام نے انسانی جان کو جو احترام دیا ہے وہ سورۃ مائدۃ کی اس آیت کریمہ سے ہی واضح ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا(المائدۃ:32) اسلام کا عطا کردہ نظام ِقصاص ودیت دیگر قوانینِ عالم کے مقابلے میں نہایت سیدھا سادہ ہے۔مثلاً قصاص لینا امام یا حاکم کا فرض ہے بشرطیکہ اولیائے مقتول قصاص کے طالب ہوں۔قاتل کو بھی بلاعذر تسلیم نفس کردینا چاہیے کیونکہ یہ حق العبد ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ مقدمے کافیصلہ کرتے وقت ازروئے قرآن حاکم پر یہ واجب ہے کہ وہ فریقین کےمابین کامل تسویہ برتے ۔اسلام سے قبل قصاص کے معاملے میں بہت زیادتی کی جاتی تھی یعنی بعض معاملات میں قصاص میں قتل کر کے او ربعض میں دیت لےکر چھوڑ دیا جاتا تھا اوراس کا کوئی ضابطہ نہ تھا۔ کبھی ایک آدمی کےعوض قبیلے کے سینکڑوں معصوم افراد کوموت کےگھاٹ اتاردیتے ایسا بھی ہوتا کہ اگر کسی بڑے نے کسی قبیلے کے ایک فرد کو قتل کردیا تو اس قاتل سےکہا جاتا کہ ہم تجھے اس وقت چھوڑسکتے ہیں جب تو اجازت دے کہ ہم تیرے سوغلاموں کو قتل کردیں۔ اگر وہ اجازت دے دیتا تو اس کے سو غلاموں کے بے دریغ تہہ تیغ کردیا جاتا ۔تو نبیﷺ نے انسانی جان کی قدروقیمت کے تحفظ کی خاطر قصاص ودیت کے رہنما اصول بیان کیے۔ علامہ ڈاکٹر احمد فتحی بہنسی برصغیر کے نامور عالم دین ہیں ۔علامہ کو اسلام کے قانون جنائی کے سلسلے میں مہارت تامہ حاصل تھی ۔انہوں نےاس موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’ القصاص فی الفقہ الاسلامی‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب کی سب بڑی خوبی یہ ہےکہ یہ جامع او ر مختصر ہے اور اپنے موضوع کو متعارف کرانے کے سلسلے میں یہ نہایت ہی مفید کوشش ہے۔ اردو دان طبقہ کے استفادہ کےلیے مولانا سید عبد الرحمنٰ بخاری ریسرچ آفیسر قائداعظم لائبریری نےاسے اردو میں منتقل کیا اور ابتداء میں مولانا نے ایک نہایت ہی فاضلانہ مقدمہ تحریر فرمایا ہے ا ورانگریزی داں طبقہ کی آسانی کےلیے کتاب کے آخر میں فرہنگ اصطلاحات فقہیہ کو شامل کیا ہے تاکہ غیر عربی داں حضرات بھی   کتاب سے استفادہ کرسکیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • 7 #250

    مصنف : ڈاکٹر ابو عدنان سہیل

    مشاہدات : 17998

    انکار رجم ایک فکری گمراہی

    (جمعہ 19 فروری 2010ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    انکار رجم ایک فکری گمراہی کے نام سے زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر ابو عدنان سہیل (اصل نام افتخار احمد ) نے مسئلہ رجم کے اثبات کے لیے منکرین رجم کے علمبردار عنایت اللہ سبحانی کے جواب میں تحریر کی –عنایت اللہ سبحانی نے حقیقت رجم نامی کتاب لکھ کر مسئلہ رجم جوکہ امت مسلمہ کا اجماعی مسئلہ ہے اس کوکمزور کرنے کی کوشش کی جس پر ڈاکٹرابو عدنان سہیل نے انکار رجم ایک فکری گمراہی کے نام سے اس کتاب کا جواب دیا ہے-مصنف نے عنایت اللہ سبحانی کے دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا سنجیدہ انداز میں علمی محاکمہ کرتے ہوئے قرآن وسنت کے دلائل اور صحابہ کرام کے عمل سے شادی شدہ زانی کی سزا رجم کوثابت کیا ہے-اور اسی طریقے سے رجم کی سزا کے منکرین جو کہ باطل تاویلات کا سہارا لیتے ہیں ان کی علمی خیانتوں کے بیان کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی تعلیمات کے حقائق اور ان کی حکمتوں پر سیر حاصل بحث کی ہے-

  • 8 #5358

    مصنف : ڈاکٹر نور احمد شاہتاز

    مشاہدات : 2207

    تاریخ نفاذ حدود

    (منگل 21 فروری 2017ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    حدوداللہ سے مراد وہ امور ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت بیان کردی ہے اور اس بیان کے بعد اللہ کے احکام اور ممانعتوں سے تجاوز درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حددو سے تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے اور ان کے لیے عذاب مہین کی وعید سنائی ہے۔ اسلام کایہ نظام جرم وسزا عہد رسالت اورعہد خلافت راشدہ میں بڑی کامیابی سے قائم رہا جس کے بڑے فوائد وبرکات تھے۔ عصر حاضر کے بعض سیکولرذہنیت کےحاملین نے اسلامی حدود کو وحشیانہ اور ظالمانہ سزائیں کہا ہے۔ (نعوذ باللہ   من ذالک) اور بعض اسلام دشمنوں نےیہ کہا کہ اسلام کانظام جرم وسزا عہد رسالت وخلافت راشدہ کے بعد کبھی کسی ملک میں کامیبابی سے نہیں چل سکا۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’تاریخ نفاذ حدود‘‘ ڈاکٹر نور احمد شاہتاز کی تحقیقی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں تاریخی حولوں سے ثابت کیا ہے۔ کہ یہ نظام گزشتہ چودہ صدیوں میں ہر ملک وہر خطہ اسلامی میں نہایت کامیابی سے نافذ رہا اور اس کی برکات سے طویل عرصہ تک نسل انسانی نے استفادہ کیا۔ نیز فاضل مصنف نے شرائع سابقہ میں مقرر سزاؤں کا اسلامی سزاؤ ں سے تقابلی جائزہ کر کے معترضین ومعاندین کے منہ بند کردیئے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ تمام شرائع سماویہ وادیان ارضیہ و عارضیہ میں اسلامی سزاؤں کے مماثل یا ان سے بھی سخت بہت معمولی جرائم پر دینے کا رواج رہا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں تحقیقی وتاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ (م۔ا)

  • 9 #3367

    مصنف : منظور احسن عباسی

    مشاہدات : 2488

    جرم ارتداد اور اس کی اسلامی سزا

    (ہفتہ 04 جولائی 2015ء) ناشر : اسلامی مشن سنت نگر لاہور

    تمام حدود اللہ رب العزت کی طرف سے عائد کردہ ہیں جو اپنے بندوں پر ساری کائنات میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ان حدود کے نفاذ کا سب سے بڑا  مقصد اسلامی حکومت میں بسنے والے ہر فرد کی عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ اور انسانیت کی تکریم ہے ۔پھر یہ کہ یہ حدود اندھا دھند نافذ نہیں کر دی جاتیں بلکہ ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ  میں کئی شرائط،لوازم،حد درجہ احتیاط اور کڑا معیار شہادت مقرر ہے۔انہی حدود میں سے ایک حد ارتداد ہے۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ»(بخاری:3017)"جو اپنا دین(اسلام) بدل لے اسے قتل کردو۔"اور تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔لیکن دشمنان اسلام ہر وقت اسلام کی مقرر کردہ ان حدود پر شبہات واعتراضات کی بوچھاڑ جاری رکھتے ہیں اور عامۃ الناس کے قلوب واذہان میں اسلام کے خلاف شکوک پیدا کرتے رہتے ہیں۔انہی مخالفین اور اسلامی حدود سے ناآشنا لوگوں میں سے ایک  سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق قاضی جناب شیخ ایس اے رحمان ہیں ،جنہوں نے ملت اسلامیہ کے سواد اعظم سے اختلاف کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ مرتد کو قتل کی سزا دینا یا کوئی اور تعزیر اس پر لاگو کرنا  نہ صرف نص قرآن بلکہ اصولا آزادی ضمیر کے بھی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " جرم ارتداد اور اس کی اسلامی سزا "محترم منظور احسن عباسی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے  موصوف قاضی صاحب کے اس غیر اسلامی خیال کی پرزور تردید کی ہے۔اور عقلی ونقلی دلائل سے اس خیال کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #6930

    مصنف : ڈاکٹر احمد حسن

    مشاہدات : 1397

    حدود و تعزیرات

    (اتوار 14 اپریل 2019ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد

    اسلام نے اپنے اصولِ حکمرانی  میں عدل وانصاف کو بے  پناہ اہمیت دی ہے۔ یہ ایسا الٰہی نظام حیات ہے جس کامزاج انسانوں کے خود ساختہ رائج الوقت قوانین سے اس لحاظ سے بھی  مختلف ہے کہ یہ تمام انسانی  قوانین سے ممتازاور ہردو ر،ہر زمانے  کےتقاضے پورے کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اہل  پاکستان کی مسلسل یہ خواہش اورکوشش رہی  ہے کہ اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں آئے۔بالخصوص جنرل ضاء الحق دور حکومت میں  قوانین اسلام کے نفاذ کی کوششیں قابل ذکر ہیں ۔حدود آرڈی ننس نافذ کیا  گیا اور وفاقی شرعی عدالت شرعی نقظۂ نظر سے مقدمات کی سماعت بھی کرتی رہی ۔ زیر نظر کتاب ’’ حدود وتعزیرات ‘‘ ادارہ تحقیقات اسلامی کے سکالرز کی مرتب شد ہے ۔ادارہ تحقیقات اسلامی نے حدود  وتعزیرات کے متعلق فقہ اسلامی  کی مستند کتب  سےمنتخب ابواب کا   ترجمہ کروا کراسے مرتب کروا کرشائع کیا۔ اس کتاب میں  فقہ حنفی کے علاوہ اہل سنت کے باقی تین فقہی  بھی ذکر کیے گیے ہیں تاکہ ماہرین قانون کے سامنے زیر بحث مسئلہ کی تمام تفصیلات اور مختلف فقہا کی آراء  سامنے آجائیں۔ یہ کتاب ادارہ تحقیقات اسلامی  کے سلسلہ تراجم مصادر قانون اسلامی کا   پہلا سلسلہ ہے  جوکہ  جنرل ضیاء ا لحق کے دور حکومت میں  خاص طور پر وکلاء اور جج صاحبان کے لیے تیار کی  گی تھی ۔ فقہ اسلامی  کی مستند کتابوں  سے  منتخب  ابواب کے  ترجمہ وترتیب کا کام   ڈاکٹر احمد حسن ،صدیق ارشد خلجی، غلام مرتضیٰ آزاد نہیں کیا ہے۔(م۔ا)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1832
  • اس ہفتے کے قارئین 16686
  • اس ماہ کے قارئین 40226
  • کل قارئین49268453

موضوعاتی فہرست